03/07/2020
آرمی پبلک اسکول واقعہ کے بعد پشاور میں آل پارٹیز کانفرنس تھی جس میں پاکستان کی تقریبا سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے شرکت کی اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نواز شریف آصف زرداری محمود خان اچکزئی پرویز الہی عمران خان سمیت سارے سیاستدان بیٹھے تھے اس وقت کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے سب کی موجودگی میں عمران خان کو مخاطب کرکے کہا خان صاحب آپ نے 126 دن دھرنا دیا آپ نے تمام سیاستدانوں کو چور ڈاکو کہا گالیاں بھی دی جھوٹے الزامات بھی لگائے ہمیں آپ سے کوئی گلہ نہیں لیکن آج آپ نے مولانا فضل الرحمان کی پرسکون تلاوت سنی آپکو تھوڑی سی تو شرم آئی ہوگی کہ اتنے بڑے مولوی جس کے لاکھوں علماء مرید ہو ان کے بارے ڈی چوک پر اتنا جھوٹ بولا ؟؟
اے پی سی کے تمام میمبران گواہ ہے عمران خان کا سر شرم سے جھک گیا اور سارا وقت سر اٹھا کر کسی سے بات بھی نہ کرسکھا ۔۔ سیاستدان مولانا کے بارے میں جو مرضی بولے مجھے پرواہ نہیں ادارے جتنے مرضی الزامات لگائے مجھے پرواہ نہیں عوام جتنی گالیاں دے انکی اپنی تربیت ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ اسرائیل انڈیا سمیت پانامہ لیکس وکی لیکس نیب ایف آئی اے اور تمام انٹلیجنس اداروں نے زور لگادیا کہ فضل الرحمان کے خلاف بس ایک کرپشن کا کیس ثابت ہوجائے تو ہم اسکا نام پاکستان کی تاریخ سے مٹادینگے لیکن 1980 سے لیکر 2020 تک وہ ناکام و نامراد رہے قوم چاہے اس ہیرے کی قدر نہ کرے لیکن تاریخ کے اوراق میں مفتی محمود کا نام بھی ایک پاک سیاسی لیڈر کا ہے اور انشاءاللہ مولانا فضل الرحمان کا نام بھی پاکستان کے پاک سیاستدانوں میں لکھا جائے گا اور کوئی مائی کا لال انشاءاللہ میرے قائد پر کوئی ایک کرپشن کا کیس ثابت نہیں کرسکھے گا ۔۔
۔۔۔۔سعدی کے قلم سے۔۔۔