Positive Books

Positive Books be positive be strong

28/05/2018

think positive please
and stop the negetive interference in my life.

think positive pleaseand stop the negetive interference in my life.
28/05/2018

think positive please
and stop the negetive interference in my life.

be positive be strong

18/05/2018
Good Night
28/02/2018

Good Night

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیمسورۃ البقرہ آیت نمبر 275مگر جو لوگ سو د کھاتے ہیں ، ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے ، جسے شیطان ...
28/02/2018

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

سورۃ البقرہ آیت نمبر 275

مگر جو لوگ سو د کھاتے ہیں ، ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے ، جسے شیطان نے چھو کر باؤلا کر دیا ہو ۔ اور اس حالت میں ان کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں: تجارت بھی تو آخر سو د ہی جیسی ہے ، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سو د کو حرام ۔ لہٰذا جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سو د خوری سے باز آجائے ، تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا ، سو وہ کھا چکا ، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ۔ اور جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے ، وہ جہنمی ہے ، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا ۔

سود یا ربا ہر اس زیادہ رقم کو کہا جاتا ہے جو کسی قرض پر طے کرکے وصول کی جائے، مشرکین کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم کوئی سامان فروخت کرکے نفع کماتے ہیں اور اس کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے، اسی طرح اگر قرض دے کر کوئی نفع کمائیں تو کیا حرج ہے؟ ان کے اس اعتراض کا جواب تو یہ تھا کہ سامان تجارت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ اسے بیچ کر نفع کمایا جائے، لیکن نقدی اس کام کے لئے نہیں بنائی گئی کہ اسے سامان تجارت بناکر اس سے نفع کمایا جائے، وہ تو ایک تبادلے کا ذریعہ ہے ؛ تاکہ اس کے ذریعہ اشیائے ضرورت خریدی اور بیچی جاسکیں، نقدی کا نقدی سے تبادلہ کرکے اسے بذات خود نفع کمانے کا ذریعہ بنالیا جائے تو اس سے بے شمار مفاسد پیدا ہوتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں بیع اور سود کے درمیان فرق کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے ایک حاکمانہ جواب دیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دے دیا ہے تو ایک بندے کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حکم کی حکمت اور اس کا فلسفہ پوچھتا پھرے اور گویا عملاً یہ کہے کہ جب تک مجھے اس کا فلسفہ سمجھ میں نہیں آجائے گا میں اس حکم پر عمل نہیں کروں گا، واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں یقیناً کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے ؛ لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہر شخص کی سمجھ میں بھی آجائے، لہذا اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے تو پہلے اس کے ہر حکم پر سرتسلیم خم کرنا چاہئے، اس کے بعد اگر کوئی شخص اپنے مزید اطینان کے لئے حکمت اور فلسفہ سمجھنے کی کوشش کرے تو کوئی حرج نہیں ؛ لیکن اس پر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کو موقوف رکھنا ایک مومن کا طرز عمل نہیں۔

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیمسورہ الاعراف آیت نمبر 8 اور وزن اس روز عین حق ہوگا ۔  جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے...
27/02/2018

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

سورہ الاعراف آیت نمبر 8

اور وزن اس روز عین حق ہوگا ۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے ۔

تفسیر؛

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس روز خدا کی میزان عدل میں وزن اور حق دونوں ایک دوسرے کے ہم معنی ہوں گے ۔ حق کے سوا کوئی چیز وہاں وزنی نہ ہوگیا اور وزن کے سوا کوئی چیز حق نہ ہوگی ۔ جس کے ساتھ جتنا حق ہوگا اتنا ہی وہ با وزن ہوگا ۔ اور فیصلہ جو کچھ بھی ہو گا وزن کے لحاظ سے ہوگا ، کسی دوسری چیز کا ذرہ برابر لحاظ نہ کیا جائے گا ۔ باطل کی پوری زندگی خواہ دنیا میں وہ کتنی ہی طویل و عریض رہی ہو اور کتنے ہی بظاہر شاندار کارنامے اس کی پشت پر ہوں ، اس ترازو میں سراسر بے وزن قرار پائےگی ۔ باطل پرست جب اس میزان میں تولے جائیں گے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ دنیا میں جو کچھ وہ مدّت العمر کرتے رہے وہ سب ایک پرِ کاہ کے برابر بھی وزن نہیں رکھتا ۔ یہی بات ہے جو سورہ کہف آیات ١۰۳ تا ١۰۵ میں فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ دنیا کی زندگی میں سب کچھ دنیا ہی کے لیے کرتے رہے اور اللہ کی آیات سے انکار کرکے جن لوگوں نے یہ سمجھتے ہوئے کام کی کہ انجام کار کوئی آخرت نہیں ہے اور کسی کو حساب دینا نہیں ہے ، ان کے کارنامہ زندگی کو ہم آخرت میں کوئی وزن نہ دیں گے ۔

Address

Faisalabad
7762

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Positive Books posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category