13/04/2026
لاجبوک علاقہ کی سڑکوں کا حال اب صرف ایک مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ حکومتی ناکامی کی زندہ مثال بن چکا ہے۔ یہاں کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، جگہ جگہ گڑھے، اور گرد و غبار اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام کے بنیادی حقوق کو مکمل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
کیا علاقہ لاجبوک کی رہنے والے انسان نہیں ہیں؟ کیا انہیں اچھی سڑکوں کا حق نہیں؟
۔یہاں گاڑی چلانا ڈرائیونگ نہیں، بلکہ ہمت اور برداشت کا امتحان ہے۔
حکومت ہر بار ترقی کے دعوے کرتی ہے، مگر علاقہ لاجبوک میں آ کر یہ دعوے زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک عوام کو صرف وعدوں پر ٹالا جائے گا؟علاقہ لاجبوک کی سڑکیں دیکھ کر لگتا ہے حکومت نے ترقی نہیں بلکہ “تباہی” کا منصوبہ بنایا ہے! 🤦♂️
اور جہاں تک عظم خان اور بشیر خان جیسے ذمہ دار افراد کا تعلق ہے، تو ان کی خاموشی اور عملی کام کی کمی مزید سوالات کھڑے کرتی ہے۔ اگر واقعی وہ اس علاقے کی نمائندگی کرتے ہیں تو پھر عوام کو اس حالت میں کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟
یہ بات اب صاف نظر آتی ہے کہ یا تو ترجیحات کہیں اور ہیں، یا پھر مسائل کو سنجیدگی سے لینے کی صلاحیت ہی موجود نہیں۔ عوام روزانہ ان سڑکوں پر مشکلات برداشت کرتی ہے—گاڑیوں کا نقصان، وقت کا ضیاع، اور حادثات کا خطرہ—لیکن ذمہ داروں کی طرف سے کوئی ٹھوس قدم نظر نہیں آتا۔
سچ تو یہ ہے کہ علاقہ لاجبوک کے لوگوں کے ساتھ سیدھا سیدھا مذاق ہو رہا ہے
عظم خان اور بشیر خان شاید صرف تصویروں اور وعدوں تک محدود ہیں، کیونکہ زمین پر تو کچھ نظر نہیں آتا۔
ایسا لگتا ہے کہ ذمہ دار لوگ کبھی اس علاقے میں آئے ہی نہیں، کیونکہ اگر ایک بار بھی ان کی اپنی گاڑی ان سڑکوں سے گزرتی تو شاید اگلے دن ہی کام شروع ہو جاتا۔ لیکن نہیں، یہاں تو سب “فائلوں میں ترقی” ہو رہی ہے اور زمین پر تباہی۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ٹیکس وقت پر لیا جاتا ہے، جرمانے بھی پورے وصول کیے جاتے ہیں، لیکن جب بات عوام کو بنیادی سہولت دینے کی آتی ہے تو سب کو جیسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔ لگتا ہے حکومت نے علاقہ لاجبوک کو نقشے سے ہی نکال دیا ہے!
خدارا، عوام کو مزید بے وقوف سمجھنا بند کریں۔ سڑک بنانا کوئی احسان نہیں، یہ آپ کی ذمہ داری ہے—
یہ صرف لاپرواہی نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ لوگ ٹیکس دیتے ہیں، ووٹ دیتے ہیں، مگر بدلے میں انہیں بنیادی سہولت تک نہیں ملتی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ افراد صرف بیانات نہ دیں بلکہ عملی کام کریں۔ کیونکہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عوام کا ردعمل بھی اتنا ہی سخت ہوگا جتنا آج ان کا صبر ہے۔
علاقہ لاجبوک کے لوگ اب خاموش نہیں رہیں گے
انہیں سڑک چاہئیں، وعدے نہیں۔