26/03/2026
انسان اور بیل کا بہت پرانا رشتہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بیل کے استعمال میں تبدیلی لائی گئے۔ ہمارے خطے سے ملنے والے ہزاروں سال پہلے کے سکے ان پر کہیں بیل بنا ہوا تھا تو کہیں بیل پر بیٹھا سوار دکھائی دیا گیا حتی کے یونانی جب اس خطے پر قابض ہوئے انہوں نے بھی اپنے سکوں پر بیل بنایا پھر مغل دور سے پہلے تک بیل کو ایک مارک کے طور پر سکے پر بنایا جاتا رہا۔ اولین سواری بھی اس خطے کی بیل ہی تھے چاہے وہ مہر گڑھ کی تہذیب ہو مونجوداڑو کی تہذیب ہو یا گندھارا ہو۔ بیل کو انسان دوست جانور سمجھا جاتا تھا اور اس سے مختلف کام لیے جاتے تھے جنگی سامان کو لے جانا یا تعمیراتی سامان لے جانا، کاشتکاری کے لیے استعمال لانا جس میل ہل چلانا یا پھر پانی کو کنویں سے نکالنا۔ وقت کے ساتھ ساتھ جدت آگئی یہ سارے کام مشینری کرنے لگ گئی تو بیل ایک شوق بن گیا۔ خطہ پوٹھوہار میں جس گھر میں بیل ہو اسے بڑا زمیندار تصور کیا جاتا ہے۔ آج بیل پوٹھوہار میں کھیل کے لیے استعمال ہوتا ہے کھیل کا نام "کراہ" جس میں کروڑوں مالیت کے بیل لائے اور میدان میں بھگائے جاتے ہیں۔ اس خطے کے لوگ اس کھیل کو بہت پسند کرتے ہیں جسے دیکھنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ دور دور سے آتے ہیں۔