Defense Desk & Humor HQ

Defense Desk & Humor HQ یہاں پر ہتھیاروں کے بارے میں بس معلوماتی پوسٹ ہیں انفارمیشن کی حد تک ہم کسی بھی طرح کے اسلحہ کا کاروبار نہیں کرتے.

01/06/2026

ایران کا امریکہ کے ساتھ تمام مذاکرات ختم کرنے کا اعلان، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان.
fans

27/05/2026

Home..

24/05/2026

دھماکے میں شہداء کی تعداد 25 سے تجاوز کرگئی.
fans

24/05/2026

کوئیٹہ شہر میں جعفر ایکسپریس پر دھماکہ، 16 افراد جام شہادت نوش کرگئے.
fans

22/05/2026

ڈائریکٹر جنرل انٹیلیجنس بیورو فواد اسداللہ خان کی مدت ملازمت میں 4 سال کی توسیع کردی گئی،
Defense Desk & Humor HQ

نوٹ کر لیں ۔۔ Naveed Sikandar
22/05/2026

نوٹ کر لیں ۔۔
Naveed Sikandar

Weapon of the Day.Pm m1910 maxim                                                               السلام علیکم ممبرزآج ہم ت...
21/05/2026

Weapon of the Day.
Pm m1910 maxim
السلام علیکم ممبرز
آج ہم تاریخ کے ایک ایسے ہتھیار پر بات کریں گے جس کی تصویر دیکھتے ہی پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے میدانِ جنگ آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ جی ہاں، یہ ہے روس کی مشہورِ زمانہ PM M1910 Maxim (پوگلیمٹ مکسمّا)، جسے عرفِ عام میں صرف "مکسم" کہا جاتا ہے۔
اگرچہ مکسم گن کا بنیادی ڈیزائن ایک امریکی برطانوی موجد سر ہیرام مکسم نے 1884 میں تیار کیا تھا، لیکن روس نے 1910 میں اس کے ڈیزائن میں کچھ اہم تبدیلیاں کر کے اسے اپنے ماحول اور ضرورت کے مطابق ڈھالا۔ یہ ہتھیار پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں روسی اور سوویت انفنٹری کا سب سے مضبوط ستون ثابت ہوا۔
کیلیبر 7.62 کا ایمونیشن استعمال کرتی ہے x54mm یہ گن
یہ وہی طاقتور راؤنڈ ہے جو ڈریگنوف سنائپر اور پی کے ایم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
اس گن کای فائرنگ کی رفتار تقریباً 500 سے 600 راؤنڈز فی منٹ تک ہے اس گن کا فیڈنگ سسٹم 250 راؤنڈز کی کپڑے یا دھات کی بنی ہوئی بیلٹ ہوتی تھی۔
اس کے بیرل کے گرد جو آپ کو بڑا سا نالی دار سلنڈر نظر آتا ہے، وہ دراصل ایک واٹر ٹینک ہے۔ اس میں تقریباً 4 لیٹر پانی آتا تھا۔ مسلسل فائرنگ سے جب بیرل گرم ہوتی تو یہ پانی ابلنے لگتا تھا، جس سے بیرل ٹھنڈی رہتی اور گن گھنٹوں بغیر رکے فائر کر سکتی تھی۔ سخت سردی میں روسی فوجی اس میں پانی جمنے سے بچانے کے لیے اینٹی فریز یا برف پگھلا کر ڈالتے تھےاس گن کا وزن بغیر پانی اور امونیشن کے تقریباً 64 کلوگرام ہوتا تھا، اس لیے اسے اٹھا کر فائر کرنا ناممکن تھا۔ روسی ڈیزائنر سوکوولوف نے اس کے لیے پہیوں والا ایک خاص اسٹینڈ اور لوہے کی ایک مضبوط ڈھال بنائی۔ یہ ڈھال فائرنگ کرنے والے گنر کو سامنے سے آنے والے چھوٹے ہتھیاروں کے فائر اور بموں کے ٹکڑوں سے بچاتی تھی۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران، جرمن فوج جب سوویت یونین پر حملہ آور ہوئی، تو اس مکسم گن نے دفاعی پوزیشنز پر جرمن انفنٹری کے خلاف تباہی مچائی۔ اس کی سب سے بڑی خوبی اس کا بھروسہ مند ہونا تھا؛ یہ گن مٹی، ریت اور شدید برف باری میں بھی جام نہیں ہوتی تھی۔
روسی فوجی اس گن سے اتنی محبت کرتے تھے کہ انہوں نے اس پر کئی گانے اور کہانیاں بھی بنائیں۔ اسے پیار سے "مشین گن اینکا" بھی کہا جاتا تھا۔ آج بھی دنیا بھر کے ملٹری میوزیمز میں اسے "ڈیفنس وارفیئر" کی ایک عظیم علامت کے طور پر رکھا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
نوید سکندر
Defense Desk & Humor HQ Naveed Sikandar

19/05/2026

سیکیورٹی فورسز کا شمالی وزیرستان میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 22 خوارج جہنم واصل،

‏"امن انسانیت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، کیونکہ امن سے ہی محبت، خوشحالی اور سکون جنم لیتے ہیں۔ Naveed Sikandar
19/05/2026

‏"امن انسانیت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، کیونکہ امن سے ہی محبت، خوشحالی اور سکون جنم لیتے ہیں۔
Naveed Sikandar

Weapon of the Day  KRISS Vector:آج بات کرتے ہیں ایک ایسی گن کی جو دیکھنے میں کسی ہالی ووڈ کی سائنس فکشن فلم کا ہتھیار لگ...
18/05/2026

Weapon of the Day
KRISS Vector:
آج بات کرتے ہیں ایک ایسی گن کی جو دیکھنے میں کسی ہالی ووڈ کی سائنس فکشن فلم کا ہتھیار لگتی ہے، لیکن اس کا کام اور ٹیکنالوجی بالکل اصلی اور ہلا دینے والی ہے۔ جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں کرس ویکٹر رائفل
کی یہ رائفل کرس یو ایس اے کمپنی نے 2009 میں متعارف کروائی یہ رائفل کیلیبر
ACP45 ، 9×19mm، 10mm Auto، .40 S&W
کا ایمونیشن استعمال کرتی ہے (ماڈل کے حساب سے)
یہ رائفل فلی اٹو سیمی آٹو دونوں موڈ پر چس کرا دیتی ہے
رائفل کی میگزین کپیسٹی13 سے 30 راؤنڈ (ماڈل کے
حساب سے
اسکی کارگر رینج50 سے 100 میٹر تک ہے
عام طور پر جب آپ سیمی یا فل آٹو گن سے فائر کرتے ہیں، تو جھٹکا بیرل کو اوپر کی طرف دھکیلتا ہے جسے ہم "Muzzle Climb"
کہتے ہیں۔ لیکن کرس ویکٹر نے اس صدیوں پرانے مسئلے کا ایسا توڑ نکالا کہ دنیا حیران رہ گئی۔
عام گنز کا بولٹ سیدھا پیچھے کی طرف آتا ہے جس سے جھٹکا سیدھا آپ کے کندھے اور ہاتھ پر لگتا ہے۔ کرس ویکٹر کا بولٹ پیچھے جانے کے بجائے ایک خاص میکانزم کے ذریعے نیچے اور پیچھے کی طرف سلائیڈ کرتا ہے۔
جس سے فائر کے وقت پیدا ہونے والی انرجی نیچے کی طرف ڈائیریکٹ ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے بندوق کا منہ اوپر نہیں اٹھتا۔ آپ فل آٹو پر بھی پورا میگزین ایک ہی جگہ خالی کر سکتے ہیں یہ رائفل اپنے چھوٹے سائز اور زیرو فولنگ کی وجہ سے Close Quarter Battle تنگ جگہوں ہر آپریشنز کے لیے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہلی
پسند ہے.
اے سی پی 45 ایک بھاری اور تباہ کن راؤنڈ ہے جس کو عام رائفل میں چلانا ایک ہاتھی کو قابو کرنے جیسا ہوتا ہے
، لیکن ویکٹر اسے مکھن کی طرح چلاتی ہے۔
اگر آپ گیمر ہیں تو آپ نے اسے
PUBG, Call of Duty,
میں ضرور چلایا ہوگا، پاکستان میں یہ رائفل سرکاری طور پر نہیں استعمال کی جاتی اور نہ ہی اسکی موجودگی کے کوئی ثبوت ہیں ۔۔
نوید سکندر
Defense Desk & Humor HQ Naveed Sikandar

Address

Cherat

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Defense Desk & Humor HQ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Defense Desk & Humor HQ:

Shortcuts

Share

Category