Gojra underground

Gojra underground The biggest event in the calendar it used to be the annual fixture between these two teams. This match use to attract a huge crowd.

Gojra is Founded in 1896 during the British Gojra was the commercial centre of lands which had recently come under cultivation, and was known for its "mandi" (market) for cash crops Gojra became famous in Pakistan after contributing a number of players to the Pakistan Hockey team, including Iqbal Bali and Muhammad Aslam (famous as Aslam Roda).When they returned to Gojra they established their own

hockey teams, and provided free training to the youth of the village. This actually created a nursery for the Pakistan hockey team and many of the Pakistan hockey team players including Tahir Zaman, Muhammad Shahbaz Junior,Muhammad Qasim (died on the day of Eid ul-Fitr 2006 due to Cancer

بریکنگ نیوز: گوجرہ میں جھنگ روڈ موٹروے انٹرچینج کے قریب المناک ٹریفک حادثہ  تیز رفتار کار بے قابو ہو کر سڑک کنارے درختوں...
13/05/2026

بریکنگ نیوز: گوجرہ میں جھنگ روڈ موٹروے انٹرچینج کے قریب المناک ٹریفک حادثہ
تیز رفتار کار بے قابو ہو کر سڑک کنارے درختوں سے جا ٹکرائی، 2 نوجوان جاں بحق
حادثہ کار کی حد سے زیادہ رفتار (اوور سپیڈنگ) کے باعث پیش آیا، ریسکیو ذرائع
جاں بحق ہونے والوں میں 19 سالہ حمزہ اور 18 سالہ عبدالحماد شامل**
کار سوار تیسرا نوجوان منیب حسین سر پر شدید چوٹ آنے کے باعث زخمی
حادثے کے باعث موٹر سائیکل سوار بھی گر کر معمولی زخمی ہوا، ریسکیو حکام
تمام جاں بحق اور زخمی افراد کو ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرہ منتقل کر دیا گیا
افسوسناک واقعہ گوجرہ شہر سے موٹروے کی طرف جاتے ہوئے پیش آیا

متوقع پوسٹ یوتھیوں کے لیے امید کی نئی کرن🫣😂🤣
11/05/2026

متوقع پوسٹ یوتھیوں کے لیے امید کی نئی کرن🫣😂🤣

ایک بھائی اپنی صرف ہزار کلو میٹر چلی نئی Jaecoo تاؤ بٹ لے کر گئے اور وہاں اس کے کمپیوٹر سسٹم میں گلچ/مسئلہ آ گیا اور وہ ...
11/05/2026

ایک بھائی اپنی صرف ہزار کلو میٹر چلی نئی Jaecoo تاؤ بٹ لے کر گئے اور وہاں اس کے کمپیوٹر سسٹم میں گلچ/مسئلہ آ گیا اور وہ بند ہو گئی

وہ بھائی اپنی فیملی کے ہمراہ تھے۔بے انتہا پریشان ہوئے اور جیکو کے کمیونٹی گروپ میں پوسٹیں ڈالنا شروع کر دیں۔بات انکی مینیجمنٹ تک پہنچ گئی

آن کال جو جو مشورے دئیے گئے سارے ٹرائی کر لیے لیکن جیکو سٹارٹ نہ ہوئی۔آخر جیکو نے اپنے انجینئیرز تاؤ بٹ بھیج دیئے۔جنہوں نے وہاں پہنچ کر دیکھا کہ کسی پتھر پہ ہٹ ہونے کی وجہ سے اس کی مین الیکٹرک کیبل ڈیمج ہو گئی تھی جس سے یہ مسئلہ ہوا

بات بتانے کا مقصد ہے کہ اگر نئی کمپنیوں کو مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانی ہے تو ایسی ہی آفٹر سیل سروس دیں
جس سے کسٹمر کو آپ پہ اعتماد ہو کہ مشکل میں اکیلے نہیں چھوڑیں گے
جیکو کا یہ رویہ بہت پروفیشنل اور اچھا لگا کہ انہوں نے وہاں اپنے انجینئرز بھیجے۔

کچھ لوگ جاننا چاہتے ہوں گے چ وت یوں کی محفل میں کیسی سیاسی گفتگو ہوتی ہے تو ان کے لیے حاضر ہےارشاد بھٹی: اگر آپ عمران خا...
11/05/2026

کچھ لوگ جاننا چاہتے ہوں گے چ وت یوں کی محفل میں کیسی سیاسی گفتگو ہوتی ہے تو ان کے لیے حاضر ہے

ارشاد بھٹی: اگر آپ عمران خان کو اتنا بڑا لیڈر سمجھتے ہیں تو جیل جا کر ان سے ملے کیوں نہیں؟
خلیل ارحمن :
یار وہ اتنا بڑا آدمی ہے کہ میں اس بندے کو سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھ سکتا ۔ میری ہمت ہی نہیں پری ۔ بھٹی میرے بس کی بات نہیں ۔ بھٹی آپ ملے ہیں خان کو جا کر جیل ؟
ارشاد بھٹی : میں دو دفع گیا جب شروع کی سماعتوں میں صحافیوں کو آجازت تھی عدالتی سماعت دیکھنے کی ۔
خلیل الرحمن : یار بہت ہمت ہے تمہاری پھر اگر تم ملنے گئے۔ لیکن میرے میں ہمت نہیں کہ میں اتنے بڑے انسان کو اس خالات میں جیل میں سلاخوں کے پیچھے دیکھو ۔
خلیل الرحمن: جب میں نے زندگی میں پہلی دفعہ ان کو دیکھا تو قسم سے میں پانچ منٹ بس ان کو دیکھتا ہی رہا میں نے نظریں نہیں ہٹائیں ان سے اور میں نے یہ دیکھا کہ وہ پرائم منسٹر کی کرسی اس انسان کے سامنے بہت چھوٹی تھی ۔ وہ ایک عظیم انسان ہے ۔

11/05/2026
11/05/2026

علاقہ تھانہ رجانہ، چک نمبر 184 گ ب میں سابقہ رنجش کی بنا پر مخالفین کی اندھا دھند فائرنگ

فائرنگ کے نتیجہ میں ایم پی اے ایوب خاں گادھی سمیت 3 افراد زخمی

واقعہ میں 4 افراد جاں بحق، جاں بحق ہونے والوں میں ضیغم عباس، ندیم ولد نور محمد عمر 45 سال، خالق داد اور حقنواز شامل

زخمیوں میں شہباز ولد حقنواز اور دیاض ولد معشوق سکنہ 184 گ ب شامل

تمام زخمیوں کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال ٹوبہ ٹیک سنگھ منتقل کر دیا گیا

اطلاع ملتے ہی ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ، ڈی ایس پی صدر سرکل، ایس ایچ او تھانہ رجانہ، ایس ایچ او سٹی ٹوبہ اور بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی

پولیس کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر ریڈز جاری

علاقہ میں سرچ آپریشن اور ناکہ بندی سخت کر دی گئی

ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ہدایت پر واقعہ کی ہر پہلو سے تفتیش جاری

ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا #کاپیڈ

ایک بابا جنگل میں رہتا تھا۔ جس  کے بارے میں مشہور تھا، کہ وہ 20ee مرواتا ہے۔ ایک اوباش نوجوان چلا گیا۔ بابے نے نوجوان کی...
11/05/2026

ایک بابا جنگل میں رہتا تھا۔ جس کے بارے میں مشہور تھا، کہ وہ 20ee مرواتا ہے۔
ایک اوباش نوجوان چلا گیا۔
بابے نے نوجوان کی خوب وجائی۔ نوجوان روتے ہوے بولا:
بابا تو تے ٹوئی مرواندا سی۔
بابا شلوار اوپر کرتے ہوۓ بولا:
پُتر پِنڈ جا کے تو وی ایہو ای دَسنا اے۔

‏کیا بنیان مرصوص کی ترکیب جنرل یحیی خان نے بھی استعمال کی ؟تحریر و تحقیق : فیاض راجہ پاکستانی اداروں کی جانب سے بھارت کے...
07/05/2026

‏کیا بنیان مرصوص کی ترکیب جنرل یحیی خان نے بھی استعمال کی ؟
تحریر و تحقیق : فیاض راجہ
پاکستانی اداروں کی جانب سے بھارت کے خلاف حالت جنگ میں، قرآن پاک میں مذکور ایک عربی ترکیب " بنیان مرصوص " کا استعمال پہلی بار آج سے کوئی 54 برس پہلے جنوری 1972 میں کیا گیا
یہ وہ وقت تھا جب پاکستان پر تیسرے فوجی آمر جنرل یحیی خان کی ناجائز، غیر آئینی اور غیر قانونی حکومت کے سائے لہرا رہے تھے۔
اس دوران مشرقی پاکستان میں ہمیں بھارتی افواج کے ہاتھوں شکست ہوئی اور 90 ہزار پاکستانی فوجی قیدی بنا لئے گئے۔
جنرل یحیی خان کے دور میں ہونے والے انتخابات کے بعد اس وقت کی پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت عوامی لیگ اور مقبول ترین سیاسی رہنما شیخ مجیب کا مینڈیٹ تسلیم نہ کیا گیا جس کے نتیجے میں بالآخر پاکستان ٹوٹ گیا
کیا یہ محض اتفاق ہے کہ بھارت کے خلاف حالت جنگ میں جب یہ ترکیب ایک بار پھر استعمال کی گئی تو اس وقت بھی پاکستان کے مقتدر حلقوں کی جانب سے ، ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور ملک کے مقبول ترین رہنما عمران خان کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا گیا تھا
سوال تو یہ ہے کہ ایک ایسے آپریشن میں جب پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے بھارت کو تاریخی اور عبرتناک شکست دی ، ایک ایسی ترکیب کیوں استعمال کی گئی جس ترکیب کے استعمال سے قبل پاکستان دولخت ہوگیا تھا کیا یہ محض اتفاق ہے ؟
اللہ کرے یہ محض اتفاق ہی ہو
پاکستان ہمیشہ زندہ باد ، آمین
نوٹ : فروری 1972 میں اردو ڈائجسٹ میں شائع ہونے والا اشتہار پوسٹ کے ساتھ منسلک ہے
اردو ڈائجسٹ کا یہ شمارہ میری ذاتی لائبریری میں محفوظ ہے
4m wall of Ghumnam Sipahe
کیا یہ پوسٹ سچ ہے 1972 میں ایسا کچھ ہوا تھا کیا کسی کے پاس اس وقت کی کاپی ملے گی اس رسالے کی ؟؟

صدر زرداری: اِن یا آؤٹسہیل وڑائچآج کا اخبارادارتی صفحہ27 اپریل ، 2026صدر پاکستان آصف علی زرداری کے بارے میں ہمیشہ سے...
28/04/2026

صدر زرداری: اِن یا آؤٹ
سہیل وڑائچ
آج کا اخبارادارتی صفحہ27 اپریل ، 2026

صدر پاکستان آصف علی زرداری کے بارے میں ہمیشہ سے مثبت خبریں کم اور منفی زیادہ آتی ہیں۔ صدر زرداری کا سب سیاستدانوں سے الگ، اپنے خلاف خبروں پر ردعمل انتہائی مختلف اور عجیب و غریب ہوتا ہے، عمومی طور پر جس بھی سیاستدان کیخلاف کوئی منفی خبر، پروپیگنڈا یا اسکینڈل شائع ہو جائے تو وہ اس وقت تک نچلا نہیں بیٹھتا جب تک اسکی وضاحت نہ کر دے مگر آصف زرداری کہتےہیں کہ جھوٹی خبریں، پروپیگنڈا اور منفی گفتگو دراصل ’’بہتان‘‘ ہیں اور بقول صدر زرداری کے جھوٹے الزامات سے انکے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ کئی مباحث میں انہیں قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ منفی خبروں کی وضاحت نہ کی جائے تو وہ ثابت شدہ الزام کی شکل میں شخصیت کیساتھ ہمیشہ کیلئے چسپاں ہوکر ساکھ پر سوال بنی رہتی ہیں صدر زرداری پتہ نہیں کس مٹی کے بنے ہیں، ان پر اس بحث و تمحیص کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ابھی چند دنوں سے انہیں صدارت سے ہٹانے، بیماری کی وجہ سے کام نہ کر سکنے اور طرح طرح کی افواہوں اور سازشوں کا سامنا ہے حد تو یہ ہے کہ انکی جگہ نئے صدر کیلئے نام بھی دیدیے گئے مگر ایوان صدارت کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

اگر عملی طور پر دیکھا جائے تو صدر زرداری آج کے دن آئوٹ ہیں کیونکہ وہ 5روزہ دورے پر چین چلے گئے ہیں لیکن افواہیں انکے بیرونی دورے کے متعلق نہیں بلکہ انکے سیاسی کردار کے اِن، آئوٹ اور سائیڈ لائن ہونے کی ہیں۔ مگر آصف زرداری کے معمولات سے بالکل ایسا نہیں لگتا، گزشتہ روز لاہور میں انہوں نے ایک دوست کی بیٹی کی شادی میں شرکت کی ،رات بلاول ہاؤس بحریہ ٹاؤن میں رہے اور پھر سہ پہر کو چین چلے گئے نہ کسی سیاسی سرگرمی کی، نہ صدارت بچانے کے حوالے سے انکی کسی ملاقات کی خبر آئی۔ وہ معمول کے مطابق آئے اور معمول کے مطابق چلے گئے صدارت سے ہٹنے یا سائیڈ لائن ہونے کا غیر معمولی واقعہ ہوتا تو انکی سرگرمیاں بھی غیر معمولی ہوتیں۔ جہاز پر انکے سوار ہونیکی ویڈیو وائرل ہے وہ بغیر کسی سہارے ایئر فورس کے جہاز کی سیڑھیاں چڑھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکی خراب صحت کے بارے میں پھیلائی گئیں خبریں غلط ہیں وہ بیمار ضرور ہیں مگر اتنے بیمار نہیں کہ بستر پر لیٹ جائیں وہ روزانہ سوئمنگ اور ایکسرسائز کرتے ہیں ڈاکٹر مسلسل انکی نگرانی کرتے ہیں وہ کھاتے پیتے ہنستے مسکراتے اور سیاست و کاروبار کرتے اچھی خاصی زندگی گزار رہے ہیں۔

امریکہ ایران مذاکرات کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ان میں نہ صدر زرداری نظر آئے اور نہ کہیں بلاول بھٹو زرداری- در اصل پاکستان ان مذاکرات میں ثالث تھا جو امریکی یا ایرانی وفود آئے وہ صرف جھگڑا نمٹانے آئے تھے یہ انکے اسٹیٹ وزٹ نہیں تھے نہ انکی کسی بھی ریاستی اہلکار سے ملاقاتیں طے تھیں یہ سب کچھ ایمرجنسی جیسی صورتحال میں ہوا۔ اسلئے ملک کے سب سے بڑے آئینی عہدے پر متمکن صدر کا اس میں کوئی کردار مناسب بھی نہیں تھا۔ پیپلزپارٹی کے حلقے بتاتے ہیں کہ پچھلے ماہ صدر مملکت کی سربراہی میں ایک بڑے اجلاس میں اس موضوع پر تفصیلی صلاح مشورہ ہو گیا تھا، وزیراعظم گاہے گاہے صدر مملکت کو تازہ ترین پیشرفت سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

میری رائے میں صدر زرداری کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا انکے ہٹائے جانے کی نسبت موجودہ ہائبرڈ نظام کیلئے زیادہ فائدہ مند ہے اس لئے منطق و دلیل کے اعتبار سے پھیلی یا پھیلائی ہوئی افواہوں میں کوئی سچائی نہیں جس دن پیپلز پارٹی اور نظام کے درمیان کوئی خرابی در آئیگی تو پیپلز پارٹی سے بے اختیار نمائشی عہدہ لینے کی بجائے سندھ کی موثر اور بااختیار حکومت واپس لینے کی کوشش ہوگی جب تک سندھ حکومت مضبوطی سے موجود ہے صدر زرداری کی صدارت کو کوئی خطرہ نہیں۔

صدر زرداری کیخلاف جو پروپیگنڈا مہم چل رہی ہے اس میں بغیر کسی ثبوت کے یہ چارج شیٹ لگائی جاتی ہے کہ انہوں نے سندھ میں حکومت سے بالا بالا ایک متوازی نظام بنا رکھا ہے جسے ’’سسٹم‘‘ کا کوڈ نیم دیا جاتا ہے اور یہ کہ صدر زرداری سے امریکہ ناراض ہے کیونکہ وہ چین کی طرف واضح جھکائورکھتے ہیں، یہ بھی کہ صدر زرداری متحدہ عرب امارات کے زیادہ قریب ہیں اور انکی سعودی عرب سے اس قدر قربت نہیں۔ موجودہ حالات میں یو اے ای کی طرف سے قرض کی واپسی کا تقاضا دراصل صدر زرداری کی سفارتکاری پر ایک ضرب ہے۔ مزید یہ الزام ہے کہ وہ دریائے سندھ میں نہروں، سندھ میں نیا صوبہ بنانے اور این ایف سی میں ترمیم کے مخالف ہیں۔ اس چارج شیٹ میںبیشترصرف الزامات ہیں سسٹم کی کہانی پرانی ہے اس الزام پر جنرل باجوہ اور جنرل راحیل شریف کے دور میں تحقیقات ہو چکی ہیں، چین سے دوستی کے حوالے سے انکے نظریات واضح ہیں مگر وہ امریکہ سے بھی عزت و احترام کے رشتے کے قائل ہیں اگر امریکی سفارتکار انہیں نہیں بھی ملتے تو وہ ان پر بھی ناراض نہیں، متحدہ عرب امارات سے صدر زرداری کا تعلق بھی ہے اور وہاں انکا قیام اور رہائشگاہ بھی ہے لیکن انکی وفاداری کا محور و مرکز صرف اور صرف پاکستان ہے۔ سندھ میں صوبہ بنانے یا نہروں کے نکالنے پر انکی رائے یہ ہے کہ اس سے صوبہ سندھ اور وفاق کے تعلقات میں ایک خلیج آئیگی اور اس سے پاکستان کے مخالفوں اور جئے سندھ کے حامیوں کو مدد ملے گی ، این ایف سی کے معاملے پر بلاول بھٹو واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ صوبے، وفاق کا مالی بوجھ بانٹنے کو تیار ہیں۔ سوائے سندھ کی تقسیم کے کوئی بھی ایسا معاملہ نہیں ہے جس پر صدر زرداری اور طاقت کے مراکز میں بریک ڈاؤن ہوسکے۔

آصف زرداری اسلئے صدر پاکستان رہیں گے کہ موجودہ ہائبرڈ نظام کے کامیابی سے چلنے کی وجہ تاریخ سے سبق سیکھنا ہے، ماضی کا ہر ہائبرڈ یا سیاسی نظام اسلئے کمزور ہوتا یا گرتا رہا کہ چھوٹے اختلافات کو دور کرنے کی بجائے لڑائیاں بڑھائی جاتیں اور بالآخر نیم جمہوری نظام یا مخلوط نظام ٹوٹ پھوٹ جاتا۔ ماضی کی ان غلطیوں سے مقتدرہ نے یہ سبق سیکھا ہے کہ وہ موجودہ کمزور سیاسی نظام سے تحفظات، اختلافات اور اعتراضات کے باوجود اسے ختم کرنیکی کسی سازش کی حوصلہ افزائی نہیں کررہی بلکہ کوئی ایسی کوشش کرے تو اسکا برا منایا جاتا ہے عملی طور پر کئی بار مقتدرہ کی طرف سےوزیراعظم اور صدر کو واضح طور پر سسٹم کی مسلسل حمایت کا یقین دلایا گیاہے۔ دوسری طرف ن لیگ نے بھی یہ سمجھ لیا ہے کہ جس دن پیپلز پارٹی سے انکا اتحاد ٹوٹا انکے زوال کی ابتدا ہو جائیگی اسلئے نواز شریف، شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ واضح طور پر ہر صورت میں مقتدرہ اور پیپلز پارٹی کیساتھ اپنا اشتراک جاری رکھنا چاہتے ہیں ، پیپلز پارٹی کو پنجاب میں حکمران ن لیگ سے کئی شکایات تھیں لیکن حالیہ مہینوں میں چیف سیکرٹری اور مریم اورنگزیب کے مثبت تعاون سے ان میں کمی آئی ہے گویا نون اور پیپل میں دور رس اور دیرپا تعاون کی بات دونوں فریقوں کو سمجھ آ رہی ہے کیونکہ اس تعاون کے بغیر وہ تحریک انصاف کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔

صدر زرداری چین جا چکے ہیں پچھلے دور صدارت میں انہوں نے چین کے کئی صوبوں کے دورے کر کے وہاں کی ترقی کو قریب سے دیکھا،اس وقت سے صدر زرداری کو مکمل یقین ہے کہ پاکستان کا مستقبل مغرب نہیں بلکہ چین کیساتھ جڑا ہے، حالیہ دورے میں بھی وہ دارالحکومت بیجنگ کے سرکاری پروٹوکول کے مزے لینے کی بجائے صوبائی مراکز اور صنعتی و تجارتی علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ یقین رکھیں کہ دورہ چین کے بعد زرداری ہی پاکستان کے صدر رہیں گے کیونکہ کسی نے انہیں ہٹایا تو نقصان زیادہ ہوگا اور اگر وہ قائم رہے تو کو ئی نقصان نہیں، فائدہ ہی فائدہ ہے۔ Copied

پاکستانی بااصول قوم ہیں۔ غلطی اگر پینتالیس سال پہلے ہو جائے تو اسے روایت بنا لیتے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی تسلسل برقر...
25/04/2026

پاکستانی بااصول قوم ہیں۔ غلطی اگر پینتالیس سال پہلے ہو جائے تو اسے روایت بنا لیتے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی تسلسل برقرار رکھ سکیں۔
1979 میں جب سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوا تو انہیں اچانک عالمی اسٹریٹجک کی اہمیت یاد آ گئی۔ امریکہ کو ایک فرنٹ لائن اتحادی چاہیے تھا اور پاکستان کے جرنیلوں کو عالمی طاقتوں کے شطرنج بورڈ پر اگلی صف میں بیٹھنے کا شوق تھا۔ چنانچہ “جہاد” کے نام پر ایک ایسا کھیل شروع ہوا جس کے روحِ رواں میں جنرل محمد ضیاء الحق اور اختر عبدالرحمن جیسے کردار نمایاں تھے۔ مقصد بتایا گیا " جہاد " اور نتیجہ نکلا اسلحہ، منشیات اور شدت پسندی کا سیلاب۔
سوویت یونین ٹوٹ گیا امریکہ واحد سپر پاور بن گیا اور پاکستان؟ پاکستانیوں نے مہاجر کیمپوں کو مستقل آبادیوں میں، کلاشنکوف کو کلچر میں اور فرقہ واریت کو سیاست میں بدلتے دیکھا۔ بعد میں دہشت گردی کے خلاف جنگ آئی تو پاکستان نے پچھلے قرض پر نیا قرض لے کر ثابت کیا کہ وہ عالمی وفاداری میں کسی سے پیچھے نہیں۔
معیشت کمزور ہوئی ادارے دباؤ میں آئے دہشت گردی نے شہروں کو نشانہ بنایا اور پاکستانی ہر بار یہی کہتے رہے: “یہ آخری بار ہے اس کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔” مگر ہر “آخری بار” کے بعد ایک نیا آغاز پاکستانیوں کا منتظر ہوتا ہے۔
اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ انہوں نے غلطی کی۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ غلطی کو پالیسی اور پالیسی کو قومی مفاد سمجھ لیتے ہیں۔ جب تک فیصلے اپنے زمینی حقائق معاشی استطاعت اور داخلی استحکام کو سامنے رکھ کر نہیں ہوں گے تب تک آپ عالمی طاقتوں کے بیانیے تو بدلتے دیکھیں گے مگر اپنے حالات نہیں۔
تاریخ کا سبق سادہ ہے: کرائے کی جنگوں میں جیتنے والے کم ہوتے ہیں بھگتنے والے زیادہ۔
#کاپیڈ فرام عارفو یاماموتو

Address

Gojra
36120

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gojra underground posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share