Allama Iqbal's Beautiful Poetry

Allama Iqbal's Beautiful Poetry I like it very much iqbal because what great personality iqbal he is a good man

21/02/2024
18/06/2019
20/06/2016
16/01/2016

علامہ اقبال permalink

--------------------------------------------------------------------------------

شاعر مشرق، حکمت الامہ، مفکر پاکستان سر محمد علامہ اقبال 9 نومبر 1877 کو شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا جو ایک متقی اور پرہیزگار انسان تھے۔ ابتدائی تعلیم والد کی سرپرستی میں مولانا سید میر حسن کے زیر سائے حاصل کی۔ 3 مئی 1893ء میں میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ بعد ازاں کئی علمی مدارج طے کرتے ہوئے ایم اے فلسفے کی ڈگری حاصل کی مگر علم کی جستجو نے مسلسل بے چین رکھا۔ ذریعہ معاش کے سلسلے میں اورینٹل کالج لاہورمیں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔
25 دسمبر 1905ء کو علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے انگلستان چلے گئے اور بیرسٹری کی تعلیم سے سرفراز ہوئے۔ 1907ء میں ذوق علم سے مجبور ہوکر جرمنی کی طرف سفر کیا اور فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لے کر لوٹے۔
بیسویں صدی کے عشرہ اول میں پنجاب کی مسلم آبادی ایک ٹھہراؤ کا شکار تھی، بظاہر مسلمان حقیقی تحریک اور سیاسی اور معاشی مسائل سے بیگانہ تھے۔ آپ مصلح قوم تھے۔ قوم کا درد جان گئے، آپ کی شاعری کا مقصد مسلمانوں کی ابتری و انتشار اور متزلزل قوت کو درست سمت سے آشنا کرنا اور اصلاح کے اسباب پر نظر ثانی کرنا تھا۔ آپ نے اپنے ہم عصروں جن میں قائد اعظم محمد علی جناح ، خان لیاقت علی خان شامل تھے، کے ساتھ مل کر قوم کی اصلاح کی مسلسل جدوجہد جاری رکھی، یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں ہمیں بیدار قوم کا جذبہ جابہ جا نظر آتا ہے جس میں مرد مومن، علم و عشق، تصور خودی، شاہین، وطنیت و قومیت، تصور عقل، قدر و صبر موضوعات قابل ذکر ہیں۔ فارسی، اردو، عربی اور انگریزی زبان پر مکمل دسترس کے باعث زبان و بیاں پر آپ کو مکمل عبور تھا۔

وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بے نیازی
میرے کام کچھ نہ آیا، یہ کمال نے نوازی
میں کہاں ہوں تو کہاں ہے؟ یہ مکاں کون لامکاں ہے
یہ جہاں میرا جہاں ہے کہ تیری کرشمہ سازی

آپ نے مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگانے کے لئے مسلسل کوششیں روا رکھیں اور اسی سلسلے میں آپ کی نظم شکوہ منظر عام پر آئی جس نے مسلمان جمود پسند معاشرے کو بری طرح جھنجھوڑ دیا جس کی بنا پر آپ نے کئی صعوبتیں اور پریشانیاں بھی برداشت کیں مگر راہ حق سے پیچھے نہ ہٹے۔

آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز
قبلہ رو ہوکے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

اقبال نے اپنی شاعری میں نہ صرف مسلمانوں کے قلوب سے رشتہ جوڑتے ہوئے انہیں غفلت کی نیند سے جگایا بلکہ مقصد حیات کو واضح کرتے ہوئے خودی کا یقین اور حوصلہ بخشا۔

عجب سزا ہے مجھے لذت خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکوں
۔۔۔۔۔۔۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

آپ کی یہی بہادری اور جرات مندانہ شاعری جب برصغیر کے مسلمانوں پر اثر انداز ہوئی تو انہیں اپنی اصل منزل کا تعین ہوا۔

مکاں فانی، مکیں آنی، ازل تیرا، ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے ’تو‘ جاوداں تو ہے

اقبال کی مفکرانہ سوچ نے شاعری کو ایک جداگانہ حیثیت سے روشناس کرایا۔ آپ کی تصانیف میں بانگ درا، بال جبرئیل، ضرب کلیم اور فارسی ادب میں اسرار خدائی، رموز بے خودی، جاوید نامہ اور پیاسے مشرق شامل ہیں۔ انہی علمی خدمات و تصورات کی بنا پر آپ کو ’’شاعر مشرق‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ باکمال فلسفی، بے مثال انسان اور لازوال شاعر اپنی صنف شاعری کے بارے میں کچھ یوں لکھتا ہے۔
’’میں نے کبھی اپنے آپ کو شاعر نہیں سمجھا .... فن شاعری میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں رہی ۔ ہاں! بعض مقاصد خاص رکھتا ہوں جن کے بیان کے لئے حالات و روایات کی رو سے میں نے نظم کا طریقہ اختیار کرلیا ہے، ورنہ

نہ بینی خیر ازاں مرد فرودست
کہ برمن تہمت شعر و سخن بست

مگر ہم عجز و انکساری پر حکمت الامعہ کے لئے صرف اتنا کہہ سکیں گے کہ

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

یہ باکمال فلسفی، بے مثال انسان اور لازوال شاعر 21 اپریل 1938 کو 60 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال فرماگئے۔

IQBAL HASSAN likes this.

Nice iqbal👍👈
06/08/2015

Nice iqbal👍👈

04/07/2015

Address

Bhakkar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Allama Iqbal's Beautiful Poetry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Allama Iqbal's Beautiful Poetry:

Share