22/08/2026
مفتی محمود مرکز پشاور میں ایک پروقار تقریب کے دوران جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمن، سابق گورنر حاجی غلام علی، سینیٹر مولانا عطاء الحق درویش اور ضلعی امیر مولانا امان اللہ حقانی کے دستِ مبارک سے 40 لیپ ٹاپس باصلاحیت اور مستحق طلبہ و طالبات میں تقسیم کیے گئے۔
یہ محض لیپ ٹاپس کی تقسیم نہیں، بلکہ ہمارے نوجوانوں کے ہاتھ میں علم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور روشن مستقبل کے امکانات کی کنجی دینا ہے۔
اس پروگرام میں پولیس شہداء کے 5 بچے بھی شامل تھے، جبکہ وانا، جنوبی وزیرستان کے 5 طلبہ بھی اس حوصلہ افزائی کا حصہ بنے؛ وہ علاقہ جو طویل عرصے سے دہشت گردی کے شدید اثرات سے متاثر رہا ہے۔
پشاور کے باصلاحیت طلبہ کو بھی اس پروگرام میں شامل کیا گیا، جن میں جامعہ عثمانیہ کے 2 ایسے طلبہ بھی شامل ہیں جنہوں نے بورڈ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔
یہ ایک قابلِ تقلید سوچ ہے کہ ہم ہر معاملے میں حکومتوں کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنی استطاعت کے مطابق آگے بڑھیں اور بے سہارا، مستحق اور غریب بچوں کے مستقبل کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
قوموں کا مستقبل صرف نعروں سے نہیں، تعلیم، مواقع اور باصلاحیت نوجوانوں کی سرپرستی سے تعمیر ہوتا ہے۔
ویلڈن حاجی زبیر علی!
آپ کا یہ اقدام یقیناً قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے۔