31/05/2026
JUI M***i Mahmood Unit City Chaman
پشین چلو! تحفظِ دینی مدارس، اسلامی تشخص اور حقوقِ بلوچستان کی تاریخی آواز
بلوچستان کی سرزمین ہمیشہ دینی، علمی اور قبائلی روایات کی امین رہی ہے۔ اس خطے کے عوام نے ہر دور میں اپنے دین، تہذیب، ثقافت اور قومی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی ہے۔ آج جب دینی مدارس کے کردار پر مختلف نوعیت کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اسلامی تشخص کو چیلنجز کا سامنا ہے اور بلوچستان کے عوام اپنے بنیادی اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں ایسے وقت میں جمعیت علماء اسلام کی جانب سے 4 جون 2026 بروز جمعرات ضلع پشین میں "تحفظِ دینی مدارس و حقوقِ بلوچستان کانفرنس" کا انعقاد نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ کانفرنس محض ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ دین، قوم اور صوبے کے مستقبل سے وابستہ ایک تاریخی اور فیصلہ کن اجتماع ہے۔ اس عظیم الشان کانفرنس میں قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم العالیہ کی خصوصی خطاب فرمائیں گے جو ملک بھر میں دینی مدارس کے تحفظ، جمہوری اقدار کے فروغ اور عوامی حقوق کے حصول کے حوالے سے ایک مضبوط اور مؤثر آواز سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا خطاب یقیناً کارکنان، علماء کرام اور عوام الناس کے لیے رہنمائی کا باعث بنے گا اور موجودہ حالات میں ایک واضح لائحہ عمل پیش کرے گا۔ دینی مدارس برصغیر کے مسلمانوں کا ایک عظیم علمی ورثہ ہیں۔ یہی مدارس ہیں جنہوں نے ہر دور میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کیا، اسلامی علوم کی حفاظت کی اور قوم کی فکری و اخلاقی تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ پاکستان کی نظریاتی اساس اور اسلامی شناخت کے تحفظ میں بھی دینی مدارس کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ آج اگر یہ ادارے مختلف قسم کے دباؤ، بے جا الزامات یا غیر ضروری پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں تو ان کے دفاع کے لیے آواز اٹھانا ہر صاحبِ ایمان کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح بلوچستان کے عوام کئی دہائیوں سے مختلف مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود صوبہ ترقی، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کے میدان میں بہت سے چیلنجز سے دوچار ہے۔ عوام اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس کا ایک اہم مقصد بلوچستان کے جائز حقوق کے لیے ایک مضبوط اور متحد آواز پیدا کرنا بھی ہے تاکہ متعلقہ حلقوں تک عوام کے مسائل اور مطالبات مؤثر انداز میں پہنچ سکیں۔ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ دینی مدارس کے تحفظ، اسلامی اقدار کے فروغ اور عوامی حقوق کی جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ پشین میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس اسی جدوجہد کا تسلسل ہے۔ اس تاریخی اجتماع میں علماء کرام، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، نوجوانوں اور عوام کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہوگی کہ بلوچستان کے عوام اپنے دینی اداروں، اسلامی شناخت اور صوبائی حقوق کے معاملے میں بیدار اور متحد ہیں۔ جمعیت علماء اسلام ضلع چمن کی جانب سے بھی اس کانفرنس میں ایک عظیم الشان اور منظم قافلے کی صورت میں شرکت کا اعلان کیا گیا ہے جو کارکنان کے جذبے، تنظیمی نظم و ضبط اور اپنے مقاصد سے وابستگی کا مظہر ہے۔ یہ قافلہ اس عزم کی علامت ہوگا کہ دینی مدارس کے تحفظ، اسلامی اقدار کی پاسداری اور بلوچستان کے حقوق کے حصول کی جدوجہد میں کوئی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام کارکنان، ذمہ داران، علماء کرام، طلبہ اور عوام الناس اس کانفرنس میں بھرپور شرکت کریں۔ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں بلکہ اتحاد، شعور اور اجتماعی قوت کا مظاہرہ کرنے کا ہے۔ جب قومیں اپنے بنیادی مقاصد کے لیے متحد ہوتی ہیں تو تاریخ ان کے عزم اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔
آئیے! ہم سب مل کر اس تاریخی اجتماع کا حصہ بنیں، اپنے دینی اداروں کے تحفظ کا عہد کریں، اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کریں اور بلوچستان کے جائز حقوق کے حصول کے لیے ایک مضبوط آواز بنیں۔ 4 جون 2026 کو پشین کی سرزمین ایک بار پھر دین، اتحاد، شعور اور عوامی حقوق کے مطالبے کی گونج سے آباد ہوگی۔ یہ اجتماع صرف ایک کانفرنس نہیں بلکہ ایک پیغام، ایک تحریک اور ایک اجتماعی عزم کا اظہار ہوگا۔
پشین چلو، پشین چلو!
منجانب: حافظ محمد صدیق مدنی
جمعیت علماء اسلام چمن
بلال احمد
ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر
جے یوآئی ڈیجیٹل میڈیا سیل ضلع چمن بلوچستان
JUI Digital Media Cell District Chaman
Bilal Ahmed
Al-Jamiat Times Chaman
Hafiz Muhammad Siddiq Madani