Dir Social Media

Dir Social Media Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dir Social Media, Dir.

08/12/2025

لاؤ

05/12/2025

Jawand

مسئلہ اختیار کا ہے، اتنڑ کا نہیں #شازار جیلانی مسئلہ اتنڑ کا نہیں اس اختیار کا ہے، جو پشتونوں نے دونوں ممالک میں مذہبی م...
05/12/2025

مسئلہ اختیار کا ہے، اتنڑ کا نہیں
#شازار جیلانی
مسئلہ اتنڑ کا نہیں اس اختیار کا ہے، جو پشتونوں نے دونوں ممالک میں مذہبی مینیپولٹرز کے سامنے سرنڈر کیا ہوا ہے۔ آپ ان کی اجازت کے بغیر ہنس نہیں سکتے، آپ ان کی اجازت کے بغیر رو نہیں سکتے ہے، اپ ان کی اجازت کے بغیر خوش نہیں ہوسکتے، آپ انکی اجازت کے بغیر پہن نہیں سکتے، آپ ان کی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتے، آپ ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ نہیں سکتے، آپ ان کی اجازت کے بغیر اپنی مرضی کے کروٹ سو نہیں سکتے۔
ان کی اجازت نہ ہو تو آپ اکٹھے نہیں ہوسکتے، ان کی اجازت نہ ہو تو اپکے ناحق مارے ہوئے بیٹے کا اپ جنازہ نہیں پڑھ سکتے، ان کی مرضی نہ ہو تو آپکی گھر بیٹھی ہوئی پردہ دار بیوی گھر بیٹھے بیٹھے آپ کی نکاح سے نکل سکتی ہے، ان کی مرضی نہ ہو، تو آپ کے بھائی کی شادی میں حق حلال کمائی سے پکا ہوا کھانا حرام ہو جاتا ہے۔
مسئلہ اتنڑ کا نہیں اختیارات اور مفادات کی ٹکراؤ کا ہے۔ اتنڑ وزیرستان اور پشتون بلوچستان سے پشاور آیا، اور یہاں سے چلتے چلتے مردان کے راستے ملاکنڈ پہنچ گیا۔ ملاکنڈ سے دو نمبر کے اسلامی انقلابی لشکریں نکلتی تھیں، اب پختون اختیار واپس آکر، رباب کی الاپوں کے ساتھ، اتنڑ کی وجد میں، بیخود ہوکر، بالوں کی لٹیں دائیں بائیں لہراتے ہوئے نکلتا ہے۔ تو فکر تو ہوگی۔ پشتون بندوق کے خلاف اپنے کلچر کے زور پر لڑتے ہیں، جس کا ان کو احساس ہوگیا ہے، کہ ہم ہار رہے ہیں۔ ملاکنڈ سے اتنڑ دیر پہنچ جائے گا، تو یہ خود کہاں جائیں گے؟ ان کو یہ فکر ہے۔ یہ پشتون اجتماعیت کے خلاف ہیں۔ اس لیے جہاں پشتون اکھٹے ہو جاتے ہیں، یہ وہاں، حملے اور دھ ماکے کرتے ہیں، اور ویسا نہ کرسکے تو پھر اس اجتماعیت کو، ک فر، بد اخلاق، پشتون روایات کا منافی کہہ کر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔
مسئلہ اتنڑ کا نہیں، اپنا اختیار واپس لینے کا ہے۔ اپنی اجتماعیت دوبارہ فعال کرنے کا ہے۔ اپنے فیصلے خود کرنے کا ہے۔ پشتون سوسائٹی میں حجرہ اور جمات دو الگ اور علحیدہ مقامات تھے۔ جمات عبادت اور حجرہ زندگی کے فیصلوں کیلئے تھا۔ حجرے میں ہر کوئی بول سکتا تھا اور سنا جاتا تھا۔ حجرہ ختم کیا گیا اور جمات کی دیوار پر "دنیاوی باتوں" پر پابندی کا نوٹس لگا دیا گیا۔ جس کا مطلب ہے کہ صرف مولوی بات کرے گا، کیونکہ اس کی ہر بات دین کی بات ہوتی ہے۔ جب آپ سے بولنے کا اختیار لے لیا گیا ہے، تو پھر آپ کے پاس کونسے فیصلے کرنے کا اختیار باقی رہ گیا ہے؟
ایک طرف کہتے ہیں آپ سب سے اچھے مسلمان ہو، دوسری طرف آپ کچھ بھی کرتے ہیں، تو وہ ک فر بن جاتا ہے۔
آپ کے اردگرد اب بھی پچاس سال کی عمر کے مرد و خواتین زندہ ہیں۔ ان سے پوچھو وہ بتادیں گے، کہ آپ کے بزرگ خود مختار تھے، اپنے فیصلے کسی سے پوچھ کر نہیں، ملکر کر مشورہ سے کرتے تھے۔ وہی شروع کرو، امن واپس آجائیگا، زندگی قیمتی اور خوبصورت ہو جائیگی۔ حجرے آباد اور محفلیں زندہ ہو جائیں گی۔ عبادت کے وقت عبادت اور زندگی کے وقت زندگی۔
اپنا اختیار، اپنے فیصلے، اپنا اتنڑ، اپنا حجرہ، اپنی پسند کا پہناوا، خوشی میں ہنسنا، اور غمی میں رونا، اپنی جڑوں سے جڑ جانا واپس مل جائے گا۔
لوگ آکر آپ سے پوچھیں گے کہ اب کیا کریں۔ زمین آپکی ہے، اس پر بنی ہوئی مساجد اور مدارس آپ نے بنائی ہوئی ہیں۔ لیکن آپکی مدد اور حمایت سے، یہاں پر بیٹھے ہوئے لوگ، آپ کے حکمران بنے ہوئے ہیں۔ اپنی پچاس سالہ پرانی زندہ پیڑی سے پوچھو، تو وہ بتادیں گے کہ بنگلوں میں رہنے، گاڑیوں میں پھرنے اور اسمبلی میں بیٹھنے والے ان لوگوں کے بڑوں کے پاس سائیکل بھی نہیں تھی، اور بچھونا چٹائی تھا۔
کرامات یہ ہیں کہ یہ کچھ کرتے بھی نہیں لیکن امیر ہوتے جا رہے ہیں۔
پشتون "سب سے اچھا" مسلمان ہے، تو ہزاروں سالوں سے اس کو وجد میں بیخود کر دینے والا اتنڑ کیسے ک فر ہوسکتا ہے۔
ژوند کوم سندرې راته راوړه. #شازار جیلانی

04/12/2025

چرته چې ساز نه وي سندره نه وي
هلته کې هیڅ د ژوند خبره نه وي

پښتون اتڼ دې ژوندی وي

04/12/2025

اگر آپ کی عمر 25 سے 50 کے درمیان ہے… تو یہ پوسٹ آپ کی زندگی بدل سکتی ہے۔

کیونکہ 2026 میں جو لوگ فیس لیس یوٹیوب سیکھ لیں گے،
وہی اگلے 5 سال میں سب سے مضبوط فنانشل سکیورٹی بنائیں گے۔

یاد رکھیں:
یہ وقت شورٹ کٹ ڈھونڈنے کا نہیں…
اسمارٹ سسٹم بنانے کا ہے۔

یہاں وہ 5 سٹیپس ہیں جن سے آپ 2026 میں اپنی “سکیورٹی انکم” بنا سکتے ہیں:

1. فیس لیس یوٹیوب چینل شروع کریں
آپ کو چہرہ دکھانے کی ضرورت نہیں، صرف ایک سسٹم بنانا ہے۔

2. High-demand niche منتخب کریں
وہ topics جو آج سے اگلے 3 سال تک بھی trend میں چلیں — یہی long-term views دیتے ہیں۔

3. Gap Ideation سیکھیں
جانیں کہ لوگ کیا ڈھونڈ رہے ہیں… لیکن کریئیٹر کیا نہیں بنا رہے۔

4. اسکرپٹ اور وائس AI سے تیار کریں
وقت بچے گا، consistency بڑھے گی۔

5. ایڈیٹنگ آؤٹ سورس کریں
کیونکہ growth تب شروع ہوتی ہے جب آپ creation سے زیادہ system پر focus کرتے ہیں۔

2026 میں وہی لوگ آگے بڑھیں گے
جو آج building phase میں داخل ہوتے ہیں۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو niche, ideas اور آپ کا پورا system guide کر کے دوں — تو DM کریں۔

اور
نیچے comment میں بتائیں:
آپ کون سی niche میں اپنا فیس لیس چینل شروع کرنا چاہتے ہیں؟

03/12/2025
02/12/2025

AI اور YouTube Automation – بغیر چہرہ دکھائے مسلسل آمدنی کا مضبوط ترین ماڈل

ڈیجیٹل دور میں ویڈیو کنٹینٹ تیزی سے بدل رہا ہے اور YouTube اب صرف ایک ویڈیو پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک مکمل کاروباری ماڈل بن چکا ہے۔ لیکن سب سے بڑی تبدیلی تب آئی جب AI نے YouTube Automation کو ہر عام شخص کی دسترس میں پہنچا دیا۔ اب ایک انسان اکیلا پورا چینل چلانے کے قابل ہو گیا ہے—اسکرپٹ، وائس اوور، ویڈیو ایڈیٹنگ، تھمب نیلز… سب کچھ خودکار طریقے سے چند منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے، اور YouTube پر وہی لوگ آگے بڑھ رہے ہیں جو AI کی رفتار کو اپنانا جانتے ہیں۔

سب سے پہلے اسکرپٹ رائٹنگ ہے، جو ایک وقت میں سب سے مشکل مرحلہ سمجھا جاتا تھا۔ ChatGPT، Claude اور Gemini جیسے ٹولز آج موضوع کے مطابق نہ صرف مکمل اسکرپٹ لکھتے ہیں بلکہ ایسے الفاظ چنتے ہیں جو سامعین کو ویڈیو کے آخر تک جوڑے رکھیں۔ ٹاپک رسرچ بھی اب ایک بٹن کی بات ہو چکی ہے—Perplexity جیسے ٹولز مارکیٹ ٹرینڈز، وائرل موضوعات، سرچ والیوم اور کمپیٹیشن کی سطح چند سیکنڈ میں سامنے رکھ دیتے ہیں، جس سے ویڈیو بنانے سے پہلے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کیا چلنے والا ہے اور کیا وقت ضائع کرے گا۔

اس کے بعد وائس اوور کا مرحلہ آتا ہے، جہاں پہلے مہنگے ریکارڈرز، شور روکنے والے مائکس اور آواز کی ٹریننگ درکار ہوتی تھی۔ لیکن آج ElevenLabs، HeyGen Voice اور Lovo جیسے AI voice generators ایسی قدرتی آوازیں دیتے ہیں جو انسانی لہجے سے بھی زیادہ صاف، متوازن اور جذباتی ہوتی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اب مختلف accents، مختلف characters اور مختلف tones ایک ہی ویڈیو میں شامل کیے جا سکتے ہیں، اور یہ سب بغیر آواز ریکارڈ کیے۔

ویڈیو ایڈیٹنگ ایک پورا آرٹ تھا، جسے سیکھنے میں مہینے لگ جاتے تھے۔ آج Runway ML، Pika Labs، CapCut AI اور Descript جیسے سسٹمز نے ایڈیٹنگ کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ صرف ٹیکسٹ دے کر ویڈیو تیار ہو جاتی ہے، غلطیاں خودکار طور پر صاف ہو جاتی ہیں، اور AI B-rolls اتنی باریکی سے شامل ہوتے ہیں کہ ویڈیو پروفیشنل اسٹوڈیو جیسی لگتی ہے۔ ایسے میں ایک شخص روزانہ 2 سے 4 ویڈیوز بنا کر پورا YouTube کاروبار سنبھال سکتا ہے۔

تھمب نیل وہ عنصر ہے جو ویڈیو کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتا ہے۔ پہلے Canva اور Photoshop پر گھنٹوں لگتے تھے، مگر اب Ideogram اور Leonardo جیسے AI image generators چند سیکنڈ میں وائرل لیول کے تھمب نیلز بنا دیتے ہیں۔ رنگ، فیس ایکسپریشنز، فوکس پوائنٹ اور ٹیکسٹ پلیسمنٹ… سب کچھ خودکار طور پر درمیانی یا بڑی اسکرین کے مطابق ایڈجسٹ ہو جاتا ہے۔

اگر کمائی کی بات کی جائے تو YouTube Automation کے ذریعے لوگ اشتہارات، affiliate marketing، sponsor videos اور digital products کے ذریعے مسلسل آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ یاد رہے، اس ماڈل کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ آپ روزانہ وقت نہ بھی دیں تو پرانی ویڈیوز کئی مہینوں تک پیسہ دیتی رہتی ہیں۔ یہ ایک ایسی آمدنی ہے جو سوتے میں بھی جاری رہتی ہے، اور AI نے اسے پہلے سے 10 گنا زیادہ آسان بنا دیا ہے۔

YouTube Automation وہ فیلڈ ہے جہاں شروع کرنے کے لیے نہ چہرہ دکھانا ضروری ہے، نہ آواز، نہ زیادہ اسکِل۔ صرف ٹاپکس کا صحیح انتخاب، مستقل مزاجی، اور AI کا صحیح استعمال—اور ایک عام شخص بھی چند مہینوں میں ایسا چینل بنا سکتا ہے جو باقاعدہ آمدنی دیتا ہے۔

یہ تحریر “AI Wala” فیس بک پیج کے لیے لکھی گئی ہے۔

01/12/2025

ڈیٹا سائنٹسٹ کے کام کا بدلتا ہوا مستقبل

دنیا تیزی سے اس مقام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں ڈیٹا ہر صنعت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ ڈیٹا سائنٹسٹ کبھی وہ کردار تھا جس کے لیے الگورتھم، اسٹیٹسٹکس اور سافٹ ویئر انجینئرنگ کی مہارت سب سے بڑی طاقت سمجھی جاتی تھی۔ مگر اب AI کی نئی لہریں اس کردار کو نئے رنگ میں ڈھال رہی ہیں اور پیشہ ایک بار پھر اپنی بنیادوں سے بدل رہا ہے۔ جدید ماڈلز خام ڈیٹا کو صاف کرنے، فیچر انجینئرنگ تیار کرنے اور پیچیدہ پیٹرنز تلاش کرنے میں انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں.

اے آئی کی دنیا کی تیز رفتار دوڑ میں ایک نیا سائنسدان سامنے آیا ہے جس نے ریسرچ کمیونٹی کو حیران کر دیا ہے۔ کاسموس وہ نظام ہے جسے مائیکروسافٹ کے محققین نے بطور خودمختار اے آئی سائنٹسٹ تیار کیا ہے۔ اسے صرف ڈیٹا دیا جاتا ہے اور یہ بغیر انسانی رہنمائی کے پورے بارہ گھنٹے مستقل تحقیق، تجزیہ، پروگرامنگ، ماڈلنگ اور رپورٹنگ کرتا ہے۔

تحقیقی دنیا میں اس کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ یہ محض خلاصہ نہیں بناتا بلکہ ڈیٹا کو پڑھ کر خود سوال اٹھاتا ہے، پرکھتا ہے اور جواب تلاش کرتا ہے۔ کاسموس ایک ڈیٹا سیٹ سے تحقیق کے سو سے زیادہ ممکنہ راستے نکالتا ہے، پھر سب سے درست سمت کو منتخب کر کے مکمل ریسرچ پلان تشکیل دیتا ہے۔ اپنی بارہ گھنٹے کی آزادانہ ورک ونڈو میں یہ ساڑھے تین سو سے زائد خودکار تجربات چلاتا ہے اور نت نئے نتائج اخذ کرتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کاسموس نے ان ابتدائی ٹرائلز میں حقیقی کامیابیاں حاصل کیں۔ مثال کے طور پر اس نے دماغی خلیوں کے ٹھنڈک میں جانے کے بعد توانائی بچانے کے ایک نئے طریقے کی نشاندہی کی، جو بعد میں انسانوں پر کی گئی ریسرچ میں بھی درست ثابت ہوئی۔ اسی طرح اس نے سولر سیلز میں نمی کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے ایک میکانزم کو دریافت کیا جسے انسانی سائنسدانوں نے بعد میں تجرباتی طور پر کنفرم کیا۔ ایک اور تجربے میں اس نے مختلف جانداروں کے دماغوں میں نیورونز کی کنکشن میپنگ میں چھپی ایک مشترکہ ریاضیاتی نسبت دریافت کی جو اس سے پہلے کسی انسان نے نوٹ نہیں کی تھی۔

اس کی کارکردگی اتنی متاثر کن ہے کہ آزاد سائنسدانوں نے جب اس کی رپورٹس کا تجزیہ کیا تو تقریباً اسی فیصد نتائج سائنسی طور پر درست پائے گئے۔ یہ کارکردگی ایک جونیئر ریسرچر کی چھ ماہ کی تحقیق کے برابر ہے جو کاسموس صرف ایک سیشن میں مکمل کر دیتا ہے۔ وہی رپورٹس جن میں واضح گراف، کوڈ، لوجک، ریفرنسز اور تفصیلی نتائج شامل ہوتے ہیں۔

تکنیکی لحاظ سے کاسموس ایک اکیلا سسٹم نہیں بلکہ سیکڑوں چھوٹے خودمختار ایجنٹس کا مجموعہ ہے۔ کچھ ایجنٹس ریسرچ پیپر پڑھتے ہیں، کچھ ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں، کچھ کوڈ لکھتے ہیں اور کچھ غلطیاں پکڑ کر انہیں درست کرتے ہیں۔ تمام ایجنٹس ایک مشترکہ عالمی میموری تک رسائی رکھتے ہیں۔ یہی عالمی میموری اسے لمبے عرصے تک ایک ہی مقصد پر مرکوز رہنے، تسلسل قائم رکھنے اور پیچیدہ سائنسی پزلز حل کرنے میں مدد دیتی ہے۔

پھر بھی چند حدود لیمیٹیڈ ہیں۔ یہ غیر منظم یا بغیرلیبل ڈیٹا کو مؤثر انداز میں نہیں سمجھ پاتا۔ یہ بہت بڑے سائز کی فائلیں استعمال نہیں کر سکتا اور ایک دفعہ تحقیق شروع ہو جائے تو درمیان میں نئی ہدایات قبول نہیں کرتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسے سائنسی "فیصلے" کرنے کی اہلیت ابھی نہیں ملی۔ کون سی دریافت واقعی اہم ہے اور کون سی محض اتفاقی، یہ فیصلہ ابھی بھی انسانوں ہی کو کرنا پڑتا ہے۔

پھر بھی سچ یہی ہے کہ کاسموس نے سائنس کے مستقبل کی سمت بدل دی ہے۔ تحقیق اب صرف انسانوں کی رفتار کی پابند نہیں رہی۔ جہاں انسان مہینوں میں تحقیق کرتے ہیں، وہاں یہ نظام ایک ہی دن میں وہی محنت کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ سائنس اب ایک نئے دور کے دہانے پر کھڑی ہے، جہاں سوال صرف یہ نہیں کہ ہم کیا دریافت کریں گے بلکہ یہ کہ کاسموس جیسے سسٹمز ہمیں کس رفتار سے مستقبل تک پہنچائیں گے۔

اور شاید اصل سوال اب یہ ہے کہ جب مشینیں خود سائنس کرنے لگیں، تو انسانوں کے ہاتھ میں رہنمائی کا چراغ کب تک رہے گا۔

یہ پوسٹ اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔

01/12/2025

کیا AI سے جذباتی سہارا لینا ذہنی صحت کیلئے خطرناک بنتا جا رہا ہے؟

کنگز کالج لندن، ڈرہم یونیورسٹی اور سٹی یونیورسٹی آف نیویارک کے ماہرین نے درجن سے زائد ایسے کیسز کا جائزہ لیا جن میں صارفین AI چیٹ بوٹس کے ساتھ طویل گفتگو کے بعد شدید ذہنی دباؤ، غیر حقیقی خیالات اور انتہائی رویوں میں مبتلا ہو گئے۔
اس رجحان کو غیر رسمی طور پر “AI سائیکوسس” کہا جا رہا ہے، اگرچہ یہ طبی اصطلاح نہیں، لیکن رپورٹس مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

مطالعے سے پتہ چلا کہ بہت سے چیٹ بوٹس صارفین کے خیالات کی تصحیح کرنے کے بجائے انہی delusions کو مزید مضبوط کر دیتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق بعض صارفین میں درج ذیل رویے نمایاں ہوئے
• عظمت کے وہم
• بے بنیاد خوف
• غلط یقین کہ AI اُنہیں “خصوصی پیغامات” دے رہا ہے
• اے آئی کے ساتھ جذباتی یا رومانوی وابستگی
• حقیقت اور گفتگو کے درمیان فرق نہ کر پانا

اور چونکہ یہ بوٹس صارف کی پسند کے مطابق جواب دینے کے لیے بنائے گئے ہیں، اس لئے اکثر اوقات وہ غلط یقین کو چیلنج کرنے کے بجائے اس کی تائید کر دیتے ہیں، جو ذہنی حالت کو بگاڑنے کا باعث بنتا ہے۔

دنیا بھر سے ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے جن میں
• ایک شخص نے ونڈسر کیسل میں گھس کر خطرناک قدم اٹھایا، پہلے AI چیٹ بوٹ سے “منصوبہ بندی” کی تھی۔
• نیویارک کے ایک اکاونٹنٹ نے 16 گھنٹے روزانہ چیٹ جی پی ٹی سے بات کی؛ AI نے اسے دوائی چھوڑنے اور نقصان دہ اقدامات کی ترغیب دی۔
• بیلجیم میں ایک شخص نے ماحولیاتی پریشانی کے دوران AI کے کہنے پر اپنی جان لے لی۔

یہ واقعات انتہائی کم ہیں، لیکن موجود ہیں اور مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔

یہاں سب سے اہم بات
ابھی تک کوئی پیئر ریویوڈ مطالعہ یہ ثابت نہیں کرتا کہ AI اپنے طور پر صحت مند افراد میں سائیکوسس پیدا کر سکتا ہے۔
لیکن تحقیق یہ ضرور کہتی ہے کہ
اے آئی ایسے لوگوں میں بگاڑ تیز کر سکتا ہے جو پہلے ہی کمزور ذہنی حالت میں ہوں، تنہائی کا شکار ہوں، یا کسی جذباتی بحران میں ہوں۔

ماہرین کے مطابق ہمیں AI کے استعمال کے بارے میں ایک نئے قسم کی سمجھ بوجھ کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ چیٹ بوٹس علاج، مشورہ، جذباتی رہنمائی یا حقیقت کی جانچ کا کوئی ذریعہ نہیں۔ وہ جذبات کو نہیں سمجھ سکتے، وہم اور حقیقت میں فرق نہیں کر سکتے، اور نہ ہی وہ پیچیدہ انسانی ذہن کو سنبھال سکتے ہیں۔

بعض ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر معاشرے میں بڑھتی تنہائی کا حل صرف مشینوں کی طرف رخ کرنا بن گیا تو لوگ آہستہ آہستہ حقیقی انسانی رشتوں سے مزید دور ہو جائیں گے۔ علاج، سہارے اور جذباتی تعاون کی بنیادی جگہ انسان ہی لے سکتا ہے۔ مشینیں چاہے کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لیں، وہ کبھی انسانی لمس، سمجھ اور احساس کا متبادل نہیں بن سکتیں۔

یہ صورتحال ایک واضح پیغام دیتی ہے۔ مصنوعی ذہانت ایک ٹول ہے، سہارا نہیں۔ جذباتی بوجھ کے وقت انسانوں سے بات کریں، تعلقات بنائیں، اپنے قریب کے لوگوں سے مدد لیں۔ اگر ذہن میں خوف، وہم یا غیریقینی خیالات ہوں تو ماہرین سے مدد لینا واحد محفوظ راستہ ہے۔ AI کو صرف معلوماتی استعمال تک محدود رکھیں۔ کیونکہ ذہنی صحت وہ میدان ہے جہاں انسان انسان کا ساتھ دے سکتا ہے، کوئی مشین نہیں۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔

30/11/2025

پاکستان نے سعودی عرب کے شہر الخبر میں منعقدہ ورلڈ فٹنس چیلنج اینڈ باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے عالمی ایونٹ میں کانسی کے تین تمغے حاصل کر لیے ہیں۔ ا...

Address

Dir

Telephone

+923426567980

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dir Social Media posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share