28/05/2026
یہ تصویر 1978 کی ہے، چترال کے کسی انجان گاؤں کی۔ نہ سڑکوں کا شور، نہ موبائل کی گھنٹی۔ بس پہاڑ، کھیت، کچے مکان اور وہ لوگ جن کے چہروں پر زندگی کی سچائی لکھی تھی۔لکڑی کے دروازے، پتھروں سے بنے دیوارے، اور چھت پر خشک ہوتی مکئی بتاتی ہے کہ یہاں ہر چیز محنت سے کمائی جاتی تھی۔ عورتیں روایتی شالوں میں، مرد پکول پہنے، اور بچے ننگے پاؤں مٹی میں کھیلتے ہوئے۔
آج یہ گاؤں شاید بدل چکا ہو، یا شاید وقت نے اسے ایسے ہی روک لیا ہو۔ لیکن اس تصویر میں ایک پوری دنیا قید ہے - ایک ایسی دنیا جو سادہ تھی، پرسکون تھی، اور اپنی مٹی سے جڑی تھی۔کبھی کبھی لگتا ہے ترقی نے ہمیں بہت کچھ دیا، پر کچھ بہت قیمتی چیزیں چھین بھی لیں۔