پیاراگاوں 108پندرہ ایل میاں چنوں

پیاراگاوں 108پندرہ ایل میاں چنوں Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from پیاراگاوں 108پندرہ ایل میاں چنوں, Public Service, Hari Har.

گاؤں سے متعلقہ مستند خبریں،اہم اپ ڈیٹس اور سرگرمیاں آپ کو ملے ایک منظم پلیٹ فارم پر۔ مقامی کلچر اور روایات کے ساتھ ساتھ گاؤں کے لوگوں کو جوڑنا بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔اس کے علاوہ ہمارا واٹس ایپ گروپ بھی جوائن کرسکتے ہیں۔

25/08/2026

بابا جی کی میت کے لیے یوتھ گروپ کے فریزر کا استعمال — ایک خدمت، ایک صدقۂ جاریہ

انا للہ وانا الیہ راجعون۔

محترم حاجی عبد الستار بوہڑ والے کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے حافظ عبد الجبار صاحب کی آمد کے باعث نمازِ جنازہ میں کچھ تاخیر ہوئی۔ اس دوران بابا جی کی میت کو محفوظ رکھنے کے لیے یوتھ گروپ پیارا گاؤں کی جانب سے تیار کیا گیا فریزر استعمال میں لایا گیا۔

یہ لمحہ ہمارے لیے صرف ایک خدمت نہیں بلکہ یوتھ گروپ کے اس مقصد کی عملی مثال ہے کہ مشکل وقت میں اپنے لوگوں کے کام آیا جائے۔

سب سے بڑھ کر خوشی اس بات کی ہے کہ بابا جی کے لواحقین، عزیز و اقارب اور دوستوں کی جانب سے یوتھ گروپ اور اس سے وابستہ تمام افراد کے لیے جو دلی دعائیں، محبت اور خلوص ملا، یقین کریں یہی ہماری اصل کمائی اور سب سے بڑا اثاثہ ہے۔

اللہ تعالیٰ بابا جی کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور یوتھ گروپ کی اس چھوٹی سی کوشش کو صدقۂ جاریہ بنائے۔

آپ کی دعائیں ہی ہماری اصل طاقت ہیں۔ ❤️




25/08/2026
بابا عبد الستار آرائیں ( بوہڑ والا) بقضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فر...
24/08/2026

بابا عبد الستار آرائیں ( بوہڑ والا) بقضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے اور گھر والوں کو صبرِ جمیل عطاء فرمائے آمین 😭
نمازِ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا

خبر غم بھائی آصف مقبول طور کے نانا جی بابا حاجی اشفاق طور 110 چک کے رہنے والے قضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں۔ اللہ کریم ...
24/08/2026

خبر غم
بھائی آصف مقبول طور کے نانا جی بابا حاجی اشفاق طور 110 چک کے رہنے والے قضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں۔ اللہ کریم مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ آمین
نماز جنازہ بعد از نماز عصر 110 چک میں ادا کی جائے گی۔

23/08/2026

*دو روٹیاں، ایک ماں اور اولاد کی بے رخی کی وہ کہانی جس نے دل ہلا دیا*

کل میں چند دوستوں کے ساتھ ناردرن ایریاز کی سیر کے لیے نکلا۔ کافی طویل سفر کے بعد ہم ایک چھوٹے سے ہوٹل پر کھانے کے لیے رکے۔ دوست ہنسی مذاق میں مصروف تھے اور ماحول بہت خوشگوار تھا، لیکن چند ہی لمحوں بعد ایک ایسا منظر میری آنکھوں کے سامنے آیا جو شاید میں کبھی بھلا نہ سکوں۔

تقریباً پچپن ساٹھ سال کی ایک ضعیف خاتون آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ہوٹل میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے صرف دو روٹیاں خریدیں اور ساتھ نہ سالن لیا، نہ دال اور نہ ہی سبزی۔

یہ دیکھ کر میرے دل میں عجیب سی بے چینی پیدا ہوئی۔ میں دوستوں سے معذرت کر کے اُن کے پاس گیا اور ادب سے پوچھا:

“امّی جی! آپ نے صرف روٹیاں ہی کیوں لیں؟”

انہوں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:

“بیٹا، میرے پاس صرف اتنے ہی پیسے تھے کہ دو روٹیاں خرید سکوں۔”

یہ جواب سن کر دل بھر آیا۔

میں نے پوچھا:

“آپ کے بچے نہیں ہیں؟”

یہ سوال سنتے ہی اُن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولیں:

“میرے چھ بچے ہیں… تین بیٹیاں اور تین بیٹے۔”

پھر آہستہ سے کہنے لگیں:

“بیٹیاں چاہتی تو بہت ہیں کہ مجھے اپنے پاس رکھیں، مگر اپنے شوہروں کی وجہ سے مجبور ہیں… اور بیٹوں نے بہوؤں کی وجہ سے مجھے گھر سے نکال دیا۔”

یہ الفاظ میرے دل میں اتر گئے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ اپنی ایک بھانجی کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ بھانجی نے رہنے کی جگہ تو دے رکھی ہے، مگر ہر ماہ آٹھ ہزار روپے کرایہ لیتی ہے۔

میں نے حیرت سے پوچھا:

“پھر آپ اپنا خرچ کیسے پورا کرتی ہیں؟”

انہوں نے جواب دیا:

“بیٹا، لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہوں۔ عمر ہو گئی ہے، جسم کمزور ہے، لیکن عزت کی روٹی کے لیے محنت کرتی ہوں۔ مہینے کے دس بارہ ہزار روپے بن جاتے ہیں۔ ان میں سے آٹھ ہزار بھانجی کو دے دیتی ہوں اور باقی سے جیسے تیسے گزارا کرتی ہوں۔”

میں کچھ دیر خاموش رہا۔

پھر پوچھا:

“کیا آپ کے بچے کبھی آپ سے ملنے آتے ہیں؟”

انہوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا:

“نہیں بیٹا… وہ اس ڈر سے نہیں آتے کہ کہیں میں اُن سے یہ نہ کہہ دوں کہ مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔”

یہ جملہ سن کر میری آنکھیں نم ہو گئیں۔

وہ مزید بولیں:

“میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا پسند نہیں کرتی۔ جب تک جسم میں ہمت ہے، محنت کر کے کھاؤں گی۔ کبھی بھانجی کھانا دے دیتی ہے، کبھی جن گھروں میں کام کرتی ہوں وہاں سے کچھ مل جاتا ہے، اور اگر کچھ نہ ملے تو دو روٹیاں لے کر اللہ کا شکر ادا کر لیتی ہوں۔”

اللہ گواہ ہے، اُس لمحے میرے سامنے رکھا ہوا کھانا بھی حلق سے نہیں اتر رہا تھا۔

میں نے اپنی استطاعت کے مطابق اُن کے ہاتھ پر کچھ رقم رکھنے کی کوشش کی، مگر وہ بار بار انکار کرتی رہیں۔

میں نے عرض کیا:

“امّی جی، اسے خیرات نہ سمجھیں… اپنے بیٹے کی طرف سے ایک چھوٹا سا تحفہ سمجھ کر رکھ لیجیے۔”

آخرکار انہوں نے دعاؤں کے ساتھ وہ رقم قبول کر لی۔

میں نے اپنا رابطہ نمبر بھی اُنہیں دیا اور کہا:

“امّی جی! زندگی میں کبھی بھی کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجک مجھے فون کر دیجیے گا۔”

جب میں واپس اپنے دوستوں کے پاس آیا تو جسم تو وہیں بیٹھا تھا، مگر دل جیسے کہیں اور رہ گیا تھا۔ ہنسی ختم ہو چکی تھی، باتوں میں دل نہیں لگ رہا تھا۔

گھر واپس آیا تو بھی وہی منظر بار بار آنکھوں کے سامنے آتا رہا۔

میں سوچتا رہا…

آخر ہم کس دور میں جی رہے ہیں؟

ایک ماں، جس نے اپنی پوری زندگی اولاد کی خاطر قربان کر دی، جس نے بچوں کو پالنے کے لیے اپنی جوانی اور آرام تک قربان کر دیا، آج اُسی اولاد کے لیے بوجھ بن گئی۔

اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو آج ہی اُن کی قدر کریں۔

اُن کے پاس بیٹھیں، اُن سے بات کریں، اُن کے ہاتھ چومیں، اُن کی دعائیں لیں اور اُنہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ آپ کے لیے بوجھ نہیں بلکہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔

کیونکہ جب والدین اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تو انسان کے پاس دولت، گھر، گاڑی اور دنیا کی ہر آسائش ہو سکتی ہے، مگر ماں باپ کی کمی کبھی پوری نہیں ہوتی۔

اُس دن میں نے صرف ایک ضعیف عورت کو نہیں دیکھا تھا، بلکہ معاشرے کا ایک ایسا چہرہ دیکھا جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔

اللہ تعالیٰ کسی بھی ماں باپ کو اولاد کی بے رخی کا دکھ نہ دکھائے، اور ہمیں اپنے والدین کی خدمت، عزت، محبت اور قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔ 🤲

🌸 والدین آج آپ کے پاس ہیں تو ان کی قدر کر لیجیے، کیونکہ کل شاید صرف یادیں باقی رہ جائیں۔🌿🪴🫒

🏏🏆 شاندار فتح — فائنل کا ٹائٹل پیارا گاؤں کے نام! 🏆🏏الحمدللہ! پیارا گاؤں 108/15-ایل کی کرکٹ ٹیم نے شاندار کھیل اور بہتری...
22/08/2026

🏏🏆 شاندار فتح — فائنل کا ٹائٹل پیارا گاؤں کے نام! 🏆🏏

الحمدللہ! پیارا گاؤں 108/15-ایل کی کرکٹ ٹیم نے شاندار کھیل اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چک نمبر 135/16-L میں فائنل کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ 🏆🔥

ٹیم کے تمام کھلاڑیوں نے بھرپور محنت، بہترین ٹیم ورک اور جیت کے جذبے کا مظاہرہ کیا۔ 👏

اس شاندار کامیابی پر پیارا گاؤں 108/15-ایل کی پوری ٹیم، کپتان، مینجمنٹ اور تمام سپورٹرز کو دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارکباد! 🎉❤️

آج کا فاتح — پیارا گاؤں 108/15-ایل! 🏆🏏
یہ جیت محنت، جذبے اور اتحاد کی جیت ہے۔ ❤️🔥

جہاں نہ شور ہے نہ بد بو، بس سکون ہے اور مہمان نواز ہیں
19/08/2026

جہاں نہ شور ہے نہ بد بو، بس سکون ہے اور مہمان نواز ہیں

19/08/2026

بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو بہت عبادت گزار تھا۔ اس نے طویل عرصہ عبادت میں گزارا، دنیا سے الگ رہا اور لوگوں میں اس کی نیکی کا بڑا چرچا تھا۔ بعض روایتوں میں اس کا نام برصیصا بتایا گیا ہے۔
اس زمانے میں تین بھائی تھے۔ ان کی ایک بہن تھی، اور وہ کسی سفر یا جنگ کے لیے اپنے علاقے سے باہر جانے لگے۔ انہیں فکر ہوئی کہ اپنی بہن کو کس کے پاس چھوڑیں۔ انہوں نے سوچا:
“ہمارے علاقے میں اس عابد سے زیادہ نیک اور امانت دار کون ہو سکتا ہے؟”
چنانچہ وہ اس عابد کے پاس گئے اور اپنی بہن کو اس کی نگرانی میں چھوڑنے کی درخواست کی۔
عابد نے پہلے سخت انکار کیا۔ اس نے کہا:
“میں ایک عورت کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔”
مگر شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا:
“یہ عورت تنہا رہ جائے گی۔ اگر تم نے اسے پناہ نہ دی تو کوئی بدکار شخص اسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تم اس کی حفاظت کے لیے اسے اپنے قریب رکھ لو۔ تمہاری نیت نیک ہے، تم عبادت گزار ہو، تم سے کوئی غلطی نہیں ہو گی۔”
آخر عابد نے عورت کو اپنی عبادت گاہ سے کچھ فاصلے پر ایک الگ جگہ ٹھہرا دیا۔
ابتدا میں وہ اس سے براہِ راست بات نہیں کرتا تھا۔ وہ کھانا تیار کر کے اپنی عبادت گاہ کے دروازے کے باہر رکھ دیتا اور عورت آ کر اسے لے جاتی۔
پھر شیطان نے کہا:
“یہ عورت کے لیے مشقت ہے۔ تم کھانا اس کے دروازے کے قریب رکھ دیا کرو۔ اس میں کیا برائی ہے؟”
عابد نے ایسا کرنا شروع کر دیا۔
کچھ عرصے بعد شیطان نے کہا:
“تم اتنی دور سے کھانا رکھ کر واپس آ جاتے ہو۔ وہ تنہا عورت ہے، اس سے دو باتیں کر لیا کرو تاکہ اسے وحشت نہ ہو۔”
پہلے عابد دور سے بات کرتا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ قریب آ کر بات کرنے لگا۔ پھر ملاقاتیں بڑھ گئیں۔ آخرکار وہ شیطان کے دھوکے میں آ گیا اور اس عورت کے ساتھ حرام تعلق قائم کر بیٹھا۔
کچھ مدت بعد عورت کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔
اب عابد خوف زدہ ہو گیا۔ شیطان نے اس سے کہا:
“اگر اس کے بھائی واپس آئے تو وہ تمہیں قتل کر دیں گے اور تمہاری ساری عزت ختم ہو جائے گی۔ تمہاری برسوں کی عبادت اور نیکی کی شہرت بھی برباد ہو جائے گی۔ ابھی وقت ہے، بچے کو ختم کر دو۔”
عابد نے شیطان کے بہکاوے میں آ کر بچے کو قتل کر دیا۔
پھر شیطان نے کہا:
“عورت اپنے بھائیوں کو ساری حقیقت بتا دے گی۔ اب تمہارا راز چھپنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اسے بھی قتل کر دو۔”
چنانچہ روایت کے مطابق عابد نے عورت کو بھی قتل کر دیا اور عورت اور بچے کو ایک جگہ دفن کر دیا۔
جب اس کے بھائی واپس آئے تو انہوں نے اپنی بہن کے بارے میں پوچھا۔
عابد نے جواب دیا:
“وہ بیمار ہوئی، پھر وفات پا گئی۔ میں نے اسے دفن کر دیا ہے۔”
بھائیوں نے اس کی دینداری اور نیکی کی شہرت کی وجہ سے اس کی بات مان لی۔
پھر روایت میں آتا ہے کہ شیطان ان بھائیوں میں سے ایک کے خواب میں آیا اور اس نے بتایا:
“تمہاری بہن بیمار ہو کر نہیں مری۔ اس عابد نے اس کے ساتھ گناہ کیا، پھر اس کے بچے کو قتل کیا، پھر تمہاری بہن کو بھی قتل کر کے دونوں کو فلاں جگہ دفن کر دیا۔”
صبح اس بھائی نے اپنا خواب دوسرے بھائیوں کو بتایا۔ پہلے تو انہوں نے اسے محض خواب سمجھا، مگر پھر دوسرے بھائیوں نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھنے کا ذکر کیا۔
آخر وہ اس جگہ پہنچے جہاں عورت کی قبر بتائی گئی تھی۔ انہوں نے زمین کھودی تو روایت کے مطابق عورت اور بچے کی لاشیں مل گئیں۔
وہ عابد کے پاس گئے، اسے پکڑا اور اس کے جرم کا اعلان کر دیا۔ پھر اسے سزا کے لیے لے جایا گیا۔
جب وہ اپنی جان سے مایوس ہو گیا تو شیطان اس کے سامنے ظاہر ہوا اور کہا:
“میں ہی تھا جس نے تمہیں قدم بہ قدم اس مقام تک پہنچایا۔ پہلے میں نے تمہیں عورت کی حفاظت کے نام پر آمادہ کیا، پھر بات چیت، پھر گناہ، پھر قتل اور پھر جھوٹ کی طرف لے گیا۔”
عابد نے کہا:
“اب مجھے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟”
شیطان نے کہا:
“اگر تم مجھے ایک سجدہ کر لو تو میں تمہیں بچا لوں گا۔”
روایت میں ہے کہ عابد نے جان بچانے کی امید میں شیطان کو سجدہ کر دیا۔
پھر شیطان نے اسے چھوڑ دیا اور کہا:
میں تم سے بیزار ہوں، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔
اور عابد اپنے انجام کو پہنچ گیا۔
امام قرطبی کی نقل میں اہم اضافہ
امام قرطبی نے اس قصے کو سورۂ حشر کی آیات کے ضمن میں نقل کیا اور اسے شیطان کی مثال کے طور پر بیان کیا۔ اس روایت کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ شیطان پہلے انسان کو معمولی اور بظاہر بے ضرر قدم کی طرف لے جاتا ہے، پھر آہستہ آہستہ اسے بڑے گناہ میں مبتلا کرتا ہے۔
اس قصے میں ترتیب یوں بنتی ہے:
نیکی کے نام پر رعایت → تنہائی → گفتگو → قربت → بدکاری → قتل → جھوٹ → کفر
یہی قصے کا بنیادی اخلاقی پیغام ہے۔
ابن کثیر کی وضاحت
ابن کثیر نے بھی اس واقعے کو نقل کرتے ہوئے اسے سورۂ حشر کی مثال سے جوڑا۔ لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس قسم کی تفصیلی حکایات میں بہت سی باتیں بنی اسرائیل کی روایات سے آئی ہیں۔ اس لیے ان کی ہر تفصیل کو قطعی تاریخی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔
اس واقعے کا علمی درجہ
اس قصے کے بارے میں محتاط نتیجہ یہ ہے:
برصیصا کا قصہ قدیم اسلامی تفاسیر میں موجود ہے اور کئی مفسرین نے اسے نقل کیا ہے، لیکن اس کی تفصیلی روایت قرآن یا صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ اس لیے اسے نصیحت آموز اسرائیلی حکایت کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے، قطعی اور یقینی تاریخ کے طور پر نہیں۔
قرآنِ مجید میں البتہ شیطان کے طریقۂ کار کی اصل مثال موجود ہے:
“شیطان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے انسان سے کہا: کفر کر؛ پھر جب اس نے کفر کر لیا تو کہا: میں تم سے بیزار ہوں، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔”
سورۂ حشر، آیت ۱۶
یہ آیت قطعی ہے، مگر برصیصا کا نام، عورت کا واقعہ، بچے کا قتل اور آخری سجدے کی تفصیلات قرآن میں موجود نہیں؛ یہ بعد کی روایات میں بیان ہوئی ہیں۔
واللہ اعلم۔

18/08/2026

*ایک بزرگ، ایک سوداگر… اور زندگی بدل دینے والا سبق*

رات اپنی خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ایک پرانی مسجد کے گوشے میں ایک بزرگ نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز تھے۔ آنکھوں سے آنسو جاری تھے، لبوں پر آہستہ آہستہ دعائیں تھیں، اور چہرے پر ایسا نور اور سکون تھا کہ دیکھنے والا بے اختیار رک جاتا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اُن کا دل دنیا سے کٹ کر صرف اپنے رب سے جڑ چکا ہو۔

اسی دوران ایک نہایت دولت مند سوداگر وہاں سے گزرا۔ قیمتی لباس، نفیس خوشبو اور ہاتھوں میں قیمتی انگوٹھیاں… لیکن دل بے سکون۔

جب اُس کی نظر عبادت میں مشغول بزرگ پر پڑی تو اُس کے قدم خود بخود رک گئے۔ اُس نے ایسی عاجزی اور ایسی محبت سے عبادت شاید پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔

وہ احترام سے آگے بڑھا، اپنی اشرفیوں کی بھاری تھیلی کھولی اور بزرگ کے سامنے رکھ کر عرض کیا:

"حضرت! یہ معمولی سا نذرانہ قبول فرما لیجیے۔ مجھے امید ہے آپ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے۔"

بزرگ نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں، پہلے اشرفیوں کی طرف دیکھا، پھر سوداگر کی آنکھوں میں نگاہ ڈال کر مسکرا دیے۔

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد پوچھا:

"بیٹا! کیا تم واقعی اپنے آپ کو امیر سمجھتے ہو؟"

سوداگر نے اعتماد سے جواب دیا:

"جی حضرت! اللہ کا بہت فضل ہے۔ میرے پاس بے شمار دولت ہے، خزانے بھرے ہوئے ہیں۔"

بزرگ نے فرمایا:

"اگر تمہیں ایک ہزار اشرفیاں اور مل جائیں تو؟"

سوداگر فوراً بولا:

"تو بہت خوشی ہوگی، آخر زیادہ مال کس کو برا لگتا ہے!"

بزرگ نے دوبارہ پوچھا:

"اور اگر اس کے بعد مزید ایک ہزار اشرفیاں مل جائیں؟"

اب سوداگر نے بغیر سوچے کہا:

"پھر بھی کم نہیں ہوں گی۔ میری تو ہمیشہ یہی دعا رہتی ہے کہ میرا مال بڑھتا ہی رہے۔"

یہ سن کر بزرگ نے فوراً اشرفیوں کی تھیلی اُٹھائی اور واپس اُس کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے فرمایا:

"یہ مال واپس لے جاؤ۔"

سوداگر حیران رہ گیا۔

"حضرت! کیا میری کمائی حلال نہیں؟ یا مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے؟"

بزرگ کھڑے ہوئے اور نہایت شفقت سے فرمایا:

"نہیں بیٹا… مسئلہ تمہارے مال کا نہیں، تمہارے دل کا ہے۔"

پھر فرمایا:

"میں کسی فقیر سے خیرات قبول نہیں کرتا۔"

یہ سن کر سوداگر چونک گیا۔

"فقیر؟ لوگ تو مجھے شہر کا سب سے امیر آدمی کہتے ہیں!"

بزرگ مسکرائے اور بولے:

"ہاں… کیونکہ فقیر وہ نہیں جس کے پاس مال کم ہو، بلکہ فقیر وہ ہے جس کی خواہش کبھی ختم نہ ہو۔"

پھر انہوں نے کہا:

"میں امیر ہوں، کیونکہ میرا دل اُس رزق پر راضی ہے جو میرا رب عطا کرتا ہے۔ آج ایک روٹی مل جائے تو الحمدللہ، نہ ملے تب بھی الحمدللہ۔ میرے دل میں 'اور چاہیے' کی آگ نہیں جلتی۔"

انہوں نے سوداگر کے سینے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا:

"تمہارے خزانے بھرے ہوئے ہیں، لیکن تمہارا دل خالی ہے۔ تمہارے پاس بہت کچھ ہے، پھر بھی تم مزید چاہتے ہو۔ تمہاری ہر دعا میں صرف ایک ہی آواز ہے… 'اور دے… اور دے… اور دے…'"

پھر نہایت پُرسوز لہجے میں فرمایا:

"یاد رکھو! جس انسان کی خواہشات کبھی ختم نہ ہوں، وہ تاج پہن کر بھی بھکاری ہوتا ہے۔ اور جو قناعت سیکھ لے، وہ خالی ہاتھ ہو کر بھی بادشاہ ہوتا ہے۔"

یہ کہہ کر بزرگ دوبارہ اپنے سجدے میں چلے گئے۔

اور سوداگر…؟

وہ دیر تک وہیں کھڑا رہا۔ ہاتھ میں اشرفیوں کی تھیلی تھی، مگر پہلی مرتبہ اُسے احساس ہوا کہ شاید اصل دولت اُس کے پاس کبھی تھی ہی نہیں۔

🌹 سبق:
اصل دولت مال و زر نہیں، بلکہ دل کا سکون، قناعت اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا ہے۔ جسے قناعت نصیب ہو جائے، وہی حقیقت میں دنیا کا سب سے امیر انسان ہے

*ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں کی پالیسی اور عوام*ایک آدمی ایک دانشمند کے پاس اپنی پریشانی لے کر گیا اور کہا:"اے دانشمند، م...
18/08/2026

*ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں کی پالیسی اور عوام*

ایک آدمی ایک دانشمند کے پاس اپنی پریشانی لے کر گیا اور کہا:
"اے دانشمند، میں اپنی بیوی، چھ بچوں، ماں اور ساس کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہتا ہوں۔ میں کیا کروں؟"
دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور ایک گدھا خرید کر اسے اپنے ساتھ کمرے میں رکھو، اور دو دن بعد آنا۔"
آدمی دو دن بعد واپس آیا اور کہا:
"اے دانشمند، صورتحال اور خراب ہوگئی ہے۔"
دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور ایک بھیڑ خرید کر اسے اپنے ساتھ کمرے میں رکھو، اور دو دن بعد آنا۔"
آدمی واپس آیا اور اس کا چہرہ زرد تھا، اس نے کہا:
"صورتحال ناقابل برداشت ہوگئی ہے۔"
دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور ایک مرغی خرید کر اسے اپنے ساتھ کمرے میں رکھو، اور دو دن بعد آنا۔"
آدمی واپس آیا اور خودکشی کے قریب تھا...
دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور گدھا بیچ دو، اور مجھے بتانا۔"
آدمی واپس آیا اور کہا:
"صورتحال تھوڑی بہتر ہوگئی ہے۔"
پھر دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور بھیڑ بیچ دو، اور مجھے بتانا۔"
آدمی واپس آیا اور کہا:
"اب سب ٹھیک ہے۔"
دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور مرغی بیچ دو، اور مجھے بتانا۔"
آدمی واپس آیا اور کہا:
"اب میں بہترین حال میں ہوں، دل سے شکریہ!"
اس طرح دنیا کی سیاسی بحرانوں کو حل کیا جاتا ہے...
وہ آپ کو نئی مشکلات پیدا کرکے اصل مسئلے کو بھولنے پر مجبور کرتے ہیں، تاکہ آپ اپنے مسائل پر اللہ کا شکر ادا کریں اور ان کے احسان مند رہیں۔

Address

Hari Har
58000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when پیاراگاوں 108پندرہ ایل میاں چنوں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category