ہری پور
ہری پور شہر کی بنیاد 1821ء میں سکھ جنرل ہری سنگھ نلوہ نے فوجی نقطہ نظر سے رکھی۔ ہری پور شہر میں ایک قلعہ تعمیر کیا گیا جس کی دیواریں 4 میٹر چوڑی اور16 میٹر اونچی تھیں۔ قلعہ میں داخل ہونے کے لیے چار دروازے تھے۔ ہري پور کا نام رنجيت سنگھ کے ايک سِکھ جرنيل ہری سنگھ نلوہ کے نام پر رکھا گيا۔ ہري پور تحصيل کو 1 جولائی، 1992ء ميں ضلع کا درجہ دے کر ضلع ايبٹ آباد سے علحيدہ کر دياگيا۔
ہری پور میں آب
اد اقوام میں جدون، ، مشوانی،سلمانی،دلزاک،پنی، اتمانزئی،ترین وغیرہ شامل ہیں،ماضی اور حال میں بھی ان افغان کا اقوام کا ہری پور میں اہم کردار رہا ہے، سکھوں کے خلاف محمد خان ترین کی قیادت میں معرکے قابل ذکر ہیں،جن میں ان اقوام کی قربانیاں بے مثال ہیں. ہری پور میں سید،اعوان،گكهڑ،راجپوت،تنولی،عباسی اور کرڑال بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں.
ہریپور میں عراق سے آنے والے صوفی بزرگ قطب شاہ یعنی عون بن یعلی العلوی کی اولاد بھی آباد ہے.
خانقاہ صدر یہ ربانیہ صدریہ محلہ عیدگاہ ہری پور
حضرت معظم قاضی محمدصدرالدین سلسلہ نقشبندیہ کے بزرگ گزرے ہیں ان کامزاریہاں پر ہے ابھی صدارتی ایوارڈ یافتہ کتاب سیدالورٰی کے مصنف صاحبزادہ عبدالدائم گدی نشین ہیں۔
ہری پور میں حسنی و حسینی سادات کے بہت سے خاندان آباد ہیں جن میں کاظمی، مشہدی، ترمذی، نقوی بخاری، نقوی بھاکری، اور گیلانی سادات شامل ہیں۔
جغرافیہ
یہ شہر اسلام آباد سے 65 کلومیٹر اور ایبٹ آباد سے 35 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس ضلع کو جغرافيائي محلِ وقوع کے لحاظ سے کليدي حيثيّت حاصل ہے۔ کيونکہ يہ ضلع ہزارہ ڈویژن اور صوبہ خیبر پختونخوا کے مابين ايک پھاٹک کا درجہ رکھتا ہے۔
حدور اربعہ
اپنے منفرد محل وقوع کی وجہ سے ہری پور کی حدور آٹھ مختلف اضلاع سے ملتی ہیں ،جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ ہری پورکی مشرقی اور شمال مشرقی سرحد ضلع ایبٹ آباد سے ملتی ہے۔ شمال میں یہ ضلع مانسہرہ اور شمال مغرب میں ہری پور کا ناڑا امازئی اور بیٹ گلی کا علاقہ تورغر اور بونیر سے ملتا ہے۔ ہری کی مغربی سرحد میں ضلع صوابی واقع ہے۔ مغرب اور جنوب مغرب میں پنجاب کے دو اضلاع اٹک اور راولپنڈی جبکہ جنوب مشرق میں وفاقی دار الحکومت اسلام آباد واقعہ ہے۔
موسم
ہری پور موسم کے لحاظ سے گرم بارانی معتدلہ خطے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہاں سب سے زیادہ گرم مہینہ جون کا ہوتا ہے، جس درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی بڑھ جاتا ہے،اس کے بعد جولائی ،اگست میں مون سون کی وجہ سے بہت زیادہ بارشیں ہوتیں ہیں جس سے گرمی کا زور تو ٹوٹ جاتا ہے مگر حبس بہت بڑھ جاتی ہے۔ نومبر کا مہینے میں سب سے کم بارش ہوتی ہے اور پور ماہ عموماً خشک سردی میں گزرتا ہے۔ سردی کے موسم میں جنوری سب سے سرد ہوتا ہے، جب بعض دنوں میں درجہ حرارت نقظہ انجماد سے بھی گر جاتا ہے۔ مارچ ،اپرئل اور ستمبر،اکتوبر کے مہینوں میں موسم معتدل رہتا ہے ۔