Talwandi Musa Khan

Talwandi Musa Khan آپنا تلونڈی موسیٰ خان ۔

سائیٹ کے متعلق
کسی قصبے کی اخبار ، اردو زبان میں دنیا کی پہلی سائیٹ

سن دو ہزار دس کے جنوری میں یہ سائیٹ شروع کی گئی تھی ،
بڑے عرصے سے اس بات کا احساس ہو رہا تھا کہ غیر ممالک میں

رہنے والے احباب جو کہ علاقے کی سیاست اور حالات واقعات سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اپنے ماحول سے لاتعلق سے ہو کر رہ گئے هیں ان کی معلومات کے لیے ایک سائیٹ بنائی جائے ، تاکہ تلونڈی اور اس کے ملحقہ دیہات اور قصبات کے رہنے وال

وں کو معلومات ملتی رهیں ۔
علامه افتخار احمد خالد جو کہ علاقے میں علامہ صاحب کے نام سے جانے جاتے ہیں اور بلاشبہ ایک غیر متنازعہ شخصیت ہیں ، ان کے حامی بھرنے پر ، خاور کھوکھر نے تلونڈی ڈاٹ نیٹ کا دومین اور اس کے سرور اور دیگر اخراجات ادا کرکے سائیٹ کو شروع کردیا ۔

دوہزار بارہ میں علامہ صاحب اس سائیٹ سے علیحدہ ہو گئے۔ اور اس سائیٹ کی ذمہ داریاں امتیاز حسن نے اٹھا لیں

اس سائیٹ کو بنانے کا مقصد جیسا کہ اوپر بھی لکھا گیا ہے

تلونڈی اور اس کے گرد نواح کے لوگوں کی باتوں کو اجاکر کر کے دیکھانا ہے

اگر اپ کا تعلق تلونڈی ، نوئیں کے، باورے ، بھٹی بھنگو ، چک خلیل ، باسی والا ، چک نظام ، چک بوڑھ ولا ، دھرم کوٹ ، پیروچک ، گگڑکے بلھے دا کوٹ ، پانڈو پور،سلکھن آباد شیخ رجادہ، جنڈیالہ باغ والا

یا اس کے علاوہ کے گاؤں دیہات سے ہے تو

بے جھجک اپنی فوٹو لگوانے کے لئے یا کسی بات کو شایع کروانے کے لئے امتیاز حسن (ریڈیو ٹی وی کمپیوٹر مکینک) سے رابطہ کریں
یا
مروا کارپوریشن والے عنصر رحمانی صاحب سے رابطہ کریں ،۔
یا کہ
فہد مصطفے سے رابطہ کرلیں ۔
متذکرہ بالا افراد سے بات کر کے اپ اس سائیٹ کی آئی ڈی بھی بنوا سکتے ہیں جس سے اپ اس سائیٹ پر خود سے لکھنے اور گوٹو لگانے کا کام خود کر سکتے ہیں ،۔
اس سائیٹ کی ملکیت اپ کو بھی مل سکتی ہےؔاگر اپ میں صلاحیت ہے تو اگے آئیں اور اس سائیٹ پر کام کریں
اپ کے کام کی مناسبت سے اپ کو اختیار دے دیا جائے گا

رابطے کے لیے سائیٹ کے ھیڈر پر رابطے کے لیے والے پیج پر جاکر رابطه کرسکتے هیں

16/06/2024

قربانی کو انگریزی میں سکرئی فائی کہتے ہیں اور جاپانی میں گی سے کہتے ہیں ،۔
پاکستان میں تین مخصوص دن جانوروں کے خون بہانے کو قربانی کہتے ہیں ،۔
پاکستان کا باوا آدم ہی نرالا ہے ، لفظون کے معنی ہی بدل کر رکھ دئے گئے ،۔

ہر امیر بندے کو چور کہتے ہیں اور ہر محنتی کو کمینہ ، خرادیہ انجنئیر کہلاتا ہے اور رپورٹر صحافی !،۔
طوطے کی فال والا پروفیسر پولیو کے ٹیکے لگانے والا ڈاکٹر ،۔
رائیٹر اور دانشور ہونا گالی بنا کے رکھ دیا گیا ہے اور پٹواری ؟
مولا خوش رکھے
کون لوگ او تسی ؟
ویسے قربانی ، اپنے اپ کو دوسروں کے لئے وقف کر دینے ، دوسروں کے لئے اپنا وقت ، صلاحیت ، پیسہ خرچ کرنے کا نام ہے ،۔
ہم ہیں وہ لوگ ، جو فارن میں رہتے ہیں ، جو قربان ہو چکے ہیں ، اپنون کی خوشیوں کے لئے ، ۔
اور ہم ہیں جو کہلواتے ہیں ،۔ سانوں کی دتی ای ؟
سانون کی دتہ ای ۔ کہلوانا بہت بڑی قربانی ہے ،۔
لیکن کم لوگ ہیں جو اس چیز کی سمجھ رلھتے ہیں ۔ْ
خاور کھوکر

24/05/2024

بندے اور نائی کا فرق !،۔
کہیں کسی گاؤں کے کسی گھر پر دستک ہوتی ہے ،۔
اندر سے آواز زنانہ آئی ہے ، کون اے ؟
تہاڈے پیکیاں توں آیا بندہ واں !،(آپ کے میکے سے آیا " بندہ " ہوں)۔
جواب سنتے ہیں عورت کی چیخ نکل جاتی ہے ، ہائے میں مرگئی ، کی ہویا میرے ابے نوں ؟ (میرے باپ کو کیا ہوا ہے)۔
بغیر ڈوپٹے کے کھلے سر اڑی ہوئی رنگ والی عورت جلدی سے دروازہ کھولتی ہے اور بد حواسی سے پوچھتی ہے کیا کیا ہوا ،۔
بندہ مرنے کی خبر لے کر آیا تھا !،۔
کہیں کسی گاؤں میں کسی گھر پر دستک ہوتی ہے ،۔
اندر سے زنانہ آواز آتی ہے ، کون اے ؟ (کون ہے )۔
تہاڈے پیکیاں توں " نائی " آیا واں !(آپ کے میکے سے نائی آیا ہوں)۔
جواب سنتے ہیں عورت کی خوشی بھری آواز آتی ہے ، بسم اللہ نی ساڈا نائی آیا اے (بسم اللہ جی ہمارا نائی آیا ہے )۔
سر پر ڈوپٹہ لئے چہرے سے خوشی ڈھلکتی ہوئی خاتون باہر آتی ہے ،۔
نائی کو گھر میں بلاتی ہے ، گھر کی بہو بیٹیاں نائی کو منجی دیتی ہیں چائے پانی اور کھانا بننے لگتا ہے ،۔
نائی شادی کی " گھنڈ " (پیغام ، سندیسہ)لے کر آیا تھا ،۔
پنجاب میں مرنے کی خبر کے لئے بندہ بھیجا جاتا ہے (بدمعاش دھمکی کے لئے بھی بندہ ہی بھیجا جاتا ہے) ، اور خوشی کی خبر کے لئے نائی ، ختنے کی رسم ہو کہ مہندی ، مایان ہون کہ منگنی اس بات کی خبر نائی لے کر جایا کرتے تھے ،۔
یہ فرق بندے اور نائی میں ،۔
اب اگر اپ کسی سے پوچھیں کہ " اوئے توں بندہ اے کہ نائی ؟" ۔
تو جواب میں " نائی " سننے کو ملے تو شکر کریں کہ " بندہ نہیں ہے ، نائی ہے نائی !،۔
خاور کھوکر

29/04/2024

بدھ، 9 ستمبر، 2015
حاجی خوشی محمد پہلوان

حاجی صاحب تو وہ بہت بعد میں جا کر کہلوائے تھے ، انیسو ستر میں حج کیا تھا انہوں ، ۔
اس سے پہلے ان کو لوگ پہلوان کہا کرتے تھے ، پہلوان خوشی محمد اور ان کا بھائی تھا پہلوان اللہ لوک برادی کے دوسرے لوگوں کو ساتھ ملا کر بڑے مضبوط کاروباری تھے یہ لوگ ، تقسیم (سن سنتالی) سے پہلے کے زمانے میں ۔
ہتھ چھٹ بھی تھے اور بیدار مغز بھی ۔ جیب میں پیسے تھے اور افرادی (برادری) قوت بھی ۔
خچروں اور گھوڑوں کی تعداد اس زمانے میں ان کے ہی پاس سب سے زیادہ تھی ۔
جنس کا سودا مار کر کسی کاروباری رقیب کی پہنچ سے پہلے پہلوان خوشی محمد کے بھائی خچروں اور گھوڑوں پر مال لادہ کے نکل بھی چکے ہوتے تھے ۔
پہلوان خوشی محمد کے گھوڑے کی چھٹ میں چاندی کے سکے ہوتے تھے جو ادائیگی زمین دار کے گھر جا کر کرتے تھے ۔
تلونڈی سے جموں (انڈیا) کا سفر ایک دن کا ہوتا تھا ، ایک دن جانے میں اور ایک دن آنے میں ،۔
یہاں سے کندم اور چاول کے کر جاتے تھے اور وہاں سے سرخ بیر خرید کر لاتے تھے ۔
برادری کے کئی لوگ جن کے پاس گدھے تھے وہ ادھر جموں میں ہی ہفتوں تک جاتے تھے کہ باربرادی کام بہت تھا ۔
خچر اور گھوڑوں والے مال لادہ کر گھر لوٹ آتے تھے ۔

ڈرپ کا علاقہ (پسرور کے شمال مشرق ) پانی کی کمی کے لئے مشہور تھا ۔ کہیں کہیں کنویں تھے اور پانی بھی بہت گہرا تھا کہ رہٹ والے کنوئیں سے پانی نکالنے والے بیل بھی بوجھ سے ہانپ ہانپ جاتے تھے ۔
رہت میں بیل جوتے پانی نکالتے زمینداروں سے ہاتھا پائی کر کے جانوروں کو پانی پلانا ایک معمول تھا ۔
ایک دفعہ ، پہلوان خوشی محمد سیالکوٹ سے پیدل گاؤں آ رہے تھے کہ جیسا اس دور میں معمول تھا کھیتوں کے منڈیر اور پہہ ہی راستے ہوتے تھے ۔
سورج کے رخ سے سمت کا تعین کر کے جو بھی راہ شارٹ کٹ لگتی تھی اس پر چل نکلتے تھے ،۔
ایک جگہ پہہ پر چل رہے تھے کہ کسی کھوھ پر زمیندار نے ان کو کہا کہ اس پہہ پر نہ جاؤ ،اگے ایک ناگ اس راھ پر ہوتا ہے ، لوگوں نے یہ راھ استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے ۔
لیکن پہلوان خوشی محمد یہ کہہ کر کہ “سپ شینہ ، فقیر دا دیس کوئی نہ” اس کسان کی بات نہیں مانی ۔ ان کا خیال تھا کہ اگر سانپ ہو گا بھی تو وہ کوئی گھر بنا کر وہیں تو نہیں پڑا ہو گا ، کہیں نکل گیا ہو گا ۔
لیکن ہوا یہ کہ وہاں واقعی سانپ تھا ور بہت بڑا سانپ تھا ۔
اس اژدہے نما کو دیکھ کر پہلوان جی پر دہشت طاری ہو گئی ، لیکن بھاگنے کی جاء نہیں تھی اس لئے لاٹھی سے اس کے سر پر وار کیا ، اژدھے نے بھی بل کھا کر پھن مارا ۔ پاس ہی کہیں کوئی اینٹ روڑوں کی ڈھیری تھی ، جس پر چڑھ کر پہلوان جی نے پتھر پکڑ پکڑ کر اژدھے کو مارنے شروع کئے ایک جنون تھا کہ بس مارے ہی چلے جاتے تھے ، پتھروں کے نیچے دبے اژدھے کی دم ہلتی رہی ۔
کہ حاجی صاحب بے ہوش ہو کر گر گئے ۔
وہ کسان جس نے ان کو منع کیا تھا وہ کچھ لوگ ساتھ لے کر اس راھ پر ان کو دیکھنے پہنچ گیا ۔
جن لوگوں نے پہلوان جی کو اٹھا کر نزدیکی قصبے ، جہاں خقش قسمتی سے اس زمانے میں بھی کوئی ڈاکٹر صاحب موجود تھے ، ان کے پاس پہنچایا ۔
پہلوان جی کو دو دن بعد ہوش آیا اور پانچ دن بخار میں سلگتے رہے ۔
ڈاکٹر صاحب نے ان کا علاج کیا ور ان کو انعام میں ایک رویہ دیا کہ تم نے سانپ کو مار کر راستہ صاف کردیا ہے ۔
برادری میں ایک لڑکے کی منگنی ڈسکے کے کسی گاؤں میں ہوئی تھی
کہ عین شادی سے کچھ دن پہلے لڑکی والے مکر گئے ،
پہلوان جی اپنے بھائیون کے ساتھ گھوڑوں پر بیٹھ کر گئے اور اس لڑکی کے گھر والوں کو کہا
کہ لڑکی ہماری منگ ہے ۔
جب منگنی میں تم لوگوں نے یہ لڑکی ہم کو دے دی تو اب یہ ہماری عزت ہے ۔
ہم اس لڑکی کو لینے آئے ہیں ۔
اگر کسی میں جرات ہے تو ہمیں روک لے ۔
لڑکی کو کہا کہ اپنا سامان کپڑے جو تم اس گھر سے لینا چاہتی ہو ساتھ لو اور گھوڑے پر بیٹھو ۔
لڑکی گھر والون سے گھر سے نکلتے ہوئے کہا کہ
اگر اپنی بیٹی کو ملنے آؤ تو ست بسم اللہ تم لوگ ہمارے رشتہ دار ہو
لیکن اگر لڑئی کے لئے آؤ گے تو لاشیں اٹھانے والے بندے ساتھ لے کر آنا ۔
لڑکی کو ساتھ لا کر بڑے شگنوں کے ساتھ اس کا نکاح اس کے منگیتر کے ساتھ کیا ۔
اس بی بی کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں ۔
یہ بی بی بڑی لڑاکا عورت تھی ، اتنی لڑاکا کہ اس کا خاوند جلدی ہی گزر گیا تھا ۔
اس کے بعد برادری کی عورتوں سے اس کی لڑائی ختم ہی نہیں ہوتی تھی ۔
اس کے جب کوئی پوچھتا تھا کہ تم اتنی لڑاکی کیوں ہو تو بڑے فخر سے بتایا کرتی تھی ۔
میرا میکہ بھی بڑا بہادر تھا ۔
میں بڑی لڑاکی ہوں ۔
کئی دفعہ اس کی لڑائی میں پہلوان خوشی محمد اگر پہنچ گئے تو ؟
لاء لتر لیا اور بہت پھینٹی لگاتے تھے ، حاجی صاحب کی پھینٹی کے بعد بی بی بہت بھلی مانس بنکر بیٹھ جاتی تھی ۔
اور ترس کھا کر آنے والی برادری کی عورتوں کو بتایا کرتی تھی ۔
یہ بڑے بہادر کمہار ہیں ، میرے لڑاکے میکے سے مجھے ڈنکے کی چوٹ پر اٹھا لائے تھے ،۔
ان سے کوئی نہیں نپٹ سکتا ،۔
اور حاجی صاحب کہا کرتے تھے اس زنانی کی کوئی ہڈی “لوندی “ ہے جدوں تک مار نہ کھا لے اینہوں سکون ای نئیں اؤندا !!!۔

بقلم خود خاور کھوکھر

16/04/2024

فرانس نے گندے پانی کے نکاس کا یہ نظام چار سو سال پہلے بنا لیا ہوا تھا (ہو سکتا ہے اس سے بھی پرانا ہو )،۔
رومنوں (بازنطینی) نے عربوں کے زمانہ جاہلیت سے سینکڑوں سال پہلے بنا لیا تھا ، ۔یہی وجہ ہے کہ یورپ میں ہزار ہزار سال پرانے گاؤں آباد نظر آتے ہیں ۔
ہمارے دیسی آباء نے نے پری ہسٹری موہن جوڈورو میں پانی کے نکاس کا انتظام کر لیا ہوا تھا ،۔

پرانے مذہب سے چمٹے ہوئے ہندو سکھ پڑوسیون نے ٹوائیلت کا بہترین نظام بنا لیا ہے ،۔

اور ایک ہم ہیں کہ عربوں کی تعریف میں ربطالسان ہیں ،۔
پاکستان کی ابادیوں میں
پانی کے نکاس کا یہ حال ہے کہ ہر نسل کو مکان اونچا کرنا پڑتا ہے ، کیونکہ سڑک اونچی ہو گئی تھی اور نالیون کا پانی گھر میں داخل ہو جاتا ہے ،۔

ہر بات میں اسلام کی عظمت ، اسلام کے علوم ہر بات میں اسلام کو خطرہ ، اسلام کی توہین کا علم لامحدود رکھنے والے ملک پاکستان میں " گندے پانی کے نکاس کا انتظام " نامی علم ، بلکہ اس بات کا ہی علم نہیں ہے ،۔
مولا کرم کرئے اور میری قوم کو عقل نامی نعمت عطا فرمائے !،۔
آمین۔

10/04/2024
10/03/2024

میں اللہ کی عبادت کیوں کرتا ہوں ؟
ہندی کا ایک شعر ہے ۔
راما مر گئے کرشنا مر گئے ، مر گئی لکھو بائی
میں تو پوجا اس کی کروں جس کو موت نہ آئی ،۔
رمضان شروع ہونے والا ہے ، میرے رب کا تحفہ مہینہ رمضان ،۔

جاپان میں بلکہ وہاں وطن میں بھی رمضان کو راما دان کہنے کا رواج ہو گیا ہے ،۔
میں جب بھی یہ لفظ سنتا ہون تو مجھے مجھے لگتا ہے کہ بندہ کہہ راہا ہے ،۔
شری کرشن رام جی کا دان ، راما دان !،۔
ماہ رمضان ، ہندو دھرم کے خدا رام جی کا دان نہیں ہے ، یہ اللہ عالی شان کا دان ہے ،۔
اس لئے خدا را رمضان کو رمضان ہی رہنے دیں ، راما دان نہ بنائیں ۔ْ
مولا خوش رکھے ،۔
رمضان مبارک ۔
خاور کھو کر

09/03/2024

کہیں کسی ویرانے میں ایک مولوی ، پنڈت اور پہلوان سفر کر رہے تھے کہ
کالا تیتر بولا ،۔
مولی صاحب گویا ہوئے ، کہہ رہا ہے ، سبحان تیری قدرت ،۔
پنڈت کہتا ہے ہے ، نہیں تیتر رام نام جپ رہا ہے ،۔
پہلوان کہتا ہے ، تم دونوں غلط سمجھے ، تیتر کہتا ہے
کھا گھی تے کر کسرت !۔ْ
بھوکے کو چوھدویں کے پورے چاند کی خوبصورتی کی طرف توجہ دلانے والے کو سننا پڑا تھا ۔
بلکل روٹی کی طرح لگ رہا ہے ،۔
محبوب کے چہرے کی طرح دیکھتا چاند پیٹ بھروں کا ذوق ہوتا ہے ،۔
خاور کھوکھر

سب کو تلوندی موسے خان والوں کی طرح سے جشن آزادی مبارک
14/08/2022

سب کو تلوندی موسے خان والوں کی طرح سے جشن آزادی مبارک

Visit the post for more.

10/07/2022

ہمارےدادا جان صوفی محمد صادق کھوکھر ، مصطفے ، مرتضٰی ، مجتبٰی کھوکھر کے والد ،چوبیس جون دوہزار بیس بروز جمعہ وفات پا گیئے ہیں ،۔ انکی نماز جنازہ باغ والی جنازہ گاھ می....

Address

Talwandi Musa Khan
Gujranwala

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Talwandi Musa Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Talwandi Musa Khan:

Share