31/08/2026
پرنسپل کی حاضر دماغی سے 1643 بچوں کی زندگیاں بچ گٸیں۔
کھٹمنڈو، 26 اگست 2026 کی صبح نیپال کے ضلع نواکوٹ، ترشولی بازار میں واقع Tribhuvan Trishuli Secondary School میں تقریباً 1,643 طلبہ زیرِ تعلیم تھے۔ اسکول کے پرنسپل اور انگریزی کے استاد 47 سالہ راجندر دَوادی کو تقریباً 9:20 بجے ایک فون کال کے ذریعے اطلاع ملی کہ اوپری علاقے میں شدید سیلاب آچکا ہے اور خطرناک پانی ترشولی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
دَوادی نے فوری طور پر اسکول کی گھنٹی بجوائی اور اساتذہ کو طلبہ کو عمارت سے نکال کر بلند مقام کی طرف لے جانے کا حکم دیا۔ انہوں نے اسکول بس ڈرائیوروں کو بھی واپس مڑنے اور پل عبور نہ کرنے کی ہدایت کی۔ ایک بس کے بارے میں انہیں بروقت رابطہ نہیں ہوسکا، تاہم انہوں نے اسے بھی پل پر دیکھ کر واپس ہونے کا اشارہ کیا؛ بعد ازاں وہ پل بھی سیلاب کی زد میں آگیا۔
بچے اور اساتذہ پہاڑی کی طرف نکل گئے اور بعد میں ایک بودھی درخت کے نیچے پناہ لی۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد سیلابی ریلے نے اسکول کی تین منزلہ عمارت کو تباہ کر دیا۔
"راجندر دَوادی کی بروقت فیصلہ سازی سے 1,643 طلبہ محفوظ مقام تک پہنچ گئے، تاہم اسکول کے دو عملے کے ارکان، سماجی تاریخ کے استاد سانتوش/سانتوس پریار اور چوکیدار سلطان لاما، بعد میں سیلاب کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے۔"
یعنی 1,643 طلبہ کے زندہ بچ جانے کی بات متعدد ذرائع سے رپورٹ ہوئی ہے، لیکن یہ کہنا کہ تقریباً پورا عملہ بھی محفوظ رہا، مکمل طور پر درست نہیں۔
کیا یہ واقعی راجندر دَوادی ہی تھے؟
جی ہاں۔ اسکول کی اپنی ویب سائٹ پر Rajendra Dawadi کا نام اساتذہ کی فہرست میں موجود ہے اور انہیں Principal درج کیا گیا ہے۔ اسکول خود کو نواکوٹ کے ترشولی بازار میں واقع سرکاری ادارہ قرار دیتا ہے۔