15/09/2026
اپیل / استدعا برائے اضافہ سپیشل کنوینس الاؤنس برائے معذور ملازمین
بخدمت جناب محترم امجد حسین صاحب
وزیراعلیٰ، گلگت بلتستان
موضوع: بجٹ میں معذور ملازمین کے سپیشل کنوینس الاؤنس کو شامل کرنے، اس میں اضافہ کرنے اور اس ضمن میں نوٹیفکیشن جاری کرنے کی استدعا۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مؤدبانہ گزارش ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں وفاقی حکومت جبکہ حکومتِ پنجاب، حکومتِ سندھ اور حکومتِ خیبر پختونخوا نے بھی معذور ملازمین کے لیے سپیشل کنوینس الاؤنس میں خاطر خواہ اضافہ کرتے ہوئے اسے 6,000 روپے سے بڑھا کر 10,000 روپے ماہانہ کر دیا ہے، جو ایک قابلِ تحسین اور خوش آئند اقدام ہے۔
تاہم، آج گلگت بلتستان کے بجٹ 2026-27 میں معذور ملازمین کے سپیشل کنوینس الاؤنس میں اضافے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جس کے باعث گلگت بلتستان کے معذور ملازمین میں تشویش پائی جاتی ہے۔
اس سلسلے میں ہم، گلگت بلتستان کے معذور ملازمین، جنابِ عالی سے مؤدبانہ استدعا کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت اور دیگر صوبائی حکومتوں کی طرز پر گلگت بلتستان میں بھی معذور ملازمین کے سپیشل کنوینس الاؤنس کو 6,000 روپے سے بڑھا کر 10,000 روپے ماہانہ کرنے کی منظوری عطا فرمائی جائے اور اس کے لیے ضروری فنڈز مختص کرتے ہوئے محکمہ خزانہ کو باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی خصوصی ہدایات بھی صادر فرمائی جائیں۔
پٹرول، سفری اخراجات اور روزمرہ ضروریاتِ زندگی کے اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث معذور ملازمین کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ لہٰذا سپیشل کنوینس الاؤنس میں یہ اضافہ ان ملازمین کے لیے ایک حقیقی اور مؤثر مالی ریلیف ثابت ہوگا۔
یہ اقدام نہ صرف معذور ملازمین کی معاشی مشکلات میں کمی کا باعث بنے گا بلکہ حکومتِ گلگت بلتستان کی جانب سے معذور افراد کی فلاح و بہبود، ان کے حقوق کے تحفظ اور انہیں معاشرے میں باوقار مقام فراہم کرنے کے عزم کا عملی اظہار بھی ہوگا۔
ہمیں کامل امید ہے کہ جنابِ عالی ہماری اس جائز، اہم اور انسانی بنیادوں پر مبنی گزارش پر ہمدردانہ غور فرماتے ہوئے معذور ملازمین کے سپیشل کنوینس الاؤنس میں 6,000 روپے سے بڑھا کر 10,000 روپے ماہانہ اضافے کی منظوری عطا فرمائیں گے اور محکمہ خزانہ کو اس ضمن میں فوری طور پر ضروری نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایات صادر فرمائیں گے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو صحت، کامیابی اور عوامِ گلگت بلتستان کی مزید خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
والسلام
معذور ملازمین گلگت بلتستان
اور ان کے اہلِ خانہ