Anjuman e Araian -Regd. Faisalabad

Anjuman e Araian -Regd. Faisalabad Anjuman-e-Araian (Regd.) Faisalabad is a dedicated social organization committed to fostering unity, progress, and community welfare.

07/08/2026
𝐀𝐧𝐣𝐮𝐦𝐚𝐧-𝐞-𝐀𝐫𝐚𝐢𝐚𝐧 (𝐑𝐞𝐠) 𝐅𝐚𝐢𝐬𝐚𝐥𝐚𝐛𝐚𝐝 𝐄𝐱𝐞𝐜𝐮𝐭𝐢𝐯𝐞 𝐂𝐨𝐦𝐦𝐢𝐭𝐭𝐞𝐞 𝐌𝐞𝐞𝐭𝐢𝐧𝐠The Executive Committee meeting of Anjuman-e-Araian will be...
03/08/2026

𝐀𝐧𝐣𝐮𝐦𝐚𝐧-𝐞-𝐀𝐫𝐚𝐢𝐚𝐧 (𝐑𝐞𝐠) 𝐅𝐚𝐢𝐬𝐚𝐥𝐚𝐛𝐚𝐝
𝐄𝐱𝐞𝐜𝐮𝐭𝐢𝐯𝐞 𝐂𝐨𝐦𝐦𝐢𝐭𝐭𝐞𝐞 𝐌𝐞𝐞𝐭𝐢𝐧𝐠

The Executive Committee meeting of Anjuman-e-Araian will be held on
Friday, 𝟕 𝐀𝐮𝐠𝐮𝐬𝐭 𝟐𝟎𝟐𝟔,
Time: 5:30 PM

Your timely presence and valuable participation are highly appreciated.

𝐎𝐧𝐥𝐲 𝐄𝐱𝐞𝐜𝐮𝐭𝐢𝐯𝐞 𝐌𝐞𝐦𝐛𝐞𝐫𝐬 𝐀𝐥𝐥𝐨𝐰𝐞𝐝

𝐃𝐫 𝐒𝐚𝐪𝐢𝐛 𝐑𝐞𝐡𝐦𝐚𝐧 (𝐆𝐞𝐧𝐞𝐫𝐚𝐥 𝐒𝐞𝐜𝐫𝐞𝐭𝐚𝐫𝐲)
+𝟗𝟐 𝟑𝟎𝟎 𝟖𝟔𝟓𝟓𝟓𝟐𝟐

28/07/2026

ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز (The Veterinary News & Views)
ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز پاکستان کا ایک معروف اور بااعتماد خصوصی اخبار اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ہے، جو 1987 سے ویٹرنری، لائیوسٹاک، پولٹری، ڈیری، زراعت، ماہی گیری، آبی زراعت، جنگلی حیات، فوڈ سیفٹی، ون ہیلتھ، تحقیق، تعلیم، کاروبار اور پالیسی سے متعلق مستند خبریں، تجزیے، مضامین اور صنعتی معلومات شائع کر رہا ہے۔
ادارہ کا مقصد ویٹرنری اور زرعی شعبوں سے وابستہ ماہرین، کسانوں، صنعت کاروں، طلبہ، محققین، اساتذہ، پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں کے درمیان معلومات، تحقیق، جدت اور کاروباری روابط کو فروغ دینا ہے۔ ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں معیاری صحافت کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے قارئین کو تازہ ترین اور مستند معلومات فراہم کرتا ہے۔
اخبار کے ساتھ ساتھ ادارہ اپنی ویب سائٹ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصی رپورٹس، روزگار کے مواقع، ایونٹس کوریج، مارکیٹ اپ ڈیٹس اور ڈیجیٹل پبلیکیشنز کے ذریعے بھی شعبہ ویٹرنری اور ایگری بزنس کی مؤثر نمائندگی کر رہا ہے۔ ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز پاکستان میں اس شعبے کے اولین اور نمایاں خصوصی میڈیا اداروں میں شمار ہوتا ہے اور پیشہ ورانہ، غیر جانبدار اور سائنسی بنیادوں پر صحافت کو اپنی شناخت سمجھتا ہے۔
نعرہ: One Health. One Vision.
مزید معلومات کے لیے: The Veterinary News & Views
03007600037



















دانش کدہدانش کدہ ایک فکری، علمی اور مہذب مکالمے کا پلیٹ فارم ہے، جہاں زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ...
26/07/2026

دانش کدہ
دانش کدہ ایک فکری، علمی اور مہذب مکالمے کا پلیٹ فارم ہے، جہاں زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات، اہلِ علم، محققین، اساتذہ، ادباء، شعراء، سائنس دان، دانشور اور دیگر ماہرین اپنے خیالات، تجربات اور علم کا تبادلہ کرتے ہیں۔
اس گروپ کا مقصد اجتماعی دانش کو فروغ دینا، مثبت مکالمے کی روایت کو مضبوط کرنا اور ایسے ماحول کی تشکیل ہے جہاں ہر رکن باوقار انداز میں سوال و جواب، تبادلۂ خیال اور علمی گفتگو میں حصہ لے سکے۔
علم، حکمت، ادب، شاعری، سائنس، سماجی علوم اور دیگر مثبت موضوعات سے دلچسپی رکھنے والی خواتین و حضرات اس گروپ کے رکن بن سکتے ہیں۔ یہاں کسی بھی قسم کا صنفی امتیاز نہیں رکھا جاتا اور ہر رکن کو مساوی احترام حاصل ہے۔
گروپ میں پاکستان کے قوانین کے خلاف گفتگو، نفرت انگیزی، ذاتی حملے، تضحیک، توہین آمیز رویہ یا غیر مہذب زبان کی اجازت نہیں۔ ایسے طرزِ عمل کے مرتکب افراد کو گروپ سے خارج کر دیا جائے گا۔
اسی طرح مذہبی یا فرقہ وارانہ مباحث سے گریز کیا جائے گا تاکہ گروپ کا ماحول علمی، متوازن اور باہمی احترام پر مبنی رہے۔
دانش کدہ اختلافِ رائے کو احترام کے ساتھ قبول کرنے، علم بانٹنے، نئی سوچ کو فروغ دینے اور باوقار مکالمے کے ذریعے معاشرے میں مثبت فکری روایت کو مضبوط بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر خالد محمود شوق
اس گروپ کو جائن کریں
https://chat.whatsapp.com/Kn3Q2W8BsHD0E6EUorviTI

16/07/2026

*آغوش تھراپی*

اشفاق احمد اکثر کہا کرتے تھے کہ آدمی عورت سے محبت کرتا ہے جبکہ عورت اپنی اولاد سے محبت کرتی ہے، اس بات کی مکمل سمجھ مجھے اس رات آئی۔ یہ گزشتہ صدی کے آخری سال کی موسمِ بہار کی ایک رات تھی ۔ میری شادی ہوئے تقریباً دوسال ہو گئے تھے۔ اور بڑا بیٹا قریب ایک برس کا رہا ہوگا۔

اس رات کمرے میں تین لوگ تھے۔ میں، میرا بیٹا اور اس کی والدہ! تین میں سے دو لوگوں کو بخار تھا ۔ مجھے کوئی ایک سو چار درجہ اور میرے بیٹے کو ایک سو ایک درجہ۔۔۔۔اگرچہ میری حالت میرے بیٹے سے کہیں زیادہ خراب تھی۔ تاہم میں نے یہ محسوس کیا کہ جیسے کمرے میں صرف دو ہی لوگ ہیں ۔ میرا بیٹا اور اس کی والدہ۔۔۔

بری طرح نظر انداز کیے جانے کے احساس نے میرے خیالات کو زیروزبر تو بہت کیا لیکن ادراک کے گھوڑے دوڑانے پر عقدہ یہی کھلا کہ عورت نام ہے اس ہستی کا کہ جب اس کو ممتا دیت کر دی جاتی ہے تو اس کو پھر اپنی اولادکے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔۔۔
حتیٰ کہ اپنا شوہر بھی اور خاص طورپر جب اس کی اولاد کسی مشکل میں ہو ۔ اس نتیجہ کے ساتھ ہی ایک نتیجہ اور بھی نکالا میں نے اور وہ یہ کہ *اگر میرے بیٹے کے درد کا درمان اس کی کی والدہ کی آغوش ہے تو یقینا میرا علاج میری ماں کی آغوش ہو گی۔*

*اس خیال کا آنا تھا کہ میں بستر سے اٹھا اور ماں جی کے کمرہ کی طرف چل پڑا ۔ رات کے دو بجے تھے پر جونہی میں نے ان کے کمرے کا دروازہ کھولا وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گئیں جیسے میرا ہی انتظار کر رہی ہوں۔۔۔*

*پھر کیا تھا، بالکل ایک سال کے بچے کی طرح گود میں لے لیا۔*
*اور توجہ اور محبت کی اتنی ہیوی ڈوز سے میری آغوش تھراپی کی کہ میں صبح تک بالکل بھلا چنگا ہو گیا۔*

*پھر تو جیسے میں نے اصول ہی بنا لیا جب کبھی کسی چھوٹے بڑے مسئلے یا بیماری کا شکار ہوتا کسی حکیم یا ڈاکٹر کے پاس جانے کی بجائے سیدھا مرکزی ممتا شفا خانہ برائے توجہ اور علاج میں پہنچ جاتا۔*

*وہاں پہنچ کر مُجھے کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ بس میری شکل دیکھ کر ہی مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ لگا لیا جاتا۔
میڈیکل ایمرجنسی ڈیکلئر کر دی جاتی۔
مجھے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ماں جی ) کے ہی بستر پر لٹا دیا جاتا اور ان کا ہی کمبل اوڑھا دیا جاتا ۔ کسی کو یخنی کا حکم ہوتا تو کسی کو دودھ لانے کا، خاندانی معالج کی ہنگامی طلبی ہوتی ۔ الغرض توجہ اور محبت کی اسی ہیوی ڈوز سے آغوش تھراپی ہوتی اور میں بیماری کی نوعیت کے حساب سے کبھی چند گھنٹوں اور کبھی چند پہروں میں روبہ صحت ہو کر ڈسچارج کر دیا جاتا۔

یہ سلسلہ تقریباً تین ماہ قبل تک جاری رہا۔
وہ وسط نومبر کی ایک خنک شام تھی۔ جب میں فیکٹری سے گھر کیلئے روانہ ہونے لگا تو مجھے لگا کہ مکمل طور پر صحت مند نہیں ہوں، تبھی میں نے آغوش تھراپی کروانے کا فیصلہ کیا اور گھر جانے کی بجائے ماں جی کی خدمت میں حاضر ہو گیا، لیکن وہاں پہنچنے پر اور ہی منظر دیکھنے کو ملا۔ ماں جی کی اپنی حالت کافی ناگفتہ بہ تھی، پچھلے کئی روز سے چل رہے پھیپھڑوں کے عارضہ کے باعث بخار اور درد کا دور چل رہا تھا۔

میں خود کو بھول کر ان کی تیمارداری میں جت گیا، مختلف ادویات دیں، خوراک کے معروف ٹوٹکے آزمائے۔
مٹھی چاپی کی، مختصر یہ کہ کوئی دو گھنٹے کی آؤ بھگت کے بعد ان کی طبیعت سنبھلی اور وہ سو گئیں۔
میں اٹھ کر گھر چلا آیا۔
ابھی گھر پہنچے آدھ گھنٹہ ہی بمشکل گزرا ہوگا کہ فون کی گھنٹی بجی ۔ دیکھا تو چھوٹے بھائی کا نمبر تھا۔ سو طرح کے واہمے ایک پل میں آکر گزر گئے۔ جھٹ سے فون اٹھایا اور چھوٹتے ہی پوچھا۔ بھائی سب خیریت ہے نا؟ بھائی بولا سب خیریت ہے *وہ اصل میں ماں جی پوچھ رہی ہیں کہ آپ کی طبیعت ناساز تھی، اب کیسی ہے……؟*

*........ اوہ میرے خدایا…*


*اس روزمیرے ذہن میں ماں کی تعریف مکمل ہو گئی تھی۔ ماں وہ ہستی ہے جو اولاد کو تکلیف میں دیکھ کر اپنا دکھ، اپنا آپ بھی بھول جاتی ہے۔*

*آج مجھے پھر بخار ہوا ہے، آغوش تھراپی کی اشد ضرورت ہے۔ پر میرا مرکزی ممتا شفاخانہ برائے توجہ اور علاج ہمیشہ کیلئے بند ہو چکا ہے۔😢*
ڈاکٹر ثاقب رحمان

14/07/2026

*🍃مکافاتِ عمل کے پندرہ اٹل اصول*
*دنیا کا سب سے بڑا اور اٹل قانون ”مکافاتِ عمل“ ھے، جسے سنسکرت میں Karma کہا جاتا ھے۔*
*یہ قدرت کا وہ خودکار نظام ھے جس میں ”عدالت“ نہیں لگتی، بلکہ فیصلے خود بخود نافذ ھوتے ھیں۔ آپ جو بیج بوتے ھیں، فصل وھی کاٹنی پڑتی ھے، چاھے وہ گندم ھو یا کانٹے۔*
*1- گھوم کر آنے والا تیر (The Boomerang Effect)*
*آپ فضا میں جو پتھر پھینکتے ھیں، وہ کششِ ثقل کی وجہ سے زمین پر واپس آتا ھے۔ بالکل اسی طرح، آپ کا کیا ھؤا ظلم یا نیکی گھوم کر واپس آپ ہی کی طرف آتی ھے۔ یہ ھو ہی نہیں سکتا کہ آپ کسی کا راستہ روکیں اور قدرت آپ کا راستہ نہ روکے۔*
*2- سُود سمیت واپسی (Compound Interest)*
*قدرت صرف حساب برابر نہیں کرتی، بلکہ ”سود“ سمیت واپس کرتی ھے۔ اگر آپ نے کسی کو ایک تھپڑ مارا ھے، تو حالات آپ کو دس تھپڑ ماریں گے۔*
*مکافاتِ عمل میں واپسی ھمیشہ اصل سے زیادہ ھوتی ھے، چاھے وہ اچھائی ھو یا برائی۔*
*3- مظلوم کی خاموشی (The Silence of the Victim)*
*ظالم کے لئے سب سے خطرناک چیز مظلوم کی ”خاموشی“ ھے۔*
*جب مظلوم بدلہ نہیں لیتا اور معاملہ آسمان والے پر چھوڑ دیتا ھے، تو پھر اس کا مقدمہ قدرت لڑتی ھے، اور قدرت کی پکڑ میں کوئی ضمانت (Bail) نہیں ھوتی۔*
*4- ڈھیل، معافی نہیں (Delay is not Denial)*
*قدرت کی لاٹھی بےآواز ھے لیکن بےاثر نہیں۔*
*کبھی کبھی ظالم کو لمبی رسی دی جاتی ھے، لیکن یہ ڈھیل اس لئے ھوتی ھے تاکہ جب وہ اپنی طاقت کے عروج پر ھو، تب اسے نیچے گرایا جائے تاکہ تکلیف زیادہ ھو۔*
*5- اولاد کے روپ میں امتحان (Trials through Offspring)*
*مکافاتِ عمل کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ھے کہ اکثر باپ کا کیا دھرا اولاد کے سامنے آتا ھے۔ جو دُکھ آپ نے کسی کے والدین کو دیئے ھوتے ھیں، قدرت وہی دُکھ آپ کی اولاد کے ذریعے آپ کو لوٹاتی ھے۔ یہ ”نسلوں کا قرض“ ھوتا ھے۔*
*6- جنس کا بدلہ جنس (Currency of Pain)*
*قدرت اسی ”کرنسی“ میں بدلہ دیتی ھے جس میں آپ نے جرم کیا ھوتا ھے۔ اگر آپ نے کسی کی عزت اچھالی، تو آپ کی دولت نہیں جائے گی بلکہ عزت ہی جائے گی۔ اگر آپ نے کسی کا گھر توڑا، تو آپ کا گھر ہی ٹوٹے گا۔ حساب ”آئٹم ٹو آئٹم“ ھوتا ھے۔*
*7- سکون کی موت (Death of Inner Peace)*
*مکافاتِ عمل کا پہلا وار ”ذھن“ پر ھوتا ھے۔*
*ظالم کے پاس نرم بستر تو ھوتا ھے لیکن نیند چھین لی جاتی ھے۔ اس کے دل میں ایک انجانا خوف بیٹھ جاتا ھے، اور وہ اپنے ھی سائے سے ڈرنے لگتا ھے۔*
*8- غیر متوقع وار (Blindside Hit)*
*ظالم ھمیشہ سامنے سے حملے کے لئے تیار رھتا ھے، لیکن قدرت کا وار وھاں سے ھوتا ھے جہاں سے گمان بھی نہیں ھوتا۔ کوئی قریبی دوست دھوکا دے جاتا ھے یا کوئی چھوٹی سی بیماری جان لیوا بن جاتی ھے۔*
*9- بےبسی کا تماشا (Public Humiliation)*
*مکافاتِ عمل انسان کو تنہائی میں نہیں مارتی، بلکہ چوراھے پر لا کر عبرت کا نشان بناتی ھے۔ جو شخص لوگوں کو ذلیل کرتا تھا، حالات اسے لوگوں کے سامنے محتاج کر دیتے ھیں تاکہ دنیا دیکھے۔*
*10- وقت کا پہیہ (The Wheel of Time)*
*وقت کبھی ایک جیسا نہیں رھتا۔*
*اگر آج آپ طاقتور ھیں اور کمزور کو دبا رھے ھیں، تو یاد رکھیں کل وقت بدلے گا اور کمزور طاقتور ھو جائے گا۔ فرعون بھی ڈوب گیا تھا، وقت کسی کا سگا نہیں ھوتا۔*
*11- اسباب کا کٹ جانا (Cutting off the Means)*
*جب پکڑ کا وقت آتا ھے، تو ظالم کی عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ھے۔ اس کے طاقتور تعلقات، پیسہ اور سفارشیں سب دھرے کے دھرے رہ جاتے ھیں۔ اسے بچانے والا کوئی نہیں ھوتا۔*
*12- "اپنے ھی خلاف گواہی"*
*مکافاتِ عمل میں انسان خود اپنے خلاف گواہ بن جاتا ھے۔ وہ اپنے ہی بچھائے ھوئے جال میں پھنس جاتا ھے۔ اس کے اپنے الفاظ اور اپنی چالیں اس کے گلے کا پھندا بن جاتی ھیں۔*
*13- جسمانی سزائیں (Physical Toll)*
*نفسیات اور روحانیت کہتی ھے کہ ظلم اور منفی سوچیں انسان کے جسم کو اندر سے کھا جاتی ھیں۔ لاعلاج بیماریاں اکثر مکافاتِ عمل کی شکل میں ظاھر ھوتی ھیں، جن کا میڈیکل سائنس میں کوئی شافی علاج نہیں ملتا۔*
*14- تنہائی کا عذاب (Loneliness)*
*جس نے اپنی طاقت کے نشے میں لوگوں کو دور کیا ھوتا ھے، بڑھاپے میں وہ بدترین تنہائی کا شکار ھوتا ھے۔ اس کے اپنے اسے چھوڑ جاتے ھیں، اور وہ بھری دنیا میں اکیلا رہ جاتا ھے۔*
*15- ضمیر کا بوجھ (The Guilt)*
*سب سے بڑی سزا ”ضمیر کی خلش“ ھے۔ ظالم دنیا کو دھوکا دے سکتا ھے، لیکن آئینے میں خود سے آنکھ نہیں ملا سکتا۔ وہ زندہ لاش بن کر رہ جاتا ھے جو صرف سانس لے رہی ھوتی ھے، جی نہیں رہی ھوتی۔
*اس سے پہلے کہ مکافاتِ عمل کا چکر پورا ھو اور تِیر واپس آپ کی طرف آئے، معافی مانگ لیں اور تلافی کر لیں۔*
*▫️قدرت کا اصول بہت سادہ ھے، جو بانٹو گے، وہی (کئی گنا ھو کر) واپس ملے گا۔
جزاکم اللّٰہ خیرا
بشکریہ ڈاکٹر میاں ثاقب رحمان

11/07/2026

انجمن آرائیاں رجسٹرڈ فیصل آباد کا اجلاس
رپورٹ میں طاہر سلیم

11/07/2026

انجمن آرائیاں رجسٹرڈ فیصل آباد کا اجلاس

انجمن آرائیاں رجسٹرڈ فیصل آباد کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا جسکی صدارت صدر ڈاکٹر احسان الحق سابق ڈائری...
11/07/2026

انجمن آرائیاں رجسٹرڈ فیصل آباد کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز
منعقد ہوا جسکی صدارت صدر ڈاکٹر احسان الحق سابق ڈائریکٹر نیاب چیف سائنٹسٹ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے کی اجلاس کے بعد زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ریٹائرڈ ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر جاوید کی طرف سے عصرانہ دیا گیا ستمبر نئے عہدے داروں کے انتخابات منعقد کروانے کا فیصلہ کیا گیا
میاں مشتاق احمد سابق صدر روٹری کلب فیصل آباد و چیف ایگزیکٹو بلیو سکائی ٹریولز چیف الیکشن کمشنر ہوں گے
اجلاس میں سینئر ممبرز و سابق سیکرٹری جنرل صابر علی صابری
میاں منصور علی ایڈووکیٹ
چوہدری عبد الرزاق
صاحب میاں امانت
پروفیسر ریٹائرڈ ڈاکٹر محمد یسن
میاں منیر احمد
میاں کاشف فاروق
ڈاکٹر خالد محمود شوق
میاں امتیاز احمد
میاں طاہر سلیم
علی رضا
ڈاکٹر ندیم مقبول
اے ڈی عاصم
میاں ثاقب رحمان سیکرٹری جنرل نے شرکت کی

Address

Faisalabad
38000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Anjuman e Araian -Regd. Faisalabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Anjuman e Araian -Regd. Faisalabad:

Shortcuts

Share

Category