29/05/2026
26 مئی 2026 — نمازِ عصر کا وقت
اور اگلا دن عید الاضحیٰ کی خوشیوں کا دن تھا __ 💔
ہر طرف زندگی اپنے معمول کے مطابق رواں تھی
بازاروں میں رش تھا،
بیکرز پر قطاریں تھیں،
بچے نئے کپڑوں کی ضد میں خوش تھے،
قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت جاری تھی،
اور گھروں میں عید کی تیاریوں کی رونقیں تھیں
اسی شور، اسی ہجوم اور اسی مصروف دنیا کے درمیان
تحصیل ادینزئی لوئر دیر، گل آباد کے مشال بارگین کے مالک
حاجی قیوم خان بھی اپنے گھر والوں کیلئے عید کی خریداری میں مصروف تھے
وہ بھی شاید یہی سوچ رہے ہوں گے
کہ بچوں کیلئے کیا لیا جائے
گھر میں عید کیسے اچھی گزرے
اور زندگی حسبِ معمول چلتی رہے
مگر انسان ایک طرف منصوبے بناتا ہے
اور تقدیر خاموشی سے دوسری طرف فیصلہ لکھ رہی ہوتی ہے 💔
کہتے ہیں کہ ان کے کچھ ساتھی روزے سے تھے…
حاجی صاحب نے محبت بھرے انداز میں کہا:
“آپ لوگوں کا روزہ ہے، آپ پہلے چلے جائیں __ میں تھوڑی دیر بعد آتا ہوں
کسے معلوم تھا
کہ یہ چند لمحوں کی تاخیر
زندگی اور موت کے درمیان آخری فاصلہ بن جائے گی
سنا جا رہا ہے کہ ایک نامعلوم شخص آیا
نہ کوئی تعلق، نہ پہچان
معمولی گفتگو _ گاڑیوں کے بارے میں چند سوال…
اور پھر اچانک پستول نکال کر فائرنگ
چند لمحے 😭
اور ایک آباد گھر ویران ہوگیا 💔
یہ صرف ایک انسان کی موت نہیں تھی
یہ بچوں کے سروں سے سایہ اٹھ جانے کا دکھ تھا
یہ ایک بیوی کی دنیا اجڑنے کا غم تھا
یہ دوستوں، پڑوسیوں اور چاہنے والوں کیلئے ایک ایسا صدمہ تھا
جسے الفاظ مکمل بیان نہیں کرسکتے
حاجی قیوم خان عمر میں مجھ سے بڑے تھے…
لیکن ہمیشہ شفقت، محبت اور احترام کے ساتھ پیش آتے تھے۔
ان کے لہجے میں عاجزی تھی،
چہرے پر نرمی تھی،
اور طبیعت میں خدمت کا جذبہ تھا.
وہ صرف کاروبار کرنے والے انسان نہیں تھے
بلکہ دوسروں کے کام آنے والے
لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونے والے
اور معاشرے سے جڑے ہوئے انسان تھے.
آج بھی ان کی گفتگو، ان کا انداز،
اور لوگوں کے ساتھ ان کا احترام والا رویہ ذہن میں گونج رہا ہے 💔
اور دوسری طرف
بازار اب بھی روشن تھے
لوگ عید کی تیاریوں میں مصروف تھے
بچے خوش تھے
یہ دنیا واقعی عجیب ہے
ایک گھر میں عید کے کپڑے رکھے جا رہے ہوتے ہیں،
اور دوسرے گھر میں کفن _ 💔
آج ان کے معصوم بچے اپنے والد کے قاتل کی گرفتاری اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں
یہ منظر صرف ایک خاندان کا غم نہیں
بلکہ پورے معاشرے کیلئے ایک سوال ہے.
کیونکہ ایک بچہ سیاست نہیں سمجھتا
وہ صرف اپنے باپ کا سایہ سمجھتا ہے
اور جب وہ سایہ اچانک خون میں گر جائے
تو بچے وقت سے پہلے بڑے ہوجاتے ہیں 💔
آخر کب تک؟
آخر کب تک اس دھرتی پر انسان کا خون اتنا سستا رہے گا؟
کب تک مائیں اپنے بیٹوں کیلئے خوف میں جیئیں گی؟
کب تک لوگ صبح اپنے پیاروں کو رخصت کرکے شام کو ان کا جنازہ وصول کرتے رہیں گے؟
پختون خطہ شاید اب جسم سے نہیں
روح سے تھک چکا ہے
لوگ اب صرف زندہ رہنے نہیں
امن سے جینے کی دعا مانگتے ہیں _ 💔
اللہ کرے اس مظلوم خاندان کی فریاد سنی جائے.
اللہ کرے متعلقہ ذمہ دار حلقے اور انتظامیہ مخلصانہ کوشش کریں _
تاکہ قاتل قانون کی گرفت میں آئیں
اور ایک بے گناہ انسان کے خون کو انصاف مل سکے.
اللہ تعالیٰ حاجی قیوم خان شہید کی کامل مغفرت فرمائے،
ان کے درجات بلند فرمائے،
ان کے بچوں، اہل خانہ، دوستوں اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے،
اور اس خطے کو حقیقی امن اور سکون نصیب فرمائے.
آمین یا رب العالمین.
Written by ✍️ Muhammad Ilyas Khattak
.
.
.
.
゚viralシ District Lower Dir Police Muhammad Sohail Afridi Government of Khyber Pakhtunkhwa Mashal Car Zone Gulabad