22/03/2026
خون دینے والے ہیرو ہیں
Blood Donors are Heroes
خاموش کمروں میں جہاں ہمت بہتی ہے،
نہ کوئی شور، نہ کوئی داد رہتی ہے،
اک سادہ سا عمل، اک رضا کی راہ،
کسی اجنبی کے درد کی بنتی ہے پناہ۔
نہ زرہ پہنی، نہ تلوار اٹھائی
مگر ہمت نے ہر حد پار کرائی،
اندھیروں میں جب امید کم ہو جائے،
یہ اپنا حصہ روشنی کا دے جائے۔
اک قطرۂ خون، مگر کتنی تاثیر
بن جائے کسی کی زندگی کی تقدیر،
اس لمحے میں دلوں کا ہوتا ہے ملاپ،
اور لوٹ آتی ہے سانسوں میں پھر سے تاب۔
نہ شہرت کی چاہ، نہ نام کی طلب
نہ کوئی صلہ، نہ کوئی مطلب،
ان کی پہچان ہے دھڑکنوں میں چھپی،
دوسری زندگی کی خوشی میں بسی۔
بہادری چھپی ہے چھوٹے کاموں میں
دوسروں کے لیے جینے کے ارمانوں میں،
ہر ڈونر میں اک روشنی سی ہے،
جو انسانیت کی اصل کہانی ہے۔
سلام ان سب کو جو دیتے ہیں ساتھ
بنا دیتے ہیں آسان زندگی کی بات
تمہاری قربانی، تمہاری مہربانی—
ہے انسانیت کی سب سے بڑی نشانی۔