01/07/2016
چلو مانا کہ ماوراۓ عدات قوتوں نے لشکریوں کو استعمال کر لیا ہے۔۔۔بیچارے جماعتیوں کی طرح استعمال ہوگۓ۔۔۔فرق یہ ہوگیا ہے کہ اب جماعتی سمجھ گۓ ہیں اور ڈٹ کر اُن موراۓ عدالت قوتوں کی ٹھکائی کرتے ہیں اپنے الفاظ میں۔۔۔ویسے تو کر نہیں سکتے۔۔۔ساتھی ہمیشہ ساتھی ہی رہتا ہے۔۔۔چاہے سابق ہی کیوں نہ ہوجاۓ۔۔۔تو اب مسلہ یہ ہے کہ بھئی اگر وہ استعمال ہورہے ہیں تو اُن کی غلطی کے ساتھ ساتھ پالسی میکرز کو بھی ہدفِ زبان بنانا چاہیے۔۔۔مگر فقط ہدفِ زباں سے کیا ہوتا ہے۔۔۔ہونا تو یہ چاہیے کہ اندر گھسا جاۓ، طویل منصوبہ بندی کی جاۓ، باتیں کرنے کی بجاۓ کچھ عمل بھی کر لیا جاۓ باتوں پر تو بہتر ہوگا، چلو ہم نہ سہی ہماری آنے والی نسلیں تو ہماری اس سرمایہ کاری سے مستفید ہو سکیں گی۔ بیٹھ کر باتیں کر لینا یا نتیجے اخذ کر لینا ہی کافی نہیں۔۔۔اگر ایسے ہی چلتا رہا تو پھر ہماری آنے والی نسلیں بھی بیٹھ کر اسی طرح باتیں کرتی رہیں گی اور کل کو کوئی اور کٹھ پتلی بنا ہوگا اور پھر سوشل میڈیا پر بحث و مباحث کی لمبی دوکان داری چلتی رہی گی !
ایک دوکان دار اور ایک میدان میں کام کرنے والے کی سوچ میں زمین آسمان کا نہ سہی بلی اور شیر کا فرق تو ہوتا ہی ہے۔۔!
بلی یا پھر سوشل میڈیا کے حضرات، ایک ہی بات ! مگر فرق صرف اتنا ہے کہ بلی تھوڑا گھوم پھر کر دم ہلاتی رہتی ہے !