Humanity Hope

Humanity Hope Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Humanity Hope, Social service, Faisalabad.

{ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ:ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔} الله تعالیٰ کی  ذات و صفات کی معرفت کے بعد اس کی عبادت ...
30/08/2022

{ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ:ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔} الله تعالیٰ کی ذات و صفات کی معرفت کے بعد اس کی عبادت اور حقیقی مددگار ہونے کا ذکر کیا گیا اور اب یہاں سے ایک دعا سکھائی جا رہی ہے کہ بندہ یوں عرض کرے: اے الله!عَزَّوَجَلَّ،تو نے اپنی توفیق سے ہمیں سیدھاراستہ دکھا دیااب ہماری اس راستے کی طرف ہدایت میں اضافہ فرما اور ہمیں اس پر ثابت قدم رکھ۔

صراطِ مستقیم کا معنی:
صراطِ مستقیم سے مراد’’عقائد کا سیدھا راستہ ‘‘ہے، جس پر تمام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام چلے یا اِس سے مراد’’اسلام کا سیدھا راستہ‘‘ہے جس پرصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ، بزرگانِ دین اور اولیاءِ عِظام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ چلے جیسا کہ اگلی آیت میں موجود بھی ہے اور یہ راستہ اہلسنّت کا ہے کہ آج تک اولیاء ِ کرام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ صرف اِسی مسلک ِاہلسنّت میں گزرے ہیں اور الله تعالیٰ نے انہی کے راستے پر چلنے اور انہی کے ساتھ ہونے کا فرمایا ہے۔

ہدایت حاصل کرنے کے ذرائع:
یاد رہے کہ الله تعالیٰ نے ہدایت حاصل کرنے کے بہت سے ذرائع عطا فرمائے ہیں ،ان میں سے چند یہ ہیں :
(1) انسان کی ظاہری باطنی صلاحیتیں جنہیں استعمال کر کے وہ ہدایت حاصل کرسکتا ہے۔
(2) آسمانوں ، زمینوں میں الله تعالیٰ کی قدرت و وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں جن میں غورو فکر کر کے انسان ہدایت پا سکتا ہے۔
(3) الله تعالیٰ کی نازل کردہ کتابیں ،ان میں سے تورات ،انجیل اور زبور قرآن پاک نازل ہونے سے پہلے لوگوں کے لئے ہدایت کاباعث تھیں اوراب قرآن مجید لوگوں کے لئے ہدایت حاصل کرنے کاذریعہ ہے۔
(4) الله تعالیٰ کے بھیجے ہوئے خاص بندے انبیاء کرام اور مرسلینِ عِظام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام،یہ اپنی اپنی قوموں کے لئے ہدایت حاصل کرنے کا ذریعہ تھے اور ہمارے نبی حضرت محمدمصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہیں۔

اس آیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں :
(1)… ہر مسلمان کو الله تعالیٰ سے سیدھے راستے پرثابت قدمی کی دعا مانگنی چاہئے کیونکہ سیدھا راستہ منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے اور ٹیڑھا راستہ مقصود تک نہیں پہنچاتا ۔
(2)… عبادت کرنے کے بعد بندے کو دعا میں مشغول ہونا چاہیے۔
(3)…صرف اپنے لئے دعا نہیں مانگنی چاہئے بلکہ سب مسلمانوں کے لئے دعا مانگنی چاہئے کہ اس طرح دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔



{اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ:ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔} ا س سے پہلی آیات می...
29/08/2022

{اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ:ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔} ا س سے پہلی آیات میں بیان ہوا کہ ہر طرح کی حمد و ثنا کا حقیقی مستحق الله تعالیٰ ہے جو کہ سب جہانوں کا پالنے والا، بہت مہربا ن اور رحم فرمانے والا ہے اور اس آیت سے بندوں کو سکھایا جارہا ہے کہ الله تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی بندگی کا اظہار یوں کرو کہ اے الله!عَزَّوَجَلَّ، ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں کیونکہ عبادت کا مستحق صرف تو ہی ہے اور تیرے علاوہ اور کوئی اس لائق ہی نہیں کہ اس کی عبادت کی جا سکے اور حقیقی مدد کرنے والا بھی تو ہی ہے۔تیری اجازت و مرضی کے بغیر کوئی کسی کی کسی قسم کی ظاہری، باطنی، جسمانی روحانی، چھوٹی بڑی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔

عبادت اور تعظیم میں فرق:
عبادت کامفہوم بہت واضح ہے، سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ کسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہوئے اُس کی کسی قسم کی تعظیم کرنا’’ عبادت‘‘ کہلاتاہے اور اگر عبادت کے لائق نہ سمجھیں تو وہ محض’’ تعظیم‘‘ ہوگی عبادت نہیں کہلائے گی، جیسے نماز میں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا عبادت ہے لیکن یہی نماز کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا اُستاد، پیر یا ماں باپ کے لئے ہو تومحض تعظیم ہے عبادت نہیں اوردو نوں میں فرق وہی ہے جو ابھی بیان کیاگیا ہے۔

{وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ: اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔}اس آیت میں بیان کیاگیا کہ مدد طلب کرنا خواہ واسطے کے ساتھ ہو یا واسطے کے بغیر ہو ہر طرح سے الله تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور الله تعالیٰ کی ذات ہی ایسی ہے جس سے حقیقی طور پر مدد طلب کی جائے ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’حقیقی مدد طلب کرنے سے مراد یہ ہے کہ جس سے مدد طلب کی جائے اسے بالذات قادر،مستقل مالک اور غنی بے نیاز جانا جائے کہ وہ الله تعالیٰ کی عطا کے بغیر خود اپنی ذات سے ا س کام (یعنی مدد کرنے)کی قدرت رکھتا ہے۔ الله تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا ہر مسلمان کے نزدیک’’شرک‘‘ ہے اور کوئی مسلمان الله تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے بارے میں ایسا ’’عقیدہ‘‘ نہیں رکھتا اور الله تعالیٰ کے مقبول بندوں کے بارے میں مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ الله تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچنے کے لئے واسطہ اور حاجات پوری ہونے کا وسیلہ اور ذریعہ ہیں تو جس طرح حقیقی وجود کہ کسی کے پیدا کئے بغیر خود اپنی ذات سے موجود ہونا الله تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے،اس کے باوجود کسی کو موجود کہنا اس وقت تک شرک نہیں جب تک وہی حقیقی وجود مراد نہ لیا جائے، یونہی حقیقی علم کہ کسی کی عطا کے بغیر خود اپنی ذات سے ہو اور حقیقی تعلیم کہ کسی چیزکی محتاجی کے بغیر از خود کسی کو سکھانا الله تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، اس کے باوجود دوسرے کو عالم کہنا یا اس سے علم طلب کرنا اس وقت تک شرک نہیں ہو سکتا جب تک وہی اصلی معنی مقصود نہ ہوں تو اسی طرح کسی سے مدد طلب کرنے کا معاملہ ہے کہ اس کا حقیقی معنی الله تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور وسیلہ و واسطہ کے معنی میں الله تعالیٰ کے علاوہ کے لئے ثابت ہے اور حق ہے بلکہ یہ معنی تو غیرِخدا ہی کے لئے خاص ہیں کیونکہ الله تعالیٰ وسیلہ اور واسطہ بننے سے پاک ہے ،اس سے اوپر کون ہے کہ یہ اس کی طرف وسیلہ ہو گا اور اس کے سوا حقیقی حاجت روا کون ہے کہ یہ بیچ میں واسطہ بنے گا۔



{مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ:جزا کے دن کامالک۔} جزا کے دن سے مراد قیامت کا دن ہے کہ ا س دن نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں کو ث...
28/08/2022

{مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ:جزا کے دن کامالک۔} جزا کے دن سے مراد قیامت کا دن ہے کہ ا س دن نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں کو ثواب ملے گا اور گناہگاروں اور کافروں کو سزا ملے گی جبکہ’’مالک‘‘ اُسے کہتے ہیں جو اپنی ملکیت میں موجود چیزوں میں جیسے چاہے تصرف کرے۔ اللہ تعالیٰ اگرچہ دنیا و آخرت دو نوں کا مالک ہے لیکن یہاں ’’قیامت‘‘ کے دن کو بطور خاص اس لئے ذکر کیا تاکہ اس دن کی اہمیت دل میں بیٹھے۔ نیز دنیا کے مقابلے میں آخرت میں اللہ تعالیٰ کے مالک ہونے کا ظہور زیادہ ہوگا کیونکہ اُس دن کسی کے پاس ظاہری سلطنت بھی نہ ہوگی جو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں لوگوں کو عطا فرمائی تھی، اس لئے یہاں خاص طور پر قیامت کے دن کی ملکیت کا ذکر کیا گیا۔



{اَلرَّحْمٰنْ: بہت مہربان۔} رحمٰن اور رحیم الله تعالیٰ کے دو صفاتی نام ہیں ، رحمٰن کا معنٰی ہے: نعمتیں عطا کرنے والی وہ ...
27/08/2022

{اَلرَّحْمٰنْ: بہت مہربان۔} رحمٰن اور رحیم الله تعالیٰ کے دو صفاتی نام ہیں ، رحمٰن کا معنٰی ہے: نعمتیں عطا کرنے والی وہ ذات جو بہت زیادہ رحمت فرمائے اور رحیم کا معنی ہے : بہت رحمت فرمانے والا۔

یاد رہے کہ حقیقی طور پرنعمت عطا فرمانے والی ذات الله تعالیٰ کی ہے کہ وہی تنہا ذات ہے جو اپنی رحمت کا بدلہ طلب نہیں فرماتی، ہر چھوٹی، بڑی ، ظاہری، باطنی، جسمانی، روحانی، دنیوی اوراخروی نعمت الله تعالیٰ ہی عطا فرماتا ہے اور دنیا میں جس شخص تک جو نعمت پہنچتی ہے وہ الله تعالیٰ کی رحمت ہی سے ہے کیونکہ کسی کے دل میں رحم کا جذبہ پیدا کرنا، رحم کرنے پر قدرت دینا، نعمت کو وجود میں لانا، دوسرے کا اس نعمت سے فائدہ اُٹھانا اور فائدہ اٹھانے کے لئے اَعضاء کی سلامتی عطا کرنا، یہ سب الله تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے۔

الله تعالیٰ کی وسیع رحمت دیکھ کر گناہوں پر بے باک نہیں ہونا چاہئے:

ابو عبد اللہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :الله تعالیٰ نے ’’ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ کے بعد اپنے دو اوصاف رحمٰن اور رحیم بیان فرمائے،اس کی وجہ یہ ہے کہ جب الله تعالیٰ نے فرمایاکہ وہ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ہے ،تو اس سے (سننے اور پڑھنے والے کے دل میں الله تعالیٰ کی عظمت کی وجہ سے اس کا) خوف پیدا ہوا،تو ا س کے ساتھ ہی الله تعالیٰ کے دو اوصاف رحمٰن اور رحیم ذکر کر دئیے گئے جن کے ضمن میں (الله تعالیٰ کی اطاعت کرنے کی) ترغیب ہے یوں ترہیب اور ترغیب دونوں کا بیان ہو گیا تاکہ بندہ الله تعالیٰ کی اطاعت کرنے کی طرف اچھی طرح راغب ہو اور اس کی نافرمانی کرنے سے رکنے کی خوب کوشش کرے۔ (قرطبی، الفاتحۃ، تحت الآیۃ: ۲، ۱ / ۱۲۹، الجزء الاوّل)

قرآن مجید میں اور مقامات پر الله تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عذاب دونوں کو واضح طور پر ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے،چنانچہ

الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
(حجر: ۴۹، ۵۰) ترجمۂ : میرے بندوں کو خبردو کہ بیشک میں ہی بخشنے والا مہربان ہوں۔ اوربیشک میرا ہی عذاب دردناک عذاب ہے۔

اور ارشاد فرمایا:
(مومن: ۳) ترجمۂ : گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا، سخت عذاب دینے والا، بڑے انعام(عطا فرمانے) والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، اسی کی طرف پھرنا ہے۔

نیزحضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اگر مومن جان لیتا کہ الله تعالیٰ کے پاس کتنا عذاب ہے تو کوئی بھی اس کی جنت کی امید نہ رکھتا اور اگر کافر جان لیتاکہ الله تعالیٰ کے پاس کتنی رحمت ہے تو اس کی جنت سے کوئی ناامید نہ ہوتا ۔(مسلم، کتاب التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ ۔۔۔ الخ، ص۱۴۷۳، الحدیث:۲۳(۲۷۵۵)) لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ امید اور خوف کے درمیان رہے اور الله تعالیٰ کی رحمت کی وسعت دیکھ کر گناہوں پر بے باک نہ ہو اور نہ ہی الله تعالیٰ کے عذاب کی شدت دیکھ کر اس کی رحمت سے مایوس ہو۔

کسی کورحمٰن اور رحیم کہنے کے بارے میں شرعی حکم :
الله تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو رحمٰن کہنا جائز نہیں جبکہ رحیم کہا جا سکتا ہے جیسے قرآن مجید میں الله تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بھی رحیم فرمایا ہے،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(توبہ: ۱۲۸) ترجمۂ : بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے ، مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں۔



{اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ: سب تعریفیں الله کے لئے ہیں۔} یعنی ہر طرح کی حمد اور تعریف کا مستحق  الله تعالیٰ  ہے  کیونکہ الله تع...
26/08/2022

{اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ: سب تعریفیں الله کے لئے ہیں۔} یعنی ہر طرح کی حمد اور تعریف کا مستحق الله تعالیٰ ہے کیونکہ الله تعالیٰ کمال کی تمام صفات کا جامع ہے ۔

حمد اور شکر کی تعریف:
حمد کا معنی ہے کسی کی اختیاری خوبیوں کی بنا پر اُس کی تعریف کرنا اور شکر کی تعریف یہ ہے کہ کسی کے احسان کے مقابلے میں زبان، دل یا اعضاء سے اُس کی تعظیم کرنا اورہم چونکہ الله عَزَّوَجَلَّ کی حمد عام طور پراُس کے احسانات کے پیش نظر کرتے ہیں اس لئے ہماری یہ حمد’’ شکر‘‘ بھی ہوتی ہے ۔

الله تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے فضائل:
احادیث میں الله تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ان میں سے 3فضائل درج ذیل ہیں:
(1) حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’الله تعالیٰ بندے کی اس بات سے خوش ہوتاہے کہ وہ کچھ کھائے تو الله تعالیٰ کی حمد کرے اور کچھ پئے تو الله تعالیٰ کی حمد کرے۔(مسلم، کتاب الذکر والدعاء، باب استحباب حمد اللہ۔۔۔الخ، ص۱۴۶۳، الحدیث: ۸۹(۲۷۳۴))
(2) حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ سب سے افضل ذکر ’’لَآ اِلٰــہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ ہے اور سب سے افضل دُعا ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ‘‘ہے۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب فضل الحامدین، ۴ / ۲۴۸، الحدیث: ۳۸۰۰)
(3) حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جب الله تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے اور وہ (نعمت ملنے پر) ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰه‘‘کہتا ہے تو یہ حمد الله تعالیٰ کے نزدیک اس دی گئی نعمت سے زیادہ افضل ہے۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب فضل الحامدین، ۴ / ۲۵۰، الحدیث: ۳۸۰۵)

حمد سے متعلق شرعی حکم :
خطبے میں حمد’’ واجب‘‘، کھانے کے بعد ’’مستحب‘‘، چھینک آنے کے بعد ’’سنت‘‘ ،حرام کام کے بعد ’’حرام‘‘ اور بعض صورتوں میں ’’کفر‘‘ہے۔

{لِلّٰهِ: الله کے لئے۔}’’اللہ‘‘ اس ذات ِ اعلیٰ کاعظمت والا نام ہے جو تمام کمال والی صفتوں کی جامع ہے اوربعض مفسرین نے اس لفظ کے معنٰی بھی بیان کیے ہیں جیسے ا س کا ایک معنی ہے: ’’عبادت کا مستحق‘‘ دوسرا معنی ہے: ’’وہ ذات جس کی معرفت میں عقلیں حیران ہیں ‘‘ تیسرا معنی ہے: ’’وہ ذات جس کی بارگاہ میں سکون حاصل ہوتاہے‘‘ اور چوتھا معنی ہے: ’’وہ ذات کہ مصیبت کے وقت جس کی پناہ تلاش کی جائے۔‘‘(بیضاوی، الفاتحۃ، ۱ / ۳۲)

{رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ: جو سارے جہان والوں کا مالک ہے۔}لفظ’’رب‘‘ کے کئی معنی ہیں : جیسے سید، مالک، معبود، ثابت، مصلح اور بتدریج مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ۔ اور الله تعالیٰ کے علاوہ ہر موجود چیز کو عالَم کہتے ہیں اور اس میں تمام مخلوقات داخل ہیں۔(صاوی، الفاتحۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۱ / ۱۶، خازن، الفاتحۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۱ / ۱۷، ملتقطاً)



{ بِسْمِ اللّٰهِ: الله کے نام سے شروع ۔} علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُالله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:قرآن مجید کی ابتداء’...
25/08/2022

{ بِسْمِ اللّٰهِ: الله کے نام سے شروع ۔} علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُالله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:قرآن مجید کی ابتداء’’ بِسْمِ اللّٰهِ‘‘سے اس لئے کی گئی تاکہ الله تعالٰی کے بندے اس کی پیروی کرتے ہوئے ہر اچھے کام کی ابتداء ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ سے کریں۔(صاوی،الفاتحۃ، ۱ / ۱۵) اور حدیث پاک میں بھی (اچھے اور) اہم کام کی ابتداء ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ سے کرنے کی ترغیب دی گئی ہے،چنانچہ
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورپر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس اہم کام کی ابتداء ’’بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ سے نہ کی گئی تو وہ ادھورا رہ جاتا ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاذکار، الباب السابع فی تلاوۃ القراٰن وفضائلہ، الفصل الثانی۔۔۔الخ، ۱ / ۲۷۷، الجزءالاول، الحدیث:۲۴۸۸)

لہٰذا تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہرنیک اور جائز کام کی ابتداء ’’بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ سے کریں ،اس کی بہت برکت ہے۔

{اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ:جو بہت مہربان رحمت والاہے ۔}امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : الله تعالٰی نے اپنی ذات کو رحمٰن اور رحیم فرمایا تو یہ اس کی شان سے بعید ہے کہ وہ رحم نہ فرمائے ۔مروی ہے کہ ایک سائل نے بلند دروازے کے پاس کھڑے ہو کر کچھ مانگا تو اسے تھوڑا سا دے دیا گیا،دوسرے دن وہ ایک کلہاڑا لے کر آ یا اور دروازے کو توڑنا شروع کر دیا۔اس سے کہا گیا کہ تو ایسا کیوں کر رہا ہے؟اس نے جواب دیا:تو دروازے کو اپنی عطا کے لائق کر یا اپنی عطا کو دروازے کے لائق بنا۔اے ہمارے الله! عَزَّوَجَلَّ،رحمت کے سمندروں کو تیری رحمت سے وہ نسبت ہے جو ایک چھوٹے سے ذرے کو تیرے عرش سے نسبت ہے اور تو نے اپنی کتاب کی ابتداء میں اپنے بندوں پر اپنی رحمت کی صفت بیان کی اس لئے ہمیں اپنی رحمت اور فضل سے محروم نہ رکھنا۔(تفسیرکبیر، الباب الحادی عشرفی بعض النکت المستخرجۃ۔۔۔الخ، ۱ / ۱۵۳)

’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘سے متعلق چند شرعی مسائل:

علماء کرام نے ’’ بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ سے متعلق بہت سے شرعی مسائل بیان کئے ہیں ، ان میں سے چند درج ذیل ہیں :

(1) جو ’’ بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ہر سورت کے شروع میں لکھی ہوئی ہے، یہ پوری آیت ہے اور جو’’سورۂ نمل‘‘ کی آیت نمبر 30 میں ہے وہ اُس آیت کا ایک حصہ ہے۔
(2) ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ ہر سورت کے شروع کی آیت نہیں ہے بلکہ پورے قرآن کی ایک آیت ہے جسے ہر سورت کے شروع میں لکھ دیا گیا تا کہ دو سورتوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے ،اسی لئے سورت کے اوپر امتیازی شان میں ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ لکھی جاتی ہے آیات کی طرح ملا کر نہیں لکھتے اور امام جہری نمازوں میں ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ آواز سے نہیں پڑھتا، نیز حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام جو پہلی وحی لائے اس میں ’’ بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ نہ تھی۔
(3) تراویح پڑھانے والے کو چاہیے کہ وہ کسی ایک سورت کے شروع میں ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ آواز سے پڑھے تاکہ ایک آیت رہ نہ جائے۔
(4) تلاوت شروع کرنے سے پہلے ’’اَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ‘‘ پڑھنا سنت ہے،لیکن اگر شاگرد استادسے قرآن مجید پڑھ رہا ہو تو اس کے لیے سنت نہیں۔
(5) سورت کی ابتداء میں ’’ بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ پڑھنا سنت ہے ورنہ مستحب ہے۔
(6) اگر ’’سورۂ توبہ‘‘ سے تلاوت شروع کی جائے تو’’اَعُوْذُ بِاللہِ‘‘ اور’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘دونوں کو پڑھا جائے اور اگر تلاوت کے دوران سورۂ توبہ آجائے تو ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘پڑھنے کی حاجت نہیں۔



Hello! Humanity Hope's future Volunteers ✨ We're looking for enthusiastic and friendly people who want to make a positiv...
22/08/2022

Hello! Humanity Hope's future Volunteers ✨ We're looking for enthusiastic and friendly people who want to make a positive change in the world. 🌍 So let's start with our motherland. 🇵🇰

It is a platform where you will do social work and, as a reward, get many skills. Let's help the deserving gain their donors at the time. 🤝
Join us to spread awareness 🎗

Registration Link: https://humanityhope.org.pk/become-volunteer

🍂 "Those who are the happiest are those who do the most for others." 🍂

The tasks include:
☑️ Spread awareness
☑️ Work as a team-cum-family
☑️ Case Verification
☑️ SM Promotions

Some of the benefits of joining us are:
💫 Acknowledgement Certificates
💫 Promotional Items
💫 Gift Hampers
💫 Free Training Sessions and Workshops
💫 Utilize Skills

You can reach us through our
🌐 Website: humanityhope.org.pk
☎️ Contact #: +923099700930
📧 Email: [email protected]






It is obvious for each person to drive a good change in the world. Volunteering has been an awesome journey to come to know about more social facts that the young ones are doing everyday. It is a great way to connect with social justice issues. The change makers start with an easy volunteer task of....

خدا کرے میری ارض پاک پر اترےوہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہویہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوںیہاں خزاں کو گزرنے کی ب...
14/08/2022

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو


As the world economy continues to foster growth, the idea of philanthropy also expands. But NGOs often fail to take adva...
01/08/2022

As the world economy continues to foster growth, the idea of philanthropy also expands. But NGOs often fail to take advantage of this situation due to poor access to knowledge and skills, leading to unsustainable practices. We will assist NGOs in accessing relevant tools and techniques for finding donors and collecting funds.

As a donor, when you choose to give, you may not realize that donating to charity will do more than just help your favorite cause. Giving can also provide you with many personal benefits. Whether you choose to donate to charities supporting people living in poverty, advocating to protect the environment, helping animals in need, or addressing other global or local problems, charities need your help to continue their selfless initiatives. But giving can feel just as good as receiving!

Objectives:
Our goal is to bring together various NGOs, donors and
People in need on a single platform. Fundraising requests will be verified with the help of a machine learning algorithm as well as by volunteers. NGOs will be able to find donors and collect more donations. Donors will be able to donate to the right person. People in need will be able to request funding. Volunteers will be able to work and help the community.

Targeted Audience:
As this is based upon service-oriented design, the user is the primary entity on both sides. It reaches the audience online. The audience includes the stakeholders, seekers (for donations), the charity organization’s owners, donors (individuals), and others who want to donate or seek charity.




Address

Faisalabad
38000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Humanity Hope posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Humanity Hope:

Share

Category