کھری ڳالھ

کھری ڳالھ کھری گالھ – سچائی کی آواز۔ صحت، تعلیم اور تعمیری سوچ کے فروغ کا ایک عوامی پلیٹ فارم۔
ڈاکٹر محمد عثمان خان
(284)

چونسے دے اختتامی مرحلے۔لھانے دے بعد ایندا آپڑاں مزہ ہے
04/08/2026

چونسے دے اختتامی مرحلے۔لھانے دے بعد ایندا آپڑاں مزہ ہے

ہے محبت حیات کی لذتورنہ کچھ لذتِ حیات  نہیںکیااجازت ہے ایک بات کہوں؟وہ ، مگر ،  خیر،   کوئی بات نہیں😍
04/08/2026

ہے محبت حیات کی لذت
ورنہ کچھ لذتِ حیات نہیں
کیااجازت ہے ایک بات کہوں؟
وہ ، مگر ، خیر، کوئی بات نہیں
😍

04/08/2026

بابا جی نے بتایا کہ بیٹا دو باتیں ہمیشہ یاد رکھنا
پہلی بات تو یہ کہ کسی کو بھی پوری بات کبھی نہیں بتانی
دوسری
۔
۔
😊

یار پچھلے ٹائر اچ ہوا بھر چھوڑاستاد :ہوا دا فائدہ کوئنی،کوکا لگا کھڑے،پنچر (پنکچر )لاونڑا پوسیمیں: اچھا گودا لا ڈےتھوڑی ...
04/08/2026

یار پچھلے ٹائر اچ ہوا بھر چھوڑ
استاد :ہوا دا فائدہ کوئنی،کوکا لگا کھڑے،پنچر (پنکچر )لاونڑا پوسی
میں: اچھا گودا لا ڈے
تھوڑی دیر بعد جوان ٹائر سمیت میڈو آگئے
سئیں ہک پنچر بیا وی ہے ۔بیا کوکا لگا کھڑے
میں آکھیئے لاڈے سئیں بیا پنچر
میں گاڈی توں لہھ کے ٹائر ڈیکھنڑ گیاں تاں جوان مزید ڈو کوکے ڈکھا ڈتن۔اہدے ڈو پنکچر بے وی ہن
میں آکھیئے لاڈے ڈو بے پنچر ۔۔۔ پر ہک گالھ ڈسا
اہدے جی سئیں
میں آکھیئے جڈاں پنچر ودھدن ویندے دل ای تاں خوش تھیندا ویندا ہوسی تیڈا 😊
اہدے کائنا سئیں ساکوں کوئی فیدہ کائنی اے کمپنی کوں فیدہ اے

اسلام آباد اچ اے سرائیکی نوجوان اے ۔شریف آدمی اے،میں اکثر ہیں کولوں انداں
پر اج کوکے ڈھیر کڈھ ڈتن سی😅

ملائشیا میں ناشتہتھوڑے سے چاول اوپر دال،ابال انڈہ، دو ٹماٹر  اور تین چار مالٹے کے سلائس۔ساتھ رکھا شربت روح افزا یا جام ش...
04/08/2026

ملائشیا میں ناشتہ
تھوڑے سے چاول اوپر دال،ابال انڈہ، دو ٹماٹر اور تین چار مالٹے کے سلائس۔ساتھ رکھا شربت روح افزا یا جام شیریں نہیں بلکہ گلاب کے پتوں کا شربت ہے۔ہمارے ہاں لال شربت چینی سرخ رنگ اور روہ کیوڑہ ایسنس سے بنے ہوتے ہیں جس میں کوئی غذائیت نہیں ہوتی جبکہ گلاب روح ےک ٹھنڈک، سکون اور تسلین دیتا ہے اس میں جسم کے زہریلے اور فاسد مادے ختم کرنے کے اثرات بھی ہوتے ہیں۔
نہ پراتھے نہ گھی تیل میں تیرتے سالن۔ غذائیت کے ساتھ معدہ بھی خوش جسم بھی خوش اور روح بھی
کیسا لگا ناشتہ؟

دوستو کیا آپ کو باجرے کی روٹی پسند ہے؟یہ درست ہے کہ آجکل کی خواتین ہماری بڑی بوڑھیوں کی طرح باجرے کی روٹی نہیں پکا سکتیں...
03/08/2026

دوستو کیا آپ کو باجرے کی روٹی پسند ہے؟
یہ درست ہے کہ آجکل کی خواتین ہماری بڑی بوڑھیوں کی طرح باجرے کی روٹی نہیں پکا سکتیں مگر جیسی بھی بنا لیں ہے تو باجرے کی۔
خیر نئی نسل تو صرف گندم اور پراٹھے کی شوقین ہے،چونکہ گھر میں پکتی ہی گندم ہے۔
حیرت انگیز تو طور پر باجرے کے بارے میں لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ یہ گرم اور بھاری ہے۔حالانکہ یہ گلوٹن فری زود ہضم اور انتہائی طاقتور غذائی اجزا پر مشتمل ہے،
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر آپ توانائی سے بھرپور اور وزن کم کرنے میں معاون خوراک چاہتے ہیں تو بھی باجرہ اور صحت بڑھانا چاہتے ہیں تو بھی باجرہ۔کیونکہ اس کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ گندم کی طرح وقت سے پہلے بھوک کا احساس نہیں دلاتی،شوگر کنٹرول کرنے کے لیئے بھی چنے کا آٹا اور باجرہ کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔کیونکہ یہ گندم کی طرح فوری خون میں شامل ہوکر گلوکوز میں اضافے کا سبب نہیں بنتا۔
میں تو ہفتے میں کم ازکم دو مرتبہ باجرے کی روٹی کی فرمائش کرتا ہوں۔آپ نے کب کھائی تھی؟

آپ اس وقت سعودی عرب کے کس شہر میں رہتے ہیں؟صرف اپنے شہر کا نام لکھیں
03/08/2026

آپ اس وقت سعودی عرب کے کس شہر میں رہتے ہیں؟
صرف اپنے شہر کا نام لکھیں

03/08/2026

شرطاں۔۔۔
جڈاں وی ناشاد آویں ساڈو انہاہیں شرطیں دے نال آویں

اسلام آباد میں کیفیٹریا کا تجربہ اور انویسٹمنٹ رکھنے والوں کے لیئے سنہری موقع
03/08/2026

اسلام آباد میں کیفیٹریا کا تجربہ اور انویسٹمنٹ رکھنے والوں کے لیئے سنہری موقع

قوموں کا زوال اچانک نہیں آتا…!سنیے، زوال کبھی دروازہ کھٹکھٹا کر نہیں آتا۔ وہ برسوں پہلے، ہماری چھوٹی چھوٹی عادتوں میں گھ...
03/08/2026

قوموں کا زوال اچانک نہیں آتا…!

سنیے، زوال کبھی دروازہ کھٹکھٹا کر نہیں آتا۔ وہ برسوں پہلے، ہماری چھوٹی چھوٹی عادتوں میں گھر بنا لیتا ہے، اور جس دن ہمیں نظر آتا ہے، اس دن قصہ ختم ہو چکا ہوتا ہے۔

بہادر شاہ ظفر کی زندگی اسی سچائی کی سب سے دردناک تصویر ہے۔ جس تخت پر کبھی مغلوں کی عظمت جھلکتی تھی، اسی تخت کا آخری وارث، اپنے وطن سے دور، ایک اجنبی سرزمین پر آخری سانسیں لے رہا تھا۔ نہ اقتدار، نہ خاندان، نہ وطن، کچھ بھی ساتھ نہ رہا۔ انہی دنوں ان کی زبان سے نکلے یہ الفاظ آج بھی دل چیر دیتے ہیں:

"لگتا نہیں دل مرا اُجڑے دیار میں…"

اور پھر وہ سطریں، جنہیں پڑھتے ہی درد کا منظر سامنے آ جاتا ہے:

"کتنا ہے بدنصیب ظفر، دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں۔"

یہ صرف ایک بادشاہ کی کہانی نہیں۔ یہ ایک پوری سلطنت کے زوال کی چیخ ہے، جو صدیوں کی غفلت کے بعد نکلی۔

اور تاریخ ہمیں انگریزوں اور مغلوں کا وہ تقابل بھی دکھاتی ہے، جو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایک طرف انگریز افسر تھے: فجر کے وقت جاگ اٹھتے، ورزش اور ڈرل کے لیے نکل جاتے، وقت پر دفتر پہنچتے، اور دوپہر ہوتے ہوتے دن کے اہم ترین سرکاری معاملات نمٹا چکے ہوتے۔ اور عین اسی گھڑی، جب وہ اپنے دوپہر کے کھانے کی تیاری کر رہے ہوتے، لال قلعے میں شاہی محل کا ابھی ناشتہ شروع ہو رہا ہوتا۔

یہی چھوٹا سا فرق، آہستہ آہستہ، انتظامی صلاحیت میں، فیصلہ سازی میں، اور آخرکار پوری ریاستی طاقت میں بدل گیا۔ انگریز کی صبح، محنت اور منصوبہ بندی سے شروع ہوتی، جبکہ محل کی صبح، آرام اور شاہانہ غفلت سے۔ اور تاریخ نے فیصلہ اسی کے حق میں دیا جس نے وقت کی قدر کی۔

آج بھی جب دنیا کے کامیاب ترین ممالک کو دیکھیں، تو ان کی ترقی کا راز کوئی معجزہ نہیں۔ جاپان میں ٹرین ایک منٹ لیٹ ہو جائے تو کمپنی باقاعدہ معذرت نامہ جاری کرتی ہے۔ جرمنی میں وقت کی پابندی کوئی عادت نہیں، قومی وقار کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں گھڑیاں انسانوں کے مطابق نہیں، انسان گھڑیوں کے مطابق چلتے ہیں۔

اور ذرا ان کے روزمرہ معمول کو دیکھیے۔ عام طور پر یہ لوگ صبح پانچ سے چھ بجے کے درمیان بیدار ہو جاتے ہیں، ساڑھے چھ سے سات بجے تک ناشتہ کر چکے ہوتے ہیں، اور دن کا آغاز پوری توانائی کے ساتھ ہو چکا ہوتا ہے۔ رات کا کھانا وہ شام سات سے آٹھ بجے کے درمیان کھا لیتے ہیں، اور رات دس سے گیارہ بجے تک بستر پر جا چکے ہوتے ہیں، تاکہ اگلی صبح پھر اسی نظم کے ساتھ اٹھ سکیں۔ یہی وہ خاموش ڈسپلن ہے جو نسل در نسل ان کی ترقی کی بنیاد بنا۔

یہی وہ چار ستون ہیں جن پر ان کی عمارت کھڑی ہے: وقت کی پابندی، ذمہ داری، دیانت داری، اور مسلسل محنت۔

اسلام نے بھی یہی سبق سکھایا۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں نے صرف دعا کے ہاتھ نہیں اٹھائے — نظم ضبط،محنت اور وقت پر پہلے اپنا کام کیا تو پھر فرشتے نصرت کو اترے

تو آئیے، آج خود سے یہ سوال ضرور پوچھیں:

کیا ہم واقعی وقت کی قدر کرتے ہیں؟
کیا ہم اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے نبھاتے ہیں؟
کیا ہم اپنی نئی نسل کو نظم و ضبط اور محنت کی عادت دے رہے ہیں، یا صرف الفاظ سکھا رہے ہیں؟

یاد رکھیں
اگر آپ کا ناشتہ دوپہر کے کھانے کے وقت ہو رہا ہے، تو سمجھ لیجیے آپ زوال کے راستے پر چل نکلے ہیں۔

کھری گالھ — ڈاکٹر عثمان دے نال

Address

Greens Avenue, Park Road
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when کھری ڳالھ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to کھری ڳالھ:

Shortcuts

Share

Category