27/05/2026
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
*لا خير في دين لا صلاة فيه*
قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، تقویٰ اور بندگی کا اظہار ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“قُل اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ”
کہہ دیجیے کہ بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔
اس آیت میں پہلے نماز کا ذکر ہے اور پھر قربانی کا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز اسلام کی بنیاد اور سب سے اہم عبادت ہے۔
آج ہم میں سے بہت سے لوگ قربانی کا تو بے حد شوق رکھتے ہیں۔ کوئی ایک جانور قربان کر رہا ہے، کوئی دو، کوئی پانچ، کوئی سات۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ بہت سے لوگ پانچ وقت کی نماز کے پابند نہیں۔
ذرا غور کریں…
جانور تو ہم ایسا ڈھونڈ کر لے آتے ہیں جس میں کسی قسم کا کوئی عیب نہ ہو۔
کہیں کان کٹا ہوا نہ ہو، کہیں آنکھ خراب نہ ہو، کہیں لنگڑا پن نہ ہو۔ معمولی سا نقص بھی ہمیں پریشان کر دیتا ہے۔
لیکن کیا ہم نے کبھی اپنے اندر کے عیب بھی دیکھے ہیں؟
کیا بے نمازی ہونا عیب نہیں؟
کیا اللہ کے حکموں سے دوری عیب نہیں؟
کیا ہم نے کبھی اپنے دل، اپنے اعمال اور اپنی زندگی کا جائزہ لیا ہے؟
ہم جانور کے عیب پر تو فوراً فیصلہ کر لیتے ہیں کہ یہ قربانی کے لائق نہیں، مگر اپنے اندر موجود کوتاہیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو جانور کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا بلکہ ہمارے دل کا تقویٰ پہنچتا ہے۔
نماز دین کا ستون ہے۔
قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا۔
اگر نماز درست ہوئی تو باقی اعمال بھی سنور جائیں گے، اور اگر نماز ہی ضائع ہو گئی تو باقی اعمال بھی خطرے میں پڑ جائیں گے۔
اذان کی آواز صرف مسجد تک محدود نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر مسلمان کے لیے بلانے کی آواز ہے۔
جو شخص دنیا کے ہر کام کے لیے وقت نکال لیتا ہے مگر نماز کے لیے وقت نہیں نکالتا، اسے اپنے دل کا جائزہ ضرور لینا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ کے پاس ایک قبیلہ آیا اور عرض کیا:
“یا رسول اللہ ﷺ! ہم اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہماری چند شرائط ہیں۔”ان شرائط میں
جب انہوں نے کہا:
“ہم نماز نہیں پڑھیں گے”
تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“پھر ایسے اسلام میں کوئی خیر نہیں۔”
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نماز اسلام میں کتنی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
نماز ہے تو اسلام کی روح زندہ ہے، اور جب انسان اپنے رب سے تعلق مضبوط کر لیتا ہے تو پھر اس کی قربانی بھی قبولیت کے قریب ہو جاتی ہے۔
آج بھی وقت ہے۔
اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں۔
نماز کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اپنے بچوں کو نمازی بنائیں، اپنے گھروں کو نماز سے آباد کریں، کیونکہ جس گھر میں نماز قائم ہو جائے وہاں سکون، برکت اور رحمت اترتی ہے۔
لہٰذا ہمیں صرف ظاہری عبادات پر نہیں بلکہ اپنی اصلاح، نماز کی پابندی، حلال رزق اور تقویٰ پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ قربانی سے پہلے اپنے دل، اپنے اعمال اور اپنے رب کے ساتھ تعلق کو درست کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔
Ali Hassan Abdal Press Club