17/06/2026
واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی اندوہناک اور عظیم سانحہ ہے جو ۱۰ محرم الحرام ۶۱ ہجری (۱۰ اکتوبر ۶۸۰ عیسوی) کو عراق کے مقام 'کربلا' میں پیش آیا۔
یہ معرکہ حق و باطل، اصول پسندی اور جبر کے خلاف ڈٹ جانے کی ایک لازوال داستان ہے، جس میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ (نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اہل خانہ اور ساتھیوں کے ہمراہ جام شہادت نوش کیا۔
پس منظر اور وجہ
۶۰ ہجری میں معاویہ بن ابی سفیان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے یزید بن معاویہ کو خلیفہ نامزد کیا گیا۔ چونکہ یہ طریقہ اسلامی روایات (شورائیت) اور معاہدہ حسن و معاویہ کے خلاف تھا، اس لیے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ آپؑ کا مؤقف تھا کہ یزید کا کردار اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، اس لیے ایک فاسق و فاجر شخص کی حکمرانی کو تسلیم کرنا امت مسلمہ کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
کوفہ کا سفر
اور محاصرہکوفہ (عراق) کے عوام نے امام حسینؑ کو خطوط لکھ کر یزید کی حکومت کے خلاف مدد کی درخواست کی اور آپؑ کو کوفہ آنے کی دعوت دی۔ جب امامؑ اپنے اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں کے قافلے کے ساتھ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں معلوم ہوا کہ کوفہ کے حالات بدل چکے ہیں اور یزیدی گورنر ابن زیاد نے وہاں ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ آپؑ کا راستہ روک لیا گیا اور بالآخر آپؑ کو کربلا کے بیابان میں پڑاؤ ڈالنا پڑا۔
محرم اور پانی
کی بندشکربلا پہنچتے ہی یزیدی فوج کے سالار عمر بن سعد کی قیادت میں ایک بھاری لشکر نے امام حسینؑ کے قافلے کو گھیرے میں لے لیا۔ محرم کی ساتویں تاریخ کو قافلے پر پانی کی تمام رسد بند کر دی گئی، جس سے امامؑ کے بچوں اور خواتین کو شدید ترین پیاس کا سامنا کرنا پڑا۔
یوم عاشور
(۱۰ محرم) اور شہادت۱۰ محرم الحرام کی صبح حق و باطل کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا۔ امام حسینؑ کے ساتھیوں کی تعداد بہت کم تھی (تقریباً ۷۲ افراد)، جبکہ یزیدی لشکر کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ ایک ایک کر کے امامؑ کے ساتھی اور خاندان کے نوجوان (جن میں حضرت علی اکبرؑ، حضرت قاسمؑ اور حضرت عباس علمدارؑ شامل تھے) نے میدان میں بہادری کے جوہر دکھائے اور جام شہادت نوش کیا۔دوپہر کے وقت جب میدانِ کربلا میں امام حسینؑ کے سوا بنی ہاشم کا کوئی مرد زندہ نہ بچا، تو آپؑ خود میدان میں آئے اور آخری سانس تک بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔
شمر بن ذی الجوشن کی قیادت میں یزیدی دستے نے آپؑ کو شہید کیا۔
اس کے بعد یزیدی فوج نے خیموں کو لوٹ لیا اور خواتین و بچوں کو قید کر کے دمشق روانہ کر دیا۔واقعہ کربلا کا اثراتشہادتِ امام حسینؑ نے امتِ مسلمہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس عظیم قربانی نے اسلامی اقدار کی بقا میں اہم کردار ادا کیا اور ظلم و استبداد کے خلاف آواز اٹھانے کی ایک ایسی مستقل تحریک کی بنیاد رکھی جو رہتی دنیا تک
مظلومین کے لیے مشعلِ راہ ہے