Sufi M.Aslam

Sufi M.Aslam Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sufi M.Aslam, Library, Chitral.

24/12/2025

ایک مینار پاکستان باقی رہا ، مینار پاکستان ہمارے آباؤ اجداد کی نشانی ہے اس کو ہم خود چندہ کشی کر کے اشرفیہ سے خرید کر عوام کیلئے وقف کردینگے ، تاکہ جب دل بوجھل ہو تو اپنے دادا پردادا کے کارناموں کی اس نشان کو دیکھ کر دل بہلائیں گے ، شاید اپنی نااہلی اور بےقوفیوں پر افسوس کردینگے ،جیسے مسلمان اکثر کرتے ہیں غلامی میں بھی اپنے باپ دادا کے کارناموں پر لمبی چوڑی کتابیں لکھتے ہیں اور پھر کسی قائد اعظم یا صلاح الدین ایوبی کے منتظر رہتے ہیں ۔

20/12/2025

اج پہلی بار پتا چلا کہ سائنس کو اردو میں جگاڑ کہا جاتا ہے ۔

13/12/2025

جہالت اور غربت تمام مسائل کی جڑ ہیں ۔ ان کے خلاف جنگ کرنا دور حاضر کا لازمی تقاضا ہے۔

06/12/2025

آج کی ذہنی غلامی کا ایک علامت یہ بھی ہے کہ آپ حق کی باتیں لکھتے ہو اور کسی ناگہانی خوف کی وجہ سے اسی وقت مٹا دیتے ہو۔

1940 کی دہائی کی یہ تصویر ایک ننھے سے بچے کو دکھاتی ہے جو ایک مخصوص آہنی مشین میں قید ہے — جسے "آئرن لنگ" یعنی آہنی پھیپ...
24/06/2025

1940 کی دہائی کی یہ تصویر ایک ننھے سے بچے کو دکھاتی ہے جو ایک مخصوص آہنی مشین میں قید ہے — جسے "آئرن لنگ" یعنی آہنی پھیپھڑا کہا جاتا ہے۔ مشین میں سے صرف بچے کا سر نظر آ رہا ہے، جبکہ باقی جسم ایک سخت دھاتی ڈبے میں بند ہے۔ لیکن اس سرد دھاتی خ*ل کے اندر صرف ایک مشین نہیں — بلکہ ایک امید کی کرن ہے۔ ایک سانس ہے۔ ایک زندگی ہے۔

پولیو...ایک لفظ جو ماضی کی پرچھائیوں سے ابھرتا ہے، لیکن کبھی زمانے بھر کے والدین کے لیے ڈراؤنا خواب تھا۔
بیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں پولیو اچانک حملہ کرتا، اکثر بچوں کو نشانہ بناتا، اور ان کے جسموں سے حرکت چھین لیتا۔ کچھ بدقسمت بچے تو سانس لینے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو جاتے — جیسے کسی نے ان کی زندگی کا بٹن اچانک بند کر دیا ہو۔ ایسے میں آئرن لنگ ایک معجزہ بن کر ابھری۔

یہ مشین عجیب سی لگتی تھی — ایک بڑے سے دھاتی تابوت جیسی — مگر اس نے ہزاروں جانیں بچائیں۔ یہ منفی دباؤ کی مدد سے جسم کو سانس لینے میں مدد دیتی، گویا انسان کے باہر ایک مصنوعی پھیپھڑا لگا دیا گیا ہو۔ خاص طور پر نوزائیدہ بچوں کے لیے بنائے گئے یہ چھوٹے آہنی پھیپھڑے نہ صرف سائنس کی کامیابی تھے، بلکہ والدین کے لیے ایک آخری سہارا۔

جب کوئی بچہ سانس نہ لے پاتا، تو یہ مشین اس کی سانس بنتی تھی۔یہ تصویر، چاہے کتنی ہی دردناک کیوں نہ ہو، درحقیقت انسانیت کی عظمت کی علامت ہے۔

یہ ان ڈاکٹروں، نرسوں، انجینئرز اور ماؤں کی داستان ہے جنہوں نے دن رات ایک کر کے زندگیوں کو بچانے کی کوشش کی۔یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب دنیا میں اندھیرے چھا جاتے ہیں، تب بھی انسان ہار نہیں مانتا۔پھرتے وہ وقت آیا جب ویکسین بنی۔

1950 کی دہائی میں شروع ہونے والی عالمی پولیو ویکسین مہم نے وہ کر دکھایا جو کبھی خواب لگتا تھا۔
آج آئرن لنگ کی تصاویر نایاب ہیں، صرف پرانی یادگاروں میں محفوظ۔ لیکن یہ یادگاریں ہمیں ماضی کا وہ وقت دکھاتی ہیں جب ہر سانس ایک جنگ تھی، اور ہر بچی ہوئی زندگی ایک فتح۔

زندگی کی اس چھوٹی سی تصویر میں، ایک بہت بڑی کہانی چھپی ہوئی ہے —سائنس کی، انسانیت کی، اور اس ان دیکھی جنگ کی جو کبھی معصوم سانسوں کے لیے لڑی گئی تھی۔

تحریر کاشف علی۔

13/12/2024
نظام عدل و انصافآئے روز ایسے واقعات پیش اتے ہیں جو اس کرپٹ اور فردوسہ نظام کو ننگا کرتے چلے جاتے ہیں مگر مجال ہے کہ اسے ...
07/09/2024

نظام عدل و انصاف
آئے روز ایسے واقعات پیش اتے ہیں جو اس کرپٹ اور فردوسہ نظام کو ننگا کرتے چلے جاتے ہیں مگر مجال ہے کہ اسے یا مدافع کو شرم کی ش بھی محسوس ہوتی ہو۔ کہتے جب کوئی کسی کے سامنے ایک بار ننگا ہوتا ہے تو باربار ہونے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ اسی طرح یہ نظام بھی سب کے سامنے ہزاروں بار برہنہ ہوچکا ہے اب نہ اسکو ننگا ہونے میں کوئی دشواری ہے نہ ہمیں اسے اسی حالت میں دیکھنے میں کوئی مسلہ ہے بلکہ ہم اس کے دیوانے ہوگے ہیں۔

لامحدود واقعات میں سے حال ہی میں رونما ہونے والا ٹریفک حادثہ ہی دیکھ لے۔ ایک گاڑی جس کی ڈرائیونگ ایک امیر زادی کررہی تھی ،کس حالت میں کررہی تھی راز بستہ میں رکھا گیا ہے، کئی افراد کو کچل کر چلی گئی۔ ایک طرف معصوم لوگوں کے جانیں چلے گئے تو دوسری طرف سکیورٹی فورسز لوگوں سے اس کی جان بچانے، پولیس اس کی عزت بچانے، عدالت سزا سے بچانے،پیسے انصاف سے بچانے میں مصروف ہوگئے اور ڈاکٹر صاحب اسے نفسیاتی مریض قرار دیکر سب کےکام آسان کردیا۔ حادثہ پیش انا اور پھر دیت وصول کرنا یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ مگر یہ سب قانونی کاروائیاں جسے لیگل پراسیجر کہتے ہیں ،مکمل ہونے کے بعد ورثاءبغیر جبر کے دیت وصول کرکے معاف کرتے ہیں جوکہ عام ہے۔

یہ وہاں اپناتے ہیں جہاں قانون کی بلادستی ہو مگر یہاں نظام متحرک ہوتا ہے صرف اور صرف امیروں اور امیر زادوں کورلیف دینے کیلئےجو کہ فرسودہ نظام کی نشانی ہے۔ جب کوئی بڑا شخصیت قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس بوسیدہ نظام کے ستونیں اکھڑ جاتے ہیں۔ پولیس تفتیش،وکیل قانون، جج انصاف اور عوام حق گوئی سب اپنےحصے کے ذمہ داریاں معطل کردیتے ہیں اور اس شخض کو رلیف دینے میں لگ جاتے ہیں۔

نظام ایک وہیکل اینجن کی مانند ہے جب و جہاں وہیکل ایجن کو ضررت ہوتی ہے تو وہی گئیر پر ڈالا جاتا ہے۔ اسی طرح مضبوط نظام قانون کو جب کسی بااثر شخصیت کا سامنا ہو تو پوری قوت کے ساتھ متحرک ہوتا ہے۔ جب نظام کمزور ہو اور سامنا کسی ایسے ہی بااثر شخصیت سے ہو تو وہ اس نظام کو الٹا ٹانگ دیتا ہے اور وہی نظام پوری قوت کے ریوس موڈ میں جلاجاتا ہے۔ ہمارا نظام عدل بھی کچھ ایسی حالت میں ہے۔

نظام عدل وانصاف کا ریوس میں چلا جانا انتہائی ناامیدی کی بات ہے۔ انسان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے مگر جب عدل و انصاف نہ ملے تو انسان سرکش ہو تا ہے یا پھر خودکشی پر مجبور ہوتا ہے۔ ہم قوم تب بن سکتے ہیں جب ہم انصاف پسند ہونگے۔ بغیر انصاف کے نہ عزت باقی رہتی ہے اور نہ تہذیب یافتہ کہلاسکتے ہیں۔اگر اپنا وقار بلند کرنا ہے تو خود اور نظام عدل و انصاف کو درست کرنا ہوگا۔ عدل و انصاف پسند کو اپنانا ہوگا
وماعلینا الاالبلاغ
صوفی محمد اسلم۔

میرا ایک اشاعتی منصوبہ اور اس کا انجامتحریر۔ ڈاکٹر ثاقف نفیسایک کتاب "اکبر بنام اقبال" کی اشاعت کا معاملہ چند دنوں سے سو...
25/08/2024

میرا ایک اشاعتی منصوبہ اور اس کا انجام
تحریر۔ ڈاکٹر ثاقف نفیس

ایک کتاب "اکبر بنام اقبال" کی اشاعت کا معاملہ چند دنوں سے سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ ایک دو اخباروں میں بھی ہائی لائٹ ہوا ہے۔ اس معاملے یا تنازعے کا ایک فریق میں بھی ہوں، اسی لیے میرے دوستوں، عزیزوں اور طالب علموں کی جانب سے بےحد مخلصانہ اصرار تھا کہ میں اپنا موقف بھی سامنے لاؤں۔ اصل میں کتاب کی اشاعت پر مجھے اتنا دکھ ہوا کہ اس مسئلے پر بات کرنے کو بھی جی نہیں چاہ رہا تھا، خیر اب کچھ سنبھلا ہوں تو چند گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

کچھ بزرگوں کے علمی و ادبی نوادرات کی طباعت و اشاعت کے حوالے سے میرے تین خواب تھے: ایک "خطوط اقبال بنام چودھری محمد حسین"، دوسرا "خطوط اکبر الہ آبادی بنام علامہ اقبال" اور تیسرا (اپنے دادا) چودھری محمد حسین کی یادداشتوں پر مشتمل بیاض کی ترتیب و اشاعت۔ (یہ قلمی نوادرات میرے دادا اور میرے والد کا قیمتی ورثہ تھا جو نہایت حفاظت سے اور بہترین حالت میں مجھ تک پہنچا تھا)۔

میرے پہلے خواب کی تعبیر 1998ء میں ہوئی اور "علامہ اقبال کے خطوط بنام چودھری محمد حسین" الوقار پبلشرز نے شائع کر دیے۔

دوسرا خواب "خطوط اکبر الہ آبادی بنام علامہ اقبال" کو منظر عام پر لانا تھا۔ اس کے لیے خطوط اکبر الہ آبادی کو یکجا اور مرتب کر کے میں نے پہلے اقبال اکیڈمی سے رابطہ کیا لیکن ان کی مجلس مشاورت نے میری تجاویز کے مطابق کتاب کی اشاعت سے انکار کر دیا اور ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی نے مسودہ مجھے واپس کر دیا۔ (میں ڈائریکٹر "اقبال اکیڈمی" محترمہ بصیرہ عنبرین کا بےحد ممنون ہوں کہ انھوں نے نہایت دیانت داری اور ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے میری امانت کو مکمل صورت میں واپس فرما دیا) اس کے بعد ڈائریکٹر ادارہ تالیف و ترجمہ پنجاب یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر صاحب نے بےحد اصرار کر کے اور میری تجاویز کے مطابق کتاب شائع کرنے کا وعدہ فرما کے مسودہ مجھ سے لے لیا۔ مسودے کے حصول کے بعد ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے مجھ سے رابطہ منقطع کر دیا اور بغیر بتائے، بغیر پوچھے
میرے پیش کردہ نامکمل مسودے کے مالکانہ حقوق خود ہی اپنے آپ کو تفویض کر کے کتاب (اکبر بنام اقبال) اپنے نام سے شائع کرا لی۔

اس دیدہ دلیری اور بد دیانتی پر میں سراپا احتجاج ہوں اور پنجاب یونیورسٹی کے ارباب حل و عقد سے انصاف کا طلب گار ہوں۔ (عدالتی چارہ جوئی کے لیے بھی میں قانونی ماہرین سے مشورے کر رہا ہوں)

اب کچھ مزید تفصیلات پیش خدمت ہیں تاکہ ان سوالوں کے جواب بھی دے دیے جائیں جو اس مسئلے پر موافق یا مخالف آرا کے ساتھ ساتھ مختلف حلقوں اور لوگوں نے سوشل میڈیا پر اٹھائے ہیں۔

قرائن بتاتے ہیں کہ علامہ اقبال اپنی زندگی ہی میں اپنے نام آنے والے اکبر الہ آبادی کے خطوط شائع کرانا چاہتے تھے، شاید اسی مقصد کے لیے میرے دادا چودھری محمد حسین نے ان خطوط کی نقلیں تیار کیں تاکہ انھیں کتابت اور طباعت کے لیے بھیجا جا سکے لیکن افسوس اقبال کی زندگی میں یہ خطوط شائع نہ ہوسکے۔

علامہ اقبال کے انتقال کے بعد اقبال کی وصیت کے مطابق چودھری محمد حسین نے ان کے بچوں کی نگہداشت اور اقبال کی کتابوں کی اشاعت اور اقبال سے متعلق دیگر معاملات کی جانب توجہ مبذول رکھی۔ اس صورت حال میں خطوط اکبر الہ آبادی کی اشاعت التوا میں چلی گئی۔ اسی اثنا میں چودھری محمد حسین(تقریبا چھپن سال کی عمر میں) دنیا سے رخصت ہوگئے۔

دادا کے بعد میرے والد نفیس احمد باجوہ نے دیگر ذمے داریاں سنبھالنے کے ساتھ ساتھ گھر میں موجود قلمی نوادرات خصوصا علامہ اقبال سے متعلق تمام دستاویزات کی حفاظت کا عمل جاری رکھا۔ میرے والد کا تعلق وکالت و عدالت سے تھا، بعد ازاں وہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بنے۔ گو مطالعہ کتب کا شوق اور علامہ اقبال سے محبت و عقیدت انھیں ورثے میں ملی تھی لیکن تحریری آثار کی ترتیب و تدوین اور طباعت و اشاعت ان کا شعبہ ہی نہیں تھا، ادبی حلقوں سے بھی ان کا عملی نوعیت کا فعال تعلق نہیں رہا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ انتہائی احتیاط پسند شخص تھے اور سرکاری اشاعتی اداروں پر بالکل اعتبار نہیں کرتے تھے۔ بہت پہلے اقبال اکیڈمی (کراچی) نے (1962ء میں) علامہ اقبال کے حوالے سے موجود خطوط اور دیگر نوادر کو چھاپنے کی آفر کی تھی لیکن اقبال اکیڈمی کی غیر سنجیدگی اور غیر شائستگی دیکھتے ہوئے والد صاحب نے انکار کر دیا تھا۔ سرکاری ملازمت کے باعث والد صاحب کی مختلف مقامات پر تعیناتی رہی اور وہ جم کر کسی ایک جگہ خصوصا لاہور میں رہ نہ پائے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ مختلف معاملات میں مصروف رہے اور ساتھ ہی ان کی احتیاط پسندی اور سرکاری اشاعتی اداروں سے بیزاری بھی بڑھ گئی۔ پرائیویٹ پبلشرز سے بھی وہ کچھ زیادہ توقعات نہیں رکھتے تھے۔ گویا ان کی مصروفیات، محتاط رویے اور تصنیفی و تالیفی اور تحقیقی و تنقیدی شعبے سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باعث اشاعتی کام آگے نہ بڑھ سکا۔

میرا تعلق اپنے دادا کی طرح آہستہ آہستہ ادبیات سے جڑ گیا، سو میں نے وہ خواب دیکھے یا تین اشاعتی منصوبے بنائے۔ دوسرے خواب کی تعبیر کے لیے (جیسا میں عرض کر چکا ہوں) میرا پہلے اقبال اکیڈمی اور پھر ادارہ تالیف و ترجمہ پنجاب یونیورسٹی سے رابطہ ہوا۔ ادارہ تالیف و ترجمہ کے ڈائریکٹر صاحب نے مسودہ حاصل کرنے کے بعد، رابطہ قائم رکھنا تو دور کی بات، سلام دعا کا سلسلہ بھی منقطع کر دیا، میں تو یہی سمجھا کہ اقبال اکیڈمی کی طرح یہ بھی کتاب شائع نہیں کرنا چاہتے لیکن ان کے ارادے کچھ اور تھے، ان کی خاموشی اور رابطہ نہ رکھنے اور کتاب میں شامل کرنے کے لیے اکبر الہ آبادی کے ہاتھ سے لکھے مزید خطوط یا دیگر تحریریں طلب نہ کرنے کا سبب اس وقت سمجھ آیا، جب کتاب شائع ہو گئی اور بطور مولف ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے اپنا نام چھاپ کے میری کتاب اور میرے خواب پر قبضہ کر لیا۔

واضح رہے کہ اکبر الہ آبادی کے ہاتھ سے لکھے ہوئے کل 133 خط میرے پاس محفوظ ہیں، ان میں سے 102 خطوط کی نقلیں چودھری محمد حسین نے تیار کی تھیں، وہ اکتیس خطوط کی نقل تیار نہ کر سکے تھے۔ میں نے ڈائریکٹر زاہد منیر عامر کو جو مسودہ دیا، اس میں اکبر الہ آبادی کے اصل خطوط صرف اکتیس تھے (کیونکہ ان کی نقلیں چودھری محمد حسین تیار نہیں کر سکے تھے) باقی 102 خطوط کی نقلیں شامل مسودہ تھیں، جنھیں شائع کر دیا گیا ہے۔ اکبر الہ آبادی کے 102 اصل خطوط مجھ سے حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی کیونکہ ڈائریکٹر صاحب کا اصل مقصد مجھے بائی پاس کرنا اور کتاب کی اشاعت کو خفیہ رکھ کے اپنے نام اور اپنی ایک دریافت کے اعلان کے ساتھ کتاب کو سامنے لانا تھا۔

پنجاب یونیورسٹی جیسے اعلی ادارے کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس میں کس کس طرح کی اور کیسی کیسی بدعنوانی ہو رہی ہے اور یونیورسٹی کے زیر سایہ اور اس کے وسائل کو استعمال کر کے ایک ادارہ (ادارہ تالیف و ترجمہ) دوسروں کے مسودوں کو اپنے ڈائریکٹر کے نام سے شائع کر کے علمی و ادبی حلقوں میں اپنی ساکھ مکمل طور پر ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے میں توقع رکھتا ہوں کہ وہ کتاب کی ترسیل و تشہیر کو روک کے، علمی و اشاعتی بد دیانتی کے مرتکب شخص کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔

19/08/2024

مرزا غالب کا کھلا خط ، ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار سست ہونے پر خیالات کا اظہار

جانِ تمنّا ! یہ کیا ہو گیا کہ ہمارے اور تمھارے درمیان برقی روابط محدود کر دیے گئے ہیں ؟ سنا ہے سماجی رابطوں کے برقی نظام کے آگے آتِشِیں دیوار تعمیر کر دی گئی ہے۔ چینیوں نے تاتاری حملوں کی روک کے واسطے دیوارِ چین تعمیر کی تھی ، مشرقی جرمنوں نے شہر برلن کے بِیچ دیوار بنائی تھی اور اب یہ تیسری دیوار ہے جو ہمارے خرچ پر ہمارے ہی دلوں پر بنائی گئی ہے۔ آگے اطمینان تھا کہ جب ذرا طبیعت مُنَغَّض ہوئی تو تمھیں سامنے لا کر باتیں کر لیں ۔گاہے تحریر پڑھ لی ، گاہے تصویر دیکھ لی۔ بقول منشی موجی رام :

دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

اب تو برقی اشاروں کی وصولی کے لیے بار بار بالا خانے پہ جانا پڑتا ہے۔ حاصل مقصود پھر بھی نہیں ہوتا، عکس آتا ہے نہ صَوت آتی ہے :

وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ روز و شب و ماہ و سال کہاں

سخت بے چینی کے عالم میں ہوں۔ ملک بھر کے دیوانے سکتے میں ہیں، برقی نظام پر چلتا کاروبار ٹَھپ ہو چکا ہے ، سرمایہ ڈوب چکا ہے ،میرا اٹھارہ صد کا ماہانہ خرچ بھی رائیگاں جا رہا ہے۔ آئندہ اس خرچ کو بچا کر دیدہ زیب کاغذ ، قلم ، روشنائی اور مُصحَف خریدنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ تم بھی یہی کرو اور مكتوب نگاری کی پرانی روایت کی جانب مراجعت کرو ۔

شبِ آدینہ
غالب
محلہ بَلی ماراں ، دلّی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر :مدثر شاداب

18/08/2024

محمد شیراز سے کچھ سیکھنا چاہئے۔
شیراز گلگت بلتستان کا ایک چھوٹا سا گائوں سیاچین کا دس سالہ بچہ وی لوگر ہے۔ یہ بچہ جتنا معصوم ہے اس سے کہی زیادہ ہوشیار اور اپنی گائوں و گائوں والوں کا مخلص بی ہے۔ اپنے وی لاگ میں اپنی گائوں کے قدرتی مناظر،رہن سہن اور مسائل کے بارے میں وی لاگ بناکر دنیا میں مشہور ہوا۔ ملک کے نامور اینکرز،سلیبرٹیز یہاں تک وزیر اعظم سے بھی ملاقات کیا۔ ہرفورم پر لوگوں کو انٹرٹین کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گائوں کے مسائل سے بھی لوگوں کو اگاہ کرتا رہتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس سے بھی بڑکر اپنی جیب سے خرچہ کر اپنے گائوں کے مسائل حل کرنے کی بھی کوشش کرتا رہتا ہے اور اپنے گائوں کانام روشن کرنے کے ساتھ ساتھ بزرگوں کے دعائے بھی سمیٹ رہا ہے۔ ویڈیو میں آپ انکے خدمات اور انکے بلندپایہ ظرف کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہو۔ خدمت کیلئے پیسے کے ساتھ ساتھ بڑا دل بھی ہونا چاہئے۔ اپر چترال ریشن لینڈ سیلائڈنگا اور سیلاب کی وجہ سے تقریباً ختم ہوختم ہوا ہے جو کچھ بچا ہے وہ بھی انقریب ختم ہو جائے گا۔ اپر چترال میں ایم این اے ،ایم پی اے اور بڑے بڑے کاروباری و مالدار اثررسوخ والے شخصیات رہتے ہیں اگر ملکر خلوص کے ساتھ کام کرے تو سرکار سے بھی اور خود بھی اتنے پیسے جمع کرسکتے ہیں کہ ایک مضبوط بندھ بناسکتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے آج تک اس گائوں کی طرف خلوص و محبت کے ساتھ دیکھنے والا کوئی نہیں ملا۔ شیراز کو ایک بار پھر سلام۔
صوفی محمد اسلم

17/08/2024

ایک چوہے نے ہیرے کو نگل لیا اور ہیرے کے مالک نے چوہے کو مارنے کے لئے ایک شخص سے رابطہ کیا۔
جب شکاری چوہے کو مارنے کے لئے پہنچا تو وہاں ایک ہزار سے زیادہ چوہے اکھٹے تھے مگر ایک چوہا سب سے الگ بیٹھا ہوا تھا۔شکاری نے سب سے الگ بیٹھےچوہے کو دیکھا اور اسے مار ڈالا اور مالکان حیران تھےکہ یہ وہی چوہا تھا جس نے ہیرا نگل لیا تھا! حیران ہیرے کے مالک نے پوچھا: "آپ کو کیسے پتہ چلا کہ یہ وہی چوہا تھا؟"
شکاری نے جواب دیا: "بہت آسان ،
جب کم ظرف امیر ہوجاتے ہیں یا معاشرے میں کوئی مقام پاتے ہیں ، تو وہ دوسروں کے ساتھ میل ملاپ چھوڑ دیتے ہیں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب سوچیں ذرا ہمارے پاس کیسے کیسے گوہر نایاب ہیں جو لکھ رہے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ چوہا کسی بھی سخت چیز کو پہلے کتر کے دیکھتا ہے اگر چیز کھانے کی نا ہو تو آگے بڑھ جاتا ہے نگلنے والی کہانی کا یہیں پوسٹ مارٹم ہو جاتا ہے پھر چلیں فار د سیک آف آرگیومینٹ مان لیتے ہیں کہ چوہا ہیرا نگل گیا لیکن اسے کس دانشور نے پڑھایا ہوگا کہ بھئی اب تم پیٹ میں ہیرا لیے بیٹھے ہو سو تم امیر ہو چکے ہو اس لیے الگ تھلگ ہو کے بیٹھ جاؤ !!!
آپ کیا کہتے ہیں !
کاپی

Address

Chitral

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sufi M.Aslam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Sufi M.Aslam:

Share

Category