06/07/2026
اٹالینز، کوغزی اور Great Thirsty March
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چترال سے آگے سفر ایک بار پھر پیدل شروع ہوا۔ سامان کی باربرداری کے لیے 85 گدھوں کی ضرورت تھی، اور بہت کوشش کے بعد 60 جانور دستیاب ہو سکے۔ اس وجہ سے فیصلہ ہوا کہ قافلہ دو حصوں میں روانہ ہوگا۔ ٹیم کے چار ارکان اور کیپٹین شاہ پور دستیاب جانوروں کے ساتھ 11 جولائی کو روانہ ہوئے، جب کہ باقی تین ارکان مزید جانور جمع کر کے 12 تاریخ کو نکلے۔ کیپٹین شاہ پور نے روانہ ہوتے ہوئے سربراہ کو بار بار تاکید کی کہ جو بھی کرنا ہے کرو، بس کسی پل کی تصویر مت لینا، چاہے وہ کتنی ہی خستہ حالت میں کیوں نہ ہو۔ (کیونکہ ہمارا ملک سیکیورٹی سٹیٹ جو ہے)۔ گرد آلود سڑک پر تیز دھوپ میں سفر کرتے ہوئے کوغزی پہنچے پر ان کا تاثر یوں تھا:
Shortly before 4 o'clock that afternoon we came round a bend in the valley and saw the green patch of an oasis ahead: this was Koghozi, and never before had I so appreciated the double meaning of the word 'paradise'-both its most ancient connotation as the poradeisos, that is, an enclosed park or garden, and its later association with the ideas of reward, and peace, and relief from all distress. We passed abruptly from the fury of a malevolent sun, beating down on the bare, cracked mountain landscape, to a cool, lush, intensely green carpet of sweet-smelling herbs and grasses, irrigated by a network of little canals through which there flowed, in perfect silence, the clearest, most crystalline water imaginable. Overhead the foliage of planes, mulberries, willows and apricot-trees provided a deep green shade, laced with the song of birds. We were tired, dusty, sweat-stained, half-dead with thirst: but here every deprived sense found its reward and its peace.
کوغزی (غالباً پرانے ڈاک بنگلے) میں ان کا استقبال ایک لمبی داڑھی، سر پر پگڑی باندھے، لمبے اوپر مڑے ہوئے نوکوں والے جوتے (زرین کاوش) پہنے شخص نے کیا۔ مصنف کے بقول اسے دیکھ کر ایسا لگا جیسے الف لیلہ کی کسی مصور کتاب سے کوئی تصویر زندہ ہو کر سامنے آ گئی ہو۔ یہاں انہیں ندی کنارے چناروں تلے بٹھا کر خوبانیوں سے تواضع کی گئی۔ اگلی صبح وہ بہت سویرے نکلے کیوں کہ چترال سے کوغزی تک دن کی گرمی میں سفر کر کے سبق حاصل ہو چکا تھا۔ لیکن آج راستے میں ان کو کافی دیر رکنا پڑا۔ ہوا یوں کہ کوغزی سے نکلنے کے بعد ایک نوجوان ان کے ساتھ ہو لیا جو مصنف کے الفاظ میں "با محاورہ انگریزی" بول رہا تھا۔ معلوم ہوا وہ مقامی سکول ماسٹر ہے نوجوان نے انہیں بتایا کہ وہ رہتے کوغزی میں ہیں لیکن ان کا ایک گھر آگے کے گاؤں (استانگول) میں بھی ہے۔ وہیں پر نوجوان نے میریانی اور ان کے ساتھیوں کی چائے اور پھلوں سے تواضع کی، اس دوران ان کے ساتھ طویل گفتگو ہوئی جس میں تعلیم، سائینس، مذہب اور تاریخ پر دونوں نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے بات کی۔ (لکھنے والے نے بندے کا نام نہیں لکھا لیکن ان کی تصویر شامل کی ہے۔ بہت سے کوغزی والوں کو دکھانے کے بعد بھی تصویر کی شناخت میں کامیابی نہ ہو سکی۔ آخر کہیں اور کے ایک صاحب نے نشاندہی کی کہ یہ مرحوم قدیر استاذ ہیں)۔
یہاں سے نکلے تو سورج کافی اوپر آ چکا تھا۔ پھر آگے علاقہ بھی زیادہ تر بے آب و گیاہ ہے۔ چنانچہ لواری سے اس طرف سے یہ ان کا سخت ترین دن ثابت ہوا۔ خصوصاً سیلویو نیم بے ہوشی میں چلتے ہوئے پہاڑ سے گرتے گرتے بچا۔ مصنف لکھتا ہے کہ برنس پہنچ کر ہم کوغزی جیسی ہی ٹھنڈی سایہ دار جگہ ٹھہرے، لیکن ہماری حالت اتنی خراب تھی کہ ہم اس کا لظف بھی اٹھانے کے قابل نہ تھے۔ کہتا ہے بعد میں ہم جب بھی اس دن کی کا ذکر کرتے تو اسے Great Thirsty March کے نام سے یاد کرتے۔
(تصاویر: ایک مسجد اور قدیر استاذ)
Source: WHERE FOUR WORLDS MEET
HINDU KUSH-I959
By Fosco Maraini
بشکریہ: پروفیسر ممتاز حسین، سابق پرنسپل، گورنمنٹ ڈگری کالج چترال