Pmln force punjab

Pmln force punjab intertainment

30/08/2026
مصر کا دل بدل گیا: جے-10سی اور جے-16 کا اڑتا ہوا جادو دیکھ کر امریکی ایف-16 سے ہمیشہ کے لیے توبہ! ہوش اڑا دینے والے انکش...
30/08/2026

مصر کا دل بدل گیا: جے-10سی اور جے-16 کا اڑتا ہوا جادو دیکھ کر امریکی ایف-16 سے ہمیشہ کے لیے توبہ! ہوش اڑا دینے والے انکشافات

خصوصی تحقیقاتی رپورٹ: مشرق وسطیٰ کے آسمانوں پر اس وقت ایک ایسا تلاطم برپا ہو چکا ہے جس نے واشنگٹن کے ایوانوں میں صف ماتم بچھا دی ہے۔ مصر کی فضائیہ، جو دہائیوں سے امریکی جنگی طیاروں پر انحصار کرتی چلی آ رہی تھی، نے جب چینی شاہکاروں — جے-10سی اور طاقتور جے-16 — کی اڑان اور جنگی صلاحیتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، تو امریکی ساختہ ایف-16 وی (F-16V) کے لیے ان کا سارا شوق کافور ہو گیا۔ کیا امریکہ کا مشرق وسطیٰ پر پرانا تسلط ہمیشہ کے لیے ختم ہونے والا ہے؟ اور کیوں مصر اب مشرقی ٹیکنالوجی کو اپنے آسمانوں کا نیا محافظ بنانے کا سوچ رہا ہے؟

پہلا باب: "تہذیبوں کے عقاب-2026" — مشرق وسطیٰ میں تاریخ کا انوکھا ملاپ
حالیہ دنوں میں چین کی فضائیہ نے غیر ملکی افواج کے ساتھ مشترکہ مشقوں کا ایک ایسا طوفان برپا کر رکھا ہے جس نے دنیا کو دنگ کر دیا۔ تھائی لینڈ کے ساتھ "ایگل اسٹرائیک" اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ "فالکن شیلڈ" کے بعد، سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی مشق مصر کے ساتھ ہونے والی "تہذیبوں کے عقاب-2026" (Eagle of Civilization-2026) ہے۔

جے-16 کی مشرق وسطیٰ میں پہلی دستک: یہ پہلا موقع تھا جب چین کے خوفناک اور طاقتور جے-16 (J-16) جنگی طیاروں نے مشرق وسطیٰ کی سرزمین پر قدم رکھا اور پہلی بار چینی فضائیہ کا واسطہ فرانسیسی ساختہ رافیل (Rafale) طیاروں سے پڑا۔

قریبی فاصلے سے طاقت کا مشاہدہ: پچھلے سال مصر نے جے-10سی کا تجربہ کیا تھا، اور اس سال دونوں ملکوں نے اپنے بہترین نان اسٹیلتھ طیاروں کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا۔ مصری پائلٹوں کے لیے، جو اب تک صرف مغربی طیاروں کے گیت گاتے تھے، چینی طیاروں کی پھرتی اور مہلک صلاحیتوں کو دیکھنا ایک ایسا سحر تھا جس نے ان کے روایتی فکری بت توڑ ڈالے۔

دوسرا باب: امریکہ کی مکاری اور مصر کی مجبوری کا ڈراما
مصر کی فضائیہ کا بنیادی ڈھانچہ طویل عرصے سے مغربی ہتھیاروں، خاص طور پر 218 ایف-16 اور 54 رافیل طیاروں پر انحصار کرتا رہا ہے۔ لیکن جب مصر نے روسی ایس یو-35 (Su-35) خریدنے کی کوشش کی، تو امریکہ نے اپنی تمام تر شیطانی طاقت لگا کر اس ڈیل کو ناکام بنا دیا۔

امریکہ کے تین گھناؤنے مقاصد: واشنگٹن کی طرف سے اس رکاوٹ کا مقصد صرف اور صرف روس کے عسکری کاروبار کو تباہ کرنا، اسرائیل کی فضائی برتری کو مشرق وسطیٰ میں ہر قیمت پر برقرار رکھنا، اور مصر کو ہمیشہ کے لیے اپنے اسلحے کا محتاج رکھنا تھا۔

ایف-16 وی اپ گریڈ کا فریب: روس سے مایوس ہو کر مصر کو مجبورا امریکہ سے اپنے پرانے ایف-16 طیاروں کو جدید ترین "ایف-16 وی" معیار پر لانے کی درخواست کرنا پڑی۔ لیکن امریکہ نے اس پر بھی لیت و لعل سے کام لیا اور ساتھ ہی وہ میزائل (جیسے AIM-120) دینے سے انکار کر دیا جن کی رینج 50 کلومیٹر سے زیادہ ہو۔ ایک ایسے دور میں جہاں جدید جنگیں سینکڑوں کلومیٹر دور سے لڑی جاتی ہوں، صرف 50 کلومیٹر کی مار والے طیارے کسی کھلौنے سے کم نہیں ہوتے۔

سوم باب: چینی پرندوں کا وہ جادو جس نے سوچ بدل دی
مصری فضائیہ کے لیے جے-10سی اور جے-16 کا تجربہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ جب مصری پائلٹوں نے دیکھا کہ جے-10سی کا ریڈار امریکی ایف-16 وی سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، اور اس کا پی ایل-15 (PL-15) میزائل 200 کلومیٹر سے زائد کے فاصلے پر دشمن کو ملیا میٹ کر سکتا ہے، تو ان کی آنکھیں کھل گئیں۔

جے-16 کی برتری: جے-16 کے پاس فیزڈ ارے ریڈار سسٹم اور اتنی زیادہ ہتھیار اٹھانے کی صلاحیت ہے جو ایف-16 جیسے ہلکے طیارے میں خواب و خیال میں بھی نہیں ہو سکتی۔

مغربی برتری کا بتاشہ: اس براہ راست آمنے سامنے کے مقابلے نے مصر پر یہ حقیقت آشکار کر دی کہ اب "مغرب ہی سب سے جدید ہے" کا نظریہ ایک جھوٹ بن چکا ہے۔ مشرق (چین) نے عسکری ٹیکنالوجی میں ایسی چھلانگ لگائی ہے جہاں امریکی پابندیاں اب اثر نہیں رکھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ مصر کا دل اب ایف-16 وی سے بالکل پھر چکا ہے۔

چہارم باب: عسکری نفسیات اور غلامی کی زنجیریں توڑنے کی تڑپ
اس جغرافیائی اور عسکری ڈرامے کے پس منظر میں انسانی نفسیات اور قوموں کی خودداری کے دو اہم پہلو نمایاں ہیں:

احساسِ محرومی اور بے بسی کا نفسیاتی بوجھ: جب کوئی ملک (جیسے مصر) اپنی دفاعی ضرورت کے لیے کسی سپر پاور (امریکہ) کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے اور بدلے میں اسے ذلت، سیاسی شرائط اور پرانے ہتھیار ملتے ہیں، تو اس کے اندر ایک گہرا نفسیاتی غصہ اور بغوات جنم لیتی ہے۔ مصر طویل عرصے سے اس بے بسی کا شکار تھا کہ وہ اپنی مرضی سے آسمان کا فیصلہ نہیں کر سکتا تھا۔

متبادل کی تلاش اور امید کا سفر: جب اچانک کوئی طاقت (چین) آپ کے دروازے پر آ کر اپنے جدید ترین طیارے آپ کے پائلٹوں کو دکھاتی ہے اور کہتی ہے کہ "ہم آپ کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں"، تو یہ چیز غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ملک کے لیے ایک ذہنی سکون اور نئی طاقت بن جاتی ہے۔ جے-16 کا مصر میں اترنا محض ایک مشق نہیں تھی، بلکہ یہ واشنگٹن کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ تھا۔

خاتمہ: ایک نئے اتحاد کا سورج
مصر اور چین کی یہ بڑھتی ہوئی قربت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا اب یک قطبی (Unipolar) نہیں رہی۔ جس طرح مصری فضائیہ نے امریکی دباؤ کو پس پشت ڈال کر چینی ٹیکنالوجی کا ذائقہ چکھ لیا ہے، وہ دن دور نہیں جب قاہرہ کے آسمانوں پر امریکی طیاروں کی جگہ چینی عقاب راج کرتے نظر آئेंगे۔

مصر کی اس تاریخی تبدیلی اور امریکی فضائی اجارہ داری کے خاتمے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا آنے والے وقت میں مشرق وسطیٰ کے ممالک مغربی ہتھیاروں کو خیرباد کہہ دیں گے؟ اپنے خیالات کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں!

کل ایک دکان سے بقایا لیتے ہوئے مجھے 20 روپے کا یہ نوٹ ملا۔ میں نے اسے غور سے دیکھا، انگلیوں کے درمیان گھمایا، اور کافی د...
29/07/2026

کل ایک دکان سے بقایا لیتے ہوئے مجھے 20 روپے کا یہ نوٹ ملا۔ میں نے اسے غور سے دیکھا، انگلیوں کے درمیان گھمایا، اور کافی دیر تک سوچتا رہا...
"یہ بیس روپے شاید کسی عام لین دین کا حصہ نہیں تھے، اس میں کسی اپنائیت کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔"
"لگتا ہے کسی بہن نے بھائی کی دی ہوئی چھوٹی سی خوشی سمجھ کر اسے مدتوں سنبھال کر رکھا ہوگا۔"
"مگر آج یہ میرے جیب میں آ گیا ہے، تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید کوئی بڑی مجبوری راستے میں آ کھڑی ہوئی تھی۔ شاید گھر میں کوئی ضرورت آن پڑی، شاید آنکھوں میں آنسو تھے اور ہاتھ خالی، تب ہی یہ نوٹ خرچ کرنا پڑا۔"
غریبی انسان سے آہستہ آہستہ سب کچھ چھین لیتی ہے، حتیٰ کہ وہ یادیں بھی، جو دل کے سب سے قریب ہوتی ہیں۔ 🥲🥲🥲🥀

امریکہ کی دنیا کو ہلا دینے والی عبرت ناک شکست۔۔۔۔۔۔مشرق وسطیٰ میں موجود 27 میں سے 11 فوجی اڈے مکمل خاکستر۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کی...
23/07/2026

امریکہ کی دنیا کو ہلا دینے والی عبرت ناک شکست۔۔۔۔۔۔
مشرق وسطیٰ میں موجود 27 میں سے 11 فوجی اڈے مکمل خاکستر۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت بھی ہر جنگ اپنی مرضی سے نہیں جیت سکتی۔مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی نے عالمی سیاست، عسکری حکمتِ عملی اور طاقت کے توازن پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے خون آشام اور بارود سے اَٹے ہوئے اکھاڑے میں اس وقت ایک ایسا قیامت خیز طوفان برپا ہے جس نے امریکی سپر پاور کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔
جنگی نقشوں اور پینٹاگون کے خفیہ اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو مشرق وسطیٰ میں قائم امریکہ کے 27 طاقتور فوجی اڈوں میں سے 11 اڈے مکمل طور پر تباہ اور ملیامیٹ ہو چکے ہیں۔
یہ وہ ہولناک حقیقت ہے جسے چھپانے کے لیے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے، مگر اب سچائی کا یہ سورج مغربی میڈیا کے پردوں کو چیر کر باہر آ چکا ہے۔

دنیا بھر کے کونے کونے میں آج ایک ہی سوال تڑپ رہا ہے اگر امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے، تو پھر وہ اتنی بڑی طاقت کے باوجود ایران کا بال بھی بیکا کیوں نہیں کر سکا۔

خامنہ ای کے صاحبزادے کی وہ چال جس نے خلیج فارس کو یرغمال بنا لیا۔اس ساری کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک طوفانی رات 1975ء میں ایران کے شہر مشہد میں شاہ پہلوی کی ظالم خفیہ پولیس (ساواک) نے علی خامنہ ای (جو بعد میں ایران کے سپریم لیڈر بنے) کے گھر پر دھاوا بولا اور انہیں گرفتار کیا۔ اس وقت ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کی عمر محض 6 سال تھی۔ وہ خوفناک رات اور بچپن کے وہ زخم تہران کی نئی قیادت کی نفسیاتی اور عسکری بنیاد بن گئے۔

28 فروری 2026ء کو امریکہ نے مذاکرات کے دوران دھوکہ دیتے ہوئے اچانک فضائی حملہ کیا اور آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کر دیا، تو اس احمقانہ" اقدام نے پوری ایرانی قوم کے برسوں کے دبیے ہوئے غصے کو ایک لاوا بنا کر پھاڑ دیا۔

اس کے بعد خلیج فارس کا جو حشر ہوا، اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیندیں اڑا دیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو مکمل طور پر بند کر کے دنیا کی سپلائی چین کی گردن مروڑ دی۔ امریکہ نے پہلے تو 60 روزہ فائر فائٹنگ اور معاہدے کا ڈراما رچایا، لیکن جب جولائی میں یہ معاہدہ ٹوٹا اور ایران نے اپنی شرائط پر ہرمز پر کنٹرول کا اعلان کیا، تو ٹرمپ کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔

جب خلیج فارس بند ہوا اور تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، تو ٹرمپ نے بوکھلاہٹ میں ایک ایسا شرمناک اور احمقانہ اعلان کیا جس نے ان کے تمام اتحادی عرب شہزادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ٹرمپ نے گزرنے والے ہر تجارتی اور تیل بردار جہاز سے کارگو کی کل مالیت کا 20 فیصد "پروٹیکشن منی" (حفاظتی ٹیکس) کے طور پر وصول کرنے کا مطالبہ کر ڈالا!

ذرا حساب لگائیے: ایک سپر ٹینکر جو 2 ملین بیرل تیل لے کر جاتا ہے، 80 ڈالر فی بیرل کے حساب سے اس کی مالیت 160 ملین ڈالر بنتی ہے۔ اس کا 20 فیصد یعنی 32 ملین ڈالر صرف ٹیکس کی مد میں مانگا جا رہا تھا—جبکہ ایرانی حوثیوں یا فورسز کی طرف سے مانگی جانے والی فیس اس سے دگنی سے بھی کم تھی۔ جب عرب شہزادوں اور عالمی منڈی نے اس کھلی لوٹ مار پر احتجاجاً بغاوت کی اور امریکی ٹریژری بانڈز کی قدر گرنے لگی ۔یعنی دنیا اب امریکی ڈالر اور بانڈز پر مزید بھروسہ کرنے کو تیار نہیں تھی، تو ٹرمپ کو اپنا یہ احمقانہ فیصلہ فوری طور پر واپس لینا پڑا۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ دنیا یہ کیوں سمجھتی ہے کہ امریکہ ایران کو ختم نہیں کر سکتا؟ اس کا جواب درج ذیل گہرے نفسیاتی اور اسٹریٹجک حقائق میں چھپا ہے:

امریکہ کے پاس جنگ لڑنے کے لیے اب وہ لامحدود وسائل نہیں رہے۔ مارچ کے مہینے میں صورتحال یہ تھی کہ امریکہ کو پولینڈ سے پیٹریاٹ میزائل ادھار مانگنا پڑے تھے، لیکن پولینڈ نے صاف انکار کر دیا۔ امریکہ میں پیٹریاٹ میزائلوں کی سالانہ پیداوار صرف 200 کے قریب ہے، جو ایران کے سستے ڈرونز اور میزائلوں کے صرف ایک دن کے حملے کے برابر ہے۔
امریکہ ہمیشہ سے اس خوش فہمی میں مبتلا رہا کہ وہ جنگیں لڑ کر دنیا کو لوٹ سکتا ہے اور اس سے اس کے ٹریژری بانڈز بکتے ہیں۔ لیکن اس بار ایران کے خلاف جنگ نے الٹا امریکی معیشت میں مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا ہے۔ امریکی عوام، جو مہنگائی اور بڑھتے ہوئے بلوں سے تنگ آ چکے ہیں، اب مزید جنگ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
امریکہ کا ٹوماہاک (Tomahawk) کروز میزائل 20 لاکھ ڈالر کا پڑتا ہے، جبکہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے سائیڈ ڈرونز اور میزائل صرف چند ہزار ڈالر میں تیار ہوتے ہیں۔ جب مہنگے ترین ہتھیار سستے ترین ہتھیاروں سے تباہ ہوں، تو معیشت اور نفسیات دونوں ٹوٹ جاتی ہیں۔
امریکہ نے ایران کے سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر عوام کی ہمت توڑنے کی کوشش کی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ہزاروں سالہ تہذیب رکھنے والی قومیں بمباری سے نہیں جھکتی ہیں۔ ایران کے عوام نے مصائب جھیلنے کے باوجود اپنی داخلی نظم و ضبط کو ٹوٹنے نہیں دیا، جس سے امریکی جارحیت کے تمام ہتھکنڈے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔
مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں کا خاکستر ہونا اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ اب وہ زمانہ بدل گیا جب امریکہ دنیا کے کسی بھی کونے میں جا کر من مانی کر سکتا تھا۔
خلیج فارس کا بند ہونا اور پیٹرو ڈالر کے نظام کا ہچکولے کھانا اس بات کا غماز ہے کہ سپر پاور اب اپنی ہی بچھائی ہوئی سازشوں کے جال میں بری طرح پھنس چکی ہے۔ ٹرمپ کے پاس اب اس دلدل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں بچا سوائے اس کے کہ وہ اپنی شکستِ فاش کو تسلیم کریے۔
جنگ کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ طاقت کے ساتھ ساتھ سفارت کاری، معیشت اور عوامی استحکام بھی عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ موجودہ حالات کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت مصدقہ معلومات اور مستند ذرائع کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

ایران نے امریکی فوج کی آسمان سے دیکھنے والی آنکھیں نوچ ڈالیں ہیں 🔴 جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے ۔۔۔ ائیر ڈیفنس سسٹم نے ...
11/07/2026

ایران نے امریکی فوج کی آسمان سے دیکھنے والی آنکھیں نوچ ڈالیں ہیں 🔴

جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے ۔۔۔ ائیر ڈیفنس سسٹم نے کئی درجن امریکی جنگی جہازوں کو تو گرایا ہی ہے لیکن ۔۔۔ اس وقت بڑا مسئلہ ۔۔۔ ان ڈرونز کا شکار ہو جانا ہے جن پر امریکی فوج کا بڑا انحصار تھا ۔۔۔

یہ ڈرون ۔۔۔ 34 گھنٹے مسلسل پرواز اور 7000 میل سفر سنگل فلائٹ میں طے کر سکتا ہے

اس کا کیمرہ 1 اعشاریہ 8 ارب پکسل کی تصویر کے ساتھ ۔۔۔ 100 مربع کلومیٹر کا علاقہ ایک ساتھ کوور کرتا ہے اور اس میں حرکت کرنے والی کوئی چیز بھی اس سے بچ کر نہیں جا سکتی ۔۔۔ کیونکہ کہ یہ ہیل فائر اور لیزر گائیڈڈ میزائلوں سے لیس بھی ہوتا ہے ۔۔۔🔴

لیکن کیا کریں ۔۔۔ بری قسمت

اب تک ایران کم از کم 30 (ایم کیو 9 رئیپر) ڈرونز گرا چکا ہے ۔۔۔ کل لاگت 900 ملین ڈالر سے زیادہ ۔

یہ ڈرونز اس جنگ کے لیے اتنے ضروری ہیں کہ امریکی محکمہ جنگ اب ان کی جگہ پرائیویٹ کمپنیوں سے سستے ڈرونز خریدنے پر مجبور ہے ۔۔۔ اور یہ اس سے بھی جلدی شکار ہو جائیں گے ۔۔۔ 🚩

یاد رہے کہ امریکی ترقی اور ٹیکنالوجی کا سفر 250 سال پرانہ ہے اور ایران کا سفر ابھی 47 سالہ ہے ۔۔۔ پھر بھی اس لیول پر مقابلہ کر کے ایران نے دنیا کو حیران کر دیا ہے ۔

ایران اس جنگ میں ایک طاقت بن کر ابھرا ہے ۔۔۔کیا آپ متفق ہیں ؟؟؟

Pmln force punjab

کیا آپ جانتے ہیں ؟برق لیزر گائیڈڈ میزائل پاکستان کا اپنا بنایا ہوا ائیرٹو گراؤنڈ میزائل ہے۔ پاکستان نے یہ میزائل ڈرونز ا...
07/07/2026

کیا آپ جانتے ہیں ؟
برق لیزر گائیڈڈ میزائل پاکستان کا اپنا بنایا ہوا ائیرٹو گراؤنڈ میزائل ہے۔
پاکستان نے یہ میزائل ڈرونز اور ہیلی کاپٹر سے فائر کرنے کے لیے بنایا ہے،
یہ 2015 میں سروس میں شامل ہوا،
اور اب تک دہشت گردوں کے خلاف کئی لڑائیوں میں حصہ لے چکا ہے، کئی اہم ٹارگٹس کو مار چکا ہے،
اس میزائل کا پہلا استعمال 2015 میں آپریشن ضرب عضب میں ہوا جس میں اس میزائل کو پاکستان کے اپنے بنائے ہوئے بُراق ڈرون سے فائر کیا جاتا رہا ہے،، اور اس نے اپنی پہلی لڑائی میں ہی 3 ہائی ویلیو ٹارگٹس کو نشانہ بنایا تھا،
اس میزائل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ لیزر گائیڈ میزائل ہے،

لیزر گائیڈڈ میزائل کیسے کام کرتے ہیں؟

لیزر گائیڈڈ میزائل کا کام کرنے کا طریقہ بہت سادہ ہے۔ سب سے پہلے کسی فوجی، ڈرون، ہیلی کاپٹر یا فائٹر جیٹ کے ٹارگٹنگ پوڈ سے ہدف پر ایک خاص قسم کی لیزر شعاع ڈالی جاتی ہے۔ یہ لیزر آنکھ سے نظر نہیں آتی بلکہ ہدف سے ٹکرا کر واپس منعکس ہوتی ہے۔
جب میزائل لانچ کیا جاتا ہے تو اس کے اگلے حصے میں موجود لیزر سیکر (Laser Seeker) اس منعکس ہونے والی لیزر کو تلاش کرتا ہے۔ میزائل کا کمپیوٹر مسلسل یہ حساب لگاتا رہتا ہے کہ لیزر کس سمت سے آ رہی ہے، پھر اپنے چھوٹے کنٹرول فنز کی مدد سے بار بار اپنا رخ درست کرتا رہتا ہے۔

جب تک لیزر ہدف پر برقرار رہتی ہے، میزائل اسی کو فالو کرتے ہوئے سیدھا ہدف تک پہنچ جاتا ہے اور انتہائی درستگی کے ساتھ اسے نشانہ بنا دیتا ہے۔

پاکستان کا یہ میزائل کھڑے ہوئے اور موونگ دونوں ٹارگٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے،
اس کی رینج 8 کلومیٹر تک ہے، اور سپیڈ ماک 1۔1 ہے،
پاکستان نے اس میزائل کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اس کے اور بھی ورژن بنائے ہیں،

برق 50p - جو کہ 12 کلومیٹر کی رینج تک جا سکتا ہے،، اس میں 20 کلوگرام کا وارہیڈ ہے۔۔

برق45p یہ 12 کلومیٹر کی رینج رکھتا ہے، 10 کلو گرام وارہیڈ

برق 25gیہ بھی 3 سے 12 کلومیٹر کی رینج رکھتا ہے، اور 9 کلوگرام وارہیڈ کے ساتھ،
ان تمام ورژن کے ٹارگٹس کے لحاز سے رول مختلف ہیں۔۔

عالمی معیار کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ میزائل امریکا کے ہیل فائر 114 جیسے میزائل کے برابر کا میزائل تصور کیا جاتا ہے۔۔

03/07/2026

امریکہ ایران تنازع کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کے طویل مدتی اثرات۔ یہ پاکستان کی طرف سے اٹھایا گیا ایک بہترین اقدام ہے۔ امید ہے کہ پاکستان کی ثالثی سے تنازع کا ممکنہ حل خطے، دنیا اور پاکستان کے لیے درج ذیل بڑے طریقوں سے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ سب سے پہلے آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا، تیل اور گیس لے جانے والی جہاز رانی کی خدمات دوبارہ شروع ہو جائیں گی اور جنگ سے متاثرہ تیل/گیس کی بلند قیمتیں نیچے آئیں گی اور مستحکم ہوں گی اور دنیا، جنوبی ایشیا/مشرق وسطیٰ اور پاکستان میں مہنگائی عام آدمی کے فائدے کے لیے معمول کی سطح پر آ جائے گی۔ دوسرے یہ کہ ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا بھی ازالہ کیا جائے گا اور خلیجی ممالک اور ایران کے تعلقات معمول پر آجائیں گے۔ اور پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا آسان ہو جائے گا۔ تیسرا یہ کہ امریکہ ایران تعلقات بھی معمول پر آجائیں گے اور ایران کے جوہری پروگرام کی وجہ سے امریکی پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔ اس سے پاکستان کو بہت زیادہ معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ جہاں پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت فروغ پائے گی، پاکستان گیس پائپ لائن کا اپنا حصہ بھی مکمل کر سکے گا، جس سے پاکستان کے توانائی کے مسائل، خاص طور پر صنعت، چھوٹے کاروبار اور گھریلو استعمال کے لیے بڑے پیمانے پر حل ہوں گے۔ چہارم، برآمدی صنعت کو بہت سستی گیس کی فراہمی سے برآمدی سامان کی پیداواری لاگت کم ہو جائے گی، اس طرح وہ بین الاقوامی سطح پر مسابقتی بن جائیں گی۔ جہاں اس سے پاکستان کو اس کی صنعتی پیداوار میں تیزی لاتے ہوئے بڑا فائدہ پہنچے گا، وہیں پاکستان کی برآمدات اس کی درآمدات سے کہیں زیادہ بڑھ جائیں گی، اور وہ اپنے غیر ملکی قرضوں، ملکی قرضوں کی ادائیگی اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں اپنی ذمہ داریوں کو کم کرنے کے لیے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو ڈھیر کر سکے گا۔ مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی معیشت گزشتہ دہائیوں کے مقابلے بہت زیادہ رفتار سے ترقی کرے گی۔ پانچویں، ایران کے ساتھ پاکستان کے بہت بہتر تعلقات دونوں ممالک کو اپنی باہمی تجارت کو بڑھانے کے قابل بنائیں گے، اس طرح دونوں ممالک میں اپنے عوام کے فائدے کے لیے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ نیز، دونوں ممالک اپنے باہمی فائدے کے لیے خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیں گے۔

Address

Islamabad

Telephone

+923005517421

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pmln force punjab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share