06/08/2026
عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان کا اسمبلی اجلاس میں خطاب
🟥 صوبے میں بدامنی، کرپشن اور انتظامی ناکامی عروج پر ہے
🟥 حکومتی وزراء اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں
🟥 اگر اختیار نہیں تو عوام کا وقت ضائع نہ کریں، حقیقت تسلیم کریں
🟥 ہر دہشت گردی کے واقعے پر صرف مذمت اور رپورٹ طلب کرنا کافی نہیں
🟥 حکومت کے پاس امن کے قیام کا کوئی واضح منصوبہ نظر نہیں آتا
🟥 2008 سے 2013 کی بدامنی کا الزام اے این پی پر لگایا گیا، آج کے حالات کا ذمہ دار کون ہے؟
🟥 ریاست کی غلط پالیسیوں نے خیبر پختونخوا کو بدامنی کی طرف دھکیلا ہے
🟥 اے این پی نے دہشت گردی کی مخالفت کی اور 1300 کارکنوں کی قربانی دی
🟥 14 سال بعد بھی اے این پی کے کارکن اور رہنما کیوں نشانہ بن رہے ہیں؟
🟥 امن کے لیے صوبائی حکومت، وفاق اور سیکیورٹی اداروں کو مشترکہ حکمتِ عملی بنانا ہوگی
🟥 اگر جرنیل شاہی پر اختیار نہیں تو کم از کم افسر شاہی کو کنٹرول کریں
🟥 بیوروکریسی نے پورے صوبے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
🟥 پی ٹی آئی کے اپنے صوبائی صدر نے بھی کرپشن کا اعتراف کیا ہے
🟥 کرپشن کے خلاف حکومت اپنے ہی رہنماؤں کے الزامات کا جواب دے
🟥 بدامنی، کرپشن، سیلاب اور ٹیکسوں نے عوام کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے
🟥 سیاسی انتقام کی بنیاد پر اپوزیشن کے حلقوں کے ترقیاتی فنڈز روکے جا رہے ہیں،ترقیاتی فنڈ کسی رکن کا نہیں، عوام کا حق ہے
🟥 میں ووٹ کے لیے نہیں، عوام کے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہوں، ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھاؤں گا، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے
🟥 تحریکِ انصاف اپنے اختیار میں موجود انصاف بھی فراہم نہیں کر سکی،جو اختیارات حکومت کے پاس ہیں، کم از کم ان پر تو عمل کرے
🟥 ایکشن اِن ایڈ آف سول پاور آرڈیننس ختم کیا جائے
🟥 تھری ایم پی او کا خاتمہ حکومت کے اختیار میں ہے، شیڈول فور میں شامل بے گناہ افراد کو فوری نکالا جائے
🟥 قبائلی اضلاع کے ساتھ امتیازی سلوک بند کیا جائے
🟥 جس طرح ضلع خیبر کے لیے ترقیاتی منصوبے دیے گئے، پی کے 22 کو بھی اس کا حق ملنا چاہیے
| |