24/06/2026
7 اذکار مسلمان کے نفس کو انسانوں، جنات کے شر اور حسد سے محفوظ رکھنے کے لیے سب سے اہم ترین اذکار ہیں!۔
1۔ بسمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَع اسمِهِ شَيءٌ...
عربی متن: «بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» (تین مرتبہ)
اردو ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ، جس کے نام کی برکت سے زمین اور آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ سب کچھ سننے والا اور ہر چیز جاننے والا ہے۔
حدیث کی فضیلت: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص صبح اور شام تین تین مرتبہ یہ دعا پڑھے، اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی (اور نہ اچانک کوئی بلا آئے گی)۔ (جامع ترمذی: 3388، سنن ابی داؤد)
2۔ أَعوذ بِكَلماتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ...
عربی متن: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» (تین مرتبہ)
اردو ترجمہ: میں اللہ کے پورے اور کامل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔
حدیث کی فضیلت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص شام کے وقت یہ تین بار پڑھ لے، تو اس رات اسے کوئی زہریلا جانور (جیسے بچھو وغیرہ) نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ (صحیح مسلم: 2709، جامع ترمذی)
3۔ تَحصنّت بذِي العِزّة والجَبروت...
عربی متن: «تَحَصَّنْتُ بِذِي الْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوتِ، وَاعْتَصَمْتُ بِرَبِّ الْمَلَكُوتِ، وَتَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، اِصْرِفْ عَنَّا الْأَذَى، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» (تین مرتبہ)
اردو ترجمہ: میں نے عزت اور جبروت (بزرگی و طاقت) والے کی پناہ لی، اور ملکوت (بادشاہی) کے رب کا دامن تھام لیا، اور میں نے اس ہمیشہ زندہ رہنے والے پر توکل کیا جسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ (اے اللہ!) ہم سے تکلیف اور اذیت کو دور فرما، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
وضاحت: یہ ایک بہترین دعائیہ کلمات ہیں جو بزرگانِ دین اور اہل علم سے منقول ہیں، جن میں اللہ کی توحید اور پناہ کا اعتراف ہے۔
4۔ اللَّهُمّ عَافِني فِي بَدَنِي...
عربی متن: «اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» (تین مرتبہ)
اردو ترجمہ: اے اللہ! میرے بدن میں مجھے عافیت دے۔ اے اللہ! میری سماعت (سننے کی طاقت) میں مجھے عافیت دے۔ اے اللہ! میری بصارت (دیکھنے کی طاقت) میں مجھے عافیت دے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ اے اللہ! میں کفر اور فقر (محتاجی) سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔
حدیث کی فضیلت: صحابیِ رسول حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہؓ نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ صبح و شام یہ دعا تین تین بار پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کلمات کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا ہے، اس لیے میں آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرنا پسند کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد: 5090)
5۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ وَالحَزَن...
عربی متن: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَغَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ» (تین مرتبہ)
اردو ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں فکر و غم سے، عاجزی (بے بسی) اور سستی سے، بخل (کنجوسی) اور بزدلی سے، اور قرض کے بوجھ تلے دب جانے سے اور لوگوں کے دباؤ/مغلوب کر دینے سے۔
حدیث کی فضیلت: یہ رسول اللہ ﷺ کی پسندیدہ ترین دعاؤں میں سے ہے، جسے آپ ﷺ کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔ یہ دنیاوی و ذہنی پریشانیوں کا بہترین علاج ہے۔ (صحیح بخاری: 2893)
6۔ سورتیں (الفاتحة + الإخلاص + الفَلَق + الناس)
(ان سورتوں کو تین تین بار پڑھنا ہے)
سورۃ الفاتحہ:
﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ١ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ٢ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ٣ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ٤ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ٥ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ٦ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ٧﴾
ترجمہ: اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان، رحم فرمانے والا ہے۔ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ بہت مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ جزا و سزا کے دن کا مالک ہے۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، نہ کہ ان کے راستے پر جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کے۔
سورۃ الإخلاص:
﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ١ اللَّهُ الصَّمَدُ ٢ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ٣ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ٤﴾
ترجمہ: آپ کہہ دیجیے: وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور اس کے برابر کا کوئی ایک بھی نہیں ہے۔
سورۃ الفلق:
﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ١ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ٢ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبitems ٣ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ٤ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ٥﴾
ترجمہ: آپ کہہ دیجیے: میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے۔ اور گرہوں میں پھونکنے والیوں (جادوگرنیوں) کے شر سے۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
سورۃ الناس:
﴿قُل *أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ١ مَلِكِ النَّاسِ ٢ إِلَهِ النَّاسِ ٣ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ٤ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ٥ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ٦﴾
ترجمہ: آپ کہہ دیجیے: میں انسانوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ انسانوں کے بادشاہ کی، انسانوں کے سچے معبود کی۔ وسوسہ ڈالنے والے، پیچھے ہٹ جانے والے (شیطان) کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
حدیث کی فضیلت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "صبح اور شام سورۃ الاخلاص، الفلق اور الناس تین تین بار پڑھ لیا کرو، یہ تمہیں ہر چیز (کے شر) سے کافی ہوں گی۔" (سنن ابی داؤد، ترمذی)
7۔ آية الكُرسيّ + سورہ بقرہ کی آخری دو آیات
(ایک مرتبہ)
آية الكُرسيّ (سورہ بقرہ: 255):
﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ٢٥٥﴾
ترجمہ: اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا، کائنات کو سنبھالنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں سفارش کر سکے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے، اور ان دونوں کی حفاظت اسے نہیں تھکاتی، اور وہ بہت بلند، بہت بڑا ہے۔
حدیث کی فضیلت: جو شخص اسے صبح پڑھے گا وہ شام تک، اور جو شام کو پڑھے گا وہ صبح تک شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ میں رہے گا۔ (صحیح ابن حبان)
سورہ بقرہ کی آخری دو آیات (285-286):
﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ٢٨٥ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ٢٨٦﴾
ترجمہ: رسول اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل کیا گیا، اور مومن بھی۔ سب اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ (وہ کہتے ہیں کہ) ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ اور انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس نے جو نیکی کمائی وہ اسی کے لیے ہے اور جو برائی سمیٹی وہ اسی پر ہے۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہمارا مواخذہ نہ فرما۔ اے ہمارے رب! اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب! اور ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کی ہم میں طاقت نہیں۔ اور ہمیں معاف کر دے، ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس کافروں کی قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
حدیث کی فضیلت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے، وہ اس کے لیے (ہر آفت اور شر سے بچاؤ کے لیے) کافی ہو جائیں گی۔" (صحیح بخاری: 5009)
اللہ تعالیٰ آپ کو، ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔ اپنی بے دعاؤں میں ضرور یاد رکھیے گا۔
ثناءاللہ حسین: 17/6/26... اسلام آباد ۔۔۔ یوم الاربعاء ۔۔