Islamic photos

Islamic photos Islam is the greatest religion in the world . so islamic photos related to great and tru Islam and p

02/04/2026
19/03/2026

بیوی: زہر بھی، شہد بھی — قرآن و سنت کی روشنی میں ازدواجی زندگی کا سبق
ترتیب و تحریر: شوکت اللہ شاکر
✦✦✦
انسانی معاشرے کی بنیاد خاندان ہے، اور خاندان کی بنیاد میاں بیوی کا رشتہ۔ جب یہ رشتہ محبت، احترام اور حسنِ اخلاق پر قائم ہو تو گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے، اور جب اس میں تلخی، شکایت اور بدسلوکی پیدا ہو جائے تو وہی گھر سکون کے بجائے بے چینی کا مرکز بن جاتا ہے۔
اسلام نے ازدواجی زندگی کو محض ایک معاشرتی معاہدہ نہیں بلکہ رحمت، سکون اور مودّت کا سرچشمہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾
"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔"
(سورۃ الروم: 21)
اسی حقیقت کو سمجھانے کے لیے ایک حکمت آموز واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔
❖ تلخی سے جنم لینے والا فیصلہ
ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے سے اس قدر تنگ آ چکی تھی کہ اس کے دل میں نفرت کی آگ بھڑک اٹھی۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ اس نے اپنے شوہر کو ختم کرنے کا ارادہ کر لیا، مگر اس انداز سے کہ کسی کو اس پر شک نہ ہو۔
وہ ایک عطار کے پاس گئی اور اس سے ایسی دوا طلب کی جو آہستہ آہستہ اس کے شوہر کو ہلاک کر دے اور کسی کو اس جرم کا اندازہ بھی نہ ہو۔
عطار نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اسے ایک شیشی دی اور کہا:
"اس میں ایک خاص مائع ہے۔ اگر تم ہر رات سونے سے پہلے اپنے شوہر کے مشروب میں اس کا صرف ایک قطرہ ملا دو تو ٹھیک 60 دن کے اندر اندر وہ اس دنیا سے رخصت ہو جائے گا۔"
لیکن اس نے ایک عجیب شرط بھی رکھی۔
❖ حسنِ سلوک کی نصیحت
عطار نے کہا:
"ان دنوں میں تمہیں اپنے شوہر کے ساتھ اپنے رویّے کو مکمل طور پر بدلنا ہوگا۔
اس سے محبت اور نرمی سے پیش آنا، اس کی خدمت کرنا، اس کے گھر آنے پر خوشی سے استقبال کرنا، اس کے لیے خود کو آراستہ کرنا، اور اس کے اہلِ خانہ کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا۔"
بظاہر یہ سب احتیاط کے لیے تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو، مگر درحقیقت اس کے اندر ایک گہری حکمت پوشیدہ تھی۔
❖ گھر میں تبدیلی کا آغاز
عورت نے اسی طرح کرنا شروع کر دیا۔
وہ اپنے شوہر سے نرمی سے بات کرنے لگی، اس کی خدمت کرنے لگی، اس کا شکریہ ادا کرنے لگی۔
چند ہی دنوں میں حیران کن تبدیلی پیدا ہونے لگی۔
جو شوہر پہلے سخت مزاج تھا، وہ نرم دل بننے لگا۔
جو گھر پہلے شکایتوں سے بھرا تھا، وہاں محبت اور اپنائیت کے آثار نمودار ہونے لگے۔
یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف رسول اللہ ﷺ نے اشارہ فرمایا:
"تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔"
(ترمذی)
جب ایک فریق اپنے اخلاق کو بہتر بناتا ہے تو اکثر دوسرا فریق بھی بدلنے لگتا ہے۔
❖ ایک ماہ بعد
صرف ایک مہینہ گزرا تھا کہ وہ عورت گھبراہٹ کے عالم میں دوبارہ عطار کے پاس پہنچی اور بولی:
"مجھے فوراً کوئی ایسی دوا دے دو جو اس زہر کا اثر ختم کر دے!"
عطار نے پوچھا:
"کیوں؟"
عورت بولی:
"میرا شوہر اب بالکل بدل گیا ہے۔
وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔
وہ اب نہایت مہربان، محبت کرنے والا اور خیال رکھنے والا بن گیا ہے۔
میں اب اس کی موت برداشت نہیں کر سکتی۔"
❖ حقیقت کا انکشاف
یہ سن کر عطار مسکرایا اور بولا:
"اطمینان رکھو! میں نے تمہیں کوئی زہر نہیں دیا تھا۔
میں نے تو تمہیں صرف وہ نصیحت دی تھی جو دراصل تمہیں شادی کے وقت دی جانی چاہیے تھی۔
اور اس شیشی میں صرف مقطر پانی اور شہد تھا۔"
یہ سن کر عورت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور اسے ایک عظیم حقیقت سمجھ آ گئی۔
❖ قرآن و سنت کا پیغام
اسلامی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ میاں بیوی کے درمیان صبر، درگزر اور حسنِ معاشرت ہونا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾
"اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی گزارو۔"
(سورۃ النساء: 19)
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مومن مرد کسی مومنہ عورت سے نفرت نہ کرے، اگر اس کی کوئی عادت ناپسند ہو تو دوسری عادت پسند بھی ہو سکتی ہے۔"
(مسلم)
یہ تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ گھر کی خوشی اخلاق، برداشت اور محبت سے پیدا ہوتی ہے۔
❖ اصلاح کا پیغام
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ:
بیوی چاہے تو زہر بن سکتی ہے اور چاہے تو شہد۔
اگر وہ صبر، محبت اور حسنِ اخلاق کو اختیار کرے تو گھر سکون اور رحمت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
اور اگر وہ شکایت، سختی اور بدخلقی کو اپنا لے تو وہی گھر تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔
اسی لیے اسلام نے گھر کو رحمت کا مرکز بنانے کی تعلیم دی ہے۔
✨ حقیقت یہ ہے کہ اکثر گھروں کے مسائل کا حل دوا یا دولت میں نہیں بلکہ اخلاق، محبت اور حسنِ سلوک میں پوشیدہ ہوتا ہے۔

*ســـال کی مــہــنگی تـــریـــن گـــولـــڈن رات*🎤📗 *سبھی کو شیئر کردیں تاکہ سبھی کو علم ہو جائیں اور یہ رات ضائع نا کریں...
12/03/2026

*ســـال کی مــہــنگی تـــریـــن گـــولـــڈن رات*🎤📗

*سبھی کو شیئر کردیں تاکہ سبھی کو علم ہو جائیں اور یہ رات ضائع نا کریں 🤲*
علامہ ابن رجب ؒ فرماتے ہیں:
”جب جمعہ کی رات، طاق رات سے آ ملے
تو امید کی جا سکتی ہے کہ یہی شبِ قدر ہے۔“
امام ابن تیمیہ ؒ لکھتے ہیں:
”جب جمعہ کی رات آخری عشرہ رمضان کی طاق رات سے آ ملے تو یہ رات باذن اللہ زیادہ لائق ہے کہ اسے شب قدر کا درجہ ملے۔“

آج بھی مدینہ کے شہری کسی اجنبی کو دیکھتے ہیں تو اُسے محمد کہہ کر پکارتے ہیں اور ساتھی کو یا صدیق لہٰذا یہ دنیا کا واحد ...
21/02/2026

آج بھی مدینہ کے شہری کسی اجنبی کو دیکھتے ہیں تو اُسے محمد کہہ کر پکارتے ہیں اور ساتھی کو یا صدیق لہٰذا یہ دنیا کا واحد شہر ہے جس میں ہر مہمان، ہر اجنبی کا نام محمد اور ہر ساتھی صدیق ہے۔ انصار نے حضورﷺ کی تواضح کی اور ان کی نسلیں حضورﷺ کے مہمانوں کی خدمت کر رہی ہیں۔ رمضان میں پورا مدینہ اشیاء خورونوش لے کر مسجد نبویﷺ حاضر ہو جاتا ہے ‘دستر خوان بچھا دیے جاتے ہیں، میزبانوں کے بچے مسجد نبویﷺ کے دالانوں، ستونوں اور دروازوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں، حضورﷺ کا جو بھی مہمان نظر آتا ہے ۔
وہ اس کی ٹانگوں سے لپٹ کر افطار کی دعوت دیتے ہیں۔ مہمان دعوت قبول کر لے تو میزبان کے چہرے پر روشنی پھیل جاتی ہے، نامنظور کر دے تو میزبان کی پلکیں گیلی ہو جاتی ہیں، میں مسجد نبویﷺ میں داخل ہوا تو ایک سات آٹھ برس کا بچہ میری ٹانگ سے لپٹ گیا اور بڑی محبت سے کہنے لگا ’’چچا، چچا آپ میرے ساتھ بیٹھیں گے‘‘ میرے منجمد وجود میں ایک نیلگوں شعلہ لرز اٹھا، میں نے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسا دیا اور سوچا ’’ یہ لوگ واقعی مستحق تھے کہ رسول اللہﷺ اپنے اللہ کے گھر سے اٹھ کر ان کے گھر آ ٹھہرتے اور پھر واپس نہ جاتے۔‘‘
وہاں روضہ اطہر کے قریب ایک دروازہ ہے۔
باب جبرائیل، آپﷺ ام المومنین حضرت عائشہؓ کے حجرہ مبارک میں قیام فرماتے تھے، افطار کا وقت ہوتا، دستر خوان بچھتا، گھر میں موجود چند کھجوریں اور دودھ کا ایک آدھ پیالہ اس دستر خوان پرچن دیا جاتا، حضرت بلالؓ اذان کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ فرماتے ’’ عائشہؓ باہر دیکھو باب جبرائیل کے پاس کوئی مسافر تو نہیں ‘‘ آپؓ اٹھ کر دیکھتیں، واپس آ کرعرض کرتیں’’ یا رسول اللہﷺ وہاں ایک مسافر بیٹھا ہے۔‘‘ آپﷺ کھجوریں اور دودھ کا وہ پیالہ باہر بھجوا دیتے، میں جونہی باب جبرائیل کے قریب پہنچا، میرے پیروں کے ناخنوں سے رانوں کی ہڈیوں تک ہر چیز پتھر ہو گئی، میں وہی بیٹھ گیا، باب جبرائیل کے اندر ذرا سا ہٹ کر حضرت عائشہؓ کے حجرے میں میرے حضورﷺ آرام فرما رہے ہیں۔ میں نے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا، آج بھی رمضان ہے۔
ابھی چند لمحوں بعد اذان ہو گی، ہو سکتا ہے آج بھی میرے حضورﷺ حضرت عائشہؓ سے پوچھیں ’’ ذرا دیکھئے باہر کوئی مسافرتو نہیں‘‘ اور ام المومنین عرض کریں گی ’’ یا رسول اللہﷺ باہر ایک مسافر بیٹھا ہے، شکل سے مسکین نظر آتا ہے، نادم ہے، شرمسار ہے، تھکا ہارا ہے، سوال کرنے کا حوصلہ نہیں، بھکاری ہے لیکن مانگنے کی جرأت نہیں، لوگ یہاں کشکول لے کر آتے ہیں‘ یہ خود کشکول بن کر آ گیا، اس پر رحم فرمائیں یا رسول اللہﷺ، بیچارہ سوالی ہے، بے چارہ بھکاری ہے‘‘ اور پھر میرا پورا وجود آنکھیں بن گیا اور سارے اعضاء آنسو۔

Subhan Allah.
18/02/2026

Subhan Allah.

حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا تربیت اولاد کے بارے چالیس اہم گذارشات...!1:اولاد اللہ کی امانت...
13/01/2026

حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا تربیت اولاد کے بارے چالیس اہم گذارشات...!

1:اولاد اللہ کی امانت ہے...اور امانت میں کوتاہی صرف مار پیٹ نہیں...بلکہ تربیت چھوڑ دینا بھی ہے...!

2:بچے وہ نہیں کرتے جو آپ کہتے ہیں...بچے وہ کرتے ہیں جو آپ کرتے ہیں...!

3:نماز کی تلقین سے پہلےگھر میں نماز کا ماحول بنائیں...!

4:حرام لقمہ...! اولاد کے دل سے نورِ ایمان چھین لیتا ہے...!

5:جو والدین اولاد کے لیے دعا نہیں کرتے...وہ اپنی طاقت کا سب سے بڑا ذریعہ کھو دیتے ہیں...!

6:محبت کے بغیر تربیت ظلم ہے...اور تربیت کے بغیر محبت بگاڑ ہے...!

7:ماں کی گود پہلی درسگاہ ہے...اور باپ کا کردار پہلی کتاب...!

8:اولاد کو وقت دیناسب سے قیمتی صدقہ ہے...!

9:موبائل بچے کے ہاتھ میں نہیں...بچے کا مستقبل اس کے ہاتھ میں دے دیتا ہے...!

10:جھوٹ بولنے والے والدین...سچ بولنے والی اولاد پیدا نہیں کر سکتے...!

11:علم سے پہلے ادب سِکھائیں...ادب آ جائے تو علم خود راستہ بنا لیتا ہے...!

12:برا دوست...اولاد کے ایمان کا خاموش قاتل ہوتا ہے...!

13:غصے میں دی گئی نصیحت...اصلاح نہیں...نفرت پیدا کرتی ہے...!

14:ماں باپ کی لڑائیاں...بچوں کے دلوں کو عمر بھر کے لیے زخمی کر دیتی ہیں...!

15:اولاد کو اللہ سے جوڑیں...صرف سزا سے نہیں...محبت سے...!

16:چھوٹی دعائیں...بڑی زندگیاں سنوار دیتی ہیں...!

17:جو والدین کا ادب نہیں سِیکھتا...وہ کسی کا ادب نہیں کر سکتا...!

18:مال کم دیں...کردار زیادہ دیں...!

19:بچوں کے سوال دبانے سے
جہالت ختم نہیں...ضد پیدا ہوتی ہے...!

20:غلطی پر تنہائی میں سمجھانا...اصل تربیت ہے...!

21:نبی ﷺ کی سیرت...اولاد کی بہترین تربیتی کتاب ہے...!

22:ہر خواہش پوری کرنا...اولاد کو مضبوط نہیں...کمزور بناتا ہے...!

23:دین کو سخت بنا کر پیش نہ کریں...دین آسان ہے...ہم مشکل بنا دیتے ہیں...!

24:حلال روزی...! صالح اولاد کی بنیاد ہے...!

25:بے ترتیب زندگی...بے ترتیب کردار پیدا کرتی ہے...!

26:والدین کی گالی...اولاد کی زبان خراب کرتی ہے...!

27:دین جبر سے نہیں...سمجھ سے دل میں اترتا ہے...!

28:اولاد کو ذمہ داری دیں...یہی خود اعتمادی کی کنجی ہے...!

29:بچپن کی صحبت...زندگی کا رخ بدل دیتی ہے...!

30:جو خود نہیں سِیکھتا...وہ صحیح سِکھا نہیں سکتا...!

31:سادگی سِکھائیں...آسائش نہیں...!

32:بچوں کی عزت کریں...وہ عزت کرنا سیکھ جائیں گے...!

33:والدین کا معاف کرنا...اولاد کو سچائی سِکھاتا ہے...!

34:حـــیا...! ایمان کی پہچان ہے...!

35:ہر مسئلے میں...اللہ کو یاد کرنا سِکھائیں...!

36:اولاد کا موازنہ...حسد کا بیج بوتا ہے...!

37:اچھـــا نـــام! اچھی شناخت کی پہلی سیڑھی ہے

38:والدین کا باہمی احترام...اولاد کی خاموش تربیت ہے

39:صرف نیک بنانا کافی نہیں...نیکی پر قائم رکھنا بھی حضروری ہے

40:اولاد کی سب سے بڑی تربیت...والدین کی اپنی اصلاح ہے

08/01/2026

صدقے کے فضائل

صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے

صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ہے ، اور سب سے افضل صدقہ کھانا کھلانا ہے

صدقہ قیامت کے دن سایہ ہو گا، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا

صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے، اور قبر کی گرمی کی ٹھنڈک کا سامان ہے

میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ہے، اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑھاتے رہتے ہیں

صدقہ مصفیٰ ہے، نفس کی پاکی کا ذریعہ اور نیکیوں کو بڑھاتا ہے

صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سروراورتازگی کا سبب ہے

صدقہ قیامت کی ہولناکی کے خوف سے امان ہے، اور گزرے ہوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا

صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سیئات کا کفارہ ہے

صدقہ خوشخبری ہے حسن ِخاتمہ کی، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ہے

صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہوں

صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ہے

خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کی مخلوق محبت کرتی ہے

صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ہے

صدقہ دعاؤں کے قبول ہونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ہے

صدقہ بلاء(مصیبت) کو دور کرتا ہے، اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ہے

صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ہے، کامیابی اور رزق کا سبب ہے

صدقہ علاج بھی ہے‘ دوا بھی اور شفاء بھی

صدقہ آگ سے جلنے، غرق ہونے، چوری اور بری موت کو روکتا ہے

صدقہ کا اجرملتا ہے، چاہے جانوروں اور پرندوں پر ہی کیوں نہ ہو۔
٭کسی کے درخت/ کھیتی سے کوئی شخص کچھ کھا لے، یہ اس کی طرف سے صدقہ ہے۔ ٭کسی کے درخت/ کھیتی سے کوئی جانور یا پرندہ کچھ کھا لے، یہ اس کا صدقہ ہے۔ ٭کسی مسافر کی راہنمائی کردینا صدقہ ہے۔ ٭کسی کاریگر کو اس کے کاروبار میں مدد کرنا صدقہ ہے۔ ٭کسی کو پانی پلادینا صدقہ ہے۔ ٭کسی کام میں اپنے بھائی کی مدد کردینا صدقہ ہے۔ ٭آدمی جو خود کھائے (حلال روزی) وہ صدقہ ہے۔ ٭آدمی جو اپنے بچوں کو کھلائے، وہ صدقہ ہے۔ ٭آدمی جو اپنے خادم کو کھلائے وہ صدقہ ہے۔٭کوئی پریشان حال مدد کا طالب ہو، اس کے ساتھ جاکر اس کی پریشانی دور کردینا صدقہ ہے۔ ٭اپنی جان اور عزّت وآبرو کی حفاظت کرنے کی جدّوجہد کرنا صدقہ ہے۔ ٭کسی کو اپنی ذات سے نقصان نہ پہنچانا بھی صدقہ ہے۔
صدقے کی ان تمام صورتوں کا تذکرہ احادیث میں آیا ہے۔ ان پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے صرف چند ہی حقوق اللہ سے متعلق ہیں، زیادہ تر کا تعلق انسانوں کے حقوق سے ہے، جن میں اہل خانہ، رشتے دار، عام مسلمان، غیر مسلم حتی کہ حیوانات بھی شامل ہیں۔رسول اللہؐ نے فرمایا: اللہ نے تمھارے لیے صدقے کی بہت سی صورتیں بتائی ہیں۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا: ابن آدم کے ہر جوڑ، ہڈی، پور کے حساب سے روزانہ اس پر صدقہ کرنا لازم ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: ہم اتنا صدقہ کیسے کرسکتے ہیں؟ اس پر اللہ کے رسولؐ نے بہت سے اعمال کا تذکرہ کیا اور انھیں صدقہ قرار دیا۔ یہ احادیث بہت سی کتبِ حدیث میں مروی ہیں۔
ان احادیث میں صدقے کی جو صورتیں بیان کی گئی ہیں، وہ درج ذیل ہیں :
٭اللہ کی پاکی بیان کرنا (سبحان اللہ کہنا) صدقہ ہے۔ ٭اللہ کی کبریائی بیان کرنا صدقہ ہے۔ ٭لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے۔ ٭اللہ کی حمد بیان کرنا (الحمد للہ کہنا) صدقہ ہے۔ ٭نماز پڑھنا صدقہ ہے۔ ٭دو رکعت چاشت کی نماز پڑھنا صدقہ ہے۔ ٭روزہ رکھنا صدقہ ہے۔ ٭حج کرنا صدقہ ہے۔ ٭جنازے کے پیچھے چلنا صدقہ ہے۔ ٭مریض کی عیادت کرنا صدقہ ہے۔ ٭کسی کو راستہ بتا دینا صدقہ ہے۔ ٭راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے۔ ٭راستے سے ہڈّی، پتھر، کانٹا ہٹا دینا صدقہ ہے۔ ٭ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ ٭اچھی بات کی تلقین کرنا صدقہ ہے۔ ٭کسی غلط کام سے روکنا صدقہ ہے۔ ٭میاں بیوی کا صنفی تعلق صدقہ ہے۔ ٭تنگ دست مقروض کو مہلت دینا صدقہ ہے۔ ٭کسی کم زور کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ ٭کوئی آدمی اونچا سنتا ہو، زور سے بول کر اسے کوئی بات سنا دینا صدقہ ہے۔ ٭کسی شخص کی بینائی کم زور ہو، اس کی کوئی ضرورت پوری کردینا صدقہ ہے۔ ٭کوئی شخص کمزور، لاچار ہو، اپنی طاقت سے اس کا کوئی کام کردینا صدقہ ہے۔ ٭کوئی شخص اپنی بات صحیح طریقے سے نہ رکھ سکتا ہو، اپنی قوتِ بیانی سے اس کی بات صحیح طریقے سے پیش کردینا صدقہ ہے۔ ٭کسی کا لباس بوسیدہ ہوگیا ہو، اسے لباس فراہم کردینا صدقہ ہے۔ ٭کسی ننگے کو کپڑا پہنا دینا صدقہ ہے۔ ٭کسی نابینا کو صحیح راستے پر پہنچادینا صدقہ ہے۔ ٭اپنے بھائی سے مسکرا کر بات کرنا صدقہ ہے۔ ٭اپنے برتن سے اپنے بھائی کے برتن میں پانی ڈال دینا صدقہ ہے۔ ٭کوئی شخص بھٹک گیا ہو تو اسے صحیح راستہ بتادینا صدقہ ہے۔ ٭لڑائی جھگڑا کرنے والے دو افراد کے درمیان انصاف سے فیصلہ کردینا صدقہ ہے۔ ٭کسی شخص کو سواری پر بیٹھنے میں مدد دینا صدقہ ہے۔ ٭سواری پر بیٹھے ہوئے کسی شخص کا سامان اٹھاکر اسے دے دینا صدقہ ہے۔ ٭اچھی بات صدقہ ہے۔ ٭نماز کے لیے مسجد کی طرف اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ ٭کسی کو راستہ معلوم نہ ہو، اسے راستہ بتا دینا صدقہ ہے۔ ٭کسی کے درخت/ کھیتی سے کوئی شخص کچھ کھا لے، یہ اس کی طرف سے صدقہ ہے۔ ٭کسی کے درخت/ کھیتی سے کوئی جانور یا پرندہ کچھ کھا لے، یہ اس کا صدقہ ہے۔ ٭کسی مسافر کی راہنمائی کردینا صدقہ ہے۔ ٭کسی کاریگر کو اس کے کاروبار میں مدد کرنا صدقہ ہے۔ ٭کسی کو پانی پلادینا صدقہ ہے۔ ٭کسی کام میں اپنے بھائی کی مدد کردینا صدقہ ہے۔ ٭آدمی جو خود کھائے (حلال روزی) وہ صدقہ ہے۔ ٭آدمی جو اپنے بچوں کو کھلائے، وہ صدقہ ہے۔ ٭آدمی جو اپنے خادم کو کھلائے وہ صدقہ ہے۔٭کوئی پریشان حال مدد کا طالب ہو، اس کے ساتھ جاکر اس کی پریشانی دور کردینا صدقہ ہے۔ ٭اپنی جان اور عزّت وآبرو کی حفاظت کرنے کی جدّوجہد کرنا صدقہ ہے۔ ٭کسی کو اپنی ذات سے نقصان نہ پہنچانا بھی صدقہ ہے۔
صدقے کی ان تمام صورتوں کا تذکرہ احادیث میں آیا ہے۔ ان پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے صرف چند ہی حقوق اللہ سے متعلق ہیں، زیادہ تر کا تعلق انسانوں کے حقوق سے ہے، جن میں اہل خانہ، رشتے دار، عام مسلمان، غیر مسلم حتی کہ حیوانات بھی شامل ہیں۔

1. دوسرے کو نقصان پہونچانے سے بچنا صدقہ ہے۔
[بخاری: 2518]

2. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔
[ابن حبان: 3368]

3. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔
[ابن حبان: 3368]

4. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔
[ابن حبان: 3377]

5. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔
[ابن حبان: 3377]

6. راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔
[مسلم: 1007]

7. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔
[ابن حبان: 3377]

8. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔
[ترمذی: 1956]

9. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔
[ترمذی: 1956]

10. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

11. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

12. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

13. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

14. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

15. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔
[مسلم: 1007]

16. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

17. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]

18. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔
[بخاری: 2518]

19. کسی آدمی کو سواری پر بیٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]

20. اچھی بات کہنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2589]

21. نماز کے لئے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔
[بخاری: 2518]

22. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔
[بخاری: 2518]

23. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

24. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔
[نسائی - کبری: 9185]

25. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔
[نسائی - کبری: 9185]

26. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔
[نسائی - کبری: 9185]

27. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]

28. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔
[ترمذی: 1963]

29. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔
[ابو یعلی: 2434]

30. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔
[ابو یعلی: 2434]

31. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔
[ابو داﺅد: 5243]

32. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔
[بخاری - تاریخ: 259/3]

33. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسلم: 1553]

34. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔
[بیہقی - شعب: 3367]

01/12/2025

چند ایسی عبادات جن میں کسی مالی یا جسمانی محنت کی ضرورت نہیں پڑتی۔۔۔

1- قناعت کی عبادت
جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مقدر کیا ہے اس پر قناعت کریں، کیونکہ یہ ہر حال میں آپ کے لیے موزوں ترین ہے۔

2- دلجوئی کی عبادت
دو میٹھے الفاظ جو آپ کے منہ سے نکل کر لوگوں کے دل جیت لیتے ہیں۔

3- لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کی عبادت
یہ ہم میں سے اکثر کو تب پیش آتی ہے جب کسی کو اپنے مقصد تک پہنچنے میں یا ذاتی ضرورت پوری کرنے میں آپ کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔

4- اچھا کلمہ کہنے والی عبادت
آپ کی زبان سے نکلا ہوا میٹھا کلمہ جس کو حدیث میں صدقہ کہا گیا ہے وہ قیامت کے دن آپ کے اچھے ہونے کی گواہی دے گا۔

5- نیک گمان رکھنے والی عبادت
باطن کو اللہ پر چھوڑ دیجیے کیونکہ اللہ ہی تمہیں شر سے بچاتا ہے۔

6- علم کی زکوٰۃ نکالنے والی عبادت*
وہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص آپ سے کسی بات کے متعلق پوچھے، تو اسے پوری بات اسی طرح بتادو، جیسا کہ رب العالمین نے آپ کو کسی کے ذریعے بتائی ہے۔ اسے تمام لوگوں تک پہنچائیے تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

7- اللہ تعالٰی سے اچھی امید رکھنے کی عبادت
جی ہاں، بخدا، اچھی امید رکھنا ایک عبادت ہے، جیساکہ قدسی حدیث میں آتا ہے: "میں ویسا ہی ہوں جیسا میرا بندہ میرے بارے میں گمان رکھتا ہے۔"

8- اس چیز کو چھوڑنے کی عبادت جس سے آپ کو کوئی سروکار نہیں
اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایسی چیز میں مداخلت نہ کریں جس سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو، اور ایسے تجزیوں اور نتائج کو ترک کرنا جو بد اعتمادی کا باعث بنتے ہیں۔ جیساکہ قرآن مجید میں ہے۔۔۔
"اے ایمان والو، ایسی چیزوں کے بارے میں مت پوچھو، جو اگر تم پر واضح ہو جائیں تو تمہیں ناگوار گزرے۔"

9- درگزر کا مظاہرہ کرنے کی عبادت
دوسرے لوگوں کے عیبوں پر زیادہ توجہ نہ دیں۔ کیونکہ جو کسی پر کسی چیز کا الزام لگاتا ہے وہ خود اسی کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے اور اسی قصور کا شکار ہو جاتا ہے۔

10- مہلت دینے اور صبر کرنے کی عبادت
ڈھیل دو، صبر کرو اور ظالم کو ایک اور موقع دو، شاید تم اس کے گناہ چھڑوانے میں مددگار ہی بن جاؤ۔

11- افواہوں کو اپنے تک روکنے کی عبادت
یہ ایک بہت ہی اہم عبادت ہے کہ اگر آپ کسی کے بارے میں بری بات سنیں تو وہ اپنی حد تک رکھیں اس کو آگے نہ پھیلائیں۔

12- مسکرانے کی عبادت
آپ کا اپنے بھائی کے منہ پر مسکرانا صدقہ ہے۔

13- کسی انسان کو خوش کرنے کی عبادت
خواہ اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے، یا اسے معاف کر کے، یا اسے دیکھ کر مسکرا کر، یا تحفہ دے کر، یا مدد کرکے، یا کوئی اچھی بات کرکے، یا خوشخبری سنا کر، یا
کسی اور چیز سے۔
14. نظروں کی اور کانوں کی حفاظت
----------
جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے اعمال منقطع نہ ہوں تو وہ علم کو عام کرے۔
[ابن الجوزی].

اختيار وترجمہ:
عبد القیوم السندی
مکہ المکرمہ

31/10/2025

*آپ نے کبھی قرآن مجید کی آخری دو سورتوں پر غور فرمایا ہے ؟*

*سورہ فلق* میں چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے

اور وہ چاروں بڑی خطرناک، خوفناک اور ہلاکت خیز چیزیں ہیں

جبکہ *سورۃ الناس* میں صرف ایک چیز سے پناہ مانگی گئی ہے

مگر وہ ایک چیز اپنی تباہی اور ہلاکت میں سورہ فلق والی چار چیزوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے

اب غور کریں *سورہ فلق* میں چار چیزوں سے پناہ مانگی گئی

مگر اس کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی صرف ایک ”صفت“ کا وسیلہ پکڑا گیا

*”اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ“* میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے ربّ کی…ان چار چیزوں سے

*(١)* تمام مخلوق کے شر سے
*(٢)* چھا جانے والے اندھیرے کے شر سے
*(٣)* جادوگر عورتوں کے شر سے
*(٤)* حسد کرنے والوں کے شر سے جب وہ اپنے حسد پر چل پڑیں

اب *سورۃ الناس* کو دیکھیں

اس میں پناہ صرف ایک چیز سے مانگی گئی مگر آغاز میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا وسیلہ پکڑا گیا

*اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ، مَلِكِ النَّاسِ، اِلٰهِ النَّاسِ……*

میں پناہ مانگتا ہوں
*تمام انسانوں کے ربّ کی*
*تمام انسانوں کے بادشاہ اور مالک کی*
*تمام انسانوں کے حقیقی معبود کی*

صرف ایک چیز سے…اور وہ چیز ہے

*خنّاس کا وسوسہ*

اے تمام انسانوں کے ربّ!…اے تمام انسانوں کے شہنشاہ!…اے تمام انسانوں کے معبود برحق!…مجھے خنّاس کے وسوسے کے شر سے بچالے… یہ ”خنّاس“ یعنی چھپا ہوا دشمن انسان ہو یا کوئی جن یا شیطان……

”خنّاس“ اسے کہتے ہیں جو سیدھا آپ کے دل پر وار کرے…اور آپ کو پتا ہی نہ چلے…اور وہ یہ وار کرکے چھپ جائے…چھپ جانے کا مطلب یہ ہے کہ… یا تو نظر ہی نہ آئے… یا بظاہر دوست اور خیر خواہ نظر آئے…مگر حقیقت میں وہ آپ کے دل میں کوئی برائی اُتار دے

بڑا خطرناک معاملہ ہے… بہت ہی خطرناک…دل میں وسوسہ اُتر گیا تو پھر تباہی ہی تباہی ہے……

خاوند بیوی محبت سے رہ رہے ہوتے ہیں…کوئی آتا ہے ہنستے کھیلتے دو لفظ بول کر…اُن میں سے کسی کے دل میں وسوسے کا بیج بوتا ہے…اور چلا جاتا ہے… بس اس کے دو لفظ کا وسوسہ…اتنے حسین اور قریبی رشتے کو برباد کر دیتا ہے…اور محبت فنا ہوجاتی ہے…دکھ، غم اور شکوے جنم لے لیتے ہیں……

آپ کسی اچھے انسان سے محبت کرتے ہیں…اس کی محبت سے آپ کو دینی فائدہ ہوتا ہے…ایک چغل خور آتا ہے… باتوں باتوں میں غیر محسوس طریقے سے آپ کے کان میں وہ ڈال جاتا ہے کہ…آپ کی محبت…نفرت اور شک میں تبدیل ہوجاتی ہے…اور سالہا سال کی محنت اور محبت کا منٹوں میں جنازہ نکل جاتا ہے……

اسی طرح…شیاطین جو جنات ہیں…نظر نہیں آتے آپ کو کسی ایسی بدگمانی میں ڈال دیتے ہیں کہ…پھر آپ خود کو روک نہیں سکتے…اور اس بدگمانی کے طوفان میں…آپ کے کتنے رشتے، نعمتیں اور محبتیں تنکوں کی طرح بہہ جاتی ہیں……

*اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے خنّاس کے شر سے محفوظ فرمائیں آمین* ۔

Address

Faisalabad

Opening Hours

Monday 11:30 - 22:00
Tuesday 11:30 - 22:00
Wednesday 11:30 - 22:00
Thursday 11:30 - 22:00
Saturday 11:30 - 22:00
Sunday 11:30 - 22:00

Telephone

+923216633997

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic photos posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category