عشق تیری ذات سے

عشق تیری ذات سے Only for sufi ism post .

حضرت بابا ملک شاہ ولی سرکارؒ — اگوکی شریف، سیالکوٹحضرت بابا ملک شاہ ولی سرکارؒ کا اصل دربارِ عالیہ اگوکی شریف، سیالکوٹ، ...
18/08/2026

حضرت بابا ملک شاہ ولی سرکارؒ — اگوکی شریف، سیالکوٹ

حضرت بابا ملک شاہ ولی سرکارؒ کا اصل دربارِ عالیہ اگوکی شریف، سیالکوٹ، پنجاب، پاکستان میں واقع ہے۔ آپ کا شمار اس خطے کے قدیم اور جلیل القدر اولیائے کرام میں ہوتا ہے۔ مقامی روایات کے مطابق آپ نے کئی صدیاں قبل اس علاقے میں تشریف لا کر اسلام کی تبلیغ اور روحانی فیض کا سلسلہ جاری فرمایا۔

1۔ مختصر تاریخ اور حالاتِ زندگی

اصل نام و نسب:
مقامی روایات کے مطابق آپ کا اصل نام معروف شاہ یا معروق شاہ بیان کیا جاتا ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ عوامی زبان میں ’’ملک شاہ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔

اگوکی شریف آمد اور تبلیغ:
روایات کے مطابق حضرت بابا ملک شاہ ولیؒ تقریباً 700 سے 800 سال قبل بغداد شریف یا وسطی ایشیا سے ہجرت کرکے برصغیر تشریف لائے اور سیالکوٹ کے نواحی علاقے اگوکی میں قیام فرمایا۔ آپ نے اپنے حسنِ اخلاق، روحانی فیض اور صوفیانہ اندازِ تبلیغ کے ذریعے لوگوں کو دینِ اسلام کی طرف راغب کیا۔

حضرت تلے شاہ ولیؒ سے تعلق:
مقامی روایات کے مطابق حضرت تلے شاہ ولیؒ بھی آپ کے ساتھ تشریف لائے تھے اور انہیں آپ کا استاد یا قریبی رفیقِ سفر قرار دیا جاتا ہے۔ دونوں بزرگوں کے مزارات اگوکی شریف میں عقیدت مندوں کے لیے روحانی مرکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔

عرس مبارک:
حضرت بابا ملک شاہ ولیؒ کا سالانہ عرس مبارک اگوکی شریف میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے، جس میں چادر پوشی، محافلِ نعت، ذکر و اذکار اور لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

2۔ شجرۂ طریقت

روایات کے مطابق حضرت بابا ملک شاہ ولیؒ کا تعلق قادری قلندری سلسلے سے بیان کیا جاتا ہے اور آپ کا روحانی سلسلہ بالواسطہ یا بلاواسطہ حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ تک پہنچتا ہے۔

بیان کردہ شجرۂ طریقت کی ترتیب یوں ہے:

1. حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ

2. حضرت علی ابنِ ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم

3. حضرت حسن بصریؒ

4. حضرت حبیب عجمیؒ

5. حضرت داؤد طائیؒ

6. حضرت معروف کرخیؒ

7. حضرت سری سقطیؒ

8. حضرت جنید بغدادیؒ

9. حضرت شیخ ابو بکر شبلیؒ

10. حضرت شیخ عبدالعزیز تمیمیؒ

11. حضرت شیخ ابو الفضل ابو الواحد تمیمیؒ

12. حضرت شیخ ابو الفرح طرطوسیؒ

13. حضرت شیخ ابو الحسن علی بن محمد ہکاریؒ

14. حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومیؒ

15. حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ

16. بغداد و برصغیر کے درمیان سلسلۂ خلفاء و مشائخ

17. حضرت بابا ملک شاہ ولی سرکارؒ — اگوکی شریف

نَال     کِسَے    نَئیں    جَانا     تَیرےکَر   نَہ   جَھلیا   جَھگڑے   جَھیڑےاَکلہیاں    تَینوں    دَب    آوَن    گَےلَ...
17/08/2026

نَال کِسَے نَئیں جَانا تَیرے
کَر نَہ جَھلیا جَھگڑے جَھیڑے

اَکلہیاں تَینوں دَب آوَن گَے
لَگدے لِیندے سَگے تَیرے

چَار تَکبیر پَڑھا جَنازہ
تِیّجَے دِن قُل کَرن گَے تَیرے

سَال بََعدوں تیرا خَتم پَڑھا
بُھل جَاوَن گَے تَینوں لَگدے تَیرے

چَھڈ دَے جَھلیا جَھگڑے جَھیڑے
جِیندے جِی کَر لَے عَمل چَنگیرے

ہَوسن دُور تَیری گَور چُوں ہَنیرے
ہَو جَا جَھلیا رَب دَے نَیڑے

حَشر دَیہاڑے وِی تُوں اَکلہیاں ہَونا
نَال کِسَے نَئیں کَھلونا تَیرے

عَملاں بَاہج نَئیں ہَونے نَیبڑے
کَر لَے جَھلیا کُجھ عَمل چَنگیرے

✍️ محمد عدیل احمد
( چنیوٹ )

حضرت سلطان الاولیاء خواجہ محمد زمان نقشبندیؒ المعروف خواجہ کلاں سندھ کے عظیم صوفی بزرگ، عارف، شاعر اور درگاہِ عالیہ لوار...
15/08/2026

حضرت سلطان الاولیاء خواجہ محمد زمان نقشبندیؒ المعروف خواجہ کلاں سندھ کے عظیم صوفی بزرگ، عارف، شاعر اور درگاہِ عالیہ لواری شریف، ضلع بدین، کے بانی تھے۔ آپ کا تعلق سلسلۂ نقشبندیہ سے تھا اور سندھ میں اس روحانی سلسلے کی ترویج و اشاعت میں آپ نے نمایاں کردار ادا کیا۔

ولادت اور نسب

حضرت خواجہ محمد زمانؒ کی ولادت 21 رمضان المبارک 1125ھ، مطابق 9 اکتوبر 1713ء کو قدیم لواری میں ہوئی۔ آپ کا نسب حضرت ابوبکر صدیقؓ تک پہنچتا ہے۔ آپ کے والدِ گرامی شیخ حاجی عبداللطیف صدیقی نقشبندیؒ ایک عالمِ دین اور صاحبِ تقویٰ بزرگ تھے۔

تعلیم و تربیت

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ محترم سے حاصل کی اور قرآنِ کریم کی تعلیم مکمل کی۔ بعد ازاں علمِ دین کے حصول کے لیے ٹھٹہ تشریف لے گئے، جو اس زمانے میں سندھ کا ایک اہم علمی مرکز تھا۔ وہاں آپ نے فقہ، حدیث، تفسیر اور دیگر دینی علوم حاصل کیے۔

روحانی سفر اور بیعت

ٹھٹہ میں قیام کے دوران آپ کی ملاقات سلسلۂ نقشبندیہ کے بزرگ حضرت شیخ محمد ابوالمساکین ٹھٹویؒ سے ہوئی۔ آپ نے ان کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور سخت ریاضت و مجاہدہ اختیار کیا۔ آپ کی غیر معمولی روحانی استعداد کے پیشِ نظر حضرت ابوالمساکینؒ نے آپ کو خلافت عطا فرمائی۔

لواری شریف کی بنیاد

اپنے مرشدِ کریم کے وصال کے بعد حضرت خواجہ محمد زمانؒ اپنے آبائی علاقے لواری واپس تشریف لائے اور لوگوں کی روحانی رہنمائی کا سلسلہ شروع کیا۔ قدیم لواری میں زمین کے شور زدہ ہونے کے باعث جب رہائش دشوار ہوگئی تو 1150ھ، مطابق 1743ء میں آپ نے نئے شہر لواری کی بنیاد رکھی۔ بعد میں یہی مقام لواری شریف کے نام سے مشہور ہوا۔

آپ نے یہاں خانقاہ اور مدرسہ قائم فرمایا، جہاں دور دراز علاقوں سے لوگ دینی و روحانی فیض حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوتے تھے۔

تعلیمات اور اخلاق

حضرت خواجہ محمد زمانؒ کی تعلیمات میں شریعت کی پابندی، سنتِ رسول ﷺ کی پیروی، ذکرِ الٰہی، تقویٰ، عاجزی اور خدمتِ خلق کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔

آپ بے حد سخی اور غریب پرور تھے۔ روایت ہے کہ آپ کے گھر میں جو کچھ آتا، آپ اسے ضرورت مندوں میں تقسیم فرما دیتے۔ آپ کی زندگی دنیاوی آسائشوں کے بجائے فقر، قناعت اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا عملی نمونہ تھی۔

عارفانہ شاعری

حضرت خواجہ محمد زمانؒ سندھ کے ممتاز صوفی شاعروں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ آپ کا سندھی صوفیانہ کلام "ابیاتِ سندھی" کے نام سے معروف ہے۔ آپ کے کلام میں اللہ تعالیٰ کی محبت، معرفتِ الٰہی، نفس کی اصلاح، دنیا سے بے رغبتی اور حقیقتِ انسان جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ آپ کے خلیفہ حضرت مخدوم عبدالرحیم گرہوڑیؒ نے آپ کے کلام کی شرح بھی لکھی۔

وصال اور مزار

حضرت سلطان الاولیاء خواجہ محمد زمانؒ کا وصال 4 ذوالقعدہ 1188ھ، مطابق 6 جنوری 1775ء کو ہوا۔ آپ کی عمر تقریباً 63 برس تھی۔

آپ کا مزارِ مبارک لواری شریف، ضلع بدین، سندھ میں واقع ہے، جہاں آج بھی عقیدت مند حاضری دیتے اور روحانی فیض حاصل کرتے ہیں۔ آپ کے بعد آپ کے سجادہ نشین خواجہ گل محمد اولؒ نے آپ کے مزار پر عالی شان تعمیرات اور گنبد تعمیر کروایا۔

حضرت خواجہ محمد زمانؒ کی پوری زندگی علم، شریعت، طریقت، فقر، سخاوت اور خدمتِ خلق کا روشن نمونہ تھی، اور لواری شریف آج بھی سندھ کی اہم صوفی روایات کا ایک نمایاں مرکز سمجھا جاتا ہے۔

حضرت خواجہ شیخ جمال الدین ہانسویؒ  غزنی افغانستان میں پیدا ہوئے، جب آپ 5 سال کے تھے، آپ کے خاندان نے بھارت کے شہر ہریانہ...
09/08/2026

حضرت خواجہ شیخ جمال الدین ہانسویؒ غزنی افغانستان میں پیدا ہوئے،
جب آپ 5 سال کے تھے، آپ کے خاندان نے بھارت کے شہر ہریانہ کے مقام ہانسی (انڈیا )کی طرف ہجرت کی۔

آپ 50 سال کی عمر میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کے شاگرد اور خلیفہ خاص بنے۔ جہاں سے آپ نے طریقت کی تعلیم پائی ،حضرت خواجہ شیخ جمال الدین ہانسویؒ سے حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ اس قدر محبت کرتے تھے کہ ان جذبات کو الفاظ میں ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ شیخ جمال کی خاطر حضرت بابا صاحب نے بارہ سال تک ہانسی میں قیام کیا تھا۔ اپنے محبوب مرید کے بارے میں آپ فرمایا کرتے تھے۔ ’’جمال، جمال ماست‘‘ (جمال، ہمارا جمال ہے) حضرت بابا صاحب جب اپنے کسی مرید کو خلافت نامہ عطا کرتے تو اس شخص کو تاکید فرمادیتے کہ ہانسی جاکر حضرت خواجہ شیخ جمال الدین ہانسویؒ سے مہر لگوالینا۔ اگرحضرت خواجہ شیخ جمال الدین ہانسویؒ
خلافت پر مہر لگادیتے تو وہ مستند سمجھا جاتا… اور اگر شیخ جمال صاحب مہر نہ لگاتے تو حضرت بابا صاحب بھی اس خلافت نامے کو قبول نہ فرماتے اور صاف صاف کہہ دیتے۔ ’’جمال کے چاک کیے ہوئے کو ہم سی نہیں سکتے‘‘ حضرت بابا صاحب کے یہ الفاظ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جب حضرت شیخ جمال صاحب نے آپ کے ایک مرید کا خلافت نامہ اس کی بے ادبی اور غرور کے سبب چاک کر دیا تھا اور پھر اس شخص نے حضرت بابا فرید رحمۃ اللّٰہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر حضرت شیخ جمال صاحب کی شکایت کی تھی۔ جواباً حضرت بابا فرید رحمۃ اللّٰہ علیہ نے تمام اہل مجلس کے سامنے فرمایا تھا ’’جسے ہمارا جمال چاک کر دے، ہم اسے نہیں سی سکتے‘‘

شیخ جمال الدین ہانسویؒ 659ھ میں وصال فرمایا،آپ کا مزار گوہر بار ہانسی میں ہے

حضرت سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ — مستند تاریخی تعارفسندھ کی صوفیانہ اور علمی تاریخ میں حضرت سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ کا مق...
08/08/2026

حضرت سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ — مستند تاریخی تعارف

سندھ کی صوفیانہ اور علمی تاریخ میں حضرت سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ کا مقام ایک ایسے پوشیدہ ہیرے کی مانند ہے جس کا ذکر تاریخ کی عام کتابوں میں بہت کم ملتا ہے۔ اگرچہ ان کے ذاتی حالاتِ زندگی کے بارے میں تفصیلی معلومات دستیاب نہیں، لیکن سندھ کے عظیم صوفی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے خاندان کی روحانی تاریخ میں ان کا نام انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

قدیم سندھی ماخذ "بیان العارفین"، جو شاہ عبدالکریم بلڑیؒ کے حالات و ملفوظات سے متعلق اہم کتاب ہے، میں سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ اور شاہ عبدالکریم بلڑیؒ کے روحانی تعلق کا ذکر ملتا ہے۔

1۔ پس منظر اور قادری نسبت

حضرت سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ ساداتِ بخاری سے تعلق رکھنے والے بزرگ اور صاحبِ ولایت صوفی تھے۔ روایات کے مطابق آپ سندھ کے علاقے میں مقیم رہے اور عبادت، ذکر و فکر اور گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کیے ہوئے تھے۔

آپ کو ایک مستور بزرگ بھی بیان کیا جاتا ہے، یعنی ایسا اللہ والا جو شہرت، نام و نمود اور دنیاوی دکھاوے سے دور رہتا تھا۔

2۔ حضرت شاہ عبدالکریم بلڑیؒ سے ملاقات

حضرت سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ کی تاریخ کا سب سے اہم پہلو حضرت شاہ عبدالکریم بلڑیؒ سے ان کا روحانی تعلق ہے، جو بعد میں حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے خاندان کے بزرگوں میں شمار ہوئے۔

روایات کے مطابق شاہ عبدالکریم بلڑیؒ کم عمری ہی سے اللہ والوں کی صحبت اور ایک کامل مرشد کی تلاش میں تھے۔ ایک روز وہ اپنی بستی کی مسجد میں موجود تھے کہ حضرت سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ وہاں تشریف لائے۔

شاہ عبدالکریم بلڑیؒ نے جب ان کے چہرے پر روحانیت اور نورانیت کے آثار دیکھے تو ان کی طرف بے اختیار متوجہ ہوئے اور ان کے دستِ حق پرست پر بیعت کرلی۔

3۔ جوتوں سے قلنسوہ بنانے کا واقعہ

حضرت سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ اور شاہ عبدالکریم بلڑیؒ کے تعلق سے ایک مشہور روایت جوتوں اور قلنسوہ کے واقعے کی بھی بیان کی جاتی ہے۔

روایت کے مطابق جب شاہ عبدالکریم بلڑیؒ نے سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ سے بیعت کی تو وہ ننگے پاؤں تھے۔ مرشد نے شفقت فرماتے ہوئے اپنے جوتے انہیں عطا کیے۔

شاہ عبدالکریمؒ نے مرشد کے جوتوں کو اپنے پاؤں میں پہننے کے بجائے انتہائی ادب و محبت کی وجہ سے انہیں اپنے سر پر رکھنے کو ترجیح دی۔ روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے ان جوتوں کے چمڑے سے ایک صوفیانہ ٹوپی، یعنی قلنسوہ تیار کروائی اور اسے اپنے سر پر پہن کر مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ نے ان کے اس ادب و عقیدت کو پسند فرمایا اور انہیں اپنی دعاؤں اور روحانی فیض سے نوازا۔

4۔ محنت اور حلال رزق کا درس

حضرت سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ نے شاہ عبدالکریم بلڑیؒ کو صرف روحانی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ حلال رزق، محنت اور خدمتِ خلق کا درس بھی دیا۔

روایات کے مطابق آپ نے انہیں یہ سمجھایا کہ تصوف کا مطلب دنیاوی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنا نہیں، بلکہ اللہ کی مخلوق کے درمیان رہتے ہوئے حلال رزق کمانا، اپنے گھر والوں کی ذمہ داری اٹھانا اور عبادت و خدمتِ خلق کو زندگی کا حصہ بنانا ہے۔

شاہ عبدالکریم بلڑیؒ نے اس تعلیم پر عمل کرتے ہوئے محنت مزدوری کی، کھیتی باڑی کی، لکڑیاں کاٹیں اور اپنے ہاتھ سے رزق کمایا، جبکہ رات کے اوقات اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ذکر میں گزارتے تھے۔

5۔ سفرِ حج اور مکہ مکرمہ روانگی

روایات کے مطابق حضرت سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ نے سندھ میں قیام کے دوران شاہ عبدالکریم بلڑیؒ کی ابتدائی روحانی تربیت فرمائی۔ اس کے بعد آپ حجازِ مقدس کی طرف سفر پر روانہ ہوگئے۔

آپ کی روانگی کے بعد شاہ عبدالکریم بلڑیؒ نے آپ کی ہدایت پر سندھ کے معروف بزرگ مخدوم نوح ہالائیؒ سے بھی روحانی فیض حاصل کیا۔

اسی وجہ سے بعض روایات میں شاہ عبدالکریم بلڑیؒ کے ساتھ قادری اور سہروردی دونوں روحانی نسبتوں کا ذکر ملتا ہے۔

🌹 شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ تک روحانی نسبت

حضرت سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ سے شروع ہونے والی یہ روحانی نسبت بعد کی نسلوں تک پہنچی اور شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے خاندان کی روحانی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔

ایک معروف روایت کے مطابق یہ سلسلہ یوں بیان کیا جاتا ہے:

حضرت سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ
⬇️
حضرت شاہ عبدالکریم بلڑیؒ
⬇️
سید جلال شاہؒ
⬇️
سید عبدالقدوس شاہؒ
⬇️
سید حبیب شاہؒ
⬇️
حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ

یہ نسبت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی روحانی اور صوفیانہ روایت کو سمجھنے میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔

🕌 مزارِ اقدس

سندھ کی بعض روایات اور مقامی تذکروں میں حضرت سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ کے مزار کو کراچی کے قدیم علاقے کھارادر/میٹھادر کے قریب واقع بتایا جاتا ہے۔

تاہم ان کے مزار، نسب، تاریخِ وفات اور بعض دیگر تاریخی تفصیلات کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں۔ اس لیے ان امور کو بیان کرتے وقت مستند تاریخی ماخذ اور مقامی روایات میں فرق واضح کرنا ضروری ہے۔

اسی طرح بعض روایات میں انہیں قدیم بخاری سادات اور حضرت مخدوم جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ کی روحانی روایت سے بھی منسوب کیا جاتا ہے، لیکن ہر روایت کو بلا تحقیق قطعی تاریخی حقیقت قرار دینا مناسب نہیں۔

اختتامی کلمات

حضرت سلطان ابراہیم شاہ بخاریؒ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ شہرت سے دور رہنے والے ایک صوفی بزرگ کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں، مگر ان کی روحانی نسبت حضرت شاہ عبدالکریم بلڑیؒ اور پھر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی عظیم صوفیانہ روایت تک پہنچتی ہے۔

ان کی تعلیمات میں اللہ سے تعلق، مرشد سے ادب، حلال رزق، محنت، عبادت اور خدمتِ خلق جیسے بنیادی اصول نمایاں نظر آتے ہیں۔

میں نے "بسم اللہ الرحمن الرحیم" کی جو سب سے بہترین اور شاندار تفسیر پڑھی اور سنی ۔۔مختصر سی بات ‎‎اللہ تعالیٰ نے صرف لفظ...
07/08/2026

میں نے "بسم اللہ الرحمن الرحیم" کی جو سب سے بہترین اور شاندار تفسیر پڑھی اور سنی ۔۔مختصر سی بات

‎اللہ تعالیٰ نے صرف لفظ "الرحمٰن" پر ہی اکتفا کیوں نہیں فرمایا اور اس کے بعد "الرحیم" کو کیوں شامل کیا؟

‎ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں ایک لبنانی ماہرِ لسانیات (لغوی) نے بتایا کہ مغربی ممالک کے ایک مستشرق نے ان سے سوال کیا:

‎"کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تلاوت کے آغاز میں 'بسم اللہ الرحمن الرحیم' پڑھنا کیوں لازم قرار دیا ہے؟

‎اور اس نے صرف لفظ 'الرحمٰن' پر ہی اکتفا کیوں نہیں کیا؟"

‎ماہرِ لسانیات کہتے ہیں کہ میں اس کا جواب نہ دے سکا۔

‎اس پر اس مستشرق نے خود جواب دیتے ہوئے کہا:

‎"عربی زبان میں لفظ 'الرحمٰن'، 'فَعْلَان' کے وزن پر ہے۔

‎اور عربی کا قاعدہ ہے کہ اس وزن پر آنے والا ہر لفظ اپنے اسباب کے ختم ہونے سے زائل (ختم) ہو جاتا ہے۔

‎مثال کے طور پر:

‎جوعان (بھوکا): کھانا کھانے سے بھوک ختم ہو جاتی ہے۔

‎تعبان (تھکا ہوا): آرام کرنے سے تھکن دور ہو جاتی ہے۔

‎عطشان (پیاسا): پانی پینے سے پیاس بجھ جاتی ہے۔

‎اسی طرح نعسان (اُونگھتا ہوا) اور زعلان (ناراض) وغیرہ۔

‎اسی لیے، اگر ایک عرب دان صرف 'الرحمٰن' پڑھتا تو وہ خوفزدہ ہو سکتا تھا کہ شاید یہ رحمت بھی اسباب ختم ہونے پر ختم ہو جائے۔

‎چنانچہ اللہ عزوجل نے فوراً اپنے مومن بندوں کے دلوں میں اطمینان و سکون پیدا کرنے کے لیے لفظ 'الرحيم' کا اضافہ فرمایا، جو رحمت کے مسلسل اور دائمی ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔

‎یوں مومن کا دل خوف کی حالت سے نکل کر امن، سکون اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمت پر کامل اعتماد اور بھروسے کی کیفیت میں منتقل ہو جاتا ہے۔"

‎حقیقت میں یہ اس جملے کی بہترین اور خوبصورت ترین تفسیر ہے جسے ہم کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے دہراتے ہیں:

‎"بسم اللہ الرحمن الرحیم"

‎اللہ تعالی، جو "الرحمن" (تمام مخلوقات پر بے انتہا رحم کرنے والا) اور "الرحیم" (اپنے مومن بندوں پر خاص اور دائمی رحم فرمانے والا) ہے، ہمیں بھی اپنی وسیع رحمت میں شامل فرمائے اور ہمیں اپنے باایمان بندوں میں شمار کرے۔ آمین!

‎قرآنِ مجید میں یہ بابرکت کلمات سورۃ الفاتحہ کے آغاز میں اس طرح وارد ہوئے ہیں:

‎بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

‎ "شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے "

‎الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
‎(سب تعریفیں جو اللہ تعالیٰ کے لائق ہیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۝ جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے)
‎(سورۃ الفاتحہ: 1-3)

‎نیز سورۃ النمل میں بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کے خط کے حوالے سے یہ مکمل آیت درج ہے:

‎إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

‎ "بیشک یہ (خط) سلیمان کی طرف سے ہے اور یہ کہ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے "

‎(سورۃ النمل: 30)

فقیر کی اپ لوگوں سے چھوٹی سی ریکویسٹ بسم اللہ کا نام ہر چیز میں شامل کریں جائز کام میں ڈھیروں برکتیں سمیٹیں اللہ تعالی ہمیں ایسی ہدایت دے جس کے بعد گمراہی نہ ہو
آمین

حضرت شیخ ابوبکر شبلی رحمہ اللہحضرت شیخ ابوبکر شبلی رحمہ اللہ (247ھ – 334ھ / 861ء – 946ء) تصوف اور اسلامی تاریخ کی نہایت ...
06/08/2026

حضرت شیخ ابوبکر شبلی رحمہ اللہ

حضرت شیخ ابوبکر شبلی رحمہ اللہ (247ھ – 334ھ / 861ء – 946ء) تصوف اور اسلامی تاریخ کی نہایت عظیم اور منفرد شخصیت تھے۔ آپ ابتدا میں عباسی حکومت کے ایک بااختیار گورنر تھے، لیکن دنیا کی شان و شوکت چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور عبادت کا راستہ اختیار کیا۔

ابتدائی زندگی

آپ کا اصل نام دُلف بن جحدر (بعض روایات کے مطابق جعفر بن یونس) تھا، کنیت ابوبکر اور لقب شبلی تھا۔ آپ 247 ہجری میں سامراء (عراق) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے خاندان کا تعلق خراسان کے گاؤں شبلہ سے تھا، اسی نسبت سے آپ "شبلی" کہلائے۔

آپ کے والد اور چچا عباسی دربار میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے، جبکہ آپ خود بھی دماوند کے گورنر مقرر ہوئے۔

توبہ اور دنیا سے کنارہ کشی

ایک مرتبہ شاہی دربار میں ایک گورنر نے خلعت سے اپنی ناک صاف کی، جس پر خلیفہ نے اسے سخت سزا دے کر معزول کر دیا۔

یہ منظر دیکھ کر حضرت شبلیؒ کے دل میں خیال آیا:

> "جب ایک بادشاہ کی عطا کردہ پوشاک کی بے حرمتی پر اتنی سخت سزا مل سکتی ہے، تو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور اس کے احکام کی بے حرمتی کا انجام کیا ہوگا؟"

اسی لمحے آپ نے گورنری چھوڑ دی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر لیا۔

حضرت جنید بغدادیؒ کی صحبت

آپ حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ کے مرید ہوئے۔ مرشد نے آپ کے نفس کی اصلاح کے لیے کئی آزمائشوں سے گزارا، جن میں:

ایک سال بغداد میں بھیک مانگنا۔

دماوند جا کر لوگوں سے معافی مانگنا۔

درویشوں اور عام لوگوں کی خدمت کرنا۔

ان مراحل کے بعد حضرت جنید بغدادیؒ نے آپ کو خلافت عطا فرمائی۔

علمی مقام

آپ نے تقریباً تیس برس تک علمِ دین حاصل کیا۔ فقہ میں آپ امام مالک رحمہ اللہ کے مسلک سے وابستہ تھے اور موطا امام مالک آپ کو زبانی یاد تھی۔

روحانی مقام

حضرت شبلیؒ عشقِ الٰہی میں اس قدر مستغرق رہتے تھے کہ اکثر مجذوبانہ کیفیت طاری رہتی تھی۔ عبادت کی رغبت اتنی زیادہ تھی کہ رات بھر جاگنے کے لیے آنکھوں میں نمک ڈال لیا کرتے تھے۔

وصال

حضرت شیخ ابوبکر شبلی رحمہ اللہ کا وصال 27 ذوالحجہ 334 ہجری (30 جولائی 946ء) کو بغداد میں ہوا۔ آپ کا مزار مبارک مقبرہ خیزران، بغداد (عراق) میں واقع ہے، جہاں آج بھی عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔

حضرت خواجہ رکن الدین حسین چشتیؒ 545 ہجری میں پیدا ہوئے، آپ حضرت خواجہ نجم الدین احمد مشتاق چشتیؒ کے تیسرے نمبر والے فرزن...
04/08/2026

حضرت خواجہ رکن الدین حسین چشتیؒ 545 ہجری میں پیدا ہوئے، آپ حضرت خواجہ نجم الدین احمد مشتاق چشتیؒ کے تیسرے نمبر والے فرزند تھے ، آپ اپنے والد کے وصال کے بعد اتفاق رائےجانشین مقرر ہوئے،
اسی دور میں تاتاریوں کا فتنہ اپنے عروج پر تھا حضرت خواجہ رکن الدین حسین چشتیؒ نے اپنے والد محترم کو خواب میں دیکھا جو ان سے فرما رہے تھے کہ تاتاریوں کا لشکر پہنچ رہا ہے علاقہ بدری کی بشارت پاتے ہی آپ علاقہ غور کی طرف روانہ ہو گئے اور اپنے دونوں صاحب زادوں حضرت خواجہ محی الدین علی چشتیؒ اور حضرت شیخ الاسلام قدودین خواجہ محمد چشتیؒ کو سات لیا، اس طرح منازل طے کرتے ہوئے علاقہ ساغر پہنچے ، جہاں کا والی حضرت قطب الدین حسن رحمۃ اللّٰہ علیہ تھا جو خواجہ صاحب قدس اللہ سرہ عزیز کا معتقد تھا، انھوں نے خواجہ صاحب کا بڑے اعزاز و اکرام سے استقبال کیا اور اپنے ساتھ تعظیم و تکریم سے رکھا، تاتاریوں کا لشکر اس قلعہ تک بھی پہنچا اور قلعہ کا چھ ماہ تک محاصرہ کیا جبکہ قلعہ کے اندر راشن پانی وغیرہ سب ختم ہو گیا، اور حالات انتہائی تکلیف دہ ہو گئے ایک دن ملک حضرت قطب الدین حسن رحمۃ اللّٰہ علیہ نے صرف ایک لوٹہ پانی کے ساتھ وضو کیا اور پانی کی کمیابی کی وجہ سے وضو کے پانی کو ایک برتن میں جمع کرکے حضرت خواجہ رکن الدین حسینچشتیؒ کے گھوڑے کو پلایا اس صورت حال سے مجبور ہوکر لوگ آپ کے پاس جمع کیا اور بارش کے لیے اللہ سے دعا کی التجاء کی آپ نے دست نیاز بلند کی اور دعا کے ختم ہوتے ہی باران رحمت شروع ہو گئی اور لوگ سیر آب ہو گئے حالانکہ یہ موسم بارش کا نہیں تھا یہ دیکھ کر تاتاری لشکر کو مایوسی ہوئی اور وہ محاصرہ ختم کرکے واپس چلے گئے۔
حضرت خواجہ رکن الدین حسین چشتیؒ واپس بطرف چست روانہ ہو گئے۔جب آپ تولک کے مقام پر پہنچے تو آپ نے اپنے صاحب زادوں کو قلعہ سے کچھ میوہ جات لانے کے لیے روانہ کیا جب صاحبزادے قلعہ کے قریب پہنچے تو اچانک وہاں تاتاری سپاہی آگئے ، حضرت قدودین خواجہ محمد چشتیؒ درختوں کے پیچھے چھپ گئے اور حضرت خواجہ محی الدین علی چشتیؒ گرفتار ہو گئے ۔جب آپ چشت شریف پہنچے تو پایا کہ اکثر عزیزو اقارب تاتاری فوج کے ہاتھوں شہید ہو چکے تھے اور جو بچ گئے تھے وہ نہایت پریشان حال تھے، آپ نے سب کو یکجا کیا اور تسلی دی، منقول ہے لشکر کفار جب بھی مزارات مبارکہ کے پاس سے گزرتی تو ان میں سے اکثر حضرت خواجہ رکن الدین حسین چشتیؒ کے ہاتھوں اسلام لاتے اس طرح ہزاروں فوجی مشرف بہ اسلام ہوئے اور یہ سلسلہ جاری رہا، منقول ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کی ظالم تاتاری خواجہ گان چشت کے گھوڑوں کے سموں پہ بوسہ دیتے ہوئے پائے گئے، خواجہ محی الدین علی چشتیؒ تاتاری قید سے رہا ہو کر جب چشت پہنچے تو حضرت خواجہ رکن الدین حسین چشتیؒ نے ان کو ہندوستان جانے کا حکم دیا اور خواجہ محی الدین علی چشتیؒ ہندوستان روانہ ہو گئے اور قدودین خواجہ محمد چشتیؒ خواجہ رکن الدین حسین چشتیؒ کےحیات ہی میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے، حضرت خواجہ قدودین خواجہ محمد چشتیؒ کے پس ماندگان میں ایک بیٹا جن کا نام حضرت خواجہ قطب الدین ابن خواجہ محمد چشتیؒ تھا ، چنانچہ حضرت خواجہ رکن الدین حسین چشتیؒ کو ہمیشہ اپنے جگر گوشوں کی جدائی کا غم رہا اور 635ھ رمضان المبارک میں 90 برس کی عمر میں اس دنیا سے رحلت فرما گئے-

(تذكار يكپاسى)

نفی اثبات دا گھونگھٹ چُکیا، تائیں بھیدِ عشق دا پایاغیراں نوں دیس نکالا دے کے ، من وچ یار نے ڈیرہ لایااتار کے قابِ قَوْسَ...
03/08/2026

نفی اثبات دا گھونگھٹ چُکیا، تائیں بھیدِ عشق دا پایا
غیراں نوں دیس نکالا دے کے ، من وچ یار نے ڈیرہ لایا
اتار کے قابِ قَوْسَیْن دے پردے ، ڈھولن ماہی آن جگایا
ڈُوب کے بحرِ قُلْزُم دے وچ، اِک نقطے دا بھید سمجھایا
گُجھی سَٹ مار عشق دی،مرشد گُجھیاں رمزاں کھولے
ملکوت جبروت لاہوت لنگھا کے، ناسوت دا جام پلایا
نفس دے سارے پنجرے توڑ کے روح اڈ گئی مار اڈاری
مست قلندر نے مستی دے وچ، عہدِ الست کھول سنایا
یار دیاں گلاں لکھن واسطے ، سینے اُتے ضرباں لائیاں
دیدار کرن لئی ، چن ورگا مکھڑا روح دے وچ سجایا
ویکھن دی کوئی حسرت نئیں سی،نہ وصل دیاں گلاں
خاموش نگر دیاں گلیاں دے وچ، ویکھن دا گر سکھایا
قطرے دی اوقات ایہہ کیہڑی، وحدت دے بازاراں وچ
افضال! میخانے وچ جھوم کے ، اسیں قطرہ مار مکایا

حضرت خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہحضرت خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ تاریخِ اسلام او...
02/08/2026

حضرت خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ تاریخِ اسلام اور فارسی زبان کے عظیم ترین، مقبول ترین اور بلند پایہ صوفی شاعر شمار ہوتے ہیں۔ انہیں دنیا بھر میں "لسان الغیب" (غیب کی زبان) اور "ترجمان الاسرار" (رازوں کا ترجمان) کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔

آپ کی شاعری اور زندگی قرآن و سنت کی تعلیمات، روحانی پاکیزگی اور عشقِ حقیقی کے رنگ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ آپ کی تاریخی زندگی کے نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:

1۔ پیدائش اور خاندانی پس منظر

اصل نام: شمس الدین محمد

لقب: حافظ (کیونکہ آپ نے کم عمری میں پورا قرآن مجید حفظ کر لیا تھا)

تخلص: حافظ

پیدائش: آپ کی پیدائش تقریباً 1315ء سے 1325ء کے درمیان ایران کے مشہور شہر شیراز میں ہوئی۔

یتیمی اور غربت: بچپن ہی میں آپ کے والد بہاء الدین (جو ایک تاجر تھے) کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد آپ نے شدید غربت کا سامنا کیا اور گزر بسر کے لیے ایک نانبائی یا کپڑے کی دکان پر ملازمت بھی کی۔

2۔ "حافظ" بننے کا علمی سفر

مشکل معاشی حالات کے باوجود آپ نے علم حاصل کرنے کا سلسلہ کبھی نہیں چھوڑا۔

حفظِ قرآن: آپ رات کو محنت مزدوری کرتے اور دن میں مدرسے میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ کم عمری ہی میں آپ نے قرآنِ مجید کو مختلف قراءتوں کے ساتھ حفظ کر لیا۔

آپ سے منسوب ایک مشہور قول ہے:

"میں نے جو کچھ حاصل کیا، وہ رات کی عبادت اور صبح کے وقت قرآنِ مجید کی تلاوت کی برکت سے حاصل کیا۔"

آپ نے اپنے زمانے کے ممتاز علماء سے تفسیر، حدیث، فقہ، فلسفہ، حکمت، عربی اور فارسی ادب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

3۔ روحانی تربیت اور تصوف

مرشد: تاریخی روایات کے مطابق آپ نے حضرت شیخ محمود عطار رحمۃ اللہ علیہ سے روحانی تربیت حاصل کی۔

فلسفۂ عشق: حضرت حافظ شیرازی کی شاعری کا مرکزی موضوع عشقِ حقیقی، معرفتِ الٰہی اور انسان دوستی ہے۔ آپ نے ریاکاری، ظاہری زہد اور دکھاوے کی دینداری پر تنقید کی اور اخلاص، محبت اور اللہ تعالیٰ سے حقیقی تعلق کی دعوت دی۔

دیوانِ حافظ: آپ کی غزلوں اور اشعار کا مجموعہ دیوانِ حافظ کے نام سے مشہور ہے۔ ایران، برصغیر اور دنیا کے کئی ممالک میں یہ کتاب غیر معمولی مقبولیت رکھتی ہے، اور بہت سے لوگ روحانی رہنمائی کی نیت سے اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔

4۔ امیر تیمور کے ساتھ مشہور واقعہ

حضرت حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک مشہور شعر ہے:

"اگر وہ شیرازی محبوب میرے دل کو اپنا بنا لے، تو میں اس کے رخسار کے ایک سیاہ تل پر بخارا اور سمرقند قربان کر دوں۔"

روایت کے مطابق جب فاتح امیر تیمور نے شیراز فتح کیا تو اس نے حضرت حافظ کو اپنے دربار میں طلب کیا اور کہا:

"میں نے بڑی محنت سے بخارا اور سمرقند کو آباد کیا، اور تم انہیں ایک محبوب کے تل پر قربان کرنے کی بات کرتے ہو؟"

حضرت حافظ نے نہایت عاجزی اور حاضر جوابی سے اپنے سادہ لباس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

"اے عالی جاہ! میری اسی طرح کی سخاوت اور فیاضی کا نتیجہ ہے کہ آج میرا یہ حال ہے۔"

بیان کیا جاتا ہے کہ یہ جواب سن کر امیر تیمور مسکرا دیا، خوش ہوا اور حضرت حافظ کو عزت و احترام کے ساتھ انعام دے کر رخصت کیا۔

5۔ وصال اور مزارِ مبارک

وصال: حضرت حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال تقریباً 1390ء میں شیراز ہی میں ہوا۔

مزار مبارک: آپ کا مزار شیراز (ایران) میں واقع ہے، جو "حافظیہ" (Hafezieh) کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مزار ایک خوبصورت باغ کے اندر واقع ہے اور آج بھی دنیا بھر سے لاکھوں اہلِ ادب، محبانِ تصوف اور زائرین یہاں حاضری دیتے ہیں۔

حضرت حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات

حضرت حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کی شاعری محبت، اخلاص، انسان دوستی، روحانیت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کا پیغام دیتی ہے۔ ان کے اشعار فارسی ادب کا عظیم سرمایہ ہیں اور آج بھی دنیا بھر میں ادب، تصوف اور روحانی فکر کے طالب علموں کے لیے باعثِ رہنمائی سمجھے جاتے ہیں۔

Address

Chiniot

Telephone

923123122099

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عشق تیری ذات سے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category