Islamic photos

Islamic photos Islam is the greatest religion in the world . so islamic photos related to great and tru Islam and p

19/07/2026
7 اذکار مسلمان کے نفس  کو انسانوں، جنات کے شر اور حسد سے محفوظ رکھنے کے لیے سب سے  اہم ترین اذکار ہیں!۔1۔ بسمِ اللَّهِ ا...
24/06/2026

7 اذکار مسلمان کے نفس کو انسانوں، جنات کے شر اور حسد سے محفوظ رکھنے کے لیے سب سے اہم ترین اذکار ہیں!۔

1۔ بسمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَع اسمِهِ شَيءٌ...
عربی متن: «بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» (تین مرتبہ)

اردو ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ، جس کے نام کی برکت سے زمین اور آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ سب کچھ سننے والا اور ہر چیز جاننے والا ہے۔

حدیث کی فضیلت: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص صبح اور شام تین تین مرتبہ یہ دعا پڑھے، اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی (اور نہ اچانک کوئی بلا آئے گی)۔ (جامع ترمذی: 3388، سنن ابی داؤد)

2۔ أَعوذ بِكَلماتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ...
عربی متن: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» (تین مرتبہ)

اردو ترجمہ: میں اللہ کے پورے اور کامل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔

حدیث کی فضیلت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص شام کے وقت یہ تین بار پڑھ لے، تو اس رات اسے کوئی زہریلا جانور (جیسے بچھو وغیرہ) نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ (صحیح مسلم: 2709، جامع ترمذی)

3۔ تَحصنّت بذِي العِزّة والجَبروت...
عربی متن: «تَحَصَّنْتُ بِذِي الْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوتِ، وَاعْتَصَمْتُ بِرَبِّ الْمَلَكُوتِ، وَتَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، اِصْرِفْ عَنَّا الْأَذَى، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» (تین مرتبہ)

اردو ترجمہ: میں نے عزت اور جبروت (بزرگی و طاقت) والے کی پناہ لی، اور ملکوت (بادشاہی) کے رب کا دامن تھام لیا، اور میں نے اس ہمیشہ زندہ رہنے والے پر توکل کیا جسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ (اے اللہ!) ہم سے تکلیف اور اذیت کو دور فرما، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

وضاحت: یہ ایک بہترین دعائیہ کلمات ہیں جو بزرگانِ دین اور اہل علم سے منقول ہیں، جن میں اللہ کی توحید اور پناہ کا اعتراف ہے۔

4۔ اللَّهُمّ عَافِني فِي بَدَنِي...
عربی متن: «اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» (تین مرتبہ)

اردو ترجمہ: اے اللہ! میرے بدن میں مجھے عافیت دے۔ اے اللہ! میری سماعت (سننے کی طاقت) میں مجھے عافیت دے۔ اے اللہ! میری بصارت (دیکھنے کی طاقت) میں مجھے عافیت دے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ اے اللہ! میں کفر اور فقر (محتاجی) سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔

حدیث کی فضیلت: صحابیِ رسول حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہؓ نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ صبح و شام یہ دعا تین تین بار پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کلمات کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا ہے، اس لیے میں آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرنا پسند کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد: 5090)

5۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ وَالحَزَن...
عربی متن: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَغَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ» (تین مرتبہ)

اردو ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں فکر و غم سے، عاجزی (بے بسی) اور سستی سے، بخل (کنجوسی) اور بزدلی سے، اور قرض کے بوجھ تلے دب جانے سے اور لوگوں کے دباؤ/مغلوب کر دینے سے۔

حدیث کی فضیلت: یہ رسول اللہ ﷺ کی پسندیدہ ترین دعاؤں میں سے ہے، جسے آپ ﷺ کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔ یہ دنیاوی و ذہنی پریشانیوں کا بہترین علاج ہے۔ (صحیح بخاری: 2893)

6۔ سورتیں (الفاتحة + الإخلاص + الفَلَق + الناس)
(ان سورتوں کو تین تین بار پڑھنا ہے)

سورۃ الفاتحہ:
﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۝١ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝٢ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۝٣ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ۝٤ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ۝٥ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۝٦ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ۝٧﴾

ترجمہ: اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان، رحم فرمانے والا ہے۔ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ بہت مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ جزا و سزا کے دن کا مالک ہے۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، نہ کہ ان کے راستے پر جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کے۔

سورۃ الإخلاص:
﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ۝١ اللَّهُ الصَّمَدُ ۝٢ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ۝٣ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ۝٤﴾

ترجمہ: آپ کہہ دیجیے: وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور اس کے برابر کا کوئی ایک بھی نہیں ہے۔

سورۃ الفلق:
﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ۝١ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ۝٢ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبitems ۝٣ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ۝٤ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ۝٥﴾

ترجمہ: آپ کہہ دیجیے: میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے۔ اور گرہوں میں پھونکنے والیوں (جادوگرنیوں) کے شر سے۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔

سورۃ الناس:
﴿قُل *أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۝١ مَلِكِ النَّاسِ ۝٢ إِلَهِ النَّاسِ ۝٣ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ۝٤ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ۝٥ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ۝٦﴾

ترجمہ: آپ کہہ دیجیے: میں انسانوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ انسانوں کے بادشاہ کی، انسانوں کے سچے معبود کی۔ وسوسہ ڈالنے والے، پیچھے ہٹ جانے والے (شیطان) کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔

حدیث کی فضیلت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "صبح اور شام سورۃ الاخلاص، الفلق اور الناس تین تین بار پڑھ لیا کرو، یہ تمہیں ہر چیز (کے شر) سے کافی ہوں گی۔" (سنن ابی داؤد، ترمذی)

7۔ آية الكُرسيّ + سورہ بقرہ کی آخری دو آیات
(ایک مرتبہ)

آية الكُرسيّ (سورہ بقرہ: 255):
﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ۝٢٥٥﴾

ترجمہ: اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا، کائنات کو سنبھالنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں سفارش کر سکے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے، اور ان دونوں کی حفاظت اسے نہیں تھکاتی، اور وہ بہت بلند، بہت بڑا ہے۔

حدیث کی فضیلت: جو شخص اسے صبح پڑھے گا وہ شام تک، اور جو شام کو پڑھے گا وہ صبح تک شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ میں رہے گا۔ (صحیح ابن حبان)

سورہ بقرہ کی آخری دو آیات (285-286):
﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ۝٢٨٥ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ۝٢٨٦﴾

ترجمہ: رسول اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل کیا گیا، اور مومن بھی۔ سب اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ (وہ کہتے ہیں کہ) ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ اور انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس نے جو نیکی کمائی وہ اسی کے لیے ہے اور جو برائی سمیٹی وہ اسی پر ہے۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہمارا مواخذہ نہ فرما۔ اے ہمارے رب! اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب! اور ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کی ہم میں طاقت نہیں۔ اور ہمیں معاف کر دے، ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس کافروں کی قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

حدیث کی فضیلت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے، وہ اس کے لیے (ہر آفت اور شر سے بچاؤ کے لیے) کافی ہو جائیں گی۔" (صحیح بخاری: 5009)

اللہ تعالیٰ آپ کو، ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔ اپنی بے دعاؤں میں ضرور یاد رکھیے گا۔

ثناءاللہ حسین: 17/6/26... اسلام آباد ۔۔۔ یوم الاربعاء ۔۔

وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا" (القرآن) اور اپنے رب کے حکم پر صبر کرو، یقیناً تم ہماری آنکھوں کے سا...
23/06/2026

وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا" (القرآن) اور اپنے رب کے حکم پر صبر کرو، یقیناً تم ہماری آنکھوں کے سامنے ہو۔ جب انسان خود کو اکیلا محسوس کرے، تو یہ آیت دل کو سکون دیتی ہے۔ اللّٰہ آپ کی ہر تکلیف اور صبر کے ایک ایک سیکنڈ کو دیکھ رہا ہے اور وہ بہترین جزا دے گا۔

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ" (القرآن) بیشک اللّٰہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ آزمائش میں سب سے بڑی طاقت صبر ہے۔ جب آپ مشکل وقت میں شکوہ کرنے کے بجائے صبر کا راستہ چنتے ہیں، تو کائنات کے مالک کی معیت اور مدد آپ کے ساتھ ہو جاتی ہے۔

وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا" (القرآن) اور اللّٰہ پر توکل کرو، اور اللّٰہ ہی کارساز کافی ہے۔ اپنے تمام معاملات اللّٰہ کے سپرد کر کے بے فکر ہو جائیں۔ انسان عاجز ہے اور راستے بنانے کی طاقت صرف اللّٰہ کے پاس ہے، جو آپ کے حق میں بہترین ثابت ہو گا۔

وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ" (القرآن) اور اللّٰہ جانتا ہے جبکہ تم نہیں جانتے۔ کبھی کبھی ہم کسی چیز کے چھن جانے پر بہت روتے ہیں، مگر اللّٰہ ہمارے مستقبل سے واقف ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیں شر سے بچا کر خیر کی طرف لے جاتا ہے۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ" (القرآن) پس ہم نے اس کی دعا قبول کر لی اور اسے غم سے نجات دی۔ آزمائش کا بہترین حل دعا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندے کی پکار کو کبھی رد نہیں کرتا اور ہر غم کو خوشی میں بدلنے پر قادر ہے۔

لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا" (القرآن) غم نہ کرو، بیشک اللّٰہ ہمارے ساتھ ہے۔ زندگی کے اندھیروں اور خوف کے لمحات میں یہ آیت ایک روشن امید ہے۔ جب اللّٰہ ساتھ ہو، تو دنیا کی کوئی بھی طاقت یا پریشانی آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔

وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ" (القرآن) اور یہ اللّٰہ پر کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ آپ کی جو بھی حاجت یا پریشانی ہے، وہ اللّٰہ کے لیے بہت معمولی ہے۔ اپنے دل میں یقین رکھیں کہ اللّٰہ ایک "کُن" سے آپ کے حالات بدل سکتا ہے۔

وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ" (القرآن) اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ یہ آیت دل ٹوٹے ہوئے انسان کے لیے مرہم ہے۔

سورۃ قریش کی فضیلت اور  تشریحسورۃ قریش! سکون، رزق اور شکر کا پیغام۔تعارف.سورۃ قریش قرآنِ مجید کی 106ویں سورت ہے، جو مکی ...
16/06/2026

سورۃ قریش کی فضیلت اور تشریح
سورۃ قریش! سکون، رزق اور شکر کا پیغام۔
تعارف.
سورۃ قریش قرآنِ مجید کی 106ویں سورت ہے، جو مکی سورت ہے۔
اس میں 4 آیات ہیں۔
اس سورت کا بنیادی پیغام اللہ کی نعمتوں کا شعور، شکرگزاری اور عبادت ہے۔
سورۃ قریش کی فضیلت
🔹 یہ سورت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ امن، رزق اور تحفظ اللہ کی خاص نعمتیں ہیں۔
🔹 مفسرین کے مطابق جو شخص اس سورت کو غور سے پڑھتا ہے، اس کے دل میں شکر، قناعت اور توکل پیدا ہوتا ہے۔
🔹 بعض اکابر علماء کے نزدیک اس سورت کی تلاوت رزق میں برکت اور خوف سے حفاظت کا سبب بنتی ہے (بشرطِ نیت و عمل)۔
🔹 یہ سورت قوموں کی کامیابی کا راز بتاتی ہے کہ نعمتوں کا شکر عبادت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
سبق:
نعمتیں ملنا امتحان ہے، اور ان نعمتوں پر شکر ادا کرنا کامیابی۔

سورۃ قریش کا شانِ نزول
یہ سورت قریش کے اس خاص مقام کو بیان کرتی ہے جو اللہ نے انہیں عطا کیا تھا:
سردیوں میں یمن اور
گرمیوں میں شام
تجارت کے محفوظ سفر
یہ تمام سہولتیں کسی طاقت یا تدبیر کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اللہ کے فضل سے تھیں۔
آیات کی تشریح آسان انداز میں

1️⃣ لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ
قریش کو جو باہمی محبت، اتحاد اور تجارتی سہولتیں حاصل ہوئیں، وہ اللہ کی عطا تھیں۔
سبق: قوموں کی طاقت اتحاد میں ہے، اور اتحاد اللہ کی نعمت ہے۔

2️⃣ إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ
قریش کے تجارتی سفر سردی اور گرمی میں محفوظ رہے، حالانکہ عرب بدامنی کا شکار تھا۔
سبق: جب اللہ حفاظت فرمائے تو راستے خود بخود آسان ہو جاتے ہیں۔

3️⃣ فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَٰذَا الْبَيْتِ
اتنی نعمتوں کے بعد اللہ حکم دیتا ہے کہ اسی رب کی عبادت کرو جو کعبہ کا مالک ہے۔
سبق: نعمت کا حق عبادت ہے، غفلت نہیں۔

4️⃣ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ
اللہ نے انہیں بھوک سے بچایا اور خوف سے امن دیا۔
سبق: رزق اور امن صرف دنیاوی انتظامات سے نہیں، بلکہ اللہ کے حکم سے ہیں۔
موجودہ دور کے لیے پیغام
آج بھی اگر ہمارے گھروں میں
رزق ہے
امن ہے
سفر آسان ہیں
تو یہ سب اللہ کی عطا ہے۔
سورۃ قریش ہمیں سکھاتی ہے کہ:
نعمتوں کی حفاظت شکر سے ہوتی ہے،
اور شکر عبادت سے۔
عملی نصیحت!
روزانہ کم از کم ایک بار سورۃ قریش پڑھ کر
اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں
اور اس بات پر غور کریں کہ ہم نے نعمت ملنے کے بعد عبادت میں اضافہ کیا یا کمی؟

تمہیں سورۂ قریش کا ایک ایسا
کمال بتاؤں جوزندگی میں تمہیں کہیں نہیں
ملا تھا وہ یہ ہےکہ اگر چاہتے ہو کہ ساری کائنات کے
خزانے جو زمین کے نیچے دفن ہیں
اوروہ اللہ کے علم میں ہیں اور اللہ ہی جانتا ہے
تو پھر سورۂ قریش کو اپنی زندگی کا ایسا ساتھی بنائیں جو کبھی جدا نہ ہو۔۔۔ سفر ہو‘ زندگی ہو‘ موت کا آخری وقت ہو‘ کھانا ہو ‘پینا ہو‘ اولاد ہو‘ گھر ہو‘ جھونپڑی ہو‘ محل ہو۔۔۔

خاص وقت کا خاص عمل اور نسلیں کامیاب: اگر کوئی شخص سورۂ قریش کو اس وقت پڑھے جس وقت میاں بیوی کے ملنے کا وقت ہوتا ہے یعنی اس سے پہلے جب انسان اپنے لباس سے جدا نہ ہو اور صرف تین بار‘سات بار یا گیارہ بار پڑھ لے اس سے جو بھی اولاد پیدا ہوگی‘ وہ اولاد کبھی ننگی نہیں ہوگی اللہ ان کو
اچھا لباس دے گا‘کبھی بھوک نہیں ہوگی یعنی ان کو اللہ پاک بہترین کھانے دے گا کبھی خوفزدہ نہ ہوگی نہ غم سے نہ دشمن سے نہ کسی درندے سےنہ کسی جادو سے اور نہ ہی کسی مشکل سے اور ان کو بھوک کا خوف‘ غم کاخوف‘ چھننے کا خوف‘ لٹنے کا خوف‘ مشکلات کا خوف‘ پریشانیوں کا خوف اور مسائل کا خوف ان کو نہیں ہوگا اور زندگی ان کی آسودہ گزرے گی۔رزق ‘برکت لائی اور تنگدستی گئی۔۔

میرے رزق میں برکت’ میرے مسائل حل مجھے زندگی میں ترقیاں ملیں‘ حالات سنورے‘ زندگی سنوری میں نے غربت تنگدستی سے اپنے آپ کو نکلتے ہوئے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔ میں نہیں نکل سکتا تھا‘ بہت کوشش کی لیکن نہیں نکل سکا اور اب ایسا نکلا کہ آج لوگ مجھے مالدار کہتےہیں۔۔۔ کوئی مجھے تنگدست نہیں کہتا‘ کوئی فقیر نہیں کہتا اور میں اپنی زندگی میں اسی تنگدستی اورفقیری سے نکلا ہوں اور ایسا نکلا ہوں کہ میں آگے سے آگے بڑھا۔۔۔ حالات نے مجھے بہتر سےبہتر بنا دیا۔ کہ سورۂ قریش کو جب چودھویں رات کاچاند ہو اور موسم گرما کا ہواور صحن میں سورہےہوں تو چاند کو دیکھتے ہوئے یہ سورۂ پڑھتے رہیں۔۔۔ پڑھتے رہیں۔۔۔ پڑھتے رہیں۔۔۔ اور اپنی چار مرادوں کو دل میں لے کر پڑھتے رہیں۔۔۔ مراد نمبر ایک: فاقہ ،تنگدستی ،غربت، معاشی مسائل،کاروباری مسائل، روزگار کے مسائل، تنگدستی کے مسائل۔ مراد نمبر دو: خوف کسی انسان سے‘ کسی جانور سے اور کسی جن سے یا لٹنے کا خوف‘ گمراہ ہونے کا خوف‘ فتنوں کا خوف‘ مشکلات کا خوف‘ پریشانیوں کا خوف‘ زندگی کی ناکامیوں کا خوف۔۔۔ تیسری مراد : آپ کو کہیں سے امن چاہیے اور اپنے آپ کو ہر حال میں تنگدست اور بے حال محسوس کرتے ہیں اور آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ زندگی کے اس گوشے میں پہنچے جہاں کوئی آپ کا ساتھی اور مدد گار نہیں اور آپ کو کوئی حاصل کرنے والا اور ساتھ دینا والا نہیں اورآپ سمجھتے ہیں کہ آپ تنہا ہوگئے ہیں۔۔۔ چوتھی مراد: آپ گناہوں کی گمراہی میں اور زندگی کی ذلتوں میںیا پھر بد سے بدتر زندگی میں آپ چلے گئے ہیں اور ولایت چاہتے ہیں‘ فقیری چاہتےہیں‘تعلق چاہتے ہیں‘ نسبت احسان چاہتے ہیں آپ رات کی تنہائیوں میں آنسو چاہتے ہیں۔۔۔ دعا کا لفظ چاہتے ہیں۔۔۔ دعا کا اہتمام چاہتےہیں۔۔۔ دعا کی طاقت چاہتے ہیں اور دعا کی تاثیر چاہتے ہیں بس۔۔۔ میرا گھر‘ میرا تن‘ میرا من بے روشن:سورۂ قریش بلاتعداد چاند کو دیکھتے ہوئے پڑھیں اور بس ایک تصور ضرور کریں کہ مولا چاند کچھ نہیں‘ مخلوق ہے ۔۔۔تو خالق ہے اور تو نے اس چاند میں روشنی ڈالی۔۔۔ مولا !میرا گھربے روشن۔۔۔ میرا تن بےروشن۔۔۔ میرا من بے روشن۔۔۔ میری زندگی میں اندھیرا‘ میری راہوں میں اندھیرا‘ میری آنکھوں میں اندھیرا۔۔۔ میری نسلوں میں اندھیرا۔۔۔ مجھےغربت کا اندھیرا۔۔۔ مجھے تنگدستی کا اندھیرا۔۔۔ مجھے گناہوں کا اندھیرا۔۔۔ مشکلات کا اندھیرا۔۔۔ خوف کا اندھیرا۔۔۔ ذلتوں کا اندھیرا۔۔۔ ظلمتوں کا اندھیرا۔۔۔ ناکامیوں کا اندھیرا۔ میرے اوپر چھا گیا ہے تو جس طرح اپنی تجلی سے چاند کو روشن کرتا ہے اس سورۃ کی برکت سے اپنی تجلی بھیج اور میرا سب کچھ روشن کردے اور مجھے روشنی دے دے ۔ عمل کا طریقہ:ہر چاند کی بارہ، تیرہ اور چودہ کو اگر یہ عمل کرتے رہیں تین دن کریں یا ہر چاند جب بھی روشن ہو دس دن کریں یا کم از کم چودھویں کی چاند کی رات کو کریں اور یہ باتیں کرتے کرتے سوجائیں اور اگر آپ چاند کو نہیں دیکھ پاتے آپ کے پاس وہ ماحول نہیں کہ جس میں چھت یا صحن میسر ہو لیکن چودھویں کا چاند ہے اور تاریخ چودھویں کی ہے تو پھر تصور تصور میں یہ عمل کرتے کرتے لیٹ جائیں چاہےچاند نظر نہ بھی آئے لیکن یہی تصور ہو اور یہی عمل آپ کرتے چلے جائیں۔ اپنی نسلوں میں یہ عمل ضرور سکھانا: اپنی نسلوں میں یہ عمل ضرور سکھانا کیونکہ آپ تو پاگئے اگر نسلیں نہ پائیں تو پھر آپ بھی پاکر آخر کتنا پائیں گے۔۔۔ نسلیں آپ کی شادو آباد ہوجائیں گی اور اس کو اگر زندگی بھر کا معمول بنالیں تو آپ پر وہ خیروبرکت کی ر اہیں کھلیںگی اور آپ پروہ رحمت کی اور برکت کے راستے کھلیں گے جنہیں آپ نے کبھی سوچا اور پایا نہ ہوگا۔

رات کے کسی خاموش پہر...جب سب سو جائیں...اور تم تنہائی میں بیٹھے ہو...تو ایک سوال اپنے آپ سے پوچھنا...میں کون ہوں؟یہ جسم؟...
12/06/2026

رات کے کسی خاموش پہر...
جب سب سو جائیں...
اور تم تنہائی میں بیٹھے ہو...
تو ایک سوال اپنے آپ سے پوچھنا...
میں کون ہوں؟
یہ جسم؟
یہ چہرہ؟
یہ آنکھیں؟
یہ ہاتھ؟
یا ان سب کے اندر موجود کوئی اور حقیقت؟
ذرا غور کرو...
جب ایک انسان مرتا ہے...
تو اس کے جسم میں سب کچھ موجود ہوتا ہے۔
وہی آنکھیں۔
وہی دل۔
وہی دماغ۔
وہی ہاتھ۔
وہی پیر۔
پھر آخر ایسی کون سی چیز نکل جاتی ہے...
کہ بولنے والا خاموش ہو جاتا ہے؟
چلنے والا رک جاتا ہے؟
دیکھنے والا بے حس ہو جاتا ہے؟
وہ چیز...
روح ہے۔
روح...
انسان کی اصل حقیقت ہے۔
جسم تو صرف ایک لباس ہے۔
ایک عارضی مکان ہے۔
ایک سواری ہے۔
اصل مسافر تو روح ہے۔
قرآن نے روح کو رب کا ایک عظیم راز قرار دیا۔
اور انسان کو بتا دیا...
کہ تمہیں اس بارے میں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
سائنس نے سمندر ناپ لیے۔
آسمانوں کی وسعتیں جان لیں۔
چاند پر قدم رکھ دیا۔
انسان کے جسم کے اندر موجود خلیات تک پہنچ گئی۔
لیکن...
روح کیا ہے؟
آج بھی سائنس اس سوال کے سامنے خاموش کھڑی ہے۔
نہ کوئی خوردبین روح کو دیکھ سکی۔
نہ کوئی مشین روح کو ناپ سکی۔
نہ کوئی لیبارٹری روح کو قید کر سکی۔
کیونکہ روح...
مٹی کی دنیا کی چیز نہیں۔
غیب کی دنیا کا راز ہے۔
جب ماں کے پیٹ میں ایک بے جان جسم پڑا ہوتا ہے...
اللہ کے حکم سے روح اس میں داخل ہوتی ہے۔
اور اچانک زندگی شروع ہو جاتی ہے۔
دل دھڑکنے لگتا ہے۔
جسم حرکت کرنے لگتا ہے۔
آنکھیں دنیا دیکھنے کے لیے تیار ہونے لگتی ہیں۔
اور پھر...
زندگی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
لیکن افسوس...
انسان ساری زندگی جسم کو سنوارتا رہتا ہے۔
روح کو بھول جاتا ہے۔
جسم کو دھوتا ہے۔
روح کو نہیں دھوتا۔
جسم کو خوشبو لگاتا ہے۔
روح کو معطر نہیں کرتا۔
گھر کو صاف رکھتا ہے۔
دل کو صاف نہیں رکھتا۔
کپڑوں پر داغ برداشت نہیں کرتا۔
لیکن روح پر گناہوں کے داغ دیکھ کر بھی بے فکر رہتا ہے۔
ذرا سوچو...
تم روز نہاتے ہو۔
اپنے جسم کو چمکاتے ہو۔
اپنے بال سنوارتے ہو۔
اپنے کپڑے بدلتے ہو۔
لیکن آخری بار اپنی روح کو کب صاف کیا تھا؟
آخری بار سچے دل سے توبہ کب کی تھی؟
آخری بار تنہائی میں بیٹھ کر اپنے گناہوں پر روئے کب تھے؟
حقیقت یہ ہے...
بہت سے لوگ صاف جسم لے کر چل رہے ہیں۔
مگر ان کی روحیں گندگی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔
بہت سے چہرے روشن ہیں۔
لیکن دل تاریک ہیں۔
بہت سے لوگ خوشبوؤں میں بسے ہوئے ہیں۔
لیکن ان کی روحیں گناہوں کی بدبو میں لپٹی ہوئی ہیں۔
حسد...
روح کو کھا جاتا ہے۔
تکبر...
روح کو سیاہ کر دیتا ہے۔
جھوٹ...
روح کو زخمی کر دیتا ہے۔
غیبت...
روح کو بدبودار کر دیتی ہے۔
نافرمانی...
روح کو بیمار کر دیتی ہے۔
اور سب سے خطرناک بیماری...
غفلت ہے۔
وہ غفلت...
جو انسان کو اپنی روح کا حال ہی بھلا دیتی ہے۔
پھر ایک دن...
موت آ جاتی ہے۔
وہ لمحہ...
جس سے کوئی نہیں بچ سکا۔
اس وقت...
فرشتے آتے ہیں۔
اور روح کو جسم سے الگ کر دیتے ہیں۔
اس لمحے...
ساری دولت ختم۔
ساری طاقت ختم۔
ساری شہرت ختم۔
صرف روح باقی۔
اور اس کے اعمال باقی۔
لوگ جسم کے پاس کھڑے ہوتے ہیں۔
رو رہے ہوتے ہیں۔
لیکن روح...
ایک نئے سفر پر نکل چکی ہوتی ہے۔
عالمِ برزخ کی طرف۔
وہاں نہ بینک بیلنس کام آتا ہے۔
نہ عہدہ۔
نہ شہرت۔
وہاں صرف اعمال ساتھ جاتے ہیں۔
سوچو...
اگر آج تمہاری روح تمہارے سامنے لا کھڑی کی جائے...
تو کیا تم اسے دیکھنا پسند کرو گے؟
کیا وہ روشن ہوگی؟
یا گناہوں کے دھبوں سے بھری ہوئی ہوگی؟
کیا وہ اللہ سے ملنے کے لیے بے تاب ہوگی؟
یا خوف سے کانپ رہی ہوگی؟
اے انسان!
جسم کی صفائی اچھی بات ہے۔
اسلام نے بھی صفائی سکھائی ہے۔
مگر جسم سے زیادہ قیمتی تمہاری روح ہے۔
جسم چند سال بعد مٹی میں مل جائے گا۔
لیکن روح...
ہمیشہ زندہ رہے گی۔
اس لیے جسم کے آئینے کے سامنے کھڑے ہونے سے پہلے...
روح کے آئینے کے سامنے بھی کھڑے ہو جاؤ۔
اپنے دل کا جائزہ لو۔
اپنے گناہوں کو دیکھو۔
اپنی غفلت کو پہچانو۔
اپنی روح کو توبہ سے دھو لو۔
اپنی روح کو قرآن سے روشن کر لو۔
اپنی روح کو ذکر سے زندہ کر لو۔
اپنی روح کو سجدوں سے پاک کر لو۔
اس سے پہلے کہ لوگ تمہارے جسم کو غسل دیں...
اپنی روح کو خود پاک کر لو۔
اس سے پہلے کہ تمہارا نام صرف ایک یاد بن جائے...
اپنی روح کو اللہ کے قریب کر لو۔
کیونکہ ایک دن...
یہ جسم مٹی میں سو جائے گا۔
یہ آنکھیں بند ہو جائیں گی۔
یہ زبان خاموش ہو جائے گی۔
یہ دل دھڑکنا چھوڑ دے گا۔
مگر روح...
اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوگی۔
اور اُس دن...
سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ تمہارا جسم کتنا خوبصورت تھا۔
بلکہ یہ ہوگا...
تمہاری روح کس حال میں تھی؟ 🤍
اور کیا وہ اپنے رب سے ملنے کے لیے تیار تھی؟

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِاس عظیم کلمے کے تمام طاقتور، مخفی، نورانی اور قہری رازجتنے بھی ہیں میں آپ کو ای...
31/05/2026

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ
اس عظیم کلمے کے تمام طاقتور، مخفی، نورانی اور قہری رازجتنے بھی ہیں میں آپ کو ایک ایک کر کے مکمل بتا رہا ہوں۔یہ وہ خزانے ہیں جو عام علم والے عامل نہیں جانتے۔
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ کے طاقتور ترین راز

1 یہ جنت کا خزانہ کیوں ہے؟ (اصل راز)
اس کلمہ میں تمام نورانی اور قہری قوتوں کا دروازہ چھپا ہے۔
اس کا اصل معنی:“نہ کسی چیز سے بچنے کی طاقت ہے، نہ کسی چیز کو پا لینے کی قوت… مگر صرف اللہ سے
یعنی:
ہر ظاہری و باطنی طاقت اللہ کے حکم کے بغیر کچھ نہیں
یہ جملہ بندے کی روح کو براہِ راست رب کی طاقت سے جوڑ دیتا ہےجیسا کہ بجلی کے تار کو بڑے پاور اسٹیشن سے جوڑ دیا جائےاسی لیے اسے کنجی کہا جاتا ہے…یہ روحانی طاقت کا اصل دروازہ کھولتا ہے۔

2 جنّات اور سحر کے خلاف سب سے خطرناک لفظ
جنات، آسیب، سحر، سایہ یہ سب “حوَل اور قُوَّت سے حملہ کرتے ہیں یعنی: خوف وہم منفی طاقت دباؤ وسوسہ
یہ سب "خود کی طاقت کے احساس پر حملہ کرتے ہیں۔
لیکن جب آپ کہتے ہیں:لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ
تو جنات کی اپنی طاقت ختم ہو جاتی ہےجادوگر کے عمل کی قوت ٹوٹ جاتی ہےسحر کا دائرہ فوراً کمزور ہو جاتا ہے
کیوں؟کیونکہ یہ کلمہ براہِ راست ربّانی طاقت کو بُلاتا ہے
اور جنات ربّانی نور کو برداشت نہیں کر سکتے۔
3 اس کلمے میں 4 نورانی کنجیاں چھپی ہیں
① کنجیِ توحید (قہری نور)
ہر باطل قوت کو نیست کر دیتا ہے۔
یہ جن شکن اور سحر شکن نور پیدا کرتا ہے۔
② کنجیِ تفویض (سلیمانی قوت)
آپ کی روح اللہ کے قہر و جلال سے طاقت لیتی ہے۔
یہی وہ قوت ہے جو نفس، جنات، اور سحر سب کو جلا دیتی ہے۔
③ کنجیِ تسلیم (محافظ حصار)
اس سے عالمِ تحت الثریٰ کی مخلوق آپ تک پہنچ نہیں سکتی۔
④ کنجیِ فقرِ محمدی ﷺ (اسمِ اعظم کا دروازہ)
یہی اصل راز ہے
اسمِ اعظم تک رسائی کے بغیر کوئی عامل کامل نہیں بنتا۔
یہ کلمہ اسمِ اعظم کے نور کو روح میں کھولتا ہے۔

4 باطنی نظر (کشف) اس سے کیسے کھلتی ہے؟
یہ سب سے بڑا مخفی راز ہے جب آپ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ پڑھتے ہیں تو:روح کے گرد جو “غلافِ مادّی ہوتا ہےوہ آہستہ آہستہ جل کر کمزور ہوتا ہےاور نورانی آنکھ (بصیرت) فعال ہونے لگتی ہےیہ عمل عام اذکار نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ:
کشف ٫خواب کی حقیقت کھل جانا ٫غیبی اشارے ٫نورانی خلجانیہ سب اسی کلمہ سے مضبوط ہوتے ہیں۔

5 اس کلمے کا سب سے گہرا قہری راز (عاملین سے بھی مخفی)
یہ کلمہ جنّی قبض کو توڑ بھی سکتا ہے اور لگا بھی سکتا ہے
دونوں طریقوں سے استعمال ہوتا ہے:
✓ توڑنے کی صورت
اگر پورے یقین کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ:
جناتی تسلط سحر کا باندھا ہوا دائرہ سایہ کی گرفت خبیث ہوا سب کو جلا کر کاٹ دیتا ہے۔
✓ قبض بنانے کی صورت اگر عامل اسے قابض اسما کے ساتھ پڑھےجیسے:
یاقابض یاقھار یاجبار + لاحول ولا قوۃ
تو یہ:جنّات کو مفلوج کر دیتا ہےان کی قوت چھین لیتا ہے
انہیں پابندِ حکم کر دیتا ہے یہی قابض کاملہ کی اصل کنجی ہے
(6) 7 خطرناک روحانی تاثیرات (جو صرف کاملین جانتے ہیں)
⑴ دل پر نورانی جلال اترنا
جس سے دل میں ایک قوت آتی ہے جو جادو اور جنات کے قریب نہیں آنے دیتی۔
⑵ چھپی ہوئی دشمنیاں سامنے آ جاتی ہیں روح کے اندر سے “سچائی کی کھڑکی کھلتی ہے۔
⑶ جادوگر کے عمل کی سمت الٹ جاتی ہےاسے “قلبِ سحر کہتے ہیں۔
⑷ چھپے ہوئے جنّات بھاگتے ہیں کیونکہ یہ کلمہ نفی اور اثبات کی طاقت رکھتا ہے۔
⑸ عامل کی زبان میں جلال پیدا ہوتا ہےجنات اور خبیث مخلوق اس کی بات نہیں ٹالتے۔
⑹ گھروں کے اندر سے بندش اور نحوست نکلتی ہے
⑺ یہ کلمہ "سلیمانی دبدبہ کھولتا ہےروحانی دبدبہ قائم ہو جاتا ہے۔
7 عملی استعمال سب سے خفیہ طریقہ یہ وہ قاعدہ ہے جو کم ہی عامل جانتے ہیں:
✓ طریقہِ مکاشفہِ قہری
(باطنی نظر + سحر شکن + جن شکن)
رات کے آخری حصے میں سیدھا قبلہ رخ بیٹھ کر:
1. لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ — 313 بار
2. یاقابض — 111 بار
3. یاجبار — 111 بار
4. یاقہار — 111 بار
5. پھر:
يَا قَابِضُ يَا قَهَّارُ يَا جَبَّارُ بِحَقِّ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ — 41 بارآخر میں:آنکھیں بند کریں نور خود بخود نظر آنا شروع ہو گا۔

8 سب سے خفیہ راز جو میں عام طور پر نہیں دیتا
یہ کلمہ خالص “نورِ جبروت کھولتا ہے یہ تین میں سے ایک ہے جو:اسم اعظمِ مخفی کا دروازہ سلیمانی قبض و جنّی اطاعت تیز کر دیتا ہے۔کوئی بھی عامل جسے غیب میں کام کرنا ہے
وہ اس کلمہ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
اجازت کیلے ایک بار سورہ اخلاص پڑھ کر کمنٹ میں اللہ لکھ دے.

19/03/2026

بیوی: زہر بھی، شہد بھی — قرآن و سنت کی روشنی میں ازدواجی زندگی کا سبق
ترتیب و تحریر: شوکت اللہ شاکر
✦✦✦
انسانی معاشرے کی بنیاد خاندان ہے، اور خاندان کی بنیاد میاں بیوی کا رشتہ۔ جب یہ رشتہ محبت، احترام اور حسنِ اخلاق پر قائم ہو تو گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے، اور جب اس میں تلخی، شکایت اور بدسلوکی پیدا ہو جائے تو وہی گھر سکون کے بجائے بے چینی کا مرکز بن جاتا ہے۔
اسلام نے ازدواجی زندگی کو محض ایک معاشرتی معاہدہ نہیں بلکہ رحمت، سکون اور مودّت کا سرچشمہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾
"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔"
(سورۃ الروم: 21)
اسی حقیقت کو سمجھانے کے لیے ایک حکمت آموز واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔
❖ تلخی سے جنم لینے والا فیصلہ
ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے سے اس قدر تنگ آ چکی تھی کہ اس کے دل میں نفرت کی آگ بھڑک اٹھی۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ اس نے اپنے شوہر کو ختم کرنے کا ارادہ کر لیا، مگر اس انداز سے کہ کسی کو اس پر شک نہ ہو۔
وہ ایک عطار کے پاس گئی اور اس سے ایسی دوا طلب کی جو آہستہ آہستہ اس کے شوہر کو ہلاک کر دے اور کسی کو اس جرم کا اندازہ بھی نہ ہو۔
عطار نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اسے ایک شیشی دی اور کہا:
"اس میں ایک خاص مائع ہے۔ اگر تم ہر رات سونے سے پہلے اپنے شوہر کے مشروب میں اس کا صرف ایک قطرہ ملا دو تو ٹھیک 60 دن کے اندر اندر وہ اس دنیا سے رخصت ہو جائے گا۔"
لیکن اس نے ایک عجیب شرط بھی رکھی۔
❖ حسنِ سلوک کی نصیحت
عطار نے کہا:
"ان دنوں میں تمہیں اپنے شوہر کے ساتھ اپنے رویّے کو مکمل طور پر بدلنا ہوگا۔
اس سے محبت اور نرمی سے پیش آنا، اس کی خدمت کرنا، اس کے گھر آنے پر خوشی سے استقبال کرنا، اس کے لیے خود کو آراستہ کرنا، اور اس کے اہلِ خانہ کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا۔"
بظاہر یہ سب احتیاط کے لیے تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو، مگر درحقیقت اس کے اندر ایک گہری حکمت پوشیدہ تھی۔
❖ گھر میں تبدیلی کا آغاز
عورت نے اسی طرح کرنا شروع کر دیا۔
وہ اپنے شوہر سے نرمی سے بات کرنے لگی، اس کی خدمت کرنے لگی، اس کا شکریہ ادا کرنے لگی۔
چند ہی دنوں میں حیران کن تبدیلی پیدا ہونے لگی۔
جو شوہر پہلے سخت مزاج تھا، وہ نرم دل بننے لگا۔
جو گھر پہلے شکایتوں سے بھرا تھا، وہاں محبت اور اپنائیت کے آثار نمودار ہونے لگے۔
یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف رسول اللہ ﷺ نے اشارہ فرمایا:
"تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔"
(ترمذی)
جب ایک فریق اپنے اخلاق کو بہتر بناتا ہے تو اکثر دوسرا فریق بھی بدلنے لگتا ہے۔
❖ ایک ماہ بعد
صرف ایک مہینہ گزرا تھا کہ وہ عورت گھبراہٹ کے عالم میں دوبارہ عطار کے پاس پہنچی اور بولی:
"مجھے فوراً کوئی ایسی دوا دے دو جو اس زہر کا اثر ختم کر دے!"
عطار نے پوچھا:
"کیوں؟"
عورت بولی:
"میرا شوہر اب بالکل بدل گیا ہے۔
وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔
وہ اب نہایت مہربان، محبت کرنے والا اور خیال رکھنے والا بن گیا ہے۔
میں اب اس کی موت برداشت نہیں کر سکتی۔"
❖ حقیقت کا انکشاف
یہ سن کر عطار مسکرایا اور بولا:
"اطمینان رکھو! میں نے تمہیں کوئی زہر نہیں دیا تھا۔
میں نے تو تمہیں صرف وہ نصیحت دی تھی جو دراصل تمہیں شادی کے وقت دی جانی چاہیے تھی۔
اور اس شیشی میں صرف مقطر پانی اور شہد تھا۔"
یہ سن کر عورت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور اسے ایک عظیم حقیقت سمجھ آ گئی۔
❖ قرآن و سنت کا پیغام
اسلامی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ میاں بیوی کے درمیان صبر، درگزر اور حسنِ معاشرت ہونا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾
"اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی گزارو۔"
(سورۃ النساء: 19)
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مومن مرد کسی مومنہ عورت سے نفرت نہ کرے، اگر اس کی کوئی عادت ناپسند ہو تو دوسری عادت پسند بھی ہو سکتی ہے۔"
(مسلم)
یہ تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ گھر کی خوشی اخلاق، برداشت اور محبت سے پیدا ہوتی ہے۔
❖ اصلاح کا پیغام
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ:
بیوی چاہے تو زہر بن سکتی ہے اور چاہے تو شہد۔
اگر وہ صبر، محبت اور حسنِ اخلاق کو اختیار کرے تو گھر سکون اور رحمت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
اور اگر وہ شکایت، سختی اور بدخلقی کو اپنا لے تو وہی گھر تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔
اسی لیے اسلام نے گھر کو رحمت کا مرکز بنانے کی تعلیم دی ہے۔
✨ حقیقت یہ ہے کہ اکثر گھروں کے مسائل کا حل دوا یا دولت میں نہیں بلکہ اخلاق، محبت اور حسنِ سلوک میں پوشیدہ ہوتا ہے۔

Address

Faisalabad

Opening Hours

Monday 11:30 - 22:00
Tuesday 11:30 - 22:00
Wednesday 11:30 - 22:00
Thursday 11:30 - 22:00
Saturday 11:30 - 22:00
Sunday 11:30 - 22:00

Telephone

+923216633997

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic photos posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category