26/08/2026
نو مسلموں کے لیے پناہ گاہ گھر ۔
چترال کی تین وادیوں بمبوریت، رمبور اور بریر میں ایک بڑی تعداد کیلاش کی ہے کوئی ڈیڑھ دو سو سال پیچھے جائیں تو کیلاش آبادی کا دائرہ ان تین وادیوں تک محدود نہیں تھا بلکہ چترال کے دیگر علاقوں میں بھی ان کی آبادیاں موجود تھیں۔ وقت کے ساتھ یہ آبادی سکڑ کر انہی تین وادیوں تک محدود ہوتی چلی گئی۔ اس تاریخی تدریجی عمل کے دیگر اسباب میں ایک سبب قبولِ اسلام بھی ہے۔
جب کوئی کیلاش اپنا کیلاش مذہب چھوڑ کر اسلام کے نور سے اپنے سینے کو منور کرتا ہے تو اس کا معاملہ صرف کلمہ پڑھنے پر ختم نہیں ہوتا۔ بنیادی اسلامی تعلیمات سے اسے روشناس کرانا، اس کی دینی تربیت کرنا اور معاشی و معاشرتی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے تک اس کی سرپرستی کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
جو شخص اپنا مانوس ماحول کو چھوڑ کر اسلام کی آغوش میں پناہ لیتا ہے، اسے محض کلمہ پڑھوا کر پُرآشوب زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا یقیناً اس عظیم ذمہ داری کا حق ادا نہیں کرتا۔ ایسے نو مسلموں کو وقتی رہائش، دینی رہنمائی، محبت و اپنائیت، حوصلہ اور ایک محفوظ ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔
جغور سے تعلق رکھنے والے حاجی عبدالرزاق ان بے لوث، مخلص اور دردمند مسلمانوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے نو مسلموں کی خدمت کو باقاعدہ ایک کاز اور مشن کے طور پر اختیار کر رکھا ہے۔ حاجی عبدالرزاق ایک خدا ترس، دردمند اور خدمت گزار باپ کے قابلِ فخر بیٹے ہیں۔ ضرورت مندوں بالخصوص نو مسلموں کی خدمت انہیں باپ سے ورثے میں ملی ہے حاجی عبد الرزاق صاحب کے والد کی خوش قسمتی ہے کہ ان کا بیٹا اپنی زندگی کا ایک حصہ ایسے لوگوں کی خدمت کے لیے وقف کیے ہوئے ہے جو اسلام قبول کرنے کے بعد ایک پر آزمائش سفر کا آغاز کرتے ہیں۔
حاجی عبدالرزاق نے گویا اپنا گھر ہی ان نو مسلموں کے لیے پناہ گاہ بنا رکھا ہے۔ اپنے گھر میں کسی نو مسلم کو کلمہ پڑھوانے کے بعد وہ خود کو بری الذمہ نہیں سمجھتے ، بلکہ اسے اس وقت تک اپنے گھر میں رکھتے ہیں جب تک وہ بنیادی دینی تعلیمات سے بہرہ ور نہ ہو جائے، بنیادی سورتوں کے ساتھ نماز وغیرہ نہ سیکھ جائے اور معاشی طور پر اس قابل نہ ہو جائے کہ خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔
پھر ایسا بھی نہیں ہوتا کہ گھر میں ایک کمرہ مختص کر دیا اور نو مسلم کو وہاں رکھ کر صرف کھانے کی فراہمی تک اکتفا کر دیا بلکہ حاجی صاحب کے گھر میں اس نو مسلم کو باقاعدہ گھر کا فرد سمجھا جاتا ہے اس کے کھانے پینے سے لے کر لباس، صفائی اور دیگر ضروریات تک کا ٹھیک ٹھاک خیال رکھا جاتا ہے۔ اللہ جزائے خیر دے حاجی صاحب کے اہلِ خانہ بھی اس خدمت میں اس حد شریک رہتے ہیں کہ نو مسلموں کے کپڑے دھونے تک کی ذمہ داری بھی خوش دلی سے نبھاتے ہیں۔
محترم قاضی سلامت اللہ صاحب کے بقول اب تک کوئی تیس سے زائد افراد اسی گھر میں اسلام قبول کر چکے ہیں اور الحمدللہ وہ سب اپنے اپنے معمولاتِ زندگی میں کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ قاضی صاحب کے بقول کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیک وقت تین چار نو مسلم موصوف حاجی صاحب کے گھر میں قیام پذیر ہوتے ہیں۔ گھر کے افراد انہیں بوجھ نہیں, بلکہ سعادت سمجھ کر ان کی خدمت کرتے ہیں۔
اسی خدمت کو مزید منظم کرنے اور نومسلموں کو علم دین سے آگاہ کرنے کے لیے حاجی صاحب کی کوششوں سے رمبور میں ایک مدرسہ بھی تعمیر ہوا ہے، جہاں مسلمان بچیوں کو بنیادی دینی تعلیم اور اسلامی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
بہرحال عبدالرزاق جیسے خاموش خدمت گار ہماری طرف سے تحسین و حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں جن کی خدمت کا محور شہرت، سیاست یا تجارت نہیں ہوتا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں بھی صلہ عطا فرمائے اور ساتھ ساتھ ان تمام حضرات کو بھی جو حاجی صاحب کی طرح نومسلموں کی خدمت اپنے لیے اعزاز و سعادت سمجھ کر کرتے ہیں۔
(نثار احمد)