12/04/2026
21 گھنٹے کی طویل ملاقات اور بات چیت ہرگز ضائع نہیں گئی ۔ یہ وقت کھو کھاتے میں نہیں گیا۔ دونوں پارٹیز مکمل تیاری کے ساتھ آئیں، ایک دوسرے کو ون آن ون سنا، برداشت کیا اور اپنی پوزیشن واضح کر کے واپس گئی ہیں ۔ ہر معاملہ انڈر ڈسکشن آیا ہے ۔
یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں بلکہ تقریباً 47 سال سے جاری ایک نہایت پیچیدہ ایشو ہے، جس کا فیصلہ چند گھنٹوں میں ممکن نہیں۔ اسی لیے اسے ناکامی کہنا درست نہیں ۔ یہ دراصل مذاکرات کے تسلسل کا حصہ ہے۔
میرا واضح خیال ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے ممالک جا کر دوبارہ غور کریں گے، پھر مذاکرات آگے بڑھیں گے۔ پاکستان بطور ثالث اپنا کردار جاری رکھے گا، جبکہ چین جیسے دیگر ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ دونوں پارٹیز لڑائی نہیں چاہتیں بلکہ سیزفائر برقرار رکھنا اور مذاکرات جاری رکھنا چاہتی ہیں اور یہی سب سے بڑی مثبت پیش رفت ہے ۔
لیکن آجکے مذاکرات سے ایک بات ضرور سامنے آئی ہے کہ ایران نے ڈٹ کر اپنی عوام کا مقدمہ رکھا ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو سیف ایگزٹ دینے کے لیۓ تیار نہیں ہے ۔