02/09/2026
چکوال میں شوٹنگ والی بال
دوستو! آج شاید میری بات کچھ بھائیوں کو بری لگے لیکن حقیقت سے منہ نہیں موڑنا چاہیے۔ آج کل سوشل میڈیا، خاص طور پر جب بھی ٹک ٹاک کھولیں تو ایک نیا محاذ کھلا ہوا نظر آتا ہے، "شوٹنگ والی بال"۔ ہمارے چند بھائیوں نے اسے ثقافتی کھیل کا نام دیا ہے لیکن شاید ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا واقعی یہ چکوال کی ثقافت کا حصہ ہے؟
ثقافت سے مراد کسی معاشرے یا علاقے کے لوگوں کا وہ طرزِ زندگی، روایات، رسم و رواج، زبان، لباس، کھانے، فنون، تہوار اور اقدار ہیں جو انہیں دوسروں سے منفرد بناتے ہیں۔ اگر شوٹنگ والی بال کسی علاقے میں نسلوں سے روایتی طور پر کھیلی جاتی ہو اور مقامی میلوں یا اجتماعات کا مستقل حصہ ہو تو اسے اس علاقے کی ثقافت کا حصہ بھی کہا جا سکتا ہے۔
آتے ہیں اپنے اصل نقطے کی طرف۔ چکوال میں آج کل دو گروپس کے درمیان کچھ عرصہ قبل چک بھون میں ہونے والے میچ کے بعد سوشل میڈیا پر بیانات کی ایک جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ دونوں گروپس، ماشاءاللہ، ہمارے لیے قابلِ عزت اور قابلِ احترام ہیں۔ ابھی یہ سلسلہ جاری ہی تھا کہ دو مزید گروپس بھی اس چلتی ہوا میں نمودار ہوئے اور ایک دوسرے کے بارے میں بیان بازی شروع کر دی۔
میرا ایک چھوٹا سا سوال ہے، کیا ثقافتی کھیل سے وابستہ لوگوں کا یہ رویہ ہونا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں سوشل میڈیا پر بیان بازی کریں؟
ہم آپ کے شوق کی قدر کرتے ہیں، لیکن ذرا سوچیں کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا ثقافت دے رہے ہیں؟ کیا انہیں یہ سکھائیں گے کہ جس سے مخالفت ہو، اس کے خلاف اعلانات شروع کر دو؟
میرے بھائیو! شوٹنگ والی بال کے شائقین کی تعداد لاکھوں میں ہے، جو اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس خوبصورت کھیل کو دیکھنے آتے ہیں۔ لیکن جب آپ اس کھیل کو انا، ضد اور برتری کی جنگ بنا لیں گے تو شاید یہ کھیل بھی اپنے زوال کی طرف چل پڑے۔
براہِ مہربانی اگر آپ کو ایک دوسرے سے اختلافات ہیں تو مل بیٹھ کر حل کریں، نہ کہ سوشل میڈیا پر اعلانات کرکے ایک دوسرے کے خلاف دلوں میں نفرتیں پیدا کریں۔
کوئی بھی کھیل ہو، اس میں ایک چیز لازمی ہوتی ہے اور وہ ہے کھیل کا جذبہ، برداشت اور مخالف کا احترام۔ یہی کسی بھی کھیل کی اصل خوبصورتی ہے۔
اس لیے خدا را! یہ اعلانات اور بیان بازی بند کریں، ایک جگہ بیٹھیں، اپنی غلط فہمیاں ختم کریں اور اس خوبصورت کھیل کو داغ دار نہ کریں۔
شوٹنگ والی بال کسی ایک گروپ یا فرد کی جاگیر نہیں، یہ ایک کھیل ہے اور کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں۔
تحریر ۔۔۔چوہدری مستنصر جنید