08/01/2026
صدقے کے فضائل
صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے
صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ہے ، اور سب سے افضل صدقہ کھانا کھلانا ہے
صدقہ قیامت کے دن سایہ ہو گا، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا
صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے، اور قبر کی گرمی کی ٹھنڈک کا سامان ہے
میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ہے، اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑھاتے رہتے ہیں
صدقہ مصفیٰ ہے، نفس کی پاکی کا ذریعہ اور نیکیوں کو بڑھاتا ہے
صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سروراورتازگی کا سبب ہے
صدقہ قیامت کی ہولناکی کے خوف سے امان ہے، اور گزرے ہوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا
صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سیئات کا کفارہ ہے
صدقہ خوشخبری ہے حسن ِخاتمہ کی، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ہے
صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہوں
صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ہے
خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کی مخلوق محبت کرتی ہے
صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ہے
صدقہ دعاؤں کے قبول ہونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ہے
صدقہ بلاء(مصیبت) کو دور کرتا ہے، اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ہے
صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ہے، کامیابی اور رزق کا سبب ہے
صدقہ علاج بھی ہے‘ دوا بھی اور شفاء بھی
صدقہ آگ سے جلنے، غرق ہونے، چوری اور بری موت کو روکتا ہے
صدقہ کا اجرملتا ہے، چاہے جانوروں اور پرندوں پر ہی کیوں نہ ہو۔
٭کسی کے درخت/ کھیتی سے کوئی شخص کچھ کھا لے، یہ اس کی طرف سے صدقہ ہے۔ ٭کسی کے درخت/ کھیتی سے کوئی جانور یا پرندہ کچھ کھا لے، یہ اس کا صدقہ ہے۔ ٭کسی مسافر کی راہنمائی کردینا صدقہ ہے۔ ٭کسی کاریگر کو اس کے کاروبار میں مدد کرنا صدقہ ہے۔ ٭کسی کو پانی پلادینا صدقہ ہے۔ ٭کسی کام میں اپنے بھائی کی مدد کردینا صدقہ ہے۔ ٭آدمی جو خود کھائے (حلال روزی) وہ صدقہ ہے۔ ٭آدمی جو اپنے بچوں کو کھلائے، وہ صدقہ ہے۔ ٭آدمی جو اپنے خادم کو کھلائے وہ صدقہ ہے۔٭کوئی پریشان حال مدد کا طالب ہو، اس کے ساتھ جاکر اس کی پریشانی دور کردینا صدقہ ہے۔ ٭اپنی جان اور عزّت وآبرو کی حفاظت کرنے کی جدّوجہد کرنا صدقہ ہے۔ ٭کسی کو اپنی ذات سے نقصان نہ پہنچانا بھی صدقہ ہے۔
صدقے کی ان تمام صورتوں کا تذکرہ احادیث میں آیا ہے۔ ان پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے صرف چند ہی حقوق اللہ سے متعلق ہیں، زیادہ تر کا تعلق انسانوں کے حقوق سے ہے، جن میں اہل خانہ، رشتے دار، عام مسلمان، غیر مسلم حتی کہ حیوانات بھی شامل ہیں۔رسول اللہؐ نے فرمایا: اللہ نے تمھارے لیے صدقے کی بہت سی صورتیں بتائی ہیں۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا: ابن آدم کے ہر جوڑ، ہڈی، پور کے حساب سے روزانہ اس پر صدقہ کرنا لازم ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: ہم اتنا صدقہ کیسے کرسکتے ہیں؟ اس پر اللہ کے رسولؐ نے بہت سے اعمال کا تذکرہ کیا اور انھیں صدقہ قرار دیا۔ یہ احادیث بہت سی کتبِ حدیث میں مروی ہیں۔
ان احادیث میں صدقے کی جو صورتیں بیان کی گئی ہیں، وہ درج ذیل ہیں :
٭اللہ کی پاکی بیان کرنا (سبحان اللہ کہنا) صدقہ ہے۔ ٭اللہ کی کبریائی بیان کرنا صدقہ ہے۔ ٭لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے۔ ٭اللہ کی حمد بیان کرنا (الحمد للہ کہنا) صدقہ ہے۔ ٭نماز پڑھنا صدقہ ہے۔ ٭دو رکعت چاشت کی نماز پڑھنا صدقہ ہے۔ ٭روزہ رکھنا صدقہ ہے۔ ٭حج کرنا صدقہ ہے۔ ٭جنازے کے پیچھے چلنا صدقہ ہے۔ ٭مریض کی عیادت کرنا صدقہ ہے۔ ٭کسی کو راستہ بتا دینا صدقہ ہے۔ ٭راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے۔ ٭راستے سے ہڈّی، پتھر، کانٹا ہٹا دینا صدقہ ہے۔ ٭ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ ٭اچھی بات کی تلقین کرنا صدقہ ہے۔ ٭کسی غلط کام سے روکنا صدقہ ہے۔ ٭میاں بیوی کا صنفی تعلق صدقہ ہے۔ ٭تنگ دست مقروض کو مہلت دینا صدقہ ہے۔ ٭کسی کم زور کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ ٭کوئی آدمی اونچا سنتا ہو، زور سے بول کر اسے کوئی بات سنا دینا صدقہ ہے۔ ٭کسی شخص کی بینائی کم زور ہو، اس کی کوئی ضرورت پوری کردینا صدقہ ہے۔ ٭کوئی شخص کمزور، لاچار ہو، اپنی طاقت سے اس کا کوئی کام کردینا صدقہ ہے۔ ٭کوئی شخص اپنی بات صحیح طریقے سے نہ رکھ سکتا ہو، اپنی قوتِ بیانی سے اس کی بات صحیح طریقے سے پیش کردینا صدقہ ہے۔ ٭کسی کا لباس بوسیدہ ہوگیا ہو، اسے لباس فراہم کردینا صدقہ ہے۔ ٭کسی ننگے کو کپڑا پہنا دینا صدقہ ہے۔ ٭کسی نابینا کو صحیح راستے پر پہنچادینا صدقہ ہے۔ ٭اپنے بھائی سے مسکرا کر بات کرنا صدقہ ہے۔ ٭اپنے برتن سے اپنے بھائی کے برتن میں پانی ڈال دینا صدقہ ہے۔ ٭کوئی شخص بھٹک گیا ہو تو اسے صحیح راستہ بتادینا صدقہ ہے۔ ٭لڑائی جھگڑا کرنے والے دو افراد کے درمیان انصاف سے فیصلہ کردینا صدقہ ہے۔ ٭کسی شخص کو سواری پر بیٹھنے میں مدد دینا صدقہ ہے۔ ٭سواری پر بیٹھے ہوئے کسی شخص کا سامان اٹھاکر اسے دے دینا صدقہ ہے۔ ٭اچھی بات صدقہ ہے۔ ٭نماز کے لیے مسجد کی طرف اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ ٭کسی کو راستہ معلوم نہ ہو، اسے راستہ بتا دینا صدقہ ہے۔ ٭کسی کے درخت/ کھیتی سے کوئی شخص کچھ کھا لے، یہ اس کی طرف سے صدقہ ہے۔ ٭کسی کے درخت/ کھیتی سے کوئی جانور یا پرندہ کچھ کھا لے، یہ اس کا صدقہ ہے۔ ٭کسی مسافر کی راہنمائی کردینا صدقہ ہے۔ ٭کسی کاریگر کو اس کے کاروبار میں مدد کرنا صدقہ ہے۔ ٭کسی کو پانی پلادینا صدقہ ہے۔ ٭کسی کام میں اپنے بھائی کی مدد کردینا صدقہ ہے۔ ٭آدمی جو خود کھائے (حلال روزی) وہ صدقہ ہے۔ ٭آدمی جو اپنے بچوں کو کھلائے، وہ صدقہ ہے۔ ٭آدمی جو اپنے خادم کو کھلائے وہ صدقہ ہے۔٭کوئی پریشان حال مدد کا طالب ہو، اس کے ساتھ جاکر اس کی پریشانی دور کردینا صدقہ ہے۔ ٭اپنی جان اور عزّت وآبرو کی حفاظت کرنے کی جدّوجہد کرنا صدقہ ہے۔ ٭کسی کو اپنی ذات سے نقصان نہ پہنچانا بھی صدقہ ہے۔
صدقے کی ان تمام صورتوں کا تذکرہ احادیث میں آیا ہے۔ ان پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے صرف چند ہی حقوق اللہ سے متعلق ہیں، زیادہ تر کا تعلق انسانوں کے حقوق سے ہے، جن میں اہل خانہ، رشتے دار، عام مسلمان، غیر مسلم حتی کہ حیوانات بھی شامل ہیں۔
1. دوسرے کو نقصان پہونچانے سے بچنا صدقہ ہے۔
[بخاری: 2518]
2. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔
[ابن حبان: 3368]
3. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔
[ابن حبان: 3368]
4. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔
[ابن حبان: 3377]
5. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔
[ابن حبان: 3377]
6. راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔
[مسلم: 1007]
7. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔
[ابن حبان: 3377]
8. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔
[ترمذی: 1956]
9. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔
[ترمذی: 1956]
10. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
11. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
12. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
13. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
14. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
15. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔
[مسلم: 1007]
16. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
17. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]
18. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔
[بخاری: 2518]
19. کسی آدمی کو سواری پر بیٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]
20. اچھی بات کہنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2589]
21. نماز کے لئے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔
[بخاری: 2518]
22. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔
[بخاری: 2518]
23. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
24. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔
[نسائی - کبری: 9185]
25. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔
[نسائی - کبری: 9185]
26. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔
[نسائی - کبری: 9185]
27. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]
28. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔
[ترمذی: 1963]
29. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔
[ابو یعلی: 2434]
30. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔
[ابو یعلی: 2434]
31. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔
[ابو داﺅد: 5243]
32. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔
[بخاری - تاریخ: 259/3]
33. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسلم: 1553]
34. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔
[بیہقی - شعب: 3367]