30/09/2026
🚨 بونی ہسپتال کی مینجمنٹ نجی ادارے کے حوالے کرنے کے فیصلے پر عوامی تحفظات
🏥 بونی، اپر چترال:
بونی کا سرکاری ہسپتال اپر چترال کے عوام کے لیے ایک انتہائی اہم اور بنیادی طبی سہولت ہے۔ ایسے دور دراز علاقے میں جہاں عام آدمی کے لیے بڑے شہروں تک علاج کے لیے جانا آسان نہیں، سرکاری ہسپتال کی حیثیت محض ایک عمارت کی نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے لیے ایک بنیادی سہارا ہے۔
دستیاب Award/Acceptance Letter کے مطابق بونی ہسپتال کی Hospital Management Services کو Public-Private Partnership (PPP) کے تحت ایک نجی Joint Venture کے حوالے کرنے کا ایوارڈ جاری کیا گیا ہے، جس کی بونی ہسپتال کے لیے تین سالہ مالی مالیت 55 کروڑ 98 لاکھ 1 ہزار 900 روپے درج ہے۔
یہ فیصلہ اپر چترال کے عوام کے لیے کئی اہم سوالات پیدا کرتا ہے:
❓ عام اور غریب مریضوں کے علاج کی مکمل ذمہ داری کس طرح یقینی بنائی جائے گی؟
❓ مریضوں کے لیے علاج، ٹیسٹ اور دیگر سہولیات کی فیس کا کیا نظام ہوگا؟
❓ مفت ادویات اور بنیادی صحت کی سہولیات پہلے کی طرح دستیاب رہیں گی یا نہیں؟
❓ نئے کیٹیگری-C اسٹیٹس کے مطابق مطلوبہ ڈاکٹرز، اسپیشلسٹس، نرسنگ اسٹاف، تشخیصی سہولیات اور ادویات کا کیا ہوگا؟
❓ PPP معاہدے کی مکمل شرائط اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کب واضح کی جائیں گی؟
خاص طور پر اس وقت جبکہ بونی ہسپتال کو Category-D سے Category-C میں اپ گریڈ کیا گیا ہے، اس کے بعد ہسپتال کے عملے، بجٹ اور مطلوبہ طبی سہولیات سے متعلق اہم انتظامی و تکنیکی مسائل بھی سامنے آ چکے ہیں۔
📢 اپر چترال کے عوام کا مطالبہ ہے کہ بونی ہسپتال سے متعلق PPP معاہدے کی تمام اہم شرائط، مریضوں کے حقوق، مفت علاج و ادویات، طبی سہولیات، اسٹاف اور حکومتی نگرانی کا طریقہ کار عوام کے سامنے واضح کیا جائے۔
یہ کسی فرد یا ادارے کے خلاف مہم نہیں؛ بات صرف عوام کے بنیادی حقِ صحت اور شفافیت کی ہے۔
بونی ہسپتال اپر چترال کے عوام کی بنیادی ضرورت ہے—اس کے مستقبل سے متعلق ہر فیصلہ عوامی مفاد اور مکمل شفافیت کے ساتھ ہونا چاہیے۔