17/02/2026
:ایک صدی قبل کا گجرات
گجرات میں آگ بجھانے کی کوئی گاڑی نہی تھی۔
آگ لگنا میں نے پہلی دفعہ منڈی میں دیکھا۔ آگ بہت بڑی تھی اور جس جگہ آگ لگی تھی اس کے ساتھ ہی مٹی کے تیل کا گودام تھا۔ آگ بجھانے کے لیے سارا شہر امنڈ پڑا۔ قریبی کنوؤں سے بالٹیوں میں پانی لایا گیا جنہوں نے ایک زنجیر صورت اختیار کر لی تھی۔ آگ پر پانی ڈالا جاتا رہا۔ یہ شدید جنگ گھنٹوں تک جاری رہی۔ گجرات جیسے گنجان آباد شہر میں جہاں عمارتیں لکڑی اور اینٹوں سے بنی ہوں آگ بڑی ہولناک ہو سکتی ہے۔ ایک تنگ سی گلی کے ایک طرف آگ لگنے سے یہ پورے محلے کو محبوس کر سکتی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایسے واقعات بہت کم تھے۔ مجھے آتش زدگی کا کوئی دوسرا واقعہ یاد نہیں پڑتا۔
سبزیاں خریدنے، ریزگاری لینے اور بچوں کا حال احوال پوچھنے کے بعد ہم پھر چل پڑتے تھے اور بڑی گلی میں آ جاتے تھے۔ یہ بڑی دلکش گلی تھی اور بڑی تیزی سے اوپر کو سب سے اونچی جگہ کی طرف جاتی تھی۔ میرے لیے یہ گلی بڑی دلچسپی کا باعث تھی۔
یہاں سوڈا واٹر کی رنگین بوتلوں سے بھری ہوئی دکانوں کی قطاریں تھیں۔ ان بوتلوں میں مصنوعی رنگ اور ذائقے ڈالے جاتے تھے۔ ایک دکاندار کہتا تھا کہ اس کے پاس پچاس سے زائد ذائقے ہیں۔ ان دکانوں کے بعد پھلوں کی دکانیں تھیں۔ اس کے بعد نان بائیوں کی دکانیں آتی تھیں جو آلو، تندوری روٹی، کلیجی، گردے، کباب اور آلو کی ٹکیاں بیچتے تھے۔ یہ سب خاصے کے کھانے تھے جو کوئلوں پر بھونے جاتے تھے یا سیخوں پر تیار کیے جاتے تھے۔ ان کی مہک میرے ناک میں پہنچ کر مجھے بہت للچاتی تھی۔ اس کے بعد حلوائیوں کی دکانیں تھیں جو اور بھی زیادہ للچاتی تھیں۔ مکھیوں اور میرے لیے رنگ برنگی مٹھائیاں بڑی پرکشش تھیں۔ پھر جنرل مرچنٹس کی دکانیں آتی تھیں۔ یہ اکثر بنا بنایا درآمد شدہ سامان بیچتے تھے، جو عموماً انگریزی یا جرمن معلوم ہوتا تھا۔ ان کے تجارتی نام زبانوں پر زیادہ عام تھے۔ اس وقت جاپان ابھی مارکیٹ میں نہیں آیا تھا۔
ان دکانوں پر ہر قسم کا سامان ملتا تھا جیسے چاقو، چھریاں، سوتی اور ریشمی دھاگے، آئینے، صابن، بوتلوں میں عطر، سر میں لگانے کا تیل، اسپرے، جرابیں، سوتی اور اونی بنے ہوئے کپڑے وغیرہ۔ مقامی چیزوں کے مقابلے میں یہ باہر کا مال زیادہ شاندار سمجھا جاتا تھا۔ ہاتھ سے بنی ہوئی لکڑی کی کنگھیوں کے مقابلے میں ہم باہر کی کنگھیوں کو ترجیح دیتے تھے۔ اسی طرح مقامی لوہاروں کی ٹھوس فولاد کی بنی ہوئی قینچیوں اور چاقوؤں کے مقابلے لمیں ہم شیفیلڈ اور سولجن کی الیکٹرو پلیٹڈ قینچیوں اور چاقوؤں کو ترجیح دیتے تھے۔ گھر میں بنے ہوئے صابن کے مقابلے میں دوسرے خوشبو دار پئیرز سوپ اور ونولیاصابن بہتر سمجھے جاتے تھے۔
یہ گلی بڑے چوک میں جا کر ملتی تھی، جہاں چاروں گلیاں آ کر آپس میں جڑتی تھیں۔ چوک کے بائیں طرف سناروں کا بازار تھا اور دائیں طرف پنساریوں کی دکانیں تھیں۔ پنساری جڑی بوٹیوں کی دوائیاں بیچتے تھے، مثلاً قلاقند اچار، چٹنیاں، مربے، عرق گلاب، عرق کیوڑا، پستہ، بادام اور کئی اور غیر معمولی سامان۔
قریب ہی سونے اور چاندی کے ورق تیار کرنے کی دکانیں تھیں۔ یہ ورق مٹھائیوں پر لگانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ سونے یا چاندی کے باریک ذرات کو بھورے رنگ کے آٹھ انچ لمبے اور پانچ انچ چوڑے کاغذوں میں لپیٹ کر پتھر پر رکھا جاتا، پھر پتھر ہی کے دستے سے کوٹا جاتا تھا۔ یوں یہ ذرات باریک ورق کی صورت اختیار کر لیتے تھے۔ مٹھائیوں پر لگانے کے لیے کاغذ کو اوپر اٹھا کر بڑی آہستگی سے الٹا دیتے تھے تو ورق خود بخود لہراتا مٹھائی پر آ کر چپک جاتا۔
یہ ورق سجاوٹ کے لیے بھی تھا اور اسے مقوی بھی سمجھا جاتا تھا۔ وقار اور نزاکت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
اس گلی سے گزرتے ہوئے ایک دفعہ میں نے ایک عجیب اور دہشت انگیز منظر دیکھا جو میری سمجھ سے باہر تھا۔ تجارتی سامان سے بالکل خالی ایک دکان میں ایک شخص پیتل کے ایک لمبے دیے کے سامنے مراقبے کے انداز میں سر جھکائے بالکل ساکت بیٹھا تھا۔ دیے میں صرف ایک بتی جل رہی تھی۔ اس آدمی نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے۔ دیے کی روشنی میں اس کا سایہ پیچھے والی دیوار پر پڑ رہا تھا۔ گلی میں چلتے ہوئے لوگ اسے رک کر دیکھتے تھے مگر کوئی اس سے بات نہیں کرتا تھا اور وہ بھی آنکھ اٹھا کر کسی کو نہیں دیکھتا تھا۔ یہ صبح کا وقت تھا۔
اور میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ دن کی روشنی میں اس نے دیا کیوں جلایا ہوا ہے اور وہ کسی سے بات کیوں نہیں کرتا؟ اوپر اس کے گھر سے بھی رونے پیٹنے کی کوئی آواز نہیں آ رہی تھی اور نہ ہی کوئی موت واقع ہوئی تھی۔ جب تک میں اسکول نہ پہنچا، مجھے کسی سے پوچھنے کی جُرأت نہ ہوئی۔ اسکول پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ اعلان کر رہا تھا کہ وہ دیوالیہ ہو گیا ہے۔
دیوالیہ کا مطلب ہے دن کو دیا جلانا۔ دیے کو "دیوا" بھی کہتے ہیں، چنانچہ اس حرکت یا کام کو "دیوا نکالنا" یا "دیا نکالنا" کہا جاتا ہے۔ مناسب وقت پر اس کے کیے ہوئے اس فعل پر اس دیوالیہ شخص سے، اس کی برادری اور پنچایت سے بات کی جاتی ہے۔ لیکن آنے والے تو صرف یہ افسوسناک منظر ہی دیکھتے رہیں گے۔ اس پرسرِعام اعتراف اور کفارے کے اس واقعے کو لوگ پشتوں تک یاد رکھیں گے۔
پرکاش ٹنڈن کی کتاب ۔ پنجاب کے سوسال سے اقتباس
مترجم ۔ رشید ملک