02/02/2026
چارسدہ میں ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے جہاں واپڈا کے اہلکاروں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے بجلی چوری کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ اس کارروائی میں ڈی پی او، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈی ایس پیز اور دیگر بااثر افسران کے گھروں کی بجلی منقطع کی گئی۔
یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب چارسدہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) نے واپڈا کو آگاہ کیا کہ ہسپتال کی مفت بجلی غیر قانونی طور پر انتظامی افسران استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث ہسپتال پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے اور مریضوں کو لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
واپڈا کی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے ڈی پی او، اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈی ایس پیز کے گھروں اور بنگلوں کی بجلی کاٹ دی۔ واپڈا حکام کے مطابق یہ افسران لاکھوں روپے کے نادہندہ (ڈیفالٹر) تھے۔
کارروائی کے دوران ایک افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا جب بجلی کا ایک کھمبا گر گیا، جس سے ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ ایک واپڈا ٹیکنیشن معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔ اسی دوران ڈی پی او کے گھر پر موجود محافظوں نے واپڈا اہلکاروں پر حملہ کیا، موبائل فون چھین لیے گئے اور تشدد بھی کیا گیا، جس سے آپریشن میں عارضی رکاوٹ پیدا ہوئی، تاہم اس کے باوجود بجلی منقطع کر دی گئی۔
واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہی قانون توڑیں اور سرکاری اہلکاروں کو اپنے فرائض انجام دینے سے روکیں تو پھر انصاف کہاں سے ملے گا؟
واپڈا کے حکام نے اس واقعے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور آئی جی خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ ملوث افسران کے خلاف سخت اور مثالی کارروائی کی جائے تاکہ قانون کی بالادستی قائم ہو سکے۔