06/06/2026
https://www.facebook.com/share/p/17v5uiHxgn/
*میاں محمد مامون جعفر تارڑ*
*عزم، روائت اور عوامی وقار کی جیتی جاگتی ، روشن تاریخ*
حافظ آباد کے سیاسی افق پر چمکنے والا میاں محمد مامون جعفر تارڑ ایک ایسا دمکتا نام ہے، جس نے اپنی بے مثال لگن، انتھک محنت اور جہد مسلسل سے اپنے خاندان کی سیاسی شناخت کو تقریباً چالیس برس بعد دوبارہ زندہ کیا۔ یہ محض ایک کامیابی نہیں بلکہ عزم، استقامت اور نظریاتی وابستگی کی ایسی انمٹ داستان ہے جو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ بن چکی ہے۔
پنجاب کی سیاست میں کچھ کردار ایسے ہیں جو وقت کے تیز دھارے میں بہہ نہیں جاتے بلکہ خود ایک مضبوط چٹان کی صورت عہد کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور میاں محمد مامون جعفر تارڑ بھی انہی نابغہ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی سیاست اقتدار کے ایوانوں کی محتاج نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بناتی ہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اصل قیادت کرسی سے نہیں، کردار سے جنم لیتی ہے۔
ان کی سیاسی جڑیں برصغیر کے اس سنہری دور سے جا ملتی ہیں جب سیاست مفاد نہیں بلکہ خدمت، اصول اور وقار کا نام تھی۔ ان کے پردادا، آنریبل میاں عطاء اللہ تارڑ ایک باوقار اور بااصول شخصیت تھے جنہوں نے 1922ء میں آنریری مجسٹریٹ اور یونائٹڈ پنجاب کی اکلوتی سیٹ، کونسل آف اسٹیٹ کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہیں “خان بہادر” اور “سر” جیسے خطابات سے نوازا گیا، مگر جب آزادی کی صدا بلند ہوئی تو انہوں نے یہ تمام اعزازات ٹھکرا کر قوم کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دی۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے اس خاندان کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے ایک مستحکم اور ناقابلِ تسخیر نظریاتی بنیاد فراہم کی۔آنریبل میاں عطا اللّہ تارڑ کے بعد یہاں کی عوامی قیادت کا یہی روشن چراغ ان کے فرزند میاں سیف اللہ تارڑ مرحوم نے اپنی ہتھیلی پر رکھا اور سیاست کو عبادت کا درجہ دیا۔ آپ نے دو مرتبہ ممبر قومی اسمبلی، دو مرتبہ ممبر صوبائی اسمبلی اور مجلسِ شوریٰ کے رکن کے طور پر اپنی پوری زندگی عوامی خدمت کے لیے وقف رکھی ۔ ان کے نزدیک سیاست ذاتی مفاد کا ذریعہ نہیں بلکہ اجتماعی فلاح کا مقدس فریضہ تھی۔
لیکن یہ بھی ایک تلخ آفاقی سچ ہے کہ تاریخ ہمیشہ ہموار نہیں رہتی۔ میاں سیف اللّہ تارڑ مرحوم کے بعد اس خاندان کو بھی آزمائشوں، اختلافات اور کٹھن فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 1987ء کے بلدیاتی انتخابات میں قریبی تعلقات کے برخلاف ایک اصولی مؤقف اختیار کرتے ہوئے میاں افضل حسین تارڑ کی حمایت کرنا اس بات کا واضع اعلان تھا کہ یہاں رشتوں سے بڑھ کر اصولوں کی قدر ہے۔ بعد میں میاں افضل حسین تارڑ مرحوم ضلع کونسل گوجرانوالہ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔
وقت نے کروٹ بدلی اور نئی نسل نے اس وراثت کو آگے بڑھایا۔ 1997ء میں میاں محمد جعفر تارڑ نے آزاد حیثیت سے انتخابی میدان میں قدم رکھا۔ اگرچہ کامیابی ان کے قدم نہ چوم سکی لیکن یہ جدوجہد ایک نئے باب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
پھر وہ وقت آیا جب میاں مامون جعفر تارڑ نے خود میدان عمل میں قدم رکھا ۔ 2005ء میں یونین کونسل کوٹ سید محمد کے ناظم منتخب ہونا ان کے سیاسی سفر کا آغاز تھا۔ یہ کامیابی محض ایک عہدہ نہیں بلکہ عوام کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ قائم کرنے کی بنیاد بھی تھا۔ حافظ اباد کے دونوں سیاسی دھڑوں کی مخالفت، نااہلی اور رکاوٹوں کے باوجود انہوں نے ہمت کا دامن نہیں چھوڑا اور ثابت کیا کہ اصل رہنما وہی ہوتا ہے جو طوفانوں میں بھی ثابت قدم رہے۔
2015ء کے انتخابات میں بھی میاں محمد مامون جعفر تارڑ نے اپنی عوامی حمایت کا لوہا منوایا۔ اس کے نتائج اگر چہ عدالتی فیصلوں کی نذر ہوئے، مگر انہوں نے اسے شکست نہیں بلکہ اپنے حوصلے کی نئی آزمائش سمجھا اور اس سے نئی توانائی حاصل کی -
2018ء ان کی زندگی کا وہ درخشاں موڑ تھا جب وہ حافظ آباد سے پہلی مرتبہ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اقتدار میں آ کر انہوں نے محض وعدے اور دعوے نہیں کیے بلکہ نہایت سوچ سمجھ کر عملی اقدامات سے اپنی پہچان بنائی۔ اپنے حلقہ میں ترقیاتی کاموں کے جال بچھائے۔ پانچ اضلاع کو آپس میں جوڑنے والی 42 کلو میٹر طویل ڈبل بند روڈ کی تعمیر میاں محمد مامون جعفر تارڑ کی کارکردگی کا روشن استعارہ ہے - علاوہ ازیں کولو تارڑ میں ٹیکنیکل کالج اور گرلز ڈگری کالج کی منظوری ان کے تعلیمی وژن کی گہرائی کی علامت ہے اور ایسے منصوبے آنے والی نسلوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔بطور چیئرمین (TEVTA) پنجاب درجنوں بچوں اور بچیوں کو روزگار مہیا کیا۔
ان کی شخصیت کا سب سے تابناک پہلو ان کا متحرک اور بے خوف انداز ہے۔ وہ ان سیاستدانوں میں شامل نہیں جو صرف اقتدار کے موسم میں نظر آتے ہیں بلکہ ہر وقت عوام کے درمیان موجود رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مقبولیت وقت کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید نکھرتی گئی۔
ان کی عملی زندگی کا ایک واقعہ ان کے کردار کا آئینہ دار ہے۔ 2024ء میں ایک مظلوم خاتون کو انصاف دلانے کے لیے محض راقم کی ایک فون کال پر انہوں نے اگلے ہی دن اٹھارویں گریڈ کے ایک سرکاری ملازم کی سیلری سلپ فراہم کر دی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صرف دعوے نہیں کرتے، عمل کے میدان میں فوری اور مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔
ان کی سیاست میں انتقام کا کوئی تصور نہیں۔ وہ اختلاف کے باوجود کسی پر اپنے دروازے بند نہیں کرتے بلکہ دلوں کو جوڑنے کا ہنر استعمال کرتے ہیں جو ایسی خوبی ہے جو آج کی سیاست میں نایاب ہو چکی ہے۔
پارٹی میں مقامی سطح پر اختلافات پر مرکزی قیادت کے پرزور اصرار کے باوجود انہوں نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور نئی راہ اختیار کی۔ 2024ء کے انتخابات میں تقریباً 40 ہزار ووٹ حاصل کر کے انہوں نے ثابت کیا کہ ان کی اصل طاقت کوئی جماعت نہیں بلکہ عوام کا غیر متزلزل اعتماد ہے۔
حافظ آباد کی روایتی سیاست میں انہوں نے اپنے مختصر ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں ہی ایک تیسری قوت کے طور پر اپنی شناخت قائم کی- یہ محض سیاسی کامیابی نہیں بلکہ ایک سوچ کی فتح ہے۔ ایک ایسا پیغام کہ خلوص، صلاحیت اور عزم کے ساتھ کوئی بھی شخص اپنی جگہ خود بنا سکتا ہے۔
میاں محمد مامون جعفر تارڑ موروثی سیاست کے اندھے تسلسل کے قائل نہیں بلکہ اہلیت، دیانت اور جذبے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک قیادت کسی خاندان کی جاگیر نہیں بلکہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جو صرف اہل لوگوں کو سونپی جانی چاہیے۔
آج وہ ایک نئے عزم اور ولولے کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کی نگاہ آئندہ کے انتخابات پر ہے، جہاں پورے پینل کے ساتھ وہ خود قومی اور صوبائی سطح پر اپنی خدمات کا دائرہ مزید وسیع کرنا چاہتے ہیں۔
ان کی داستان ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاست محض اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ کردار، اعتماد اور مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ ایسے لوگ وقت کے دھندلکوں میں کھو نہیں جاتے بلکہ تاریخ کے صفحات پر نقش ہو کر ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔