26/07/2024
"سیدنایوسف علیہ السلام کی فقید المثال پاکدامنی"
(افادات ابن القیم رحمه الله)
اللہ تعالی نے یوسف علیہ السلام کی عفت وپاکدامنی کا ذکر فرمایا جو کہ سب سے عظیم مثال ہے، کیوں کہ گناہ کے جو اسباب اس وقت ان کے پاس موجود تھے وہ شاید ہی کسی کو میسر ہو سکتے ہیں، وہ اسباب کچھ یوں ہیں :
1. آپ علیہ السلام جوان تھے اور جوانی تو مرکب ہی شہوت سے ہے.
2. آپ کنوارے تھے یعنی تکمیلِ خواہشات کے لیے کوئی متبادل راستہ بھی نہیں تھا.
3. پردیسی تھے، عمومی طور پر خاندان و دوستوں میں رہنے والا بے عزتی کے ڈر سے شرماتا ہے لیکن دیارِ غیر میں ہو تو یہ ڈر بھی ٹل جاتا ہے.
4. آپ غلام و مملوک تھے اور عموما آزاد شخص جن چیزوں کو ناپسند کرتا ہے غلام ان سے نفرت نہیں کرتا.
5. عورت بھی منصب وجمال والی تھی، اور ایسی صورت میں تو گناہ کا داعیہ زیادہ قوی ومضبوط ہوتا ہے.
6. مطالبہ گناہ بھی عورت کی طرف سے تھا لہذا یہ خطرہ بھی نہیں تھا کہ آدمی خواہش کرے تو عورت انکار کر دے.
7. عورت کے مراودت و رغبت دلانے سے یہ خوف بھی نہیں رہا تھا کہ شاید وہ آپ کی پاکدامنی کا امتحان لے رہی ہے.
8. آپ علیہ السلام عورت کے کمرے میں تھے جہاں کے اوقات و معمولات کو وہ جانتی تھی اور اللہ کے علاوہ کوئی انہیں دیکھ بھی نہیں سکتا تھا.
9. باہر آنے جانے کے راستے بند تھے اور کسی کے اچانک آ جانے کا خدشہ بھی نہیں تھا.
ان تمام اسباب کے باوجود اللہ تعالی نے ان کو پاکدامن رکھا انہوں نے عورت کی بات نہیں مانی، اللہ تعالی اور اپنے آقا کے حق کو مقدم رکھا، یہ ایسا معاملہ اور صورت حال تھی کہ اگر یوسف علیہ السلام کے علاوہ کسی اور کو مبتلا کیا جاتا تو نہ جانے اس کی کیا حالت ہوتی.
📚 ( روضۃ المحبین ونزھۃ المشتاقين : 318)