11/02/2026
شدید مذمت :
سینیٹر طلحہ محمود کا رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اقتدار اور دولت کا غرور کس طرح انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔ کمیٹی اجلاس میں ایک خاتون کے ساتھ جس تکبر اور تحقیر آمیز انداز میں بات کی گئی، ویسا رویہ شاید کوئی اپنے ملازم سے بھی اختیار نہ کرے۔ یہ دوغلا معیار قابلِ قبول نہیں کہ کیمرے کے سامنے اخلاقیات کا درس دیا جائے اور بند کمرے میں اصل چہرہ دکھایا جائے۔ عوام اب اس ڈرامہ بازی کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔ ہم اس گھمنڈ، تکبر اور غیر پارلیمانی طرزِ عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ چترال کی بیٹیوں کی توہین کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی
افسوس کی بات یہ ہے کہ چترال میں بھی چند مفاد پرست عناصر محض ذاتی فائدے اور وقتی مفادات کی خاطر سچ کا ساتھ دینے کے بجائے طاقت اور دولت کے سائے تلے کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ ضمیر کی آواز دباکر کسی کے تکبر اور غرور کا دفاع کرنا نہ تو چترال کی روایات کے مطابق ہے اور نہ ہی ہماری اجتماعی غیرت کے شایانِ شان۔ آج جب ایک بیٹی کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا، تو کم از کم اس موقع پر اتحاد اور اصولی موقف اختیار کرنا چاہیے تھا، نہ کہ طاقتور کے حق میں صف آرا ہونا۔ تاریخ گواہ ہے کہ وقتی مفادات ختم ہو جاتے ہیں، مگر کردار اور موقف ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہی