Naveed Akhtar

Naveed Akhtar Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Naveed Akhtar, City Hall, Faisalabad.

فیصل آباد اپنے عوامی نقل و حمل کے نظام میں تبدیلی کی تیاری کر رہا ہے کیونکہ فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایف ڈی اے) نے می...
23/11/2024

فیصل آباد اپنے عوامی نقل و حمل کے نظام میں تبدیلی کی تیاری کر رہا ہے کیونکہ فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایف ڈی اے) نے میٹرو بس سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ انتہائی متوقع منصوبہ، جس کی تخمینہ لاگت 70 بلین روپے ہے، شہر کے نقل و حمل کے چیلنجوں کا ایک جدید، موثر، اور سستی حل پیش کرتے ہوئے رہائشیوں کے لیے روزانہ کے سفر میں انقلاب برپا کرنے کے لیے تیار ہے۔

نئی سروس کا مقصد ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنا اور شہر بھر میں رابطے کو بڑھانا ہے، جس سے مسافروں کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے سفر کرنا آسان ہو گا۔

میٹرو بس سروس کے آغاز سے فیصل آباد مزید مربوط اور پائیدار شہری مرکز بننے کی طرف ایک اہم قدم اٹھا رہا ہے۔

یہ منصوبہ عوامی بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔

رہائشی اس سہولت اور کارکردگی کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں جو ٹرانسپورٹ کا یہ نیا طریقہ شہر کی ترقی کے سفر میں ایک سنگ میل کے طور پر لائے گا۔N. A

06/05/2020
اس پوسٹ کو خود بھی پڑھو اور دوسرو تک بھی شیر کرو شکریہ😘👍
11/04/2020

اس پوسٹ کو خود بھی پڑھو اور دوسرو تک بھی شیر کرو شکریہ😘👍

26/02/2020

Copied.
اگر ایک جگہ کچھ لڑکیاں بیٹھی ہوں
اور کسی کا بھائی وہاں سے گزرے
تو کوئی ایک لڑکی اچانک بول اٹھتی ہے
’’شازیہ ! تمہارا بھائی کتنا ہینڈ سم ہے‘
یہ تو ایک دم ہیرو ہے‘‘۔
لیکن اگر ایک جگہ کچھ لڑکے بیٹھے ہوں
اور کسی کی بہن وہاں سے گذرے
تو کیا کوئی لڑکا ایسا جملہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے؟؟؟
نہیں کر سکتا ناں!

اس لیے کہ سوسائٹی نے طے کردیا ہے
کہ ایسے جملے صرف لڑکیاں کہہ سکیں گی‘ لڑکے نہیں

میں بھی یہی کہنا چاہتا ہوں کہ
ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی
مذہب سے کہیں زیادہ طاقتور سوسائٹی ہوچکی ہے۔
دوسری شادی کرنا کوئی جرم نہیں‘
لیکن بیوی جتنی مرضی مذہبی ہو,
وہ ہر گز ہرگز اِس چیز کو تسلیم نہیں کرتی
اور سوتن کے نام پر خونخوار ہوجاتی ہے۔

اسی طرح مذہب میں شادی کے لیے بالغ مرد و عورت کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں‘
90 سال کا بابا20 سال کی لڑکی سے شادی کرسکتاہے
اور 80 سال کی مائی کسی 25 سالہ جوان لڑکے سے شادی کر سکتی ہے‘
لیکن دیکھ لیجئے‘
ایسا جب بھی ہوتاہے
سوسائٹی میں طنز کے تیر چلنا شروع ہوجاتے ہیں
حالانکہ مذہب میں ’’بے جوڑشادی‘‘ کا کوئی تصور نہیں‘
اگر عورت اور مرد بالغ ہیں تو پھر دونوں کی عمروں میں 100 سال کا فرق ہی کیوں نہ ہو‘
وہ شادی کر سکتے ہیں۔
ہماری سوسائٹی میں تو لوگ جوان اولاد کے ہوتے ہوئے مزید اولاد پیدا کرنے سے بھی شرماتے ہیں
کیونکہ سوسائٹی اسے اچھا نہیں سمجھتی۔

مستحق کا زکواۃ لینا اتنا ہی ضروری ہے
جتنا صاحبِ حیثیت کا زکواۃ ادا کرنا‘
لیکن دیکھ لیجئے‘
زکواۃ لینا گالی بن گیا ہے‘
مجبور سے مجبور شریف آدمی بھی ادھارلینا گوارا کر لیتاہے‘
زکواۃ نہیں لیتا ‘
حالانکہ ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی جو شخص زکواۃ نہیں لیتا
وہ بھی ایک طرح سے گنہگار ہی ٹھہرتا ہے،
کیونکہ اگر وہ زکواۃ نہیں لے گا
تو کوئی دوسرا غیر مستحق یہ رقم لے اڑے گا -

۔اصل میں سوسائٹی اپنے آپ میں بڑی ظالم چیز ہے‘
یہ معاشرتی معاملات کو دیکھتے ہوئے اپنے ضابطے خود طے کرلیتی ہے‘
یہ مذہب کو مانتی تو ہے
لیکن صرف عبادات کی حد تک‘
عملی معاملات میں یہ صرف اپنے اصولوں کو ترجیح دیتی ہے۔

پسند کی شادی مذہب میں کوئی جرم نہیں‘
لیکن ہماری سوسائٹی میں یہ اب بھی کسی حد تک ناپسندیدہ چیز ہی سمجھی جاتی ہے۔
مذہب کہتا ہے کہ بچے بالغ ہوجائیں تو جلد سے جلد ان کی شادی کردو‘
لیکن سوسائٹی کہتی ہے کہ صرف بالغ نہیں‘ بلکہ جب اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں تب کرو چاہے جب تک 35 سال تک ہی کیوں نہ پہنچ جائیں ۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں بہت کم ایسے لڑکے لڑکیاں ہیں جو 18 سال کی عمر کو پہنچتے ہی شادی شدہ ہوجاتے ہیں۔
مذہب کہتا ہے کہ اولاد کو حرام کے لقمے سے بچاؤ‘
سوسائٹی کہتی ہے کہ نہیں‘ اولاد کے لیے جوکچھ ہوسکتا ہے کر گذرو ‘
مذہب ذات برادری کو محض پہچان کا ذریعہ قرار دیتا ہے‘
لیکن سوسائٹی اِسے باعثِ فخر قرار دیتی ہے۔

کبھی غور کیجئے گا‘
سوسائٹی کے اصول کوئی نہیں بناتا‘
یہ اپنا آئین خود تحریر کرتی ہے
اور لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی اس پر عمل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں
سوسائٹی نے لوگوں کے ذہن میں یہ بات بھی ڈال دی ھے کہ مذھب کے بغیر رھا جاسکتا ھے لیکن سوسائٹی کے بغیر نہیں

لیکن لوگ یہ بھول گئے ھیں کہ سوسائٹی کے بنا رھا جاسکتا ھے مذہب کے بغیر نہیں
فی زمانہ ھم مذھب کو اپنی مرضی سے چلانا چاھتے ھیں اور سوسائٹی سے رشتہ توڑنے کو تیار نہیں۔
مذھب میں اپنی طرف سے پیدا کی گئی مرضی اور سوسائٹی کے اسی دوغلے معیار نے ہمارے قول و فعل میں عجیب سا تضاد بھر دیا ہے‘

*دین و دنیا کو اپنی چالاکی سے رام کرتے کرتے ہم عجیب سی مخلوق بن گئے ہیں*

احباب سے درخواست ہے کہ اس پوسٹ کو پڑھ کر اس سوال کا جواب تلاش کریں کہ,
*"معاشرہ (سوسایٹی) میں رائج العمل نہ نظر آنے والے طاقتور قوانین کیسے پیدا ہوتے ہیں کہ معاشرہ جن کے تابع ہوکر اپنے دین و مذہب کو بھی بالاے طاق رکھ دیتا ہے.....؟*

یعنی ہم جس سوسایٹی میں رہتے ہیں, اصل میں ہم اسکے قیدی ہیں جو آزادی سے اپنی ذاتی زندگی کے فیصلے بھی نہیں کرسکتے......

*میں یہاں اپ سب احباب کو دعوت فکر دے رہا ہوں کہ اس سوال کا جواب تلاش کریں.......*

میں شکر گزار ہوں گا کہ اگر کوئ جواب ممکن ہو جاے......?

Address

Faisalabad

Telephone

+923027217977

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naveed Akhtar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Naveed Akhtar:

Share

Category