16/12/2022
ترازو ذندگی ہے۔
میں نے تاریخ اور مذہب کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے جتنا بھی مطالعہ کیا ہے ، جتنے بھی اسکالرز کو پڑھا اور سنا ہے ،قطع نظر اپنی علمی کم مائیگی اور کم وُسعتِی ، میں اس نقطے پر پہنچا ہوں کے مر کر بھی امر وہی ہوئے ہیں جنہوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔۔۔چند ٹکوں کے بھاؤ بک جانے والوں کو تاریخ کبھی سنہرے حروف میں یاد نہیں رکھتی،
،وہ جو کہ خلق خدا کو نقارہ خدا نہیں سمجھتے،اور وہ جو اس عارضی زندگی کے چھن جانے کے خوف سے گلے میں غلامی اور اور ضلالت کا طوق ڈال کر جینے کے لیا خود کو آمادہ کر لیتے ہیں۔۔۔تاریخ ایسے لوگوں کو کبھی اپنے لوحِ محفوظ میں جگہ نہیں دیتی۔۔۔
تاریخ عالم خود گواہ ہے کہ اس نے بس انہی کو اپنے ماتھے کا جھومر بنایا ہے جو بکے نہیں،جو جھکے نہیں،جو ڈرے نھیں، جو ہٹے نہیں، کرنل احسن ذیدی اس کی مثال آپ ہیں۔
ووٹ صرف ترازو کا۔