28/09/2024
پسماندہ اور سہولتوں سے محروم تحصیل پروآ کا اکلوتا ٹائپ ڈی ہسپتال عوام کو سہولت دینے میں مکمل طور کر ناکام۔
ہسپتال کو باہر سے تو رنگ و روغن لگا کر ٹھیک کر لیا جاتا ہے لیکن یہ ہسپتال کے نام پر بنی یہ بلڈنگ مریضوں کیلئے دارالشفاء نہیں بلکہ ایک ڈراؤنا خواب بنتا جا رہا ہے،یہاں آنیوالے مریضوں کو یہاں موجود عملہ بس "ڈیرہ جاؤ" یا "ملتان جاؤ" کہنے کی تنخواہ لے رہا ہے۔حکومت اور غیر سرکاری اداروں سے لیے جانیوالے لاکھوں کے فنڈز کہاں جا رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں،اس ہسپتال میں کوئی ایک چیز بھی ٹھکانے پر نہیں،واٹر فلٹریش پلانٹ،پانی کی موٹر،ٹرانسفارمر،الٹراساؤنڈ،ایکسرے مشین سب خراب رہتی ہیں۔، لیبارٹری ٹیسٹوں میں سے چند ایک کے علاوہ اور کوئی ٹیسٹ کی سہولت میسر نہیں، بخار،سردرد سمیت ہر قسم کی ادویات، سرجیکل آلات غائب، ٹی ٹی انجیکشن، کتے و سانپ کاٹنے کی ویکسین موجود نہیں،یہاں آنیوالوں کو پینے کا صاف پانی تک نہیں ملتا،مریض تو بیمار ہوتا ہے،ساتھ آنیوالے گھر والے بھی اس خالی عمارت اور اس کے نا اہل عملے کے رویہ سے خود ذہنی بیمار بن جاتے ہیں،اس ہسپتال کا تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے،اب بات ہو جائے اس ہسپتال کے نام پر قائم بلڈنگ اورعملے کی آمدنی کی تو وہ لاکھوں میں نظر آتی ہے،جس میں کچھ روپے اس ہسپتال کی حالت زار کو درست کر سکتے ہیں،یہاں قائم سٹینڈ پرموٹر سائیکل والے سے 20روپے،کار 50روپے، او پی ڈی پرچی 10 ،لیبارٹری 10 سے 350 تک فی ٹیسٹ، الٹرا ساؤنڈ 200 فی مریض، وارڈ داخلہ فی مریض 60، ایمرجنسی وارڈ 60 روپے فی مریض، فرسٹ ایڈ ایمرجنسی سرجری 300 روپے اور ایکسرے 200 فی مریض، اس کے علاوہ گائنی وارڈ کی پرچی فیس اور داخلہ وارد فیس 150 سے 200 روہے تک، سرجیکل فیس، وارڈ انٹری فیس بھی ہوتی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ٹرانسفارمر کی مرمت کا چندا کیا گیا جس میں کلاس فورملازمین سے بھی چندہ لیا گیا۔ کلاس فور ملازمین جو چند ہزار تنخواہ پر اپنے گھر کا چولہا مشکل سے چلاتے ہیں انہوں نے بھی نا چاہتے ہوئے ٹرانسفارمر کا چندا ادا کیا یے کیونکہ "صاحب" کا حکم تھا کہ چندا سب سے لینا ہے۔
فرسٹ ایڈ اور گائنی وارڈ میں سرجیکل چیزیں دستانے، ٹیپ، سرجیکل بلیڈ، کاٹن، ڈیٹول وغیرہ استعمال ہوتے ہیں وہ بھی مریض کو لکھ کر دیتے ہیں کہ باہر سے یہ ادویات کے لے آؤ اسے پڑھ کر تو اچھا بھلا آدمی بھی چکرا جائے تو وزیر اعلیٰ صاحب احتجاج کی سیاست سے فرصت مل جائے تو اس اہم ایشو پر بھی درددل سے غور فرمائیں،یہاں وفاق یا فارم 45والی عوام نہیں آپ کے ووٹرز ہیں،خدارا اس ٹائپ ڈی کو ٹائپ سی میں ترقی دیں،سرجن کی تعیناتی کی جائے،اس کا آڈٹ کر کے کروڑوں کے غبن کا حساب لیا جائے اور اس تحصیل کے دکھی لوگوں کو کچھ تو ریلیف دیں،انہیں سکھ کا سانس لینے دیں اور بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے،یہاں سے منتخب نمائندے تو ووٹ لینے کے بعد ایسے غائب ہوئے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ،مقامی افراد اور سیاستدان اس اہم مسئلے پر یکجہتی کا مظاہرہ کریں،سیاست کیلئے بہت سے اور ایشوز ہیں لیکن اس اہم سہولت کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائیں،عوام ابھی سور ہی ہے لیکن ایک نہ ایک دن اس نے بھی جاگ جانا ہے پھر کسی ظالم کو چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ملے گی.