23/10/2016
شکریہ سلیم صافی!!!
آج اگر سراج الحق اُٹھ کر لیاقت بلوچ صاحب کی چھٹی کراکر راتوں رات کسی کھرب پتی ہمایوں اختر خان کو جماعت اسلامی کا مختار اور جنرل سیکرٹری بنا دیں اور ساتھ ہی اپنا، اپنی شوریٰ بلکہ پوری پارٹی کا کی مہار ان کے ہاتھ میں دے دیں تو کیا یہ زیادتی اور کرپشن کی بدترین مثال نہیں ہوگی۔وہ اگر مرکزی امیر کی حیثیت سے خیبر پختونخواہ کی کا بینہ میں عنایت علی خان کےبجائے کسی ایسے شخص کو سینئر وزیر نامزد کر یں کہ جو گزشتہ حکومت میں حیدر ہوتی کی ٹیم کے، اس سے پہلے پرویز مشرف کی ٹیم کے اور اس سے پہلے پیپلزپارٹی کی صوبائی کابینہ کے رکن رہے ہو ں تو کیا یہ ظلم اور نا انصافی نہیں ہوگی؟۔ کیا ایسا کرنے کے بعد ہمارا میڈیا سراج الحق کا جینا حرام نہیں کرے گا اور کیا اس کے بعد کوئی ذی شعور شخص ان سے انقلاب کی توقع لگا ئے بیٹھے گا اور کیا اس کے بعد فرینڈلی انٹرویوز کراکرا کر پاکستانی میڈیا ان کو جبراً قوم کے سروں پرمسلط کرنے کی کوشش کرے گا؟۔
لیکن عجیب تماشہ ہے کہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی "بدتمیز جمہوریہ سوشل میڈیا" کی سلطنت کے وزیر اعظم ، انقلابی اور پاک صاف باور کرائے جارہے ہیں جبکہ سراج الحق کی طرف کوئی توجہ نہیں دلا رہا۔ چلو مان لیتے ہیں کہ "بدتمیز جمہوریہ سوشل میڈیا" کے یہ وزیر اعظم ذاتی طور پر کرپٹ نہیں تو کیا سراج الحق کرپٹ ہیں؟۔ ان کے دشمن بھی گواہی دیتے ہیں کہ وہ مالی تو کیا اخلاقی طور پر بھی کرپٹ نہیں۔ وزیر بننے کے بعد ان کی ذاتی اور خاندانی زندگی میں کوئی فرق آیا اور نہ امیر بننے کے بعد۔ اگر ذاتی طور پر کرپٹ نہ ہو نا ہی سیاسی لیڈر کے تمام گناہ معاف کردیتا ہے تو پھر سراج الحق کے کیوں معاف نہیں کئے جاتےاور کرپشن سے پاک ان انقلابیوں نے جماعت اسلامی کو اپنی امیدوں کا مرکز کیوں نہیں بنایا؟۔ بدتمیز جمہوریہ سوشل میڈیا کے وزیر اعظم اور ریٹنگ کا غلام الیکٹرانک میڈیا کے پالولر ترین لیڈر کا دعویٰ تھا کہ ان کے پاس ماہرین اور اہل لوگوں کی ٹیم ہے، لیکن اس ٹیم کی حقیقت خیبر پختونخوا کی صورت میں دنیا پر آشکار ہوگئی ہے۔ اس پو ری ٹیم میں اہلیت اور دیانتداری کے حوالے سے جماعت اسلامی کے عنایت اللہ خان نمبر ون قرار پائے۔ نہ کرپشن کا کوئی الزام اور نہ دامن پر کسی قانون شکنی کا دھبہ۔
سوشل میڈیا کر مجاہدین پشاور کی خوبصورتی اور بلدیاتی نظام کا کریڈیٹ لیتے ہیں لیکن یہ واضح نہیں کرتے کہ یہ کا م جماعت اسلامی کے وزیر بلدیات عنایت اللہ خان کا ہے۔پھر تبدیلی کے آرزو مندوں کا انتخاب اُ س جماعت کے بجائے جماعت اسلامی کیوں نہیں؟ کہتے ہیں کہ بدتمیز جمہوریہ سوشل میڈیا کےوزیر اعظم کو پاکستان کا وزیر اعظم ہونا چاہئے کیونکہ انہوں نے لوگوں کے پیسوں سے اسپتال بنایا ہے لیکن یہی میعار ہے تو پھرتو جماعت اسلامی کی الخدمت تنظیم ملک بھر میں سینکڑوں اسپتال بنا اور چلا رہی ہے اور لاکھوں لوگ ان کی خدمت سے مستفید ہورہے ہیں۔2005 کا زلزلہ ہو، چترال میں بارشوں کی تباہی ہو یا پھر وزیر ستان کے آئی ڈی پیز کی خدمت، ہر جگہ الخدمت نمایاں نظرآتی ہے۔ پھر کیوں نہ سراج الحق کو وزیر اعظم بنایا جائے؟ دلیل دیتے ہیں کہ نئی نسل زرداری اور نواز شریف سے مایوس ہو چکی ہےاور ان کی اکثریت سوشل میڈیا کے وزیر اعظم کو اپنا لیڈر مانتی ہے حالانکہ لیڈر ماننے او ر فین فالونگ (Fan Following) زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کسی جگہ شاہد خان آفریدی عام جلسے سے خطاب کے لئے آئیں تو لگ پتا جائے گا کہ کتنے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں۔ پھر ان کے ساتھ وہاں راحت علی خان کی موسیقی اور صبا قمر کی دید کی نوید بھی سنا دی جائے تو مجھے یقین ہے کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوگی۔
جہاں تک نوجوانوں کی قیادت کا تعلق ہے تو یہ تو ہر حامی و مخالف تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں سب سے بڑی ملک گیر تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ ہے۔ کوئی دوسری طلبہ تنظیم نہ تو اتنی منظم ہے اور نہ ہی اتنے جوان جمع کرسکتی ہےجس طرح وہ سالانہ اجتماع کی صورت میں کرتی ہے۔یہ تنظیم کسی اورکو نہیں بلکہ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتی ہے۔ مثالیں طیب اردگان کی دی جاتی ہیں لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ طیب اردگان بنیادی طور پر جماعت اسلامی کی سوچ کے آدمی ہیں ۔ وہ گلبدین حکمت یار کی زیر عیادت افغان جہاد میں حصہ بھی لے چکے ہیں اور اپنے آپ کو پاکستان کے اندر نظریاتی طور پر جماعت اسلامی سے جوڑتے ہیں۔ پھر پا کستان کا طیب اردگان بننے کی امید کسی اور کے بجائے سراج الحق سے کیوں نہ وابستہ کی جائے؟ پلڈاٹ (PILDAT) مغربی ممالک کے تعاون سے جمہوریت کے فروغ کے لئے کام کرنے والا مستند تھنک ٹینک ہے، ہر سال اپنی رپورٹ میں جماعت اسلامی کو پارٹی کے اندر جمہوریت کےلحاظ سے بہترین پارٹی قرار دیتی ہے۔ ابھی کل ہی اس نے پارلیمانی سال 16-2015 کی کارکردگی رپورٹ جاری کی ہے جس میں قومی اسمبلی کے اندر اور ممبران کی حاضری اور دیگر کارکردگی کے حساب سے جماعت اسلامی کو سب سے بہتر جبکہ پی ٹی آئی کو بدترین جماعت قرار دیا گیاہے۔
سوال یہ ہے کہ ان سب کچھ کے باوجود جماعت اسلامی کیوں نظر انداز ہورہی ہے اور میڈیا پر صرف ایک جماعت کا غلغلہ کیوں ہے؟ دعویٰ کیا جاتا ہے سیاست کے اندر وراثت کی ناپاک روایت کے خاتمے کا۔ اب جب بچے پاکستان میں ہی نہیں تو کس کو عہد ے دلوا دیں۔ نچلی سطح پر دیکھیں تو معاملہ وہی پی پی پی اور مسلم لیگ والا ہےلیکن کسی جماعت میں اس خباثت کا شائبہ تک نہیں تو وہ جماعت اسلامی ہے۔ ایسا نہیں کہ مولانا مودودیؒ کی اولاد نہیں تھی یا منور حسن اور قاضی حسین احمد خاکم بدہن لاوارث تھے لیکن یہاں بھی کراچی کے فقیر سید منور حسن امیر بن جاتے ہیں اور کبھی افغانستان کی سرحد سے متصل مسکینی گاؤں کے غریب سراج الحق کے سر پر امارت کا تاج رکھا دیا جاتا ہے ۔
سوال یہ بھی ہے کہ پھر کیوں ایک مخصوص شخص کو زرداری اور نواز شریف کے مقابلے میں واحد آپشن قرار دیا جاتا ہے اور سراج الحق کو نہیں ۔ ان کا نہ تو میاں نواز شریف کے ساتھ مک مکا ہے نہ آصف زرداری کے ساتھ ۔ ان کا نام تو نہ پاناما میں آیا ہے اور نہ ہی ان کے ارگرد آف شور اکاؤنٹس رکھنے والے اور دوسری طرف کرپٹ کھڑے ہوتے ہیں۔ نہ ان کے اثاثے بیرون ملک ہیں اور نہ ہی بچے لندن میں ہیں۔ پھر کیا سراج الحق کو یہ مقام اس لئے نہیں دیا جارہا کہ ان کی داڑھی ہے، یا اس لئے کہ وہ تقریر کرتے وقت گالم گلوچ سے کام نہیں لیتے، یا اس لئے کہ وہ مخصوص قوتوں کا آلہ کار بننے کے بجائے آئین اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ جلسے جلوسوں میں تو جماعت اسلامی کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا لیکن کیا وہ میڈیا کی توجہ اس لئے حاصل نہیں کرپاتے کہ ان میں ناچ گانے کے بجائے قال اللہ اور قال الرسولؐ پر زور دیا جاتا ہے۔ یا اس توجہ کے لئے ضروری ہے کہ جماعت اسلامی کے اجتماعات اور جلسوں میں جہاں شرکت کے باوجود خواتین کو احترام ملتا ہے، وہاں بھی خواتین کے ساتھ بدتمیزیاں شروع ہوجائیں۔اس تجزے اور تقابل کا مطلب ہر گز نہیں کہ سراج الحق کی ذات اور ان کی جماعت خامیوں سے پاک ہے۔ میں ان کی ذات پر مسلسل تنقید کی ہے اور کرتا رہوں گا ۔ جماعت اسلامی کی ساخت سے بھی اور پالیسوں سے بھی اختلاف کیا ہے اور مزید شدید کے ساتھ کرتا رہوں گا لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جماعت اسلامی کی موجودہ قیادت اصلاح کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔ تشویش مجھے اس بات کی ہے کہ پاکستان کا لبرل میڈیا اپنے رویے سے جماعت اسلامی کو یہ سبق دے رہا ہے کہ وہ آئین و قانون کے بجائے تشدد اور دھرنوں کی طرف مائل ہوجائے۔ یا پھر ماضی کی طرح دوبارہ مخصوص قوتوں کا مہرہ بننے پر آمادہ ہوجائے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر جماعت اسلامی اور جے یو آئی جیسی جماعتیں دھرنوں پر اتر آئیں تو ہم کلین شیوڈ ، اسکرپٹڈ اور مخلوط دھرنوں کو بھول جائیں گے اور اگر انہوں نے قانون ہاتھ میں لے کر شہروں کو بند کر نے کی ٹھا ن لی تو پھر لوگ دیکھیں گے کہ شہر کیسے بند کئے جاتے ہیں ۔ آخر کچھ تو انصاف سے کام لینا چاہئے۔
تحریر : سلیم صافی
بشکریہ روزنامہ جنگ2016-10-22