Upper chitral

Upper chitral Chitral (Urdu: ضلع چترال‎) is the largest district in the Khyber-Pakhtunkhwa province district upper chitral

📢 اپر چترال کے عوام کے لیے اہم آگاہیتحریر ناصر اللہ اپر چترال میں ناک، کان اور گلے کے امراض (ENT) کے ماہر ڈاکٹر کی سہولت...
12/01/2026

📢 اپر چترال کے عوام کے لیے اہم آگاہی

تحریر ناصر اللہ

اپر چترال میں ناک، کان اور گلے کے امراض (ENT) کے ماہر ڈاکٹر کی سہولت موجود ہے، مگر بدقسمتی سے آج بھی بہت سے لوگ اس سے لاعلم ہیں، جس کی وجہ سے وہ علاج کے لیے لوئر چترال یا دوسرے شہروں کا مشکل، طویل اور مہنگا سفر کرتے ہیں۔
👨‍⚕️ ڈاکٹر محمد علی اعوان
MBBS, FCPS (ENT Specialist)
ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی
فوجی فاؤنڈیشن اسپتال اسلام آباد
اس وقت آغا خان میڈیکل سینٹر، بونی (BMC) میں اپنی قیمتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
🩺 ENT کلینک میں دستیاب سہولیات:
✔ کانوں سے پیپ آنا، شور یا آواز محسوس ہونا
✔ ناک سے سانس لینے میں دشواری یا ناک سے خون آنا
✔ شدید سر درد، چکر آنا
✔ بار بار گلا خراب ہونا
✔ ٹانسلز اور تھائیرائیڈ (گلہڑ) کے مسائل
✔ چوٹ کے بعد ناک کا ٹیڑھا ہو جانا
🏥 جدید طبی سہولیات:
🔹 جدید مشین کے ذریعے کان کے اندر کی صفائی (بغیر درد)
🔹 ٹانسلز (Tonsils) کا آپریشن
🔹 ناک کی بڑی ہڈی (Septoplasty) کا آپریشن
🔹 ناک کے غدود (Polyps) کا آپریشن
🔹 گلے میں کوئی چیز پھنس جانے کی صورت میں فوری آپریشن
🔹 چوٹ لگنے کے باعث ناک کی ہڈی ٹیڑھی ہونے کی صورت میں آپریشن
📍 مقام:
آغا خان میڈیکل سینٹر، بونی
⏰ اوقات:
روزانہ صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک
📌 اتوار کے روز بھی مریضوں کا معائنہ کیا جائے گا
✍️ ذاتی تجربہ (اہم بات)
میں خود ٹانسلز کے مسئلے سے کافی عرصے سے متاثر تھا، مگر مجھے یہ علم نہیں تھا کہ اپر چترال میں بھی ENT اسپیشلسٹ دستیاب ہیں۔ بعد میں جب ڈاکٹر محمد علی اعوان صاحب سے ذاتی طور پر ملا تو نہ صرف میرے مسئلے کو نہایت توجہ سے سنا بلکہ بہت اچھے انداز میں رہنمائی بھی کی۔
ڈاکٹر صاحب نہایت خوش اخلاق، خوش مزاج، باادب اور شفیق انسان ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ بہت مثبت رہا، اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ بھی جب ان سے رجوع کریں گے تو خود محسوس کریں گے کہ ڈاکٹر صاحب کس قدر اچھے طبیعت کے مالک ہیں۔
🔔 درخواست:
براہِ کرم یہ معلومات زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ اپر چترال کے عوام غیر ضروری سفر اور مشکلات سے بچ سکیں۔

fans
Aga Khan Foundation
The Aga Khan Hospital, Dar Es Salaam
Booni Chtral

09/09/2025

کل شام 8 ستمبر 2025 کو اپر چترال بونی ہسپتال میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ شام کے وقت ہسپتال کے اسٹاف اور مریض کے ساتھ آئے تیمارداروں کے درمیان سخت تلخ کلامی ہوئی جو آگے چل کر جھگڑے اور ہاتھاپائی کی شکل اختیار کر گئی۔ یہ صورتِ حال نہ صرف ہسپتال کے ماحول کو خراب کرنے کا باعث بنی بلکہ وہاں موجود مریضوں اور دیگر افراد کے لئے بھی شدید پریشانی کا سبب بنی۔

یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ بونی ہسپتال پورے اپر چترال کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ہے اور اس جیسے ادارے میں اس طرح کے ناخوشگوار واقعات ہمارے علاقے کی مجموعی شناخت اور وقار کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ اگر اسٹاف کی جانب سے کوئی غفلت یا غیر ذمہ داری ثابت ہوتی ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے، اور اگر تیمارداروں کی جانب سے غیر اخلاقی رویہ یا ہنگامہ آرائی سامنے آتی ہے تو ان کو بھی قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔

ہمارا مقصد کسی فریق کو قصوروار ٹھہرانا نہیں بلکہ یہ یاد دہانی کرانا ہے کہ چترال ایک مہذب، تعلیم یافتہ اور مہمان نواز معاشرہ ہے۔ ہمیں اپنی مثبت پہچان کو قائم رکھنے کے لئے ہسپتال جیسے حساس اداروں میں صبر، برداشت اور شائستگی کو ہر حال میں مقدم رکھنا ہوگا۔
fans

ماہر امراض ہڈی جوڑ کلینک یکم ستمبر تا 3 ستمبر 2025 تک معروف ماہر امراض ہڈی و جوڑ  کنسلٹنٹ  ڈاکٹر خواجہ ساجد اسلم آغا خان...
24/08/2025

ماہر امراض ہڈی جوڑ کلینک

یکم ستمبر تا 3 ستمبر 2025 تک معروف ماہر امراض ہڈی و جوڑ کنسلٹنٹ ڈاکٹر خواجہ ساجد اسلم آغا خان ڈائیگنوسٹک سینٹر چترال اور 5 ستمبر تا 6 ستمبر آغا خان میڈیکل سینٹر بونی میں کلینک کریں۔

ڈاکٹر خواجہ ساجد اسلم ایک نامور طبی ماہر ہیں، جو کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک/ٹراما کے طور پر خدمات انجام د ے رہے ہیں ہِپ اور گھٹنے کی تبدیل میں تخصص رکھتے ہیں ان کا شاندار تعلیمی سفر برطانیہ سے آرتھوپیڈک اور ٹراما میں ماسٹرز کی ڈگری پر مشتمل ہے۔ سوئٹزرلینڈ سے وہ یورپین بورڈ آف آرتھوپیڈک اینڈ ٹراماٹولو جی
کے فیلو ہیں اور برطانیہ ہی سے ہپ اور گھنٹے کی تبدیلی میں فیلوشپ مکمل کی ہے۔

یہ ایک عام فزکس کا اصول ہے کہ ہر جاندار کے جسم میں کسی نہ کسی حد تک الیکٹرو میگنیٹک سنس (Electromagnetic Sense) پایا جات...
04/03/2025

یہ ایک عام فزکس کا اصول ہے کہ ہر جاندار کے جسم میں کسی نہ کسی حد تک الیکٹرو میگنیٹک سنس (Electromagnetic Sense) پایا جاتا ہے، جو اسے ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دیتا ہے۔ پرندے، خاص طور پر چڑیاں، کبوتر اور دیگر ہجرت کرنے والے پرندے، اپنی سمت کا تعین کرنے کے لیے زمین کے مقناطیسی میدان (Earth’s Magnetic Field) پر انحصار کرتے ہیں۔

مگر جیسے جیسے نیٹ ورک فریکوئنسیز کی طاقت بڑھی، ان کی نیویگیشن میں بھی مشکلات آنے لگیں۔😔😔

تمام اسمعیلی  دوستوں بہں بھائیوں کو خوشحالی مبارکپرنس رحیم الحسینی آغا خان پنجم اسمعیلی جماعت  کے 50 ویں موروثی امام  بن...
06/02/2025

تمام
اسمعیلی دوستوں بہں بھائیوں کو خوشحالی مبارک

پرنس رحیم الحسینی آغا خان پنجم اسمعیلی جماعت کے 50 ویں موروثی امام بنا
جنہیں شاہ کریم آغاز خان نے تاریخی اسماعیلی روایت اور ناس کے عمل کے مطابق نامزد کیا ہے۔
یہ اعلان 5 فروری 2025 کو لزبن میں مولانا شاہ کریم کی وصیت کے بعد امام کے اہل خانہ اور سینئر جماعتی رہنماؤں کی موجودگی میں کیا گیا۔ امامت کا ن کی وراثتی جانشینی میں، 50ویں امام، مولانا شاہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم کو حاصل ہے۔
ہم پرنس رحیم آل حسینی
سے تواقعات رکھتےہیں
اپنے عظیم باپ کی طرح انسانیت کی خدمت کے سلسلے کو مزید بہتر بنائے
گا


Prince Aly Muhammad Aga Khan
Prince Rahim Aga Khan
princerahimagakhn
Aga Khan Foundation


fans Chitraltimes Hindukush Motivators The Ismaili

انا للّہ و انا الیہ راجعون۔ اسماعیلی کمیونٹی کے روخانی پیشوا  پرنس کریم آغا خان چہارم 88 سال کی عمر میں پرتگال کے دارالح...
05/02/2025

انا للّہ و انا الیہ راجعون۔
اسماعیلی کمیونٹی کے روخانی پیشوا پرنس کریم آغا خان چہارم 88 سال کی عمر میں پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں انتقال کر گئے۔ انسانیت کے لئے ان کی بے لوث اور وسیع خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیگی۔ اپر چترال پیج کیطرف سے تمام اسماعیلی برادری کے لئے تعزیت کا پیغام۔
fans Chitraltimes Upper chitral @

وفاقی حکومت کاخیبرپختونخواہ گورنر راج لگانے کا امکانگورنر راج لگانے کی ابتدائی مدت6ماہ ہو گی ۔حتمی فیصلہ ایک دوروز میں م...
28/11/2024

وفاقی حکومت کاخیبرپختونخواہ گورنر راج لگانے کا امکان
گورنر راج لگانے کی ابتدائی مدت6ماہ ہو گی ۔

حتمی فیصلہ ایک دوروز میں متوقع

حکومت نے خیبرپختونخواہ میں گورنر راج لگانے کے معاملے پر پیپلزپارٹی کو اعتماد میں لینے کافیصلہ،میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اٹارنی جنرل سمیت قانونی نے گورنر راج لگانے کے معاملے پر بریفنگ دی،اجلاس میں کابینہ اراکین کی اکثریت کی گورنر راج لگانے کی حمایت کر دی،بریفنگ میں بتایاگیا کہ صوبائی محکموں اور ملازمین کا استعمال کیاگیا جبکہ صوبائی حکومت نے دھرنے کیلئے صوبائی وسائل استعمال کئے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد اور راولپنڈی کے تاجروں نے بھی خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔

پی ٹی آئی کے احتجاج اور حکومتی رکاوٹوں کی وجہ سے جڑواں شہروں اسلام آباد اور پنڈی میں کاروبار زندگی معطل ہے۔ جس پر تاجروں میں تشویش پائی جاتی ہے اور انہوں نے حکومت سے امن وامان کی بحالی کیلئے صوبہ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج لگانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
سابق صدر ایف پی سی سی آئی زبیر طفیل نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ حکومت امن و امان اور کاروبار کو بحال کرنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے پی کے کنٹرول سمیت جو بھی اقدام کرے گی بزنس کمیونٹی اس کی حمایت کرے گی۔ سڑکوں کی روازنہ کی بندش سے ملک بھر میں کاروبار کا اربوں روپے کا نقصان ہورہا تھا۔قبل ازیںگورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں گورنر راج لگانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاملات حد سے بڑھ گئے تو گورنر راج لگانے میں کوئی قباحت نہیں تھا۔

فیصل کریم کنڈی نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھاکہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی تھی جس میں ان کے دورہ امریکا کے علاوہ صوبے کے معاملات کے حوالے سے گفتگو ہوئی تھی۔ وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ چیزیں حد سے بڑھ گئیں تو ملک اور جمہوریت کی خاطر گورنر رول نافذ کرنے میں کوئی قباحت نہیں تھی۔

منقول از
اردو پوائنٹ

اختیارات کا غلط استعمال یا عوامی خدمت؟ اپر چترال میں ثریا بی بی کی قیادت کا سوالمحترمہ ثریا بی بی کس کی خدمت کر رہی ہیں؟...
22/11/2024

اختیارات کا غلط استعمال یا عوامی خدمت؟ اپر چترال میں ثریا بی بی کی قیادت کا سوال

محترمہ ثریا بی بی کس کی خدمت کر رہی ہیں؟ عوام کی یا اپنی ذاتی مفادات کی؟ اپر چترال پی کے 1 سے ایم پی اے منتخب ہونے اور خیبر پختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر بننے کے بعد کیا انہوں نے اپنے وعدے پورے کیے؟ مبینہ طور پر، نہیں کیے۔

ترجیحات کی بات کریں تو تورکھو اور تریچ کے لوگ برسوں سے بونی-بزوند روڈ کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کیا ثریا بی بی نے ان کی سنی؟ بالکل نہیں۔ بلکہ انہیں اپنے حقوق کے لیے بونی تک مارچ کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ریشن کے مظاہرین اور مستوج-یارخون روڈ موومنٹ کا کیا ہوا؟ مکمل طور پر نظرانداز۔ کیا یہ قیادت ہے یا لاپرواہی؟

جب اپر چترال ترقی سے محروم ہے اور عوام کے مسائل حل نہیں ہو رہے، اور ثریا بی بی عوام کی پریشانیوں پر ہنس رہی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ سرکاری وسائل کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ وہ عمران خان کے 24 نومبر کے احتجاج میں اپر چترال کی انتظامیہ کی گاڑیاں لے جا رہی ہیں۔ کیا یہ عوامی خدمت ہے یا ذاتی اور سیاسی فائدے کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال؟

محترم شیر عالم لال، جو ثریا بی بی کے شوہر ہیں، مبینہ طور پر اپر چترال لیویز کی قیمتی اور انتہائی مہنگی گاڑی (A1292 Rivo G) ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ گاڑی، جو سرحدی حفاظت اور ہنگامی حالات کے لیے مختص ہے، اب ان کے ذاتی شو آف اور احتجاجوں میں استعمال ہو رہی ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ اس گاڑی کو ناجائز طور پر استعمال کر رہے ہیں بلکہ مبینہ طور پر اس کا مفت پٹرول اور مرمت کے اخراجات بھی اپر چترال کی انتظامیہ کے ذریعے عوام کے پیسوں سے کیے جا رہے ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو علاقے کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونی چاہیے تھی۔ اس گاڑی کو پہلے اسلام آباد احتجاج میں لے جایا گیا، جہاں یہ بری طرح نقصان کا شکار ہوئی، اور اب ورکشاپ میں پڑی ہے، غیر فعال اور بے کار۔ کیا ایک سرکاری گاڑی کا یہ غلط استعمال عوامی اعتماد کے ساتھ دھوکہ نہیں؟

اور یہ سب ابھی ختم نہیں ہوا۔ مبینہ طور پر ثریا بی بی کے پاس پہلے ہی خیبر پختونخوا حکومت کی چار گاڑیاں ہیں، جبکہ ان کے دو بیٹے الگ مہنگی گاڑیاں اور گارڈز استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے خاندان کو اتنے وسائل کی ضرورت کیوں ہے جو عوام کی قیمت پر مہیا کیے جا رہے ہیں؟ اگر یہ گاڑیاں احتجاج کے دوران ضبط ہو جائیں؟ اگر انہیں نقصان پہنچے یا خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو جائے تو ذمہ دار کون ہوگا؟

جب جنوری 2023 جیسی ایمرجنسی دوبارہ پیش آئے گی تو اپر چترال لیویز کی گاڑیاں کہاں ہوں گی؟ ورکشاپ میں یا احتجاج کی افراتفری میں کھو جائیں گی؟ کیا اپر چترال ایسی حکمرانی کا مستحق ہے؟

ثرریا بی بی کو عوام کی خدمت کے لیے منتخب کیا گیا تھا، لیکن ان کے مبینہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنے مفادات کی خدمت میں مصروف ہیں۔ کیا یہ وقت نہیں آ گیا کہ ہم سوال اٹھائیں: اپر چترال کب تک اس لاپروائی اور اختیارات کے غلط استعمال کو برداشت کرے گا؟
محترمہ ثریا بی بی، شیر عالم لال، اور ڈی سی اپر چترال اپنی اپنی پوزیشن واضح کریں ۔

تحریر: ڈاکٹر شاہ محی الدین

ادارے کا صاحب مضمون کئ رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں
Suriya Bibi Upper chitral Chitraltimes

تورکہو روڈ کا منصوبہ علاقے کی ترقی اور عوام کی سہولت کے لیے شروع کیا گیا پراجیکٹ ہے، لیکن بدقسمتی سے اس پر ہونے والی بدا...
18/11/2024

تورکہو روڈ کا منصوبہ علاقے کی ترقی اور عوام کی سہولت کے لیے شروع کیا گیا پراجیکٹ ہے، لیکن بدقسمتی سے اس پر ہونے والی بدانتظامی نے عوام کو شدید مایوس کیا ہے۔ ایکسین کی جانب سے ٹھیکیدار کو ایڈوانس پیمنٹ دینا نہ صرف خلافِ قانون ہے بلکہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ٹھیکیدار نے ایڈوانس رقم وصول کرنے کے باوجود مقررہ کام مکمل نہ کرنا ظلم عظیم ہے۔ جتنا کام رہتا ہے ٹھیکیدار اس کو جلدی مکمل کرے۔ ہم بھی روٹی کھاتے ہیں اور عقل رکھتے ہیں۔ اس طرح ناانصافی ناقابل برداشت ہے۔

یہ عوام کے ساتھ کھلی زیادتی ہے، اور ان کے مسائل پر مزید خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کریں۔ لیکن اگر اس احتجاج کے دوران پولیس عوام کے ساتھ بدتمیزی کرے یا ان کے حق کو دبانے کی کوشش کرے، تو یہ ناقابلِ قبول ہے اور میں اس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔


بطور صدر پاکستان تحریک انصاف اپر چترال، میں تورکہو کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں اور یقین دہانی کراتا ہوں کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ یہ جانچ کی جائے گی کہ اس عمل میں کہاں غلطی ہوئی، اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ عوام کے حقوق کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، اور ان شاء اللہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔۔!!!

شھزادہ سکندرالملک
صدر پی ٹی آئی اپر چترال

17/11/2024

عمیر خلیل مضاہرین سے خطاب کر رہے ہیں

  تورکہو روڈ کے خلاف پرامن احتجاج پر پولیس کی جانب سے کیے جانے والے لاٹھی چارج کی تورکہو کے عوام بھرپور مذمت کرتے ہیں۔یہ...
17/11/2024


تورکہو روڈ کے خلاف پرامن احتجاج پر پولیس کی جانب سے کیے جانے والے لاٹھی چارج کی تورکہو کے عوام بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ ہم چترالی عوام نے دو ایسے نمائندوں کو ووٹ دے کر منتخب کیا جو عوام کی خدمت کے بجائے ان کے حقوق پامال کر رہے ہیں۔ آج کے واقعے میں ثریا بی بی نے عوام کو ان کے بنیادی حقِ احتجاج کے بدلے پولیس کا لاٹھی چارج تحفے میں دیا۔ تورکہو کے عوام نے آپ کو ووٹ اس امید پر دیا تھا کہ آپ ان کے حقوق کا تحفظ کریں گی، لیکن آپ نے انہیں مزید مشکلات میں ڈال دیا۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) ایک شدت پسند جماعت ہے۔ آج کے واقعات نے اس بات کو سچ ثابت کر دیا کہ پی ٹی آئی عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان پر ظلم کر رہی ہے۔ ۔ لطیف صاحب اور ثریا بی بی نے علاقے کا پورا بجٹ ایک پل پر لگا دیا، جو عوامی وسائل کے غیر منصفانہ استعمال کی بدترین مثال ہے۔

چترالی عوام کو اب ہوش میں آنا ہوگا۔ یہ سیاستدان ہمارے بنیادی حقوق چھین رہے ہیں۔ جن دیہات میں پی ٹی آئی کے عہدیدار یا نمائندے موجود ہیں، وہ بھی کرپشن میں ملوث ہیں۔ ان کے خلاف آواز اٹھانا ہر شہری کا حق اور فرض ہے۔

17/11/2024

سابق ناظم مولانا یوسف صاحب مظاہرین سے خطاب کر رہے ہیں
واضح رہے کہ بونی اور موڑکہو کی قیادت بھی تورکہو کے مظاہرین کے ساتھ احتجاج میں شامل ہوگئے ہیں ہم ان تمام کا شکریہ ادا کرتے ہیں

Address

Upper Chitral
Chitral

Telephone

03451953359

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Upper chitral posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Upper chitral:

Share