18/08/2024
اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ اتنا ”جھلا انسان“ ہے کہ آخری دم تک کام میں گُم رہتا ہے ، اِسے سمجھ نہیں آتی Till such time کہ جب اسے کہا جاتا ہے کہ یہ وقت ختم ہو گیا ۔ کہتے ہیں کہ اگر عزرائیلؑ کپڑا بیچنے والے دکاندار کی طرف جائے گا تو وہ عزرائیلؑ کو گاہک سمجھے گا ۔ عزرائیلؑ کہے گا کہ میں آ گیا ہوں ۔ وہ کہے گا کہ ایک گز اور ماپنے دو ۔ وہ کہاں ماپنے دیتا ہے ..!
ایک مستری کا آخری وقت آ گیا تو اسے کہا گیا کہ تو کلمہ پڑھ ، تو وہ کہتا ہے کہ ایک فٹ ، دو فٹ ، چار فٹ وہ کلمہ نہیں پڑھے گا بلکہ فٹوں کے حساب سے چلتا جائے گا ۔ تو ہر کوئی اپنے اپنے خیال میں ہے
تو جو آدمی جس خیال میں مرے گا اُسی خیال میں اُٹھے گا اور جس خیال میں وہ زندہ ہے اُسی میں مرے گا ۔ اب یہ راز ہے اگر آپ کو سمجھ آ جائے تو ۔ آپ جس خیال میں چل رہے ہیں یہی آپ کی عاقبت ہے ۔ ابھی موت آ جائے تو جس خیال میں مرو گے اور اسی میں اُٹھو گے ۔ لہٰذا اپنے خیال کو ، اپنے علم کو اور اپنی بات کو سمجھو کہ آپ کدھر جا رہے ہو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ غلط پائے جائو.
اگر یہاں پر سانس نکل جائے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے دل میں کوئی اور شعبہ پایا جائے ۔ اس لیے دل کو ابھی سے صاف کرو ۔ اس میں کوئی مہلت نہیں ہوتی کہ اس کو کل سے ٹھیک کر لیں گے ۔ کیا کل قبر میں جا کے ٹھیک کریں گے ۔ کل تو آنا ہی نہیں ہے ، آج کا دن ہی ہے ، آج کا واقعہ ہے ۔ اس لیے دل کو خواہشات کے بُتوں سے آزاد کر لو ، پھر یہی کعبہ ہے ۔
کعبہء دل اسے کہتے ہیں ، اسی کے اندر وہ رہتا ہے حضورِ قلب ۔ یوں سمجھ لو کہ اس قلب کو حضورِ قلب ہے جس کو حضورؐ کی یاد ہے .
(گفتگو والیم 24 ............ صفحہ نمبر 226 ، 227)
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ