Global Insights

Global Insights Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Global Insights, Burewala.

18/07/2024

*پاکستانیت اور دہرے معیار*

گزشتہ دنوں پاکستان کے ایک نامور اسلامی سکالر انجینئر محمد علی مرزا نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا " اگر عمران خان صاحب زندہ رہے اور جیل سے باہر آگئے تو اس ملک میں استحکام نہیں آ پائے گا اور یہ بات فوج کو پتہ ہے اس لیے وہ اندر ہیں"
*جناب!*
انجینئر صاحب کا بیانہ انٹرنیٹ پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلا اور نئی نسل اور انجینئر صاحب کے مخالفین حیران کن طور پر ایک کشتی میں سوار نظر آئے۔حیرت کی انتہا نہ رہی جب اکثریت نے محرم الحرام کی مناسبت سے انجینئر صاحب پر یزیدیت کا فتویٰ جاری کردیا اور دُو بہ دُو لفظی ڈنڈے سوٹے برسانے شروع کردیے۔ بندۂ ناچیز اپنی معمولی سے رائے دینا چاہتا ہے اور وہ یہ کہ بطور پاکستانی ہم کس قدر دُہرے معیار کے حامل ہیں۔ پہلی بات یہ کہ سوشل میڈیا کے کسی بھی اسلامی علم بردار نے پوڈکاسٹ پورا نہیں دیکھا اگر دیکھا ہوتا تو حالات یوں نہ ہوتے۔ انجینئر صاحب نے اپنے بیانات میں فوج کی سیاسی مداخلت کی مذمت کی اور جنرل ضیاء سے لے کر جنرل باجوہ تک سب کہ غلطیوں کی نشاندہی کی اور بتایا کہ کس طرح فوج عدم مداخلت کا حلف لے کر اسی حلف کی دھجیاں اڑاتی رہی ہے۔
خیر میرا موضوع یہ بھی نہیں کہ فوج نے کب اور کتنی مداخلت کی بلکہ یہ ہے کہ ہم کس قدر دُہرے معیار رکھتے ہیں۔ انجینئر صاحب ایک قابل آدمی ہیں اور ان کی دینی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ سوشل میڈیا پر یزیدیت کا فتویٰ جاری کرنے والے ذرا اس بات کا جواب بھی دیں کہ کیا ہر وہ شخص جو عمران خان صاحب کے حق میں بات نہیں کرے گا وہ یزیدی ہو جائے گا؟ اگر ایسا ہے تو اس ملک کی ایک نامور اسلامی جماعت 'تحریک لبیک پاکستان' کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟ اس جماعت کو یزیدیت کا فتویٰ جاری کیوں نہیں کر رہے۔ باقی سیاسی جماعتیں بھی موجود ہیں پاکستان میں، انہیں بھی یزیدی لشکر قرار دے دیں. مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ہاں طاقتور اور کمزور کے لیے قانون مختلف ہے۔ اسلامی علمبردار سوشل میڈیا پر ایک ایسے شخص کو تو فتوات جاری کر سکتے ہیں جسکے سننے والے انتہا پسند نہیں مگر کسی ایسی جماعت پر بات نہیں کر سکتے جو ان کو گستاخی کا دعویدار ٹھہرا کر قتل کرنے پر اتر آئے۔ مفتی حنیف قریشی صاحب کی حالتِ زار بھی سب کے سامنے ہے کہ کس طرح ان مذہبی درندوں سے چھپ چھپا کر انہیں اپنی جان بچا کر بھاگنا پڑا۔
پھر یہ بات بھی ہے کہ کیوں ہم ایسی سوچ رکھتے ہیں کہ ایک شخص جو زندگی کے کسی ایک شعبے میں مہارت رکھتا ہے، اسے دوسرے شعبے(زیادہ تر سیاست) میں بھی اسی پائے کا عبور حاصل ہو۔ قطعاً یہ ضروری نہیں کہ ایسا ممکن ہو۔ 'حقِ اظہار ِرائے' اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلقہ ہر بل کا حصہ رہا مگر افسوس اس بات کا ہے ہماری قوم آج بھی اسکے علم سے محروم ہیں۔ اسی کے سیاق و سباق میں یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ ہم بحیثیتِ قوم 95٪ جاہل ہیں۔

تحریر: محمد معیز

18/07/2024

جناب!

آج جناب اکرام عارفی اور واجد امیر صاحب سے ملاقات کا اتفاق ہوا۔ چونکہ میرا ادب سے تعلق محض اتنا ہی ہے جتنا آج کل عمران خان کا اسٹیبلشمنٹ سے ہے لہذا ملاقات ادب سے عاری رہی یا یوں کہہ لیں کہ بے ادب رہی۔ عارفی صاحب اور واجد صاحب کے شاگردانِخاص کا جھرمٹ انکے اردگرد موجود تھا مگر ہم نے بھی صفیں چیرتے ہوئے کامیابی کیساتھ صفِ دوم میں جگہ بنا لی اور فوراً اپنے موبائل کا کیمرہ چمکانا شروع کردیا۔ گفتگو میں متعدد موضوع زیرِ بحث رہے اور اختلافِ رائے بھی رہا مگر نسوانی حُسن کے موضوع پر سب ہم خیال رہے۔ محفل میں موجود نئی نسل کے شعراء نے اپنی غزلیں پیش کیں مگر ایک صاحب تو ایسے نکلے کہ انہوں نے انگریزی میں غزل کہہ ڈالی جس پر واجد صاحب بولے! علیم تم نے آج انگریزی شاعری کیساتھ وہی کیا ہے جو سیاستدانوں نے ہمارے ملک کے ساتھ کیا ہے۔ایک کونے سے دھیمی آواز آئی۔۔۔بالتکار۔
البتہ سنگت میں سے دلفریب چیز عارفی صاحب کے چہرے کے تاثرات تھے جو ہر عمدہ شعر پر ان سے نکل جاتے تھے جو کہ شاید اب انکی شخصیت کا حصہ اور لوگوں میں آپکی پسندیدگی کی ایک وجہ بھی ہیں۔ خیر ہم نے بھی ہمت پکڑی اور محفل میں اپنی حاضری باور کروانے کے لیے موقع ملتے ہی عارفی صاحب سے سوالات شروع کردیے۔ ہم نے پوچھا عارفی صاحب آپ عمدہ شعر سنتے ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں اور شاعر کے آگے ہاتھ جوڑ کر اسکی بھرپور ستائش کرتے ہیں، کیا بھارتی اداکار وکی کاشل آپکے اس منفرد انداز سے متاثر تو نہیں؟ محفل میں قہقہہ لگا اور ایک نوجوان بولا! بھائی سوال آپکا توبہ توبہ! مگر عارفی صاحب نے اس بات کی لاعلمی کو سگریٹ کے ایک کش میں اُڑا دیا۔ دوسرے سوال میں عارفی صاحب سے پوچھا کیا آپ نے مونچھیں جرمن فلسفہ دان فریڈرک نطشے سے متاثر ہوکر رکھی ہیں؟ بولے کیا نطشے کے بھی سامنے کے دانت نہیں تھے؟ ایک گونج دار قہقہہ لگا جسکا واجد امیر صاحب سمیت سب نے بھر پور لطف لیا۔
تاہم سنگت رات گئے دیر تک چلی مگر جو نہیں چلے، وہ یہ تمام لوگ اپنے گھر کو نہیں چلے۔ لہذا ہمیں بھی محفل کے آداب کو مدِنظر رکھتے ہوئے مجبوراً جب خالی پیٹ بیٹھنا پڑا تو اس وقت ہمیں یہ احساس ہوا کہ خاموشی کیوں عین عبادت ہے!
خیر وقت نے اپنی خوبی ثابت کی اور کٹ گیا اور پھر یوں ہوا کہہ دونوں شعرا نے طلباء سے اجازت طلب کی اور روانہ ہوگئے۔ دوسری جانب ہم نے بھی نیت باندھی کہ "نیت کرتا ہوں میں دو عدد روٹیاں کھانے کی واجب ساتھ آلو قیمے کے، واسطے پاپی پیٹ کے، منہ طرف ریسٹورنٹ شریف، اللّٰہ اکبر"

تحریر: محمد معیز

یا اللہ اس ہوٹل پر رش  لگا دے ھماری فیکٹری کے قریب ایک ناشتہ پوائنٹ ھےاکثر وھاں ناشتہ کرنے جاتے ھیں.. کافی رش ھوتا ھے نا...
20/12/2021

یا اللہ اس ہوٹل پر رش لگا دے
ھماری فیکٹری کے قریب ایک ناشتہ پوائنٹ ھے
اکثر وھاں ناشتہ کرنے جاتے ھیں.. کافی رش ھوتا ھے ناشتے والے کے پاس
میں نے کافی دفعہ مشاھدہ کیا کہ ایک شخص آتا ھے اور کھانا کھا کر بھیڑ کا فائدہ اُٹھا کر چُپکے سے پیسے دئیے بغیر ھی نکل جاتا ھے جھانسہ دے کر ایک دن جب وہ کھانا کھا رھا تھا تو میں نے چُپکے سے ناشتہ پوائنٹ کے مالک کو بتا دیا کہ وہ والا بھائی ناشتہ کر کے بغیر بِل دئیے رش کا فائدہ اُٹھا کر نکل جاتا ھے.. آج یہ جانے نہ پائے.. اس کو رنگے ھاتھوں پکڑنا ھے آج میری بات سُن کر ناشتے والا مالک مُسکرانے لگ گیا اور کہنے لگا کہ اسے نکلنے دو.. کُچھ نہیں کہنا اس کو.. بعد میں بات کرتے ھیں.
حسبِ معمول وہ بھائی ناشتہ کرنے کے بعد ادھر اُدھر دیکھتا ھوا جھانسہ دے کر چُپکے سے نکل گیا.
میں نے ناشتے والے مالک سے پُوچھا کہ اب بتاؤ اُسے کیوں جانے دیا.. کیوں اُس کی اس حرکت کو نظر انداز کیا؟؟؟
جو جواب اُس ناشتے والے مالک نے دیا وہ جواب میرے چودہ طبق روشن کر گیا.
کہنے لگا کہ اکیلے تُم نہیں بہت سے بندوں نے اس کو نوٹ کیا اور مجھے بتایا.. نہ بھی کوئی بتاتا تو مجھے خُود بھی پتہ ھے اس کی اس حرکت کا ھمیشہ سے
کہنے لگا کہ یہ سامنے بیٹھا رھتا ھے اور جب دیکھتا ھے کہ میری دوکان پر رش ھو گیا ھے تو چُپکے سے آ کر کھانا کھا کر نِکل جاتا ھے.
میں ھمیشہ اس کو نظر انداز کر دیتا ھوں اور کبھی نہیں روکا.. نہ پکڑا نہ کبھی بے عزت کرنے کی کوشش کی
کیونکہ مجھے لگتا ھے کہ میری دوکان پر رش ھی اس بندے کی دُعا سے لگتا ھے.. یہ سامنے بیٹھ کر دُعا کرتا ھو گا کہ یا اللہ اس ہوٹل پر رش لگا دے تاکہ میں اپنی کاروائی ڈال سکوں.......... اور سچ میں رش ھو جاتا ھے ھمیشہ جب یہ آتا ھے.....
میں اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان اس دُعا اور قبُولیت کے معاملے میں ٹانگ اڑا کر اپنی بدبختی کو دعوت نہیں دینا چاھتا... یہ میری طرف سے نظر انداز ھی ھوتا رھے گا اور ھمیشہ ایسے کھانا کھاتا رھے گا تو بھی میں کبھی اس کو پکڑ کر بے عزت نہیں کروں گا
#منقول

ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﺭ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ۔ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺗﻮ ﻣﺴﮩﺮﯼ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﮭﭧ ﭘﭧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍٓﻧﮑﮫ ﮐﮭ...
13/11/2021

ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﺭ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ۔ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺗﻮ ﻣﺴﮩﺮﯼ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﮭﭧ ﭘﭧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍٓﻧﮑﮫ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﭼﻮﺭ ﻧﮯ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻟﯿﭩﮯ ﻟﯿﭩﮯ ﺑﻮﻟﯽ ’’ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﻢ ﺷﮑﻞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﭼﮭﮯ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﻮ، ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﻟﮓ ﮔﺌﮯ ﮨﻮ۔ ﭼﻠﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﻟﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﺠﻮﺭﯼ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﻮ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺫﺭﺍ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺗﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﻭ
ﭼﻮﺭ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺪﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﻨﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ’’ ﺑﯿﭩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﻮﮞ ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻞ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ 3 ﺩﻓﻌﮧ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﻣﺎﺟﺪ ۔ ۔ ﻣﺎﺟﺪ ۔ ۔ ﻣﺎﺟﺪ !!! ﺑﺲ ﭘﮭﺮ ﺧﻮﺍﺏ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﺫﺭﺍ ﺑﺘﺎﻭٔ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮨﻮﺋﯽ؟ ‘‘
ﭼﻮﺭ ﺳﻮﭺ ﻣﯿﮟ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﮐﺎ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﺎ ﻣﺎﺟﺪ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﭨﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﺁﮐﺮ ﭼﻮﺭ ﮐﯽ ﺧﻮﺏ ﭨﮭﮑﺎﺋﯽ ﻟﮕﺎﺋﯽ۔ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﺑﻮﻟﯽ ’’ ﺑﺲ ﮐﺮﻭ ﺍﺏ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﯿﮯ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﺑﮭﮕﺖ ﭼﮑﺎ۔ ‘‘ ﭼﻮﺭ ﺑﻮﻻ ’’ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺭﻭ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﺭ ﮨﻮﮞ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ 😭 😂

‏خلیل الرحمن قمر صاحب لکھتے ہیں کہ میں  جب چھوٹا تھا تو بڑا انا پرست تھا.غربت کے باوجود کبھی بھی یوزڈ کپڑے نہیں پہنتاتھا...
10/09/2021

‏خلیل الرحمن قمر صاحب لکھتے ہیں کہ میں جب چھوٹا تھا تو بڑا انا پرست تھا.غربت کے باوجود کبھی بھی یوزڈ کپڑے نہیں پہنتاتھا۔ ایک بار میرے ابا کو کپڑے کاسوٹ گفٹ ملا تو میں نے اُن سے کہا مجھے کوٹ سلوانا ہے۔تو ابا جی نے اجازت دے دی اور ہاف سوٹ سے میں نے گول گلے والا کوٹ_سلوا لیا جسکا ‏اُن دنوں بڑا رواج تھا۔۔
وہ کوٹ پہن کر مَیں چچا کے گھر گیا تو چاچی اور کزنز نے فَٹ سے پوچھا: ”اویے_خیلے_اے_کوٹ_کتھو_لیا_ای؟
میں نے کہا:”سوایا ہے چاچی“لیکن وہ نہ مانے میں نے قسمیں بھی کھاٸیں۔لیکن اُنکو اعتبار نہ آیا خالہ،پھوپھو کے گھر گیا تو وہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا میں گھر آیا ‏اور کوٹ اُتار کر پھینک دیا اور رونے لگ گیا۔۔
حالات کچھ ایسے تھے کہ کوٸی بھی ماننے کو تیار ہی نہیں تھاکہ خیلہ بھی نیا کوٹ سلوا سکتا ہے۔
پڑھنے لکھنے اور جاب کےبعد جب میں ایک بنک کے بورڈ آف ڈاٸریکٹرز کا ممبر بنا۔تو بورڈ آف ڈاٸریکٹرز کی ایک میٹنگ میں اچھے سے ڈراٸی کلین کیا ہوا لنڈے ‏کا کوٹ پہن کرگیا تو میرے کولیگز کوٹ کو ہاتھ لگاکر پوچھنے لگے:”خلیل صاحب بڑا پیارا کوٹ اے کیہڑا برانڈ اے،تے کھتو لیا جے؟ کلاتھ تے سٹیچنگ وی کمال اے“
مَیں نے بِنا کوٸی شرم محسوس کرتے ہوٸے کہا: ”بھاٸی جان لنڈے چوں لیااے“ لیکن وہ نہ مانے میں نے قسمیں بھی کھاٸیں۔پھر بھی اُن کو اعتبار ‏نہ آیا۔۔
اور اب کی بار میں رونے کی بجاٸے ہسنے لگ گیا تھا۔۔۔

سچ ہے یہ معاشرہ بڑا منافق ہے غریب کے سچ پر بھی اعتبار نہیں کرتا اور امیر کے جھوٹ پر بھی صداقت کی مہر لگا دیتا ہے۔۔۔!!

#سید 💚

23/06/2021

بزرگ سنایا کرتے تھے کہ:

شیخ سعدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنے ایک دوست کے گھر گئے ، اُس نے آپ کی ضیافت کے لیے انواع و اقسام کے کھانے بنائے ۔
آپ جب دسترخوان پر بیٹھے تو کھانے دیکھ کرکہنےلگے:

دعوت شیراز ، تیری کیا بات ہے!

دوست نے سوچا شاید مجھ سے خدمت میں کوئی‌کمی رہ گئی ہے جو میرا دوست ، شیراز کی دعوت کو یاد کر رہا ہے ۔
اس نے کھانوں کی تعداد مزید بڑھا دی‌ ، لیکن آپ جتنے دن وہاں رہے ہر کھانے پر دعوت شیراز کو ہی یاد کرتے رہے ۔

کچھ عرصے بعد وہ‌ دوست شیخ کے گھر آیا تو اس کے ذہن میں دعوت شیراز گھومنے لگی‌ ...... لیکن کافی دن رہنے کے باوجود بھی جب کوئی پرتکلف دعوت میسر نہ آئی ، تو اس نے شیخ سے پوچھا:

بندہ نواز ! دعوت شیراز کب ہوگی ؟

سعدی مسکرائے اور کہنے لگے:

عزیزِ مَن ! جو آپ میرے غریب خانے میں روزانہ کھاتے ہیں یہی دعوتِ شیراز ہے ۔

میں آپ کے ہاں گیا تو آپ نے میرے لیے پرتکلف کھانے بنائے ، اگر میں مزید کچھ دن ٹھہرتا تو آپ اکتا جاتے ، مجھے بوجھ سمجھنے لگتے ۔
لیکن‌ آپ میرے گھر آئے ہیں تو میں نے کوئی تکلف نہیں کیا ، جو میسر آیا پیش کردیا ۔
آپ میرے پاس بھلے سال بھر ٹھہرے رہیں میں بالکل نہیں اکتاؤں گا ، کیوں کہ آپ کو میں نے خود پر بوجھ نہیں بننے دیا ۔
اور جس دعوت میں تکلف نہ ہو وہی دعوت ، دعوتِ شیراز ہوتی‌ ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سبحان اللہ !شیخ نے کیسی پیاری‌تعلیم دی ۔

کسی کے گھر جائیں تو نہ خود تکلف کریں نہ انھیں تکلف میں مبتلا ہونے دیں ۔
ان سے مانوس ہو جائیں ، پیار محبت سے پیش آئیں اور دعاے خیر سے نوازیں ۔
میں نے بہت دفعہ تجربہ کیا کہ‌ جو مہمان گھر آکر ، گھر کے فرد بن جاتے ہیں ، وہ بہت اچھے لگتے ہیں ؛ جی چاہتا ہے وہ کچھ دن اور ٹھہر جائیں ۔

حضرت فضیل‌بن عیاض رحمہ‌اللہ فرماتے تھے:

تکلف کی وجہ سے لوگ ایک‌ دوسرے سے جدا ہوگئے ....... اگر درمیان سے‌تکلف نکل جائے تو ایک‌ دوسرے سے بے دھڑک ملا کریں ۔
( کیمیاے سعادت ، رکن دوم معاملات ، آداب طعام‌ خوردن‌ بادیگران ، ص‌232 م خیابان ناصر خسرو تہران‌ )

کباڑیےمولوی صاحب ان کا کوئی فائدہ نہیں‘ یہ فضول ہیں‘ ان میں تو پکوڑے بھی نہیں تولے جاسکتے‘‘ کباڑیے نے کتابیں سائیڈ پر رک...
07/06/2021

کباڑیے
مولوی صاحب ان کا کوئی فائدہ نہیں‘ یہ فضول ہیں‘ ان میں تو پکوڑے بھی نہیں تولے جاسکتے‘‘ کباڑیے نے کتابیں سائیڈ پر رکھ دیں۔

وہ میری طرف مڑے اور ہنس کر بولے ’’محمد جاوید تم بتائو میں نے کیا کہا تھا‘‘ میں نے مسکرا کر سر ہاں میں ہلادیا‘ ان کا ہاتھ پکڑا‘ نیچے جھکا اور ان کے سفید براق ہاتھ پر بوسہ دے دیا‘ وہ کباڑیے کی طرف مڑے اور کہا ’’تم ساری فضول کتابیں سائیڈ پر کر دو‘‘ اس نے چمک کر کہا ’’یہ ہوئی نا بات‘‘ اور وہ کتابوں کے ڈھیر سے تیزی سے کتابیں چھاٹنے لگا۔


اس نے چمکدار نفیس کاغذ پر چھپی ہوئی تمام کتابیں ایک سائیڈ پر رکھیں‘ جلد والی پرانی کتابیں دوسری سائیڈ پر رکھیں اور پیپر پیک کی کتابوں اور ڈائجسٹوں کا ڈھیر سامنے لگا لیا اور پھر بولا ’’مولوی صاحب میں ان کے 80 روپے کلو دوں گا‘‘ وہ اس کے بعد چمکدار کاغذوں والی کتابوں کی طرف مڑا اور بولا ’’یہ ساٹھ روپے کلو ہونگی اور یہ جلد والی ساری کتابیں 25 روپے کلو ہوں گی‘‘۔
حضرت صاحب خاموشی سے دل چسپی کے ساتھ اس کی طرف دیکھتے رہے‘ میں نے کرسی پر کروٹ بدلی اور اس سے پوچھا ’’یہ تمام کتابیں ہیں‘ ان کے ریٹ میں اتنا فرق کیوں ہے‘‘ کباڑیہ ہنس کر بولا ’’جناب یہ کتابیں اخباری کاغذ کی ہیں‘ یہ ہم سے پکوڑے‘ سموسے اور لفافے والے خرید لیتے ہیں‘ ان کی قیمت زیادہ ہوتی ہے‘ یہ کتابیں چمک دار کاغذوں والی ہیں‘ ان کے صرف لفافے بن سکتے ہیں اور وہ بھی تعداد میں کم اور ان لفافوں کے خریدار بھی زیادہ نہیں ہوتے اور یہ موٹی جلد والی کتابیں یہ مکمل فضول ہیں‘ آپ خود بتائیں مجھے ان کی جلدوں کا کیا فائدہ ہو گا؟ دوسرا ان کے کاغذ بھی پرانے اور خستہ ہیں‘ یہ مجھ سے کون خریدے گا؟‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔


کباڑیے کی بات ختم ہو گئی تو حضرت صاحب نے میری طرف دیکھا اور فرمایا ’’محمد جاوید آپ اب جلد والی کتابیں اٹھا کر دیکھو‘ یہ کون کون سی ہیں‘ میں نے پہلی کتاب اٹھائی‘ یہ امام غزالیؒ کی تہافت الفلاسفہ تھی اور یہ 1706ء میں ایران کے کسی قدیم پریس پر چھپی تھی اور یہ ہر لحاظ سے نادر اور قیمتی تھی‘ دوسری کتاب بوعلی سینا کی کتاب الشفاء کا قلمی نسخہ تھا‘ یہ سونے کے پانی سے تحریر کیا گیا تھا اور تیسری کتاب ابن کثیر کی البدایہ والنہایہ کی تیسری جلد تھی اور یہ بھی لبنان کے کسی کاتب نے ہاتھ سے تحریر کی تھی۔

یہ تمام کتابیں انتہائی قیمتی تھیں اور یہ اگر یورپ میں ہوتیں تو یہ باقاعدہ نیلام کی جاتیں اور لوگ بولی لگا کر یہ خریدتے لیکن میرے سامنے بیٹھا شخص منہ میں پیک سنبھالتے سنبھالتے کہہ رہا تھا یہ میرے لیے فضول ہیں اور میں ان کو 25 روپے کلو میں خریدوں گا جب کہ وہ عام بازاری ڈائجسٹوں کو 80 روپے کلو کے حساب سے خرید رہا تھا‘ حضرت صاحب نے خادم کو اشارہ کیا۔

اس نے جلد والی تمام کتابیں اٹھا لیں اور پیپر بکس‘ ڈائجسٹ اور گلیزڈ پیپر میگزین کباڑیے کے حوالے کر دیے اور وہ انھیں اپنے میلے کچیلے سلیپروں میں رکھ کر تولنے لگا‘ میں حیرت سے یہ منظر دیکھتا رہا‘ وہ کتابیں سمیٹ کر چلا گیا تو حضرت صاحب نے تمام روپے اپنے خادم کو دے دیے اور فرمایا ’’یہ ابوبکر کے اکائونٹ میں جمع کرا دیجیے‘‘ اور ہاتھ جھاڑ کر میری طرف متوجہ ہو گئے۔

وہ تھوڑی دیر مجھے دیکھتے رہے اور پھر بولے ’’محمد جاوید (وہ مجھے محمد جاوید کہتے تھے‘ ان کا کہنا تھا چوہدری کے لفظ سے تکبر کی بو آتی ہے اور یہ میری پرسنیلٹی کے ساتھ سوٹ نہیں کرتا) آپ نے پوچھا تھا ہمارے ملک میں جمہوریت کیوں نہیں چل پاتی؟ میں نے یہ سارا کھیل آپ کو ایک چھوٹا سا نکتہ سمجھانے کے لیے کھیلا تھا‘ یہ یاد رکھیں آپ کے سامنے اگر کباڑیہ بیٹھا ہو تو پھر آپ کی کتابوں‘ آپ کے لفظوں کی ویلیو 25 روپے کلو سے زیادہ نہیں ہو سکتی‘ آپ پھرتول کر بیچے جائیں گے‘‘۔

وہ رکے اور بولے ’’آپ بتائیں علماء کی نظر میں امام غزالیؒ کی تہافت الفلاسفہ اور ابن کثیر کی البدایہ والنہایہ کی کیا حیثیت ہے؟ اور یہ کتاب‘‘ وہ رکے اور بو علی سینا کی کتاب الشفاء اٹھا کر بولے ’’ یہ سونے میں لکھی ہوئی ہے‘ دنیا میں ایسی چند کتابیں ہوں گی اور ان کی کیا ویلیو ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’یہ ذہنوں کو بدلنے والی کتابیں ہیں‘ امام غزالیؒ نے دنیا میں بجٹ کا تصور دیا تھا‘ ان کا کہنا تھا فرد ہو‘ خاندان ہو یا پھر ریاست یہ اس وقت تک ترقی نہیں کرتی جب تک یہ بجٹ نہ بنا لے۔

یہ اپنے وسائل‘ آمدنی اور اخراجات میں توازن قائم نہ کرلے اور دوسرا امام غزالی ؒ نے علم کو دین اور دنیا دو حصوں میں تقسیم کیا تھا‘ آپ کو آج دنیا میں جتنی بھی ترقی نظر آتی ہے اس کے پیچھے امام غزالی ؒ کے یہ دو فلسفے ہیں اور یہ کتاب تہافت الفلاسفہ امام غزالی ؒ کا حوالہ ہے‘ بوعلی سینا میڈیکل سائنس کا بانی تھا‘ اس کی کتاب الشفاء سونے میں لکھی اور تولی جانی چاہیے اور ابن کثیر اسلامی تاریخ کا بانی تھا‘ اس نے تاریخ کو باقاعدہ فن کی حیثیت دی‘ آپ دنیا کی کسی یونیورسٹی کی کوئی بڑی لائبریری دیکھ لیں‘ وہ ان کتابوں کے بغیر ادھوری سمجھی جائے گی‘‘ وہ دل چسپی سے میری بات سنتے رہے۔

میں خاموش ہوا تو وہ بولے ’’یہ ہوئی نا بات‘ ہمارے مشاہیر آج بھی یورپ‘ امریکا اور جاپان میں پاپولر ہیں‘کیوں؟ کیوں کہ یہ علم پرور معاشرے ہیں‘ یہ کتابیں آج بھی وہاں نیلام گھروں میں نیلام ہوں گی لیکن ہم کیوں کہ بے علم اور جاہل ہیں چناں چہ یہ کتابیں یہاں 25 روپے کلو میں بک رہی ہیں اور کباڑیے انھیں فضول بھی کہہ رہے ہیں‘‘ وہ رکے اور بولے ’’یہ یاد رکھو علم کی قدر علم والے کرتے ہیں‘ آپ اگر کباڑیوں کے سامنے بیٹھے ہیں تو پھر آپ کی باتیں ہوں‘ لفظ ہوں ‘ فلسفہ ہو یا تحقیق ہو کوڑیوں کے بھائو بکے گی‘‘ وہ رکے اور فرمایا’’ آپ نے بڑے غلام علی خان کا نام سنا ہو گا‘ وہ کون تھے؟‘‘ وہ خاموشی سے میری طرف دیکھنے لگے۔

میں نے عرض کیا ’’وہ ہندوستان میں موسیقی کے سب سے بڑے استاد تھے‘‘ حضرت صاحب مسکرائے اور فرمایا ’’مجھے اچھی طرح یاد ہے پاکستان بنا تو بڑے غلام علی خان بھی مملکت خداداد میں آ کر بس گئے تھے‘ یہ کراچی میں رہتے تھے اور ان کا حال یہ تھا ان کا سالہ کسی سیٹھ کا ڈرائیور تھا‘ سیٹھ نے اسے اپنے گھر میں سرونٹ کوارٹر دے رکھا تھا اور بڑے غلام علی خان اپنے ڈرائیور سالے کے کوارٹر میں رہتے تھے‘ یہ جلد ہی غربت‘ بے نامی اور بے سکونی سے تنگ آ کر انڈیا واپس چلے گئے۔

بھارت میں یہ ایک بار گانا گانے کے لیے اسٹیڈیم میں آئے‘ پہلی بات وہ اسٹیڈیم نکونک بھرا ہوا تھا اور دوسری بات جب استاد اسٹیڈیم میں داخل ہوئے تو انڈیا کے وزیراعظم لال بہادر شاستری ان کے پیچھے پیچھے آ رہے تھے اور انھوں نے استاد کا ستار اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا‘‘ وہ رکے‘ لمبی سانس لی اور بولے ’’یہ فرق کیوں تھا؟ یہ اس لیے تھا استاد بڑے غلام علی خان یہاں اس ملک میں کباڑیوں کے بیچ تھے جب کہ وہ انڈیا میں جوہریوں کے پاس پہنچ گئے تھے‘‘ وہ رکے اور پھر بولے ’’دنیا کے سب سے بڑے ہیرے کا نام کیا ہے؟‘‘میں نے عرض کیا ’’کوہ نور‘‘ وہ مسکرائے اور بولے ’’یس یو آر رائیٹ لیکن آپ جانتے ہیں یہ ہیرا کہاں سے نکلا تھا اور اس کے ساتھ کیا ہواتھا؟‘‘۔

میں نے عرض کیا یہ شاید گول کھنڈ کی کانوں سے نکلا تھا‘‘ وہ ہاں میں سر ہلا کر بولے ’’یہ سب سے پہلے خانہ بدوشوں کے ہاتھ لگا تھا اور یہ ان کے لیے ایک رنگین پتھر سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا تھا لہٰذا نہوں نے اسے گدھے کے گلے میں لٹکا دیا‘ کسی تاجر نے دیکھا تو اس نے کوہ نور جوتوں کے ایک جوڑے کے بدلے میں خرید لیا اور خانہ بدوشوں نے یہ خوشی خوشی اس کے حوالے کر دیا مگر یہ جب شاہی خاندان کے پاس پہنچا تو یہ بادشاہوں کے تاج کا حصہ بن گیا‘ یہ آج بھی ملکہ برطانیہ کے تاج میں لگا ہے‘ آپ اس اسے کباڑی اور شاہی سوچ کا فرق دیکھ لیں‘‘۔

وہ رکے اور لمبی سانس لے کر فرمایا ’’ہمارا معاشرہ بدقسمتی سے کباڑیوں کا معاشرہ ہے لہٰذا فکر ہو‘ سوچ ہو‘ علم ہو یا پھر سسٹم ہو ہماری نظر میں ان کی ویلیو 25 روپے کلو سے زیادہ نہیں اور جمہوریت کوہ نور سے بھی قیمتی اور ابن کثیر‘بو علی سینا اور امام غزالی ؒ کی فکر سے بھی اعلیٰ اور نازک چیز ہے‘ ہم کباڑیے اس کی قدر‘ اس کی قیمت سے کیسے واقف ہو سکتے ہیں چناں چہ ہم جب بھی اسے دیکھتے ہیں ہم اس کابھائو 25 روپے کلو لگا دیتے ہیں۔

ہمیں اگرجمہوریت کی قدر ہوتی تو سیاسی جماعتوں سے لے کر عوام تک اسے سونے میں تولتے‘ ہم کوہ نور کی طرح اس کی حفاظت کرتے اور امام غزالیؒ کی کتابوں کی طرح اسے چومتے‘ دل سے لگا کر رکھتے لیکن ہم کیوں کہ کباڑیے ہیں چناں چہ پارٹیوں سے لے کر ملک تک ہمیں کسی جگہ جمہوریت نظر نہیں آتی اور آپ یہ بھی یاد رکھیں یہ ہمیں اس وقت تک نظر بھی نہیں آئے گی جب تک ہم خود کو اس کے قابل نہیں بناتے‘ موسیقی ہو‘ علم ہو‘ کوہ نور جیسے ہیرے ہوں یا پھر جمہوریت ہو یہ کبھی کباڑیوں کے ظرف میںنہیں سماتی‘ قوموں کو خود کو پہلے ان کے قابل بنانا پڑتا ہے اور ہم ابھی قابلیت اوراہلیت سے کوسوں دور ہیں‘ ہم ابھی جمہوریت کی جیم تک بھی نہیں پہنچے‘‘۔
By: Javed Chaudhry

قائداعظم سفرِ ریل کے دوران اپنے لیے دو برتھیں مخصوص کرایا کرتے تھے۔ایک مرتبہ کسی نے ان سے وجہ دریافت کی تو جواب میں انھو...
06/06/2021

قائداعظم سفرِ ریل کے دوران اپنے لیے دو برتھیں مخصوص کرایا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ کسی نے ان سے وجہ دریافت کی تو جواب میں انھوں نے یہ واقعہ سنایا ’’میں پہلے ایک ہی برتھ مخصوص کراتا تھا۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے، میں لکھنٔو سے بمبئی جا رہا تھا۔ کسی چھوٹے سے اسٹیشن پر ریل رکی تو ایک اینگلو انڈین لڑکی میرے ڈبے میں آکر دوسری برتھ پر بیٹھ گئی۔ چونکہ میں نے ایک ہی برتھ مخصوص کرائی تھی، اس لیے خاموش رہا.
ریل نے رفتار پکڑی تو اچانک وہ لڑکی بولی ’’تمھارے پاس جو کچھ ہے فوراً میرے حوالے کردو، ورنہ میں ابھی زنجیر کھینچ کر لوگوں سے کہوں گی کہ یہ شخص میرے ساتھ زبردستی کرنا چاہتا ہے۔
‘‘ میں نے کاغذات سے سر ہی نہیں اٹھایا۔اُس نے پھر اپنی بات دہرائی۔ میں پھر خاموش رہا۔ آخر تنگ آ کر اُس نے مجھے جھنجھوڑا تو میں نے سر اٹھایا اور اشارے سے کہا ’’میں بہرہ ہوں، مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا۔ جو کچھ کہنا ہے، لکھ کر دو۔‘‘
اُس نے اپنا مدعا کاغذ پر لکھ کر میرے حوالے کر دیا۔میں نے فوراً زنجیر کھینچ دی اور اسے مع تحریر ریلوے حکام کے حوالے کردیا۔
اس دن کے بعد سے میں ہمیشہ دو برتھیں مخصوص کراتا ہوں۔‘‘

#منقول

ملازم بڑا ہی تابعدار تھا۔ مالک نے خوش ہو کے اس کیپانچ ہزار تنخواہ بڑھا دی۔ تابعداری میں فرق نہیں آیا لیکن وہ بہتزیادہ مش...
03/05/2021

ملازم بڑا ہی تابعدار تھا۔ مالک نے خوش ہو کے اس کی
پانچ ہزار تنخواہ بڑھا دی۔ تابعداری میں فرق نہیں آیا لیکن وہ بہت
زیادہ مشکور بھی نہیں ہوا۔
مالک کو بڑا غصہ آیا کہ میں نے اس کی تنخواہ بڑھائی لیکن یہ ہے
کہ اچھے سے شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔ اس نے اگلے ماہ تنخواہ پانچ
ہزار کم کر دی۔
ملازم کی تابعداری اب بھی وہی رہی کوئی شکایت نہیں کی۔
مالک نے اسے بلوا بھیجا اور کہا، "بڑے عجیب انسان ہو، میں نے
تمھاری تنخواہ پانچ ہزار بڑھائی، پھر کم کر دی۔ تم جوں کے توں
رہے۔ یہ سب کیا ہے ؟"
ملازم بولا، "اوه! آپ نے خود کو رازق سمجھ لیا تھا؟
میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس سے اگلے دن آپ نے تنخواہ پانچ ہزار
بڑھا دی۔ میں سمجھ گیا کہ جس خالق نے بچہ دیا اسی نے رزق کا
انتظام بھی ساتھ ہی کر دیا ہے، سو اسی کا شکریہ ادا کیا۔ پھر جس
دن آپ نے تنخواه کم کر دی اسی دن میری والدہ وفات پا گئیں۔ میں
نے جان لیا کہ وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لے گئیں۔ سو تب بھی اللہ کا
شکر ادا کر کے مطمئن رہا۔"
پھر بولا، "صاحب، یہ روزی روٹی کے فیصلے کہیں اور ہی ہوتے ہیں۔
ہم تو بس مہرے ہیں جنہیں آگے پیچھے کر کے اسباب پیدا کیا جاتے
ہیں۔🥀🥀

🌹♥️🌹

Address

Burewala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Global Insights posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Global Insights:

Share