25/07/2024
مبارک احمد ثانی قادیانی کیس کی ریویو پٹیشن میں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ محفوظ کیا تھا وہ آج 24 جولائی 2024 ء کو سنایا گیا۔ فیصلہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین ، امتناع قادیانیت آرڈیننس اور پانچ رکنی شیخ ظہیر الدین بنام سرکار 1993ء کے سراسر خلاف ہے۔ تحریف شدہ قرآن پاک کی اشاعت کے فیصلے کو بحال رکھا گیا ہے، جو قادیانیت نوازی پر مبنی ہے۔ ریویو پیشن میں جو شقیں زیر بحث تھیں ان کی سرے سے وضاحت نہیں کی گئی بلکہ سپریم کورٹ کے 1993 ء کے فیصلے پر نوٹ لگاتے ہوئے کہا گیا کہ قادیانیوں کو اپنے اداروں ، گھروں ، عبادت خانوں اور چاردیواری میں ارتدادی سرگرمیوں کا حق حاصل ہے
اس فیصلہ سے قادیانیوں کو قرآن وسنت اور آئین پاکستان کے خلاف اسلام اور پیغمبر اسلام کی اہانت کرنے کی کھلی آزادی دی گئی ہے، جو کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی ۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ بات با خوبی جانتے ہیں کہ جرم چار دیواری میں بھی جرم ہے۔ بغاوت چار میں بھی بغاوت ہے ۔ چوری ، بدکاری اور قتل وغیرہ چار دیواری میں بھی جرم ہیں ۔
کیا قتل، چوری، بدکاری اور دیگر جرائم چار دیواری میں جرم نہیں ہوتے اور کیا چار دیواری میں ہونے والے جرائم پر
مختلف ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے فیصلے موجود نہیں ہیں ؟ جب یہ جرائم چاردیواری میں جرم تو توہین رسالت ، انکار ختم نبوت اور اسلام سے بغاوت جرم کیوں نہیں؟
سپریم کورٹ کے اس متنازعہ فیصلہ سے پوری امت ہیجان کی کیفیت میں ہے۔،💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔