District Gujrat

District Gujrat District Govt Gujrat is the first District social media page by the District Govt Gujrat to update Gujrat People about District Gujrat Specially.

The People of Gujrat can participate there with his poetry, columns, news, views and his local advertisements like Mehfil-e-Naat, Religious Event, School/College Activities, Political Adverts and much more you want to publish with your district. Visit Our Website which has the same capacity of socialize your self/business www.districtgujrat.com

:ایک صدی قبل کا گجراتگجرات میں آگ بجھانے کی کوئی گاڑی نہی تھی۔ آگ لگنا میں نے پہلی دفعہ منڈی میں دیکھا۔ آگ بہت بڑی تھی ا...
17/02/2026

:ایک صدی قبل کا گجرات

گجرات میں آگ بجھانے کی کوئی گاڑی نہی تھی۔
آگ لگنا میں نے پہلی دفعہ منڈی میں دیکھا۔ آگ بہت بڑی تھی اور جس جگہ آگ لگی تھی اس کے ساتھ ہی مٹی کے تیل کا گودام تھا۔ آگ بجھانے کے لیے سارا شہر امنڈ پڑا۔ قریبی کنوؤں سے بالٹیوں میں پانی لایا گیا جنہوں نے ایک زنجیر صورت اختیار کر لی تھی۔ آگ پر پانی ڈالا جاتا رہا۔ یہ شدید جنگ گھنٹوں تک جاری رہی۔ گجرات جیسے گنجان آباد شہر میں جہاں عمارتیں لکڑی اور اینٹوں سے بنی ہوں آگ بڑی ہولناک ہو سکتی ہے۔ ایک تنگ سی گلی کے ایک طرف آگ لگنے سے یہ پورے محلے کو محبوس کر سکتی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایسے واقعات بہت کم تھے۔ مجھے آتش زدگی کا کوئی دوسرا واقعہ یاد نہیں پڑتا۔

سبزیاں خریدنے، ریزگاری لینے اور بچوں کا حال احوال پوچھنے کے بعد ہم پھر چل پڑتے تھے اور بڑی گلی میں آ جاتے تھے۔ یہ بڑی دلکش گلی تھی اور بڑی تیزی سے اوپر کو سب سے اونچی جگہ کی طرف جاتی تھی۔ میرے لیے یہ گلی بڑی دلچسپی کا باعث تھی۔

یہاں سوڈا واٹر کی رنگین بوتلوں سے بھری ہوئی دکانوں کی قطاریں تھیں۔ ان بوتلوں میں مصنوعی رنگ اور ذائقے ڈالے جاتے تھے۔ ایک دکاندار کہتا تھا کہ اس کے پاس پچاس سے زائد ذائقے ہیں۔ ان دکانوں کے بعد پھلوں کی دکانیں تھیں۔ اس کے بعد نان بائیوں کی دکانیں آتی تھیں جو آلو، تندوری روٹی، کلیجی، گردے، کباب اور آلو کی ٹکیاں بیچتے تھے۔ یہ سب خاصے کے کھانے تھے جو کوئلوں پر بھونے جاتے تھے یا سیخوں پر تیار کیے جاتے تھے۔ ان کی مہک میرے ناک میں پہنچ کر مجھے بہت للچاتی تھی۔ اس کے بعد حلوائیوں کی دکانیں تھیں جو اور بھی زیادہ للچاتی تھیں۔ مکھیوں اور میرے لیے رنگ برنگی مٹھائیاں بڑی پرکشش تھیں۔ پھر جنرل مرچنٹس کی دکانیں آتی تھیں۔ یہ اکثر بنا بنایا درآمد شدہ سامان بیچتے تھے، جو عموماً انگریزی یا جرمن معلوم ہوتا تھا۔ ان کے تجارتی نام زبانوں پر زیادہ عام تھے۔ اس وقت جاپان ابھی مارکیٹ میں نہیں آیا تھا۔

ان دکانوں پر ہر قسم کا سامان ملتا تھا جیسے چاقو، چھریاں، سوتی اور ریشمی دھاگے، آئینے، صابن، بوتلوں میں عطر، سر میں لگانے کا تیل، اسپرے، جرابیں، سوتی اور اونی بنے ہوئے کپڑے وغیرہ۔ مقامی چیزوں کے مقابلے میں یہ باہر کا مال زیادہ شاندار سمجھا جاتا تھا۔ ہاتھ سے بنی ہوئی لکڑی کی کنگھیوں کے مقابلے میں ہم باہر کی کنگھیوں کو ترجیح دیتے تھے۔ اسی طرح مقامی لوہاروں کی ٹھوس فولاد کی بنی ہوئی قینچیوں اور چاقوؤں کے مقابلے لمیں ہم شیفیلڈ اور سولجن کی الیکٹرو پلیٹڈ قینچیوں اور چاقوؤں کو ترجیح دیتے تھے۔ گھر میں بنے ہوئے صابن کے مقابلے میں دوسرے خوشبو دار پئیرز سوپ اور ونولیاصابن بہتر سمجھے جاتے تھے۔

یہ گلی بڑے چوک میں جا کر ملتی تھی، جہاں چاروں گلیاں آ کر آپس میں جڑتی تھیں۔ چوک کے بائیں طرف سناروں کا بازار تھا اور دائیں طرف پنساریوں کی دکانیں تھیں۔ پنساری جڑی بوٹیوں کی دوائیاں بیچتے تھے، مثلاً قلاقند اچار، چٹنیاں، مربے، عرق گلاب، عرق کیوڑا، پستہ، بادام اور کئی اور غیر معمولی سامان۔

قریب ہی سونے اور چاندی کے ورق تیار کرنے کی دکانیں تھیں۔ یہ ورق مٹھائیوں پر لگانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ سونے یا چاندی کے باریک ذرات کو بھورے رنگ کے آٹھ انچ لمبے اور پانچ انچ چوڑے کاغذوں میں لپیٹ کر پتھر پر رکھا جاتا، پھر پتھر ہی کے دستے سے کوٹا جاتا تھا۔ یوں یہ ذرات باریک ورق کی صورت اختیار کر لیتے تھے۔ مٹھائیوں پر لگانے کے لیے کاغذ کو اوپر اٹھا کر بڑی آہستگی سے الٹا دیتے تھے تو ورق خود بخود لہراتا مٹھائی پر آ کر چپک جاتا۔

یہ ورق سجاوٹ کے لیے بھی تھا اور اسے مقوی بھی سمجھا جاتا تھا۔ وقار اور نزاکت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

اس گلی سے گزرتے ہوئے ایک دفعہ میں نے ایک عجیب اور دہشت انگیز منظر دیکھا جو میری سمجھ سے باہر تھا۔ تجارتی سامان سے بالکل خالی ایک دکان میں ایک شخص پیتل کے ایک لمبے دیے کے سامنے مراقبے کے انداز میں سر جھکائے بالکل ساکت بیٹھا تھا۔ دیے میں صرف ایک بتی جل رہی تھی۔ اس آدمی نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے۔ دیے کی روشنی میں اس کا سایہ پیچھے والی دیوار پر پڑ رہا تھا۔ گلی میں چلتے ہوئے لوگ اسے رک کر دیکھتے تھے مگر کوئی اس سے بات نہیں کرتا تھا اور وہ بھی آنکھ اٹھا کر کسی کو نہیں دیکھتا تھا۔ یہ صبح کا وقت تھا۔

اور میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ دن کی روشنی میں اس نے دیا کیوں جلایا ہوا ہے اور وہ کسی سے بات کیوں نہیں کرتا؟ اوپر اس کے گھر سے بھی رونے پیٹنے کی کوئی آواز نہیں آ رہی تھی اور نہ ہی کوئی موت واقع ہوئی تھی۔ جب تک میں اسکول نہ پہنچا، مجھے کسی سے پوچھنے کی جُرأت نہ ہوئی۔ اسکول پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ اعلان کر رہا تھا کہ وہ دیوالیہ ہو گیا ہے۔

دیوالیہ کا مطلب ہے دن کو دیا جلانا۔ دیے کو "دیوا" بھی کہتے ہیں، چنانچہ اس حرکت یا کام کو "دیوا نکالنا" یا "دیا نکالنا" کہا جاتا ہے۔ مناسب وقت پر اس کے کیے ہوئے اس فعل پر اس دیوالیہ شخص سے، اس کی برادری اور پنچایت سے بات کی جاتی ہے۔ لیکن آنے والے تو صرف یہ افسوسناک منظر ہی دیکھتے رہیں گے۔ اس پرسرِعام اعتراف اور کفارے کے اس واقعے کو لوگ پشتوں تک یاد رکھیں گے۔

پرکاش ٹنڈن کی کتاب ۔ پنجاب کے سوسال سے اقتباس
مترجم ۔ رشید ملک

Basant Baharan Mubarak! 🌸نئی بہار، نئی سوچ، نئی جدتdpanel.co کے ساتھ اپنے ڈیجیٹل آئیڈیاز کو نئی بلندیوں تک لے جائیں 💛🪁  ...
06/02/2026

Basant Baharan Mubarak! 🌸
نئی بہار، نئی سوچ، نئی جدت
dpanel.co کے ساتھ اپنے ڈیجیٹل آئیڈیاز کو نئی بلندیوں تک لے جائیں 💛🪁

05/02/2026

Opportunity



https://www.facebook.com/share/p/1J6JVtCrqS/?mibextid=wwXIfr

dpanel.co excels in graphics design, website & app development, remittance software, and social media services. Our innovative approach delivers captivating designs & seamless user experiences. We empower businesses to thrive digitally.

🏛️ گجرات کا تاریخی شاہکار — رام پیاری محل (فوارہ چوک)گجرات شہر کے دل میں فوارہ چوک کے قریب، سرکلر روڈ پر واقع ایک شاندار...
04/02/2026

🏛️ گجرات کا تاریخی شاہکار — رام پیاری محل (فوارہ چوک)
گجرات شہر کے دل میں فوارہ چوک کے قریب، سرکلر روڈ پر واقع ایک شاندار تاریخی عمارت ہے جسے لوگ آج بھی محبت اور احترام سے رام پیاری محل کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جس کا نام گجرات کی تاریخ، ثقافت اور پرانے وقتوں کی شان و شوکت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور آج اسی عمارت میں گجرات میوزیم اینڈ آرٹ گیلری قائم ہے۔
یہ محل صرف اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ گجرات کے ماضی کی ایک زندہ تصویر ہے—جس میں محبت کی کہانی بھی ہے، فنِ تعمیر کا کمال بھی، اور تقسیمِ ہند کے بعد بدلتی تاریخ کی جھلک بھی۔
📜 محل کب اور کس نے بنایا؟
رام پیاری محل 1918 میں تعمیر کیا گیا تھا۔
اسے اُس وقت کے معروف ٹھیکیدار سندر داس چوپڑا (Sundar Das Chopra) نے بنوایا تھا۔ روایت کے مطابق سندر داس چوپڑا نے یہ عظیم عمارت اپنی تیسری بیوی “رام پیاری” کے نام سے تعمیر کروائی—اور اسی نسبت سے یہ محل “رام پیاری محل” کہلایا۔ یہ عمارت اپنے دور میں ایک شاہانہ تحفے کی طرح سمجھی جاتی تھی، اسی لیے لوگ اسے آج بھی محبت کی یادگار بھی کہتے ہیں۔
❤️ محبت کی نشانی اور ایک یادگار
یہ محل ایک ایسی عمارت ہے جس میں صرف رہائش کا تصور نہیں تھا بلکہ اس میں ایک جذباتی پہلو بھی شامل تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ عمارت رام پیاری کے لیے ایک یادگار تحفہ تھی، اسی لیے اس کا نام بھی ان کے نام پر رکھا گیا۔ وقت کے ساتھ یہ محل گجرات کی شناخت بن گیا اور لوگ اسے ایک تاریخی علامت کے طور پر یاد کرنے لگے۔
🏛️ فنِ تعمیر کی خاص باتیں
رام پیاری محل اپنی مضبوط بنیاد، کشادہ ہالز اور خوبصورت اندازِ تعمیر کی وجہ سے الگ پہچان رکھتا ہے۔ اس میں یونانی (Greek) اور ہندوستانی فنِ تعمیر کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ محل میں Doric اور Corinthian طرز کے ستون، خوبصورت ڈیزائن، اور دیواروں پر فرانسیسی ٹائلس کے نمایاں اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ محل اپنی ساخت کے لحاظ سے بھی بہت خاص ہے، کیونکہ اس میں تقریباً 40 سے زائد کمرے موجود ہیں اور اس کے ساتھ 4 تہہ خانے بھی بتائے جاتے ہیں۔ اس کے ہالز اور راہداریوں میں کھڑے بلند ستون آج بھی اس عمارت کی شان اور مضبوطی کا ثبوت ہیں۔
🧭 خاندان کب آباد ہوا اور کب یہ جگہ چھوڑ کر گئے؟
سندر داس چوپڑا اور رام پیاری کا خاندان اسی علاقے میں اس محل کے ساتھ وابستہ رہا۔ لیکن 1947 کی تقسیمِ ہند کے بعد حالات بدل گئے۔ بہت سی غیر مسلم خاندانوں کی طرح رام پیاری اور ان کا خاندان بھی ہجرت کر کے بھارت چلا گیا۔
یوں یہ محل بھی اس تاریخی دور کی یاد بن گیا جب پورے خطے کی آبادیاں، خاندان اور شہر بدل گئے۔
🏙️ تقسیم کے بعد محل کا استعمال
تقسیم کے بعد یہ عمارت مختلف سرکاری اور تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ وقت کے ساتھ یہاں:
لڑکیوں کے کالج/اسکول کا ہاسٹل قائم رہا
بعد میں یونیورسٹی آف گجرات کا ہاسٹل بھی یہاں بنایا گیا
یعنی یہ عمارت کبھی رہائش گاہ رہی، کبھی تعلیمی ضرورت بنی، اور پھر تاریخ نے اسے ایک اور روپ دے دیا۔
🏛️ میوزیم اور ورثے کا تحفظ
وقت گزرتا گیا، مگر یہ محل اپنی عظمت کے ساتھ کھڑا رہا۔ پھر اس تاریخی عمارت کو محفوظ کرنے اور دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔ محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب نے اس عمارت کی بحالی پر کام کیا اور اسے ایک باقاعدہ میوزیم میں تبدیل کر دیا۔
یہی وجہ ہے کہ آج یہ عمارت گجرات میوزیم اور آرٹ گیلری کے طور پر جانی جاتی ہے، اور 2021 میں اسے باقاعدہ طور پر عوام کے لیے میوزیم کی شکل میں کھول دیا گیا۔
🖼️ آج رام پیاری محل میں کیا ہے؟
آج اس تاریخی محل میں مختلف گیلریز کے ذریعے گجرات اور برصغیر کی:
تاریخ
ثقافت
قدیم اشیاء
لوک ورثہ
اور دستکاری
کو نمائش کے طور پر محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ جگہ اب صرف ایک عمارت نہیں بلکہ گجرات کے لوگوں کے لیے ایک ثقافتی خزانہ بن چکی ہے۔
✨ رام پیاری محل آج بھی گجرات کی شان ہے—ایک ایسی جگہ جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ شہر صرف بازاروں سے نہیں بنتے، شہر اپنی یادگاروں، تاریخ، فن اور روایت سے پہچانے جاتے ہیں۔
اگر آپ کبھی فوارہ چوک کے پاس سے گزریں تو ذرا ٹھہر کر اس محل کو دیکھیں…
یہ عمارت خاموش ضرور ہے، مگر اس کی دیواریں آج بھی ایک صدی پرانی کہانی سناتی ہیں۔ ❤️🏛️




Shab e barat Mubarak 😇
03/02/2026

Shab e barat Mubarak 😇

🌿 رامتلائی کی داستان — گجرات کی مٹی کی خوشبوگجرات کے مضافات میں ایک جگہ ہے جسے لوگ رامتلائی کہتے ہیں۔آج یہ نام سننے میں ...
02/02/2026

🌿 رامتلائی کی داستان — گجرات کی مٹی کی خوشبو
گجرات کے مضافات میں ایک جگہ ہے جسے لوگ رامتلائی کہتے ہیں۔
آج یہ نام سننے میں عام لگتا ہے، مگر بزرگوں کی باتوں میں اس بستی کے ساتھ ایک پرانا قصہ جڑا ہوا ہے… ایسا قصہ جو پانی کی ٹھنڈک، سفر کی تھکن اور مٹی کی مہک سے بنا ہے۔
کہتے ہیں بہت پہلے کی بات ہے، جب نہ پکی سڑکیں تھیں، نہ بجلی کے قمقمے…
لوگ پیدل سفر کرتے، بیل گاڑیوں میں آتے جاتے اور شام ہوتے ہی راستے سنسان ہوجاتے تھے۔
اس زمانے میں گجرات کے اس علاقے میں ایک بڑا سا تالاب ہوا کرتا تھا۔
پانی ایسا شفاف کہ دن میں آسمان بھی اس میں جھلک دکھاتا، اور رات کو چاند ایسے لگتا جیسے تالاب کے اندر اتر آیا ہو۔
یہ تالاب صرف پانی کا ذخیرہ نہیں تھا…
یہ مسافروں کی امید تھا۔
دور دور سے قافلے گزرتے تو یہی جگہ ان کا پڑاؤ بنتی۔
لوگ یہاں آ کر:
پیاس بجھاتے
جانوروں کو پانی پلاتے
تھکن اتارتے
اور چند لمحے سکون کے سانس لیتے
تالاب کے کنارے ایک چھوٹا سا کچا سا چبوترہ تھا۔
وہاں ایک آدمی رہتا تھا، سادہ مزاج، خاموش طبیعت… مگر دل کا بڑا۔
لوگ اسے رام کے نام سے جانتے تھے۔
رام کا کام صرف یہ تھا کہ تالاب کے کنارے صفائی رکھے،
راستہ بھٹکے مسافر کو سمت بتا دے،
اور اگر کسی کے پاس پانی کا برتن نہ ہو تو اپنے ہاتھ سے پانی بھر کر دے دے۔
بزرگ کہتے ہیں، “رام کی نیت میں عجیب خیر تھی…”
اس کی زبان کم بولتی تھی، مگر اس کی خدمت بولتی تھی۔
وقت گزرتا گیا۔
تالاب کے گرد لوگوں نے کچے گھر بنا لیے۔
کسی نے چھپر ڈال لیا، کسی نے مٹی کی دیواریں اٹھا لیں۔
پھر کھیت بنے، راستے بنے، اور آہستہ آہستہ وہاں آبادی بسنے لگی۔
جب کوئی مسافر پوچھتا کہ “یہ کون سی جگہ ہےمیں؟”
تو جواب ملتا:
“یہ رام والی تلائی ہے…
یہاں پانی ہے، سکون ہے، اور راہگیروں کے لیے آسرا ہے۔”
یوں “رام والی تلائی” زبان پر چڑھتے چڑھتے بس رامتلائی بن گئی۔
آج تالاب پہلے جیسا نہ رہا ہو،
کچی پگڈنڈیاں سڑکوں میں بدل گئی ہوں،
اور وقت بہت آگے نکل آیا ہو…
مگر رامتلائی کا نام آج بھی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ
کبھی ایک جگہ صرف پانی کی وجہ سے نہیں
بلکہ انسان کی خدمت اور نیت کی وجہ سے مشہور ہوتی تھی۔
اور شاید اسی لیے بزرگ آج بھی کہتے ہیں:
“گجرات کی مٹی میں کچھ جگہیں صرف زمین نہیں…
وہ کہانی ہوتی ہیں۔”
#حسن #شاہ

Beautiful
31/01/2026

Beautiful

🌟 Second Intake Now Open – Session 2025–2026 🌟Because the right start makes all the difference.British Academia is now a...
27/01/2026

🌟 Second Intake Now Open – Session 2025–2026 🌟
Because the right start makes all the difference.

British Academia is now accepting Toddler Registrations for our Second Intake.
A warm, safe, and stimulating environment where little minds begin their learning journey with confidence and care 🧠💙

👶 Why choose British Academia for your toddler?
✔ Activity-based early learning
✔ Experienced & caring teachers
✔ Strong academic foundation from day one
✔ Structured system from Preps to Matric / O Level

Give your child a nurturing start where learning feels joyful, not forced.

📞 Contact Us Today:
053-3600652 | 053-3705776 | 0321-6201170

📍 Campuses:
• 15-B Marghazar Colony, Gujrat
• Model Town Bhimber Road, Gujrat

👉 Limited seats available — secure admission now!






📢 We’re Hiring Qualified Teachers!Join British Academia, where teaching isn’t just a job — it’s a career with growth, re...
27/01/2026

📢 We’re Hiring Qualified Teachers!
Join British Academia, where teaching isn’t just a job — it’s a career with growth, respect, and stability.

We’re looking for experienced & confident educators for the following subjects:
📘 Preps
🎨 Art
🔬 Science
📖 English
📝 Urdu
➗ Mathematics

✨ Why British Academia?
✔ Competitive & handsome salary packages
✔ Supportive and professional environment
✔ Growth-focused academic culture
✔ Opportunity to teach from Preps to Matric / O Level

If you’re passionate about shaping young minds and want to work in an institute that values quality education, this is your sign.

📩 Send your resume today:
📧 [email protected]

📞 053-3600652 | 053-3705776 | +92 321 6201170

📍 Campuses:
• 15-B Marghazar Colony, Gujrat
• Model Town Bhimber Road, Gujrat

👉 Apply now & become part of an institution that believes in excellence.





25-25-25
24/12/2025

25-25-25

28/10/2025

‏‎*نیلام عام*
‏‎گجرات میں انویسٹر حضرات کیلئے سنہری موقع۔
‏‎4 منزلہ تیار کارنر دُکان برائے فروخت۔
‏‎قطر گارمنٹس مسلم بازار گجرات کو عدالتی حکم کے
‏‎تحت نیلام کیا جا رہا ہے۔
‏‎زیرو پرائس 6 کروڑ روپے سے بولی کا آغاز۔
‏‎2 نومبر 2025 بروز اتوار سہہ پہر 3 بجے۔
‏‎من گھڑت اور جھوٹی افواہوں سے ہوشیار رہیں، دل کھول کے بولی لگائیں، عدالتی ڈگری یافتہ ہی بولی کو کامیاب بنائیں گے۔
‏‎(ریفر کرنے والے کو نیلامی کامیاب ہونے کی صورت میں اچھی پرسنٹیج % دی جائےگی)
‏‎خادم علی قریشی (عدالت سے ڈگری یافتہ)
‏Call Now: 03016203536

‏ fans District Gujrat

Address

Court Road, Near Zahoor Elahi Stadium
Gujrat
50700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when District Gujrat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to District Gujrat:

Share