Jammu & Kashmir Awami Itihad

Jammu & Kashmir Awami Itihad Liberty, Equality, Fraternity

20/01/2022

پاکستانیو گھبرانہ نہیں ہے۔ مشکلات سے گزر کر ہی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ اگر آپ اپنی پیدوار بڑھاو اور اپنی پیدوار کا زیادہ استعمال کرو تاکہ اس کی قیمت بھی بڑھے تو پھر مہنگائی بھی کم ہو سکتی ہے

13/01/2022

جب تک کوئی قوم اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرتی اس وقت تک اس کی دعاوں میں اثر نہیں ہوتا ہے

08/01/2022

آزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے چرچے اور امیدواروں کی امیدیں!!

یہ بہت ہی خوش آئند ہے کہ ریاست میں بالآخر بلدیاتی انتخابات ہونے کی امید بھر آئی ہے۔ اور نئی حلقہ بندیوں کا پہلا مرحلہ بھی طے ہو چکا ہے۔ کچھ لوگوں کو ان حلقہ بندیوں پر اعتراضات بھی ہیں۔ اسی کے ساتھ مختلف یونین کونسلوں اور وارڈز سے امیدواروں کی گونج بھی سنائی دے رہی ہے۔ یہ ناچیز اس سلسلے میں آج دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہے۔
1۔ حلقہ بندیوں پر اعتراض کرنے والوں سے گزارش ہے کہ ہمارے ہاں نہ صرف حلقہ بندیوں کا کام بلکہ بہت سارے دوسرے کام اور سروے محکمہ مال کے توسط سے ہوتے ہیں اور محکمہ مال کے اوپر حکومت ہوتی ہے اور ہماری حکومتوں کی نظر زیادہ تر اپنے حق میں نتائج پر ہوتی ہے۔ اس لیے حلقہ بندیوں میں تھوڑی بہت ڈنڈی کا امکان رہتا ہے۔ دوسری بات کہ حلقہ بندیوں کا کام کرنے والوں کی کچھ مشکلات بھی ہوتی ہیں۔ آخر آبادی کا تناسب اور قریبی تعلق مدنظر رکھتے ہوئے یہ کام سرانجام دینا ہوتا ہے تو پھر سب کی خوشی کا خیال رکھنا آسان کام نہیں ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ ہم انتخابات جیتیں یا ہاریں اس کی پرواہ کیے بغیر انتخابات کا انعقاد بہت ضروری ہے۔ اس لیے آپ سب سے گزارش ہے کہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات متعلقہ اتھارٹی(ضلعی سیشن جج صاحب) کے پاس پیش کریں اور جو بھی فیصلہ ہو اس کو قبول کریں۔ تاکہ بلدیاتی انتخابات وقت پر منعقد ہوں اور عوام کو سہولت ملے۔
دوسری بات جو یہ خاکسار عرض کرنا چاہتا ہے وہ ابھرتے ہوئے امیدواروں کے متعلق ہے۔ تو گزارش یہ ہے کہ ہمیں بڑی مشکل سے یہ موقع میسر آ رہا ہے کہ اختیارات نچلی سطح پر تقسیم ہونے جا رہے ہیں اور ابھی یہ ابتدائی مرحلہ ہوگا ابھی یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ انتخابات کس نظام کے تحت ہوں گے، بلدیاتی اداروں اور نمائندوں کو کچھ اختیار ملے گا بھی یا نہیں؟ اس لیے جو امیدوار سامنے آ رہے ہیں ان کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ یہ انتخابات کوئی فیشن نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ہمارے ووٹرز کو بھی اس موقع سے جائز اور درست فائدہ اٹھانا چاہیے، اپنی ذاتی ناراضگیوں، دوستیوں اور رشتہ داریوں سے بالاتر ہو کر اہل اور باصلاحیت امیدواروں کی مدد کرنی چاہیے۔ امیدواروں کو چاہیے کہ اس سے پہلے کہ کوئی دوسرا آپ کو قبول یا مسترد کرے پہلے خود اپنا انتخاب درست کریں، یہ الیکشن کوئی مذاق نہیں نہ ہی ہر کسی کے لیے لازمی ہے۔ یہ الیکشن پیسے کا کھیل نہیں یہ بھاری ذمہ داری ہے۔ جو لوگ اس میں کامیاب ہوں گے انہوں نے اس نظام کی کامیابی کی جنگ لڑنا ہے۔ ان نمائندوں نے ریاست سے اپنا جائز حق لینا ہے۔ بلدیاتی نظام کو مزید بہتر کرنا اور اس کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔ جیت جانے کے بعد اپنا غیر جانبدرانہ کردار ادا کرنا ہے۔ لہذا یہ الیکشن شوق سے نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھ کر لڑنا ہے۔ امیدوار وہی ہونا چاہیے جو اپنی وارڈ یا یونین کونسل کی نمائندگی کا حق ادا کرنے کے قابل ہو۔ اسی طرح یہ نظام بہتری کی طرف جائے گا اور جمہوریت مضبوط ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ امیدواروں کا انتخاب کرتے وقت علاقائی اور اجتماعی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے درست، اہل اور باصلاحیت امیدواروں بالخصوص نوجوانوں کا خیال رکھیں نہ کہ خوشامدیوں اور روایتی سیاست کو طول دینے کی کوشش کریں۔ آج اگر ہم اختیارات کو نچلی سطح پر لائیں گے تو کل کو ہماری ریاست کو بھی مزید اختیارات ملیں گے اور ریاست اندرونی طور پر مضبوط ہوگی اور اسی راستے پر چل کر مالی طور پر بھی ہم خودکفیل ہو سکیں گے انشاءاللہ۔

آپ سب کا خیر خواہ
مختار احمد چوہدری کارکن جموں و کشمیر عوامی اتحاد

08/01/2022

ٹریفک حادثات اور ہماری ذمہ داریاں

میں نے گزشتہ پوسٹ میں ٹریفک حادثات کی وجوہات میں پہلی وجہ تیز رفتاری پر لکھا تھا۔ آج ان حادثات کی ایک اور وجہ پر بات ہوگی، ہم نے سب سے پہلے وجوہات اور پھر بہتری کے لیے کچھ تجاویز دینی ہیں
ہماری سڑکوں پر جو خطرناک حادثات ہوتے ہیں ان میں زیادہ تر موٹر سائیکل سوار شامل ہوتے ہیں۔ موٹر سائیکل ایک سستی سواری ہے مگر انتہائی خطرناک ہے۔ مجھے بھمبر میں تعینات ایس پی صاحب کا ایک بہت پرانا جملہ یاد ہے۔ موصوف جب اے ایس آئی ہوتے تھے(تب ہمارے اچھے دوست بھی ہوتے تھے) میں ان کے ساتھ موٹرسائیکل پر بیٹھ کر میرپور جا رہا تھا۔ تو کہیں خالق آباد کے قریب ان کی بائیک میں کوئی خرابی آئی تو انہوں نے یہ جملہ بولا تھا کہ یہ ایک سستی اور کارآمد سواری ہے لیکن یہ خطرناک بھی ہے اور جب خراب ہوتی ہے تو پھر بوجھ بن جاتی ہے۔
جی تو ہم بات کر رہے تھے کہ سڑکوں پر حادثات میں سب سے زیادہ موٹر سائیکل سوار متاثر ہوتے ہیں۔ اور ان کی بڑی وجہ غلط سمت سے اوورٹیکنگ کی کوشش ہوتی ہے۔ میں کئی برس سے دیکھ رہا ہوں کہ اکثر بائیک والے رانگ سائیڈ یعنی گاڑیوں کی بائیں طرف سے اوور ٹیک کرتے ہیں۔ تو ان میں کئی ایک حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ جب ایک گاڑی اپنے بائیں طرف مڑ رہی ہوتی ہے تو ڈرائیور کا خیال ہوتا ہے کہ بائیں طرف سے کوئی نہیں آئے گا۔ جب موٹر سائیکل کی رفتار بھی زیادہ ہو اور وہ کسی گاڑی یا گاڑیوں کو بائیں طرف سے آگے نکلنے کی کوشش کرے تو 99 فیصد حادثہ پیش آتا ہے۔
آج کا سبق یہ ہے کہ جتنے بھی موٹر سائیکل سوار یہ پوسٹ پڑھیں وہ عہد کر لیں کہ کبھی کسی بھی حال میں بائیں جانب سے اوورٹیک نہیں کرنا ہے۔ اپنے قریبی لوگوں کو بھی یہ بات سکھائیں کہ غلط طرف سے نکلنے کی کوشش میں اپنے اور دوسروں کے لیے خطرات مول نہ لیں۔
گاڑی ڈرائیوروں کو بھی اپنے پیچھے آنے والوں پر نظر رکھنی چاہیے اور یہ بات ذہن نشین ہو کہ ہمارے ہاں ٹریفک کی ترتیب اصولی نہیں ہے۔

08/01/2022

ٹریفک حادثات کو روکنے کے سلسلے کا پہلا سبق!!

دوستو جیسا کہ میں نے ٹریفک حادثات کو روکنے کے حوالے سے اپنی کوشش کی بات کی تھی تو آج سے یہ سلسلہ شروع کر رہا ہوں۔ ہم نے سب سے پہلے ان وجوہات کی نشاندہی کرنا ہے جو حادثات کا باعث بنتی ہیں۔ ہر روز ہم ایک وجہ بیان کریں گے اور آپ سب دوست اپنی رائے اور اپنی تجاویز بھی دیں۔
ہمارے ہاں ڈرائیونگ لائسنس دیتے وقت کوئی خاص کورس کروایا جاتا ہے۔ نہ ہی ٹریفک اصولوں کی کوئی خاص کتاب ہے۔ اب کچھ اشاروں کو سمجھانے اور باقاعدہ ٹیسٹ لینے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ لیکن یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ سڑکوں پر وہ سائن بورڈ یا اشارے ہی نہیں ہیں جن سے پتا چلے کہ ہماری ذمہ داری کیا ہے۔ بہرحال ہم اس بات کو فی الحال ادھر ہی چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ یہ انتظامیہ یا حکومت کا کام ہے اگر ان کو خود کچھ پتا ہے تو پھر ڈرائیورز کو بھی سمجھائیں۔ ہم ان وجوہات کی بات کرتے ہیں جو حادثات کا باعث بنتی ہیں۔
سب سے پہلی وجہ حد رفتار کو توڑنا ہے۔ آپ کے پاس لائسنس ہے یا نہیں لیکن آپ گاڑی یا بائیک لیکر سڑک پر چڑھ رہے ہیں تو آپ کو علم ہونا چاہیے کہ جس مشین پر آپ بیٹھ گئے ہو، اس کی آنکھیں ہیں نہ کان، اس کا دماغ ہے نہ اس کو شعور ہے۔ اس کے اندر بس انرجی ہے اور آپ نے بس اس کے ایکسیلیٹر پر پاوں یا ہاتھ رکھنا ہے تو اس نے پھر ہوا ہو جانا ہے۔ لہذا آپ کو پاوں یا ہاتھ اتنا ہی دبانا چاہیے جسے آپ پورا قابو بھی رکھ سکتے ہیں۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جن لوگوں نے شاہراہوں پر رفتار کی حد کا بورڈ لگایا ہے وہ پڑھے لکھے اور رفتار کے متعلق پورا تجربہ رکھتے ہیں لہذا جو رفتار کی حد انہوں نے مقرر کی ہے وہ بہت سوچ سمجھ کر ہی کی ہے۔ آپ اس حد سے آگے بڑھیں گے تو یہ خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔ دوسری بات انسان کو خود پتا ہونا چاہیے کہ میں اپنی وہیکل کو کتنی رفتار میں چلا رہا ہوں، اگر اچانک کوئی آگے آ جائے تو کیا میں بغیر کسی نقصان کے روک سکتا ہوں؟؟ مجھے یقین ہے کہ اگر کوئی بندہ حد رفتار کے اندر گاڑی یا بائیک چلا رہا ہو تو وہ جہاں چاہے بریک لگا سکتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ حد رفتار کے ساتھ اگلی گاڑی سے معقول فاصلہ بھی رکھا گیا ہو، کیونکہ ہر سڑک کی رفتار کے مطابق اگلی گاڑی سے ایک معقول فاصلہ رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ جس کو ٹائم کے حساب سے رکھا جاتا ہے۔ یعنی آپ کے درمیان 15 یا بیس سیکنڈ کا فاصلہ ہو۔
آج سے آپ فیصلہ کر لیں کہ ہم کسی بھی جگہ یا کسی کام پر جانے کے لیے گھر سے وقت پر نکلیں گے، کہاں جانا ہے، کس راستے سے جانا ہے اور کتنا وقت لگتا ہے یہ سب چیزیں سمجھ کر پھر 15 سے 30 منٹ فالتو لیکر گھر سے نکلیں تاکہ کوئی ٹینشن نہ ہو اور رفتار کی حد سے تیز نہ جانا پڑے۔ اس طرح آپ ذہنی طور پر مطمئن ہوں گے، آپ کی صحت پر بہت اچھے اثرات ہوں گے اور آپ کی جان اور آپ کی سواری بھی محفوظ رہیں گے۔ اگر آپ گھر سے ہی خفگی میں نکلے تو آپ خطرے میں رہیں گے۔ ابھی کے لیے اتنا کافی ہے۔ اس پر غور کریں اور اپنے قریبی لوگوں کو بھی سمجھائیں۔ مزید یہ سلسلہ جاری رہے گا انشاءاللہ

06/01/2022

ہمارے ہاں ٹریفک بہت خراب ہے۔ جس کی وجہ سے آئے روز ہم قیمتی جانیں ضائع کرتے ہیں۔ ہم اس سلسلے میں ایک تربیتی سلسلہ شروع کرنے جا رہے ہیں۔ جس کے لیے، سوشل میڈیا پر پوسٹیں اور ویڈیوز شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ ٹریفک پر سیمینار اور شہر میں آگاہی واک کا انتظام بھی کریں گے اور انتظامیہ بالخصوص ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر بھی کام کریں گے انشاءاللہ۔
لیکن ان چیزوں کا اثر تب ہوگا جب ہمارے ڈرائیور حضرات بالخصوص موٹر سائیکل سوار ہماری بات پر غور کریں گے اور سڑک پر احتیاط برتیں گے۔

03/01/2022

گوناگوں مسائل میں پھنسسا ملک اور ہمارا سیاسی کلچر!!

ہمارا ملک گنجھلک مسائل میں گرا ہوا ہے۔ ان مسائل کا حل تلاش کرنا منتخب نمائندوں کا کا کام ہے۔ عوام اپنے نمائندوں کو اسی لیے ووٹ دیکر منتخب کرتی ہے کہ یہ قابل اور باصلاحیت لوگ ہمارے مسائل کا حل ڈھونڈیں گے۔ سیاسی جماعتوں کی دوسرے تیسرے درجے کی قیادت اور سیاسی کارکن اپنے نمائندوں کو نچلی سطح کے مسائل سے آگاہ کرتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کی نچلی سطح پر ٹیمیں ہوتی ہیں جو باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرتی ہیں اور علاقائی مسائل پر بحث مباحثہ کرنے کے بعد اپنی تجاویز اپنی جماعت کی مرکزی قیادت تک پہنچاتے ہیں۔ اسمبلیوں کے اندر ملکی مسائل، نظام اور قانون سازی پر بحث کے بعد قوانین کی تجدید ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اس کے برعکس ہماری سیاسی جماعتیں اور متحارب سیاسی دھڑے ایک دوسرے کے دشمن نظر آتے ہیں۔ اسمبلی کے اندر ایک دوسرے کی تجاویز(اچھی ہوں یا بری) کی مخالفت کرنا فرض عین سمجھتے ہیں۔ پھر یہی سلسلہ نیچے تک پہنچتا ہے۔ اور سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی ایک دوسرے کے خلاف مورچے سنبھال کر طنز کے تیر برساتے ہیں اور مغلظات کے گولے پھینکتے ہیں۔ حکومت کے کسی اچھے اقدام میں بھی طرح طرح کے کیڑے نکالتے ہیں۔ مخالف سیاسی راہنماوں پر طرح طرح کے الزامات لگاتے، ان کے عجیب و غریب نام پکارتے اور ان کو گالیاں دیتے ہیں۔ کوئی کسی کو پٹواری کہتا ہے تو کوئی یوتھیا کہہ کر پکارتا ہے۔ کوئی عمران خان کو صحابہ کے درجے پر لے جاتا ہے تو کوئی میاں نواز شریف کو امیرالمومنین سمجھ لیتا ہے۔ کسی کی نظر میں زرداری سے بہتر کوئی سیاستدان نہیں تو کسی کو مولانا فضل الرحمن میں سارا اسلام نظر آتا ہے۔
کوئی پیپلزپارٹی کا جیالا ہے تو کوئی کپتان کا کھلاڑی کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ کوئی الطاف حسین کو پیر مانتا ہے تو کوئی مریم نواز کا متوالا بنتا ہے۔
اگر یہ سب جیالے، متوالے، مریدین اور کھلاڑی اپنے مسائل کو سمجھیں اور اپنی اپنی سیاسی قیادت کو ان مسائل کی نشاندہی کر کے ان کے حل پر مجبور کریں اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ احترام کے دائرے میں مثبت بحث مباحثہ کریں تو سیاسی قیادت بھی ان مسائل کی طرف توجہ دے گی، اگر سیاسی جماعتوں کی قیادت کو پتا ہو کہ اگر ہم نے حقیقی مسائل پر بات نہ کی تو ہمارے کارکن ہمیں چھوڑ سکتے ہیں تو وہ ضرور توجہ کریں گے۔ ہم ہر حال میں اپنے لیڈر کو بہتر بنانے کی بجائے ہر ایک ایشو پر اپنے لیڈران کی کارکردگی کو پرکھیں اور اچھے کام پر ستائش اور غلط اقدام پر تنقید کے ساتھ اس کا متبادل بھی پیش کریں تو ہمارے مسائل کا حل بھی نکلے گا اور ہمارا جمہوری نظام بھی مضبوط ہوگا۔ موجودہ صورتحال میں تو تمام سیاسی جماعتیں فوجی بیوروکریسی کی مرہون منت رہیں گی اور راولپنڈی سرکار کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی قیادت کو مضبوط ہونے کا موقع نہیں دے گی، یہ انسانی فطرت ہے کہ کوئی اپنی روزی میں لات نہیں مارتا ہے۔
میری پہنچ سیاسی جماعتوں کی قیادت تک تو نہیں ہے لیکن میں تمام سیاسی کارکنوں سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ سب سے پہلے اپنا اور عوام کا مفاد مقدم رکھیں، خوشامد کی بجائے اپنے حقیقی مسائل اپنی قیادت کے سامنے پیش کریں اور دوسروں پر مثبت تنقید کے ساتھ مسائل کا حل بھی بتائیں۔ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔
آپ سب کا خیر خواہ
مختار احمد چوہدری
کارکن جموں و کشمیر عوامی اتحاد

Address

Bhimber AJK
Bhimber

Telephone

+923484456307

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jammu & Kashmir Awami Itihad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share