01/03/2026
حضرت عمر رضی اللہ عنہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اللہ مجھے شہادت کی موت عطا فرما اور اپنے رسول کے شہر مدینہ میں مقدر فرما۔
پھر حضرت عمر رضی اللہ کی دعا قبول ہو گئی۔ مدینہ منورہ میں ہی موت ہوئی اور وہ بھی شہادت کی۔
ہمارے ہاں بہت سے لوگ یہ دعائیں کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں شہادت کی موت نصیب فرمادے۔ کبھی ان کی دعائیں سنتے ہوئے ہنسی بھی آتی ہے کہ جس لائف اسٹائل اور جن مکانات اور شہروں میں یہ رہ رہے ہیں بھلا وہاں شہادت کی موت کیسے نصیب ہوسکتی ہے!!!
مگر جذبۂ صادق ہو، آرزو سچی ہو تو یہ آرزو پوری ہوجاتی ہے!
علی خامنہ 86 برس کی عمر میں اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے اور وہ بھی شہادت کا تاج پہنے۔ اور وہ بھی دنیا کی سب سے بڑی خونخوار اور جابر ریاستوں کے ہاتھوں۔
اس سے بڑی سعادت کیا ہوسکتی ہے ایک مومن کے لیے!!!
علی خامنہ ای مزید کتنے سال جیتے؟ دو سال، چار سال، چھ سال یا دس سال؟ آخر موت آنی تھی۔ کسی ہسپتال کے بیڈ پر یا کمرے کے بستر پر!!!
مگر علی خامنہ ای کی تمنا سچی تھی! ان کی آرزو صادق تھی اور وہ بالآخر شہدا کی فہرست میں شامل ہو گئے!
یقینا جنت میں شہدا اور صدیقین نے ان کا شایان شان استقبال کیا ہوگا!!!
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را