Jamat islami Katan Bala

Jamat islami Katan Bala اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام،

24/11/2025

,اجتماع کا منظر تھا۔۔۔
خواتین کی کثیر تعداد ہزاروں میں موجود تھی، مگر ہر جانب حیا کی چادر تنی ہوئی، ہر دل میں اپنے رب کی حدود کا پاس، ہر قدم میں وقار اور سنجیدگی۔۔۔
کوئی اونچی باڑ نہ تھی، نہ خاردار تاروں کی جھنجھٹ پھلانگتے ورکرز ، صرف ایک سادہ سی حد بندی، اور اس کے باوجود فضا میں ایسا سکون اور ایسا احترام کہ گویا تہذیب نے خود چل کر اس مقام پر ڈیرے ڈال دیے ہوں۔ ۔
خواتین اطمینان سے چلتی پھرتی تھیں، مرد نگاہیں جھکا کر راستہ چھوڑ دیتے تھے، اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کردار کی خوشبو نے پورے منظر کو معطر کر رکھا ہو۔۔۔
یہ نظارہ گواہی دیتا ہے کہ حفاظت دیواروں سے نہیں، اعلیٰ تربیت اور اندر کے انسان سے جنم لیتی ہے۔۔
ایک بھپرے ہجوم اور تربیت یافتہ اجتماعیت میں فرق ہوتا ہے۔۔۔۔
نا دھکم پیل تھی،نا اسٹیجوں پر چڑنے کی لڑائی،نا بد نظمی،لاکھوں کا مجمع تھا، لیڈر سے لیکر کارکن تک ایک ہی طرز کی جگہ پر رہائش پزیر تھے۔۔۔
حافظ نعیم الرحمان
جماعت اسلامی پاکستان🇸🇱⚖️🇵🇰

الحمد للہ! یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ مینار پاکستان کا 329 ایکڑ کا وسیع و عریض رقبہ لاکھوں افراد کے لیے ایک منظم پن...
21/11/2025

الحمد للہ! یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ مینار پاکستان کا 329 ایکڑ کا وسیع و عریض رقبہ لاکھوں افراد کے لیے ایک منظم پنڈال کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

26/06/2025
26/06/2025

Leader ho to Hafiz jesa.

Party ho to Jamat islami jese.

29/03/2025
28/01/2025

حافظ نعیم الرحمن صاحب کے پریس کانفرنس کا نہایت اہم حصہ۔ ضرور سنیے ❣️

اگر یہ  تصویر بالکل الٹ ہوتی تو مغربی میڈیا  نے ماتم کا وہ بازار گرم کرنا تھا   کہ خدا کی پناہ لیکن یہاں ان بے شرم اور م...
26/01/2025

اگر یہ تصویر بالکل الٹ ہوتی تو
مغربی میڈیا نے ماتم کا وہ بازار گرم کرنا تھا کہ خدا کی پناہ
لیکن یہاں ان بے شرم اور منافق میڈیا کے منہ پر تالے پڑ جاتے ہیں

    💪💪🇸🇱Ten Unknown Facts About  1. Founding and History: BMW, Bayerische Motoren Werke AG, was founded in 1916 in Munic...
13/01/2025



💪💪🇸🇱

Ten Unknown Facts About

1. Founding and History: BMW, Bayerische Motoren Werke AG, was founded in 1916 in Munich, Germany, initially producing aircraft engines. The company transitioned to motorcycle production in the 1920s and eventually to automobiles in the 1930s.

2. Iconic Logo: The BMW logo, often referred to as the "roundel," consists of a black ring intersecting with four quadrants of blue and white. It represents the company's origins in aviation, with the blue and white symbolizing a spinning propeller against a clear blue sky.

3. Innovation in Technology: BMW is renowned for its innovations in automotive technology. It introduced the world's first electric car, the BMW i3, in 2013, and has been a leader in developing advanced driving assistance systems (ADAS) and hybrid powertrains.

4. Performance and Motorsport Heritage: BMW has a strong heritage in motorsport, particularly in touring car and Formula 1 racing. The brand's M division produces high-performance variants of their regular models, known for their precision engineering and exhilarating driving dynamics.

5. Global Presence: BMW is a global automotive Company

6. Luxury and Design: BMW is synonymous with luxury and distinctive design, crafting vehicles that blend elegance with cutting-edge technology and comfort.

7. Sustainable Practices: BMW has committed to sustainability, incorporating eco-friendly materials and manufacturing processes into its vehicles, as well as advancing electric vehicle technology with models like the BMW i4 and iX.

8. Global Manufacturing: BMW operates numerous production facilities worldwide, including in Germany, the United States, China, and other countries, ensuring a global reach and localized production.

9. Brand Portfolio: In addition to its renowned BMW brand, the company also owns MINI and Rolls-Royce, catering to a diverse range of automotive tastes and luxury segmentsFollow☝️





Imran Khan Ik Yasmeen Ali

M Îftîkhâr Sâhïl

۔













۔

💯💙💞




❤❤







🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹






























.













































.


☝️

۔













۔

💯💙💞




❤❤







🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹






























.














































.


☝️





Imran Khan Ik Yasmeen Ali

M Îftîkhâr Sâhïl

۔













۔

💯💙💞




❤❤







🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹






























.













































.


☝️

۔













۔

💯💙💞




❤❤







🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹






























.












































مذمت کیوں نہیں کرتے، دو سوالوں کا جواب۔!۔جب اس سوال کا جواب نہیں بن پڑا تو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق دو سوال اچھال...
08/01/2025

مذمت کیوں نہیں کرتے، دو سوالوں کا جواب۔!
۔
جب اس سوال کا جواب نہیں بن پڑا تو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق دو سوال اچھالنے کی کوشش کی گئی۔ ایک یہ کہ جماعت اسلامی نے خود فلسطین کےلیے کیا کیا ہے؟ دوسرے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کا معاملہ۔ ہمارے دوستوں کا خیال تو یہ تھا کہ دلیل کی بات تو یہ لوگ سنتے نہیں ہیں۔ جھوٹے پروپیگنڈے پر ان کا گزارا ہے، سو جواب دینے کے بجائے اپنا فوکس مہم پر رکھنا چاہیے۔ مگر جواب دینا گاہے ضروری ہوتا ہے۔ ان کےلیے نہ سہی، اپنے ہمدردوں کے لیے جو پروپیگنڈے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
۔
ویسے ان دونوں سوالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ کسی اور دنیا کے باسی ہیں، اس دنیا میں رہتے ہوتے تو کم از کم یہ بودے سوال تو نہ کرتے۔ اس لیے کہ فلسطین کے معاملہ پر تو ساری دنیا کو معلوم ہے کہ ایک جماعت اسلامی ہی ہے جو پہلے دن سے مسلسل آواز بلند کر رہی ہے۔ سینیٹر مشتاق صاحب کا معاملہ بھی مختلف ہے، اور کم از کم تحریک انصاف تو اس حوالے سے آواز بلند نہیں کر سکتی ہے۔
آئیے دونوں کا جائزہ لے لیتے ہیں۔
۔
7 اکتوبر کو جنگ شروع ہوئی۔ 9 اکتوبر سے جماعت اسلامی نے اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ اس حوالے سے
9 تا 15 اکتوبر ملک گیر ہفتہ یکجہتی فلسطین منایا گیا، اس کا آغاز 9 اکتوبر کو کراچی میں الاقصی ملین مارچ سے ہوا۔
10 اکتوبر کو اسلام آباد میں الاقصی مارچ۔ اسی روز امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے فلسطین امدادی فنڈ قائم کر دیا۔ جبکہ برطانیہ، آسٹریلیا، ہالینڈ کے ہائی کمشنرز اور سفیر سے ملاقاتوں میں اسرائیلی جارحیت روکنے پر زور دیا۔
13 اکتوبر کو ملک بھر میں یوم یکجہتی فلسطین منایا گیا۔
15 اکتوبر کو کراچی میں خواتین اور بچوں یکجہتی فلسطین مارچ
16 اکتوبر کو تیمرگرہ میں یکجہتی فلسطین مارچ، سینیٹر مشتاق احمد خان کا خطاب۔
16 اکتوبر کو راولپنڈی میں یکجہتی فلسطین مارچ
18 اکتوبر کو چترال میں یکجہتی فلسطین جلسہ عام
19 اکتوبر کو قومی فلسطین کانفرنس کے لیے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے قومی رہنماؤں سے ملاقات کیں
20 اکتوبر کوامیر جماعت اسلامی سراج الحق کی فلسطین کی صورتحال پر خصوصی پریس کانفرنس، اقوم متحدہ کے سیکرٹری جنرل کےلیے پٹیشن لنک پر سائن کروانے کی مہم کا آغاز۔
29 اکتوبر کو امریکی سفارتخانہ اسلام آباد کے سامنے یکجہتی فلسطین مارچ
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی اپیل پر متعدد تعلیمی اداروں اور سکولوں کے بچوں کی فلسطینی بچوں سے اظہار یکجہتی کی تقریبات۔
8 نومبر کو کراچی میں بچوں کا غزہ مارچ ۔
نومبر کے پہلے ہفتے میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے غزہ کی صورتحال کے پیش نظر ایران اور ترکی کا دورہ کیا۔ مسلم سربراہان/لیڈران اورسرکردہ اسلامی تحریکوں کے قائدین سے ملاقاتیں کیں۔
11 نومبر کواستنبول میں اتحادالعالمی لعلماء المسلمین کے زیراہتمام غزہ اجلاس میں شرکت، مختلف ممالک سے اسلامی تحریکات کے قائدین موجود تھے۔
13 نومبر کو قطر میں فلسطین کی قیادت سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ اسماعیل شہید نے خود تفصیلی بریفنگ دی
جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نےفلسطینی بھائیوں کو پاکستانی قوم کی طرف سے ڈاکٹرز، ادویات، خوراک اور دیگر ضروریات کی فراہمی کی یقین دہانی کے لیے مصر اور غزہ رفح کراسنگ کا دورہ کیا۔
غزہ متاثرین کے لیے الخدمت فاؤنڈیشن کی طرف سے امدادی سامان پاکستان کے وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی ، صدر الخدمت فاؤنڈیشن ڈاکٹر حفیظ الرحمن اور پاکستان میں فلسطین کے سفیر احمد جواد ربیع کی موجودگی میں روانہ کیا گیا۔
18 نومبر کو سیالکوٹ میں لبیک یا فلسطین یوتھ کنونشن
19 نومبر کو لاہور میں تاریخی غزہ ملین مارچ
23 نومبر کو فیصل مسجد کے سامنے بچوں کا غزہ مارچ
24 نومبر کو چنیوٹ میں یکجہتی فلسطین جلسہ عام
2 دسمبر کو مظفرآباد میں یکجہتی فلسطین کشمیر مارچ
4 دسمبر کو سراج الحق اسلام آباد میں حرمت مسجد اقصٰی کانفرنس سے خطاب کیا
8 دسمبر اسلام آباد میں غزہ یکجہتی کیمپ/ دستخطی مہم میں سراج الحق نے شرکت کی
دسمبر اور جنوری میں الیکشن مہم کے دوران انتخابی جلسوں کے دوران جماعت اسلامی کے ذمہ داران نے مسلسل غزہ کی صورتحال پر گفتگو کی اور حکومت پاکستان سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
10 مارچ کو اسلام آباد میں قومی غزہ کانفرنس کا اہتمام
21 مارچ کو اسلام آباد میں میں سفرا کے اعزاز میں غزہ افطار کا اہتمام کیا گیا، مسلم ممالک کی مشترکہ جدوجہد پر زور دیا گیا
30 مارچ کو کراچی غزہ نائٹ
20 اپریل کو لاہور میں لبیک یا اقصی ریلی کا اہتمام، نومنتخب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کا خطاب
19 مئی کو پشاور میں غزہ ملین مارچ سے حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کیا۔
31 مئی کو امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر ملک بھر میں یوم یکجہتی غزہ منایا گیا۔ چھوٹے بڑے شہروں میں اہل غزہ سے اظہاریکجہتی کےلیے ریلیاں نکالی گئیں اور مظاہرے کیے گئے۔
2 جون کو کراچی میں غزہ ملین مارچ
بات ذرا طویل ہو جائے گی۔ مگر یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ آخری پروگرام 29 دسمبر کو اسلام آباد میں بڑا غزہ مارچ تھا۔
البتہ اس حوالے سے بڑی کامیابی تب ہوئی جب 7 اکتوبر کو جنگ کا سال مکمل ہونے پر جماعت اسلامی نے تمام سیاسی قیادت کو جمع کیا، حکومت پاکستان نے واضح طور پر مؤقف اختیار کیا، دونوں ایوانوں سے فلسطین کے حق میں قراردادیں منظور ہوئیں۔ ایوان صدر میں ہونے والی اس کانفرنس کا البتہ تحریک انصاف نے بائیکاٹ کیا، نہیں معلوم کس کو خوش کرنے کے لیے اور کس کے حکم پر۔ مگر اب پتہ نہیں کس منہ سے حکومت کے ساتھ بیٹھے ہیں۔
اور یہ تو سب کو معلوم ہے کہ الخدمت فاؤنڈیشن اب تک 6 ارب روپے کی امداد کر چکی ہے۔ پاکستان سے فضائی اور بحری جہازوں کے ذریعے سے سامان روانہ کیا گیا ہے۔ اردن اور مصر میں بیس کیمپ بنائے گئے ہیں۔ چنانچہ الخدمت ان چند تنظیموں میں ہے جن کا سامان غزہ پہنچا ہے۔
۔
اب آ جاتے ہیں دوسرے معاملے کی طرف
مشتاق احمد خان صاحب کا معاملہ تو گھر کا معاملہ ہے۔ اس میں تحریک انصاف کے سوال کرنے یا ٹانگ اڑانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ مشتاق احمد خان صاحب اب بھی جماعت اسلامی کا حصہ ہیں، وہ نہ صرف آخری غزہ مارچ میں اہلیہ کے ساتھ موجود تھے، بلکہ ملک بھر میں جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے پروگرامات میں شریک ہو رہے ہیں۔
مشتاق احمد خان صاحب نے سیو غزہ کا پلیٹ فارم بنایا، اسلام آباد میں دھرنا دیا تو اس میں جماعت اور جمعیت کے لوگ شریک ہوتے رہے، کسی کو منع نہیں کیا گیا۔ وہ گرفتار ہوئے تو سب سے پہلے تھانے پہنچنے والے جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر میاں محمد اسلم اور امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا تھے۔ ان کے کارکنان پر گاڑی چڑھائی گئی اور دو کارکنان شہید ہوئے تو میاں اسلم صاحب اور نصراللہ رندھاوا صاحب وہاں موجود تھے۔ اسی دن وہاں احتجاج کی کال دی گئی، اور میاں اسلم صاحب کی زیرقیادت مظاہرہ ہوا، نمازجنازہ ادا کی گئی۔ ان شہدا کے میت گھر تک پہنچانے کا اہتمام بھی جماعت اسلامی نے کیا۔ تو یہ جماعت اسلامی کی قابل تعریف بات ہے کہ اس میں اختلاف رائے کے باوجود اتنی وسعت ظرفی موجود ہے۔ کچھ ایسا ہو تو اسے برداشت کیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پی ٹی آئی کو دیکھ لیں، ذرا سے اختلاف پر پارٹی سے بھی نکال دیا جاتا ہے۔ جسٹس وجیہ الدین احمد سے سلمان احمد تک ایک پوری فہرست ہے شروع سے لے کر اب تک، جنھیں اصولی مؤقف اختیار کرنے یا معمولی سے اختلاف پر پارٹی سے نکال باہر کیا گیا۔ پختونخوا حکومت کی بھی یہی صورتحال ہے۔ وزیراعلی آئے روز وزرا اور مشیروں کو برطرف کرتے رہتے ہیں۔ تو بات یہ ہے کہ چھاج بولے تو بولے، چھلنی کیوں بولے، جس کے خود میں سو چھید ہیں۔
چلیں وضاحت ہو گئی۔ اب یہ بتاؤ کہ مذمت کیوں نہیں کرتے۔

07/01/2025

Pehle dafa ji nay apnay aslii hareef ko target kia hy
مزمت کیو نہیں کرتے

Address

11
Dir

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamat islami Katan Bala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Jamat islami Katan Bala:

Share