02/01/2020
ریسکیو حکام کے مطابق سال 2019 میں ریسکیو 1122 پہ 15 لاکھ بوگس کالز کی گئیں!!
کیا آپ جانتے ہیں اس جملے کا کیا مطلب ہے؟؟؟؟؟؟؟
اس کا مطلب ہے کہ جب ریسکیو 1122 کی ایمبولینس بتائے گئے مقام پر مریض کو لینے پہنچی تو وہاں مریض موجود ہی نہیں تھا. اور ایسا اس سال میں پندرہ لاکھ مرتبہ ہوا.
ان پندرہ لاکھ جعلی کالز کی وجہ سے سرکاری خزانے اور محکمے کے وقت کا جو نقصان ہوا اسے تھوڑی دیر کے لیے ایک طرف رکھ دیں.
اور ذرا سوچیں کہ جب ایمبولینس گاڑیاں پندرہ لاکھ دفعہ جعلی طور پر مصروف ہو گئی تھیں اس دوران کتنے ہی مریض گھروں میں صرف اس لیے مر گئے ہوں گے کہ ان کو لینے کے لیے ایمبولینس موجود نہیں تھی.
کتنے ہی مریضوں نے سڑک پہ صرف اس لیے جان دے دی ہو گی کہ انہیں پرائیویٹ گاڑی کی وجہ سے ہسپتال پہنچنے تک کا راستہ نہیں دیا گیا ہو گا.
ہمارے کتنے ہی لوگوں کے ماں باپ بھائی بہن صرف اس وجہ سے دنیا سے چلے گئے ہوں گے کہ انہیں اپنی سواری پہ وہ اکسیجن سپلائی نہ دی جا سکی ہو گی جو ایمبولینس میں موجود ہوتی ہے.
کتنے ہی مریضوں کی صرف اس وجہ اسے موت ہو گئی ہو گی کہ ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ہسپتال پہنچنے میں بہت دیر ہو گئی تھی.
آخر اس قوم کو کب سمجھ آئے گی کہ ہر بات مذاق نہیں ہوتی. مذاق کے لیے کوئی گھٹیا طریقہ اپنا کر آپ کوئی بڑے مذاحیہ اداکار نہیں بن جاتے. ہر بات کو مذاق سمجھتے سمجھتے ہم بحیثیت قوم دنیا کی نظر میں ایک مذاق بن چکے ہیں.
اور خود کو جاہل ترین قوم ثابت کرنے میں ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی.
یاد رکھیں!!!! اگر ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانا ہے تو پھر ایک انسان کے موت کی وجہ بننا بھی پوری انسانیت کا قتل کرنے کے مترادف ہے.